02/05/2026
.
Universal Higher Secondary School & Degree College was established in 2011 with the aim to provide quality educations.
02/05/2026
.
15/06/2024
ADMISSIONS OPEN
SUMMER CAMP COURSES 2024
COMMUNITY OUTREACH PROGRAM
NATIONAL COLLEGE OF ARTS, GILGIT
National College of Arts is holding a Summer Camp in Gilgit Campus.
Eligibility for Admission: Open call to attend certificate courses. No age limit.
The last date for registration is Thursday, 20th June, 2024.
For more details please visit www.nca.edu.pk
بچوں میں احساس ملکیت کیسے پیدا کریں۔
جب ماں باپ لاڈ پیار میں بچے کو چھوٹے سے چھوٹا کام بھی نہ کرنے دیں تو وہ بچے کی عادت بگاڑ رہے ہوتے ہیں اور یہی بگاڑ بڑے ہوکر انہیں انتہاٸی سست اور ناکارہ کردیتا ہے ۔ ان کے اندر کوٸی کام خود اعتمادی سے کرنے والی صلاحیت ہی نہیں رہتی وہ عدم اعتماد کا شکار ہوکر اپنی زمہ داریوں سے بھاگناشروع کردیتے ہیں ۔
بچوں کو احساس زمہ داری اور مینیجمنٹ سیکھانا بہت ضروری ہے جو احساس ملکیت یعنی Sense of ownership کے ساتھ جڑا ہواہوتا ہے۔
بچوں میں بچپن سے احساس ملکیت پیدا کریں پانچ سال کے بعد بچوں کو چیزوں کی ملکیت دیں مثلاً بچوں کو الماری میں ایک ایک دراز دے دیں یہ انکی دراز ھے اس میں وہ جو چاھیں رکھیں لیکن اسکو صاف رکھنا اور ترتیب سے رکھنا انکی ذمہ داری ھے ۔
اسی طرح اپنی رائٹنگ ٹیبل صاف رکھنا ایک بچے کے ذمہ ہوجائے گا اور کتابوں والا ریک ترتیب سے رکھنا دوسرے بچے کے زمہ ۔
اسی طرح سب بچوں کی ایک الگ الماری ہوگی جسے وہ خود سیٹ کریں گے۔اس طرح ان میں احساس ملکیت پیداہوگا۔
جب بچے تھوڑے بڑے ھو جائیں تو انہیں سیکھائیں کہ یہ آپ کا کمرہ ھے اسے صاف رکھنا اور ترتیب دینا آپ کی ذمہ داری ھے ھاں آپ کے پاس ملازم ھیں تو ملازم بچوں کی مدد کر سکتے ھیں لیکن ذمہ داری بچوں کی رھے گی ملازم کی نہیں۔
اسی طرح ