Ikhwan al-Safa

Ikhwan al-Safa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ikhwan al-Safa, Gilgit.

“ PURITY OF HEART, LIGHT OF REASON, AND QUEST FOR TRUTH "
— This is the message of Ikhwan al-Safa.

دل کی صفائی، عقل کی روشنی اور حقیقت کی جُستجو۔
یہی اخوان الصفا کا پیغام ہے۔

مولانا حاضر امام کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیںنئی دہلی: مولانا حاضر امام نے آج بھارتی ...
10/09/2026

مولانا حاضر امام کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

نئی دہلی: مولانا حاضر امام نے آج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے دفتر سیوا تیرتھ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں بھارت اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ملاقات کے دوران صحت، زراعت، دیہی ترقی، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔

مولانا حاضر امام نے بھارت میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی بھرپور معاونت پر وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ AKDN کی سرگرمیاں بھارت کی ترقیاتی ترجیحات سے قریبی مطابقت رکھتی ہیں۔

اسی روز مولانا حاضر امام نے صدرِ جمہوریہ بھارت دروپدی مرمو سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی، جبکہ بھارتی نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی ان سے ملاقات کی اور ان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

ظہرانے میں بھارتی حکومت کے اعلیٰ حکام کے علاوہ جماعت اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

مولانا حاضر امام کا بھارت کا یہ دورہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ بطور 50ویں امام یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہے، جہاں ان کے آباؤ اجداد اور سابق ائمۂ اسماعیلیہ کی تاریخ کے اہم ابواب وابستہ رہے ہیں۔ دورے کے دوران وہ حکومتی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ گجرات، ممبئی اور حیدرآباد میں جماعت کے مریدین سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

بھارت کی مختلف جماعتوں کی جانب سے مولانا حاضر امام کے استقبال کے لیے کئی ہفتوں سے بھرپور تیاریاں جاری تھیں، جن میں ہزاروں رضاکاروں نے رجسٹریشن، سفری انتظامات اور مختلف مقامات پر انتظامی امور کی انجام دہی میں حصہ لیا۔

اخوان الصفا

نئی دہلی، بھارتنئی دہلی: مولانا حاضر امام آج شام بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے، جہاں وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکر...
10/09/2026

نئی دہلی، بھارت

نئی دہلی: مولانا حاضر امام آج شام بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے، جہاں وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر ایم. سریش کمار اور بھارت کے چیف آف پروٹوکول شری امیت کمار سمیت جماعتی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے رہنماؤں کے وفد نے ان کا استقبال کیا۔

مولانا حاضر امام کی آمد کے موقع پر روایتی اور ثقافتی انداز میں گِدّھا پیش کیا گیا، جس نے استقبال کی تقریب کو مزید پُرجوش اور یادگار بنا دیا۔

یہ دورہ اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ بھارت میں ہمارے 50ویں امام کی حیثیت سے مولانا حاضر امام کا پہلا دورہ ہے۔ بھارت اسماعیلی امامت کی تاریخ میں بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ خطہ مولانا حاضر امام کے آباؤ اجداد مولانا حسن علی شاہ، مولانا آغا علی شاہ اور مولانا سلطان محمد شاہ کا وطن رہا ہے۔

دورے کے آئندہ دنوں میں مولانا حاضر امام بھارتی حکومت کے اعلیٰ حکام اور اہم نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ گجرات، ممبئی اور حیدرآباد میں اپنے مریدین کے ساتھ بھی وقت گزاریں گے۔

مولانا حاضر امام کے استقبال کے لیے بھارت بھر کی جماعتوں نے کئی ہفتوں سے بھرپور تیاریاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ مختلف مقامات پر استقبال کے انتظامات، تزئین و آرائش اور تقریبات کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ہزاروں رضاکاروں نے رجسٹریشن، سفری سہولیات، آمدورفت اور دیگر انتظامی امور کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

بھارت میں جماعتی سطح پر جاری یہ تیاریاں اس تاریخی دورے کے حوالے سے مریدین کے جوش، عقیدت اور اپنے امام کے استقبال کے لیے اجتماعی وابستگی کی عکاس ہیں۔

اخوان الصفا

انسٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز لندن کے نامور اسکالر ڈاکٹر سید جلال حسینی بدخشانی 11 اگست 2026 کی صبح لندن میں 85 سال کی عمر ...
13/08/2026

انسٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز لندن کے نامور اسکالر ڈاکٹر سید جلال حسینی بدخشانی 11 اگست 2026 کی صبح لندن میں 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

وہ عالموت دور کے فارسی اسماعیلی ادب کے سب سے بڑے ماہر تھے۔ انہی کی محنت کی وجہ سے اسماعیلی داعی نصیرالدین طوسی کی تحریں آج کے قارئین کے لیے قابل فہم ہو سکیں۔

