معمار وطن

معمار وطن

Share

This page is all about students activities and promote students education.

19/04/2026

شہباز شریف ولد شریف الدین کو ICMA کی ڈگری مکمل کرنے پر انکو اور تمام خاندان والوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ ICMA کی ڈگری کو بہت مشکل تصور کیا جاتا جسکو بہت کم لوگ ہی مکمل کر پاتے ہیں۔ شہباز شریف کا یہ کارنامہ پورے گاوں اور علاقے کے لیے باعث فخر ہیں۔

08/04/2026

تحصیل اشکومن کا مان — کریم رانجھا صاحب ✨

کچھ لوگ صرف اپنا کام نہیں کرتے، بلکہ اپنی پہچان خود بنا لیتے ہیں… کریم رانجھا صاحب بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ اشکومن کے واحد صحافی ہونے کے باوجود جس محنت، دیانت اور جرات کے ساتھ وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

چاہے سیلاب جیسی آزمائش ہو، عوامی مسائل ہوں یا کسی بھی مشکل وقت کا سامنا — کرم رانجھا صاحب ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف حقائق کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو ذمہ دار اداروں تک پہنچاتے ہیں۔

خوشی ہو یا غم، ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ ایسے باہمت اور مخلص لوگ ہی معاشرے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔

ہمیں فخر ہے کہ اشکومن کی سرزمین پر کریم رانجھا صاحب جیسے سچے اور باکردار صحافی موجود ہیں

15/01/2026

گاٶں پکورہ(اشکومن)سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم سنیل امان خان ولد میرامان خان کو مایہ ناز کامسیٹس یونیورسٹی (لاہورکیمپس)میں بی ایس اکاٶنٹنگ اینڈ فنانس میں داخلہ مل گیا۔سنیل امان آغاخان ہاٸیرسیکنڈری سکول گاہکوچ سے میٹرک اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن ہولڈر رہے ہیں۔
ویلڈن سنیل۔۔روشن مستقبل کےلۓ پرخلوص دعاٸیں🤲🤲

20/12/2025

گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریاؤں اور جھیلوں کی اصل قدر و قیمت کیا ہوگی؟

