20/12/2025
گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریاؤں اور جھیلوں کی اصل قدر و قیمت کیا ہوگی؟
اقبال عیسیٰ خان
20 دسمبر 2025
اگر گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریا اور جھیلیں یورپ، امریکہ یا کسی اور ترقی یافتہ ریاست میں واقع ہوتیں تو اس خطے کے عوام کی تقدیر آج بالکل مختلف ہوتی۔ وہاں ایسے قدرتی وسائل کو پسماندگی یا محرومی کا سبب نہیں بلکہ خوش حالی، خود کفالت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بعید نہیں کہ گلگت بلتستان کے باسی بھی آج سوئٹزرلینڈ کے عوام کی طرح محفوظ، باوقار اور معاشی طور پر مستحکم زندگی گزار رہے ہوتے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ قدرت نے جس خطے کو بے مثال خزانہ عطا کیا، ہم اب تک اسے قومی ترقی اور مقامی خوش حالی میں تبدیل کرنے کا مؤثر نظام قائم نہیں کر سکے۔
گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں برفانی چوٹیاں، شفاف جھیلیں اور زندگی بخش دریا ایک مربوط اور نازک آبی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ یہ مناظر اگرچہ سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں، مگر ان کی حقیقی اہمیت حسنِ منظر سے کہیں آگے ہے۔ یہ وسائل پاکستان کے روزمرہ وجود، زرعی معیشت، توانائی کے ڈھانچے، ماحولیاتی توازن اور قومی سلامتی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ شماریاتی شواہد اور عالمی و مقامی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ ان آبی ذخائر کی قدر محض مالی حساب کتاب نہیں بلکہ اجتماعی مستقبل، قومی بقا اور ریاستی استحکام کا بنیادی سوال ہے۔
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں 13,032 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے بعد دنیا کے بڑے برفانی ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی گلیشیئرز دریائے سندھ، کابل، جہلم اور دیگر اہم دریاؤں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ستر فیصد سے زائد تازہ پانی کی فراہمی انہی برفانی نظاموں پر منحصر ہے۔ یہی پانی ملک کی زراعت، شہروں کی ضروریات، صنعت اور آبی توانائی کے منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تاہم یہ تصویر یک رخی نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کی تحلیل کی رفتار خطرناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3,000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں، جن میں سے 33 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کے پھٹنے سے تباہ کن سیلاب کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمیں دو واضح حقائق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ایک جانب ہمارے پاس پانی کے بے پناہ ذخائر ہیں، اور دوسری جانب ان کے مستقبل پر منڈلاتا ہوا سنگین خطرہ اور اس کی ممکنہ بھاری قیمت۔
گلگت بلتستان سے نکلنے والا پانی نہ صرف پاکستان کی زرعی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ آبی توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی بنیادی انپُٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس پانی کی مقدار یا تسلسل میں خلل آیا تو کسان کی فصل متاثر ہوگی، خوراکی سلامتی خطرے میں پڑے گی اور توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کو مہنگے درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔
یہ آبی نظام محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع، ثقافتی شناخت اور مقامی زندگی کا مرکز بھی ہے۔ جب دریا بے قابو ہوتے ہیں تو بستیاں اجڑتی ہیں، روزگار ختم ہوتا ہے، نقل مکانی بڑھتی ہے اور بچوں کی صحت و تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں، اگر گلیشیئرز اور پانی کی فراہمی میں عدم توازن پیدا ہوا تو اس کے اثرات پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت، افغانستان اور چین کے ساتھ پانی سے جڑے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ یوں یہ مسئلہ علاقائی استحکام اور سفارتی توازن سے بھی جڑ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز، دریا اور جھیلیں محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ ایک قومی سرمایہ ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس سرمائے کی حفاظت کر کے اسے پائیدار خوش حالی میں بدلتے ہیں یا اسے نظرانداز کر کے اس کی قیمت آنے والی نسلوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان وسائل کی قدر کو صرف معاشی حساب میں قید کرنا محدود سوچ کی علامت ہے۔ ان کے تحفظ اور دانش مندانہ استعمال کے لیے مضبوط پالیسی، سائنسی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹی کی حقیقی شراکت ناگزیر ہے۔
یہ سوال صرف جغرافیے یا اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ایک انسانی، اقتصادی اور اخلاقی چیلنج ہے۔ گلگت بلتستان کے پانی کی اصل قدر وہی ہے جو ایک قوم کی بقا، استحکام اور مشترکہ ترقی کی ضمانت بنے۔ اور اس قدر کا ادراک ہمیں آج کرنا ہوگا، کل نہیں۔
Best Regards,
Iqbal Essa Khan
[email protected]