ڈاکٹر بدخشانی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس نے نسلوں تک اسماعیلی امامت کی خدمت کی۔ انہوں نے مشہد یونیورسٹی سے اسلامی فلسفہ میں ڈگری لی اور بعد میں آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ 1977 میں امام شاہ کریم کے حکم پر انہیں IIS کی لائبریری قائم کرنے کے لیے لندن بلایا گیا جو آج "آغا خان لائبریری" کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

بدخشانی کی اہم ترین تصانیف میں "Paradise of Submission"، "Contemplation and Action" اور "Shiʿi Interpretations of Islam" شامل ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دریافت حسن محمود کاتب کی شاعری کا دیوان "دیوانِ قائمیت " تھا جسے 2011 میں شائع کیا گیا۔

ڈاکٹر بدخشانی نے دہائیوں تک IIS اور کمیونٹی میں اسماعیلی فلسفہ پڑھایا۔ وہ علم اور خدمت کو ساتھ لے کر چلے۔ ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ، تین بیٹے، دو بہوئیں اور تین پوتے شامل ہیں۔

اسماعیلی ادب پر کام کرنے والے ہر اسکالر ڈاکٹر بدخشانی کی علمی خدمات کا مقروض رہے گا۔

اخوان الصفا۔


یارخون سے نوجوان کی ویڈیوز، اصل حقائق کیا ہیں؟اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغاخان نے 23 اور 24 مئی کو پرواک اپر ...
01/08/2026

یارخون سے نوجوان کی ویڈیوز، اصل حقائق کیا ہیں؟

اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغاخان نے 23 اور 24 مئی کو پرواک اپر چترال میں ہزاروں کے مجمع کو دیدار سے نوازا جس میں اکثر اسماعیلی مرید جبکہ کچھ دوسرے مکتبہ فکر کے افراد بھی شامل تھے۔

پرواک کے کھلے میدان میں دیدارگاہ سجایا گیا جس میں درجنوں جدید لاؤڈ اسپیکر نصب تھے، پنڈال میں سُنی کمیونٹی کے مذکورہ بالا افراد بھی تشریف فرما تھے جبکہ پنڈال کے آس پاس بھی سُنی کمیونٹی کے سینکڑوں افراد بیٹھے پوری کارروائی دیکھ رہے تھے۔

تاہم حیران کُن بات یہ ہوئی کہ دیدار کے بعد یارخون سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان سوشل میڈیا پر نمودار ہوا اور دیدار میں امام کے خطاب سے متعلق بےسرو پا باتیں کرکے مخصوص ذہنیت رکھنے والے لوگوں کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کیا۔

انہوں نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امام نے اسماعیلیوں کو درود پڑھنے، اور امام کے وسیلے سے دعا مانگنے سے منع فرمایا۔ اس نوجوان نے نہ صرف مشنریوں اور اسماعیلی اداروں کے بارے غلط تاثر دیا بلکہ لوگوں کو ان کے خلاف تشدد پر بھی ابھارا۔ کچھ لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملنے نوجوان کی ویڈیوز کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے لیے تاریخی حقائق جاننا ضروری ہے۔

چترال سمیت دوسرے علاقوں میں شروع میں اسماعیلی دعوت اور مذہبی سرپرستی روایتی خلیفوں اور پیروں کے ہاتھ میں تھی جن میں سے اکثر کا تعلق سادات گھرانوں سے تھا یا یہ ان کا دعویٰ تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں اسماعیلی جماعت کی خدمت کی ذمہ داری اٹھائی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ذمہ داریوں کے عوض انہیں جماعت پر اختیار، مراعات، اُجرت اور بعض دفعہ ریاست سے جاگیریں اور زمینیں بھی ملتی تھیں۔

لیکن گزشتہ صدی میں امام سلطان محمد شاہ اور بعد میں امام شاہ کریم نے جدید اداجاتی اصلاحات کیں اور پیروں اور خلیفوں کی جگہ ادارے قائم کیے اور الواعظین / مشنری تعینات کیے۔ اس تبدیلی سے چترال میں روایتی پیروں اور خلیفوں کے اختیارات اور مراعات بھی ختم ہوگئے۔ روایتی اختیار رکھنے والے اکثر لوگوں نے اس تبدیلی کو قبول کیا اور اداروں کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا تاہم کچھ لوگوں کے ذہنوں میں مشنریوں اور اداروں کے خلاف جانے انجانے میں تعصب اور مزاحمت نے جنم لی کیوں کہ یہ معاملہ صرف ذمہ داریوں اور خدمات کا ہی نہیں بلکہ مفادات کا بھی تھا۔