اقبال عیسیٰ خان
20 دسمبر 2025

اگر گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریا اور جھیلیں یورپ، امریکہ یا کسی اور ترقی یافتہ ریاست میں واقع ہوتیں تو اس خطے کے عوام کی تقدیر آج بالکل مختلف ہوتی۔ وہاں ایسے قدرتی وسائل کو پسماندگی یا محرومی کا سبب نہیں بلکہ خوش حالی، خود کفالت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بعید نہیں کہ گلگت بلتستان کے باسی بھی آج سوئٹزرلینڈ کے عوام کی طرح محفوظ، باوقار اور معاشی طور پر مستحکم زندگی گزار رہے ہوتے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ قدرت نے جس خطے کو بے مثال خزانہ عطا کیا، ہم اب تک اسے قومی ترقی اور مقامی خوش حالی میں تبدیل کرنے کا مؤثر نظام قائم نہیں کر سکے۔
گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں برفانی چوٹیاں، شفاف جھیلیں اور زندگی بخش دریا ایک مربوط اور نازک آبی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ یہ مناظر اگرچہ سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں، مگر ان کی حقیقی اہمیت حسنِ منظر سے کہیں آگے ہے۔ یہ وسائل پاکستان کے روزمرہ وجود، زرعی معیشت، توانائی کے ڈھانچے، ماحولیاتی توازن اور قومی سلامتی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ شماریاتی شواہد اور عالمی و مقامی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ ان آبی ذخائر کی قدر محض مالی حساب کتاب نہیں بلکہ اجتماعی مستقبل، قومی بقا اور ریاستی استحکام کا بنیادی سوال ہے۔
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں 13,032 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے بعد دنیا کے بڑے برفانی ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی گلیشیئرز دریائے سندھ، کابل، جہلم اور دیگر اہم دریاؤں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ستر فیصد سے زائد تازہ پانی کی فراہمی انہی برفانی نظاموں پر منحصر ہے۔ یہی پانی ملک کی زراعت، شہروں کی ضروریات، صنعت اور آبی توانائی کے منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تاہم یہ تصویر یک رخی نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کی تحلیل کی رفتار خطرناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3,000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں، جن میں سے 33 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کے پھٹنے سے تباہ کن سیلاب کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمیں دو واضح حقائق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ایک جانب ہمارے پاس پانی کے بے پناہ ذخائر ہیں، اور دوسری جانب ان کے مستقبل پر منڈلاتا ہوا سنگین خطرہ اور اس کی ممکنہ بھاری قیمت۔
گلگت بلتستان سے نکلنے والا پانی نہ صرف پاکستان کی زرعی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ آبی توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی بنیادی انپُٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس پانی کی مقدار یا تسلسل میں خلل آیا تو کسان کی فصل متاثر ہوگی، خوراکی سلامتی خطرے میں پڑے گی اور توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کو مہنگے درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔
یہ آبی نظام محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع، ثقافتی شناخت اور مقامی زندگی کا مرکز بھی ہے۔ جب دریا بے قابو ہوتے ہیں تو بستیاں اجڑتی ہیں، روزگار ختم ہوتا ہے، نقل مکانی بڑھتی ہے اور بچوں کی صحت و تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں، اگر گلیشیئرز اور پانی کی فراہمی میں عدم توازن پیدا ہوا تو اس کے اثرات پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت، افغانستان اور چین کے ساتھ پانی سے جڑے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ یوں یہ مسئلہ علاقائی استحکام اور سفارتی توازن سے بھی جڑ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریا اور جھیلیں محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ ایک قومی سرمایہ ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس سرمائے کی حفاظت کر کے اسے پائیدار خوش حالی میں بدلتے ہیں یا اسے نظرانداز کر کے اس کی قیمت آنے والی نسلوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان وسائل کی قدر کو صرف معاشی حساب میں قید کرنا محدود سوچ کی علامت ہے۔ ان کے تحفظ اور دانش مندانہ استعمال کے لیے مضبوط پالیسی، سائنسی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹی کی حقیقی شراکت ناگزیر ہے۔
یہ سوال صرف جغرافیے یا اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ایک انسانی، اقتصادی اور اخلاقی چیلنج ہے۔ گلگت بلتستان کے پانی کی اصل قدر وہی ہے جو ایک قوم کی بقا، استحکام اور مشترکہ ترقی کی ضمانت بنے۔ اور اس قدر کا ادراک ہمیں آج کرنا ہوگا، کل نہیں۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

09/06/2025
Photos from Gilgit Baltistan's post 16/03/2024
20/02/2023

فرزند اشکومن،امیر حمزہ حقیقی معنوں میں خادم اشکومن ہے۔
بغیر کسی لالچ کے اپنے علاقے کے لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
جہاں قدرتی آفات ہوں یا سیلاب،کسی کی بیماری میں مدد ہو یا بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا معاملہ ہو،کسی علاقے میں صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی ہو یاکسی ہیلتھ سینٹر میں ایمبولنس کی مرمت کا کام ہو۔
غریب و مستحق اور ضرورت مند طالبعلموں کے تعلیمی اخراجات میں بھی بھر پور مدد کرتا ہے۔
مفاد عامہ کے تمام معاملات میں کوسوں میل دورسمندر پار سے اپنے علاقے کے لئے خدمات سرانجام دینے میں پیش پیش ہیں۔۔۔
بیرون ملک گلگت بلتستان اور چترال سمیت ملک بھر سے سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلاچکے ہیں۔اور دلا رہے ہے۔
سمندر پار رہتے ہوۓ بھی اپنے علاقے کا دکھ رکھنے والے ایسے فرزند کو ہم سرخ سلام پیش کرتے ہے۔آپ کے اندر علاقے کی تعمیر و ترقی کا ایک نہ ختم ہونے والا جذبہ ہے۔آپ کے اس جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام اشکومن کے دل میں آپ کے لئے محبت ہے۔عوام اشکومن آپ کے مزید ترقی اور کامیابی کے لئے دعاکرتے ہے۔

Photos from ‎معمار وطن‎'s post 03/09/2022

وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے اعلان کے اگلے روز ہی متاثرہ ڈیڑھ میگاواٹ پاؤر ہاؤس پراپر اشکومن کا کام شروع کوارڈینیٹر ظفر محمد شادم خیل نے کام کاجائزہ لیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کے دورہ اشکومن کے دوران وعدے عملی طور پر ہونا شروع ہوگئے ہیں

Want your school to be the top-listed School/college in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Chatorkhand
Gilgit