مذکورہ بالا نوجوان نے اپنی دوسری ویڈیو میں واضح کردیا ہے کہ ان کا تعلق سید خاندان سے ہے اور ان کے آبا و اجداد کا پہلے زمانے میں جماعت پر اختیار تھا جو اب اداروں اور مشنریوں کو منتقل ہوگیا ہے۔ یہاں اس نوجوان کی غلط بیانی اور اشتعال انگیزی کی ساری وجہ سمجھ آجاتی ہے۔

رہی بات نوجوان کے الزامات کی تو اس کی تردید دیدار میں شامل سینکڑوں سُنی بھائی اور بہنیں خود کرسکتی ہیں جنہوں نے دیدار کا ایک ایک لمحہ اور امام کے فرمان کا ایک ایک لفظ خود دیکھا اور سنا۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو یہ نوجوان غلط بیانی سے بتا رہا ہے۔

اسماعیلی عقائد کی بنیاد توحید، رسالت اور امامت پر ہے جو اسماعیلی آئین میں بھی واضح ہے اور حاضر امام سمیت دیگر تمام آئمہ نے اس پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ مشنری اور ادارے امام کے حکم سے انہیں تعلیمات کو جماعت تک پہنچاتے ہیں۔ امام کا مریدوں سے براہِ راست تعلق ہے اور ان کے کسی فرمان یا ہدایت کو چھپانا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی اس سے کسی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

امام نہایت سادہ انگریزی میں فرمان فرماتے ہیں جو اکثر حاضرین خصوصاً نوجوانوں کو سمجھ آجاتا ہے۔ اس کا اسی وقت کھوار میں خلاصہ بھی پیش کیا جاتا ہے اور بعدازاں اردو ترجمہ بھی آتا ہے۔

امام نے حالیہ فرامین میں بھی کونسل اور مشنریوں کے نگران ادارے طریقہ بورڈ کی کلیدی اہمیت کا بار بار ذکر کیا اور فرمایا کہ امام کی ہدایات ان اداروں کے ذریعے جماعت تک پہنچیں گی۔

لہذا کسی پراپیگنڈے کا شکار ہونے سے قبل اس نوجوان کے بےسروپا الزامات اور اشتعال انگیزی کے پیچھے تاریخی محرکات اور مفادات کی کشمکش کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

#کاپیڈ

قلعہ الموت و ایرانی صدر۔یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں الموت کا اندراج، ایران کی زرخیز اور متنوع تاریخ کے ایک...
26/07/2026

قلعہ الموت و ایرانی صدر۔

یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں الموت کا اندراج، ایران کی زرخیز اور متنوع تاریخ کے ایک عزیز باب کی پہچان ہے۔ ہماری ثقافتی وراثت میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہمارے اختلافات کے باوجود ہمیں متحد کرے اور ہمیں یاد دلائے کہ ایران تمام ایرانیوں کا ہے۔

اپنی مشترکہ وراثت کے تحفظ سے ہم اپنی قومی شناخت کو مضبوط کرتے ہیں اور اپنی تہذیب کی میراث کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان
صدرِ جمہوری اسلامی ایران

از۔ اخوان الصفا






Alamut

اٹلی اٹلی میں پرنس کریم آغاخان چہارم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پورٹو چیروو کے مرکزی چوک کو اُن کے نام سے منس...
10/07/2026

اٹلی

اٹلی میں پرنس کریم آغاخان چہارم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پورٹو چیروو کے مرکزی چوک کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا اور ان کی نوجوانی کی ایک خوبصورت کانسی کی مورتی کی نقاب کشائی کی گئی۔

اس تقریب میں مولانا حاضر امام، ان کے بچوں، شہزادہ امین آغاخان اور مقامی و علاقائی قیادت نے شرکت کی۔

اسی موقع پر شہر آرزاکینا کی جانب سے حضرت رحیم آغا خان کو اعزازی شہریت بھی عطا کی گئی، جبکہ یہی اعزاز 1965 میں ان کے والد شہزادہ کریم آغا خان چہارم کو بھی دیا گیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی حکام نے پرنس کریم آغاخان کے اس وژن کو سراہا جس کے تحت کوسٹا سمیرالدا کی ترقی قدرتی ماحول، مقامی ثقافت اور اعلیٰ طرزِ تعمیر کے احترام کے ساتھ کی گئی۔ حاضر امام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے والد کے نزدیک تعمیرات صرف عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں تھیں بلکہ ماحول، تناسب، مقامی مواد اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک اظہار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو سرڈینیا، اس کے لوگوں، پہاڑوں اور سمندر سے گہری محبت تھی، اور آج بھی ان کے خاندان کی تیسری نسل پورٹو چیروو سے اسی محبت اور وابستگی کو آگے بڑھا رہی ہے۔

حاضر امام نے کہا کہ جب سرڈینیا کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھتی تھی تو ان کے والد خود آگ بجھانے کی کوششوں میں حصہ لیتے، یہاں تک کہ راکھ سے اَٹے ہوئے واپس آتے تھے۔

سرڈینیا کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سوال پر حاضر امام نے فرمایا،

"اس وقت میری پوری توجہ اپنے بچوں اور جماعت پر مرکوز ہے۔ چونکہ میں نے اپنے والد اور اپنے پیش رو کے مقابلے میں زندگی کے نسبتاً بعد کے مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرے پاس اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے لیے تقریباً 20 سے 30 سال ہیں۔ اسی وجہ سے میں دیگر ضمنی منصوبوں یا سرگرمیوں کا تعاقب نہیں کرتا۔"

از۔ اخوان الصفا


جرمنی اور اسماعیلی امامت کے تعلقات میں نئی پیش رفت، اہم معاہدوں پر دستخطبرلن: جرمنی کے دورے کے آخری روز اسماعیلی مسلمانو...
06/07/2026

جرمنی اور اسماعیلی امامت کے تعلقات میں نئی پیش رفت، اہم معاہدوں پر دستخط

برلن: جرمنی کے دورے کے آخری روز اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا ہز ہائی نس پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر، وزیر خارجہ یوان واڈیفول اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کا مقصد اسماعیلی امامت اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
صدر شٹائن مائر نے ولا بورسگ میں مولانا حاضر امام اور پرنس علی محمد کا خیرمقدم کیا، جہاں باہمی دلچسپی کے امور اور مستقبل میں تعاون کے نئے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں مولانا حاضر امام اور جرمن وزیر خارجہ یوان واڈیفول نے اسماعیلی امامت اور جرمنی کی وفاقی وزارتِ خارجہ کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیۂ عزم (Joint Declaration of Intent) پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم، معاشی ترقی، انسانی ہمدردی، سول سوسائٹی اور بہتر طرزِ حکمرانی جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

اس موقع پر مولانا حاضر امام نے کہا کہ جرمنی گزشتہ چھ دہائیوں سے اسماعیلی امامت کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، اور دونوں فریق ترقی، تکثیریت اور انسانی فلاح کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
دورے کے دوران آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) اور جرمن وزارتِ اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کے درمیان جاری شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ مصری میوزیم برلن اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے درمیان مصر کے تاریخی مقام قبت الہوا کی بحالی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

اسی طرح انٹرنیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (ISDC) اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا کے درمیان بھی ایک نئے مفاہمتی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت وسطی ایشیا میں جاری تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک اور جرمنی کے درمیان شراکت داری کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا تھا، جو اب ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 15 ممالک تک پھیل چکی ہے۔ جرمن ادارے اب تک صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، معاشی ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق 250 سے زائد منصوبوں کے لیے تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر کی معاونت فراہم کر چکے ہیں۔
اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آغا خان فاؤنڈیشن رواں سال کے اختتام تک برلن میں اپنا دفتر قائم کرے گی، جس سے دونوں فریقین کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
از فیس بُک پیج۔ اخوان الصفا




















آج برلِن جرمنی میں مولانا حاضر امام نے جماعت کے ساتھ خوش گوار دن گزارا۔
05/07/2026

آج برلِن جرمنی میں مولانا حاضر امام نے جماعت کے ساتھ
خوش گوار دن گزارا۔










برلِن، جرمنیبرلن: اسماعیلی مسلمانوں کے 50ویں روحانی پیشوا، مولانا  شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم آج برلن، جرمنی پہنچ گئے...
04/07/2026

برلِن، جرمنی

برلن: اسماعیلی مسلمانوں کے 50ویں روحانی پیشوا، مولانا شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم آج برلن، جرمنی پہنچ گئے۔ وہ تین روزہ دورے کے دوران براعظم یورپ سے تعلق رکھنے والے اپنے جماعتوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

ہوائی اڈے پر حاضر امام کا استقبال جرمن حکومت کے نمائندوں کے ساتھ برطانیہ، جرمنی اور سویڈن کی اسماعیلی کونسلوں کے صدور نے کیا۔

ذرائع کے مطابق حاضر امام کل جرمنی میں پہلی بار دیدار عطا فرمائیں گے۔ ہزاروں مریدین کے لیے یہ ان کی زندگی کا پہلا دیدار ہوگا۔ اس تاریخی موقع کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے تیاریاں جاری تھیں۔ جماعت نے اپنے امام کے استقبال کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی، انتظامات مکمل کیے اور خوشی کا اظہار کیا۔

تصویر کریڈٹ: IPL / اکبر حکیم










Address

Gilgit

Telephone

+923483515711

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ikhwan al-Safa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ikhwan al-Safa:

Shortcuts

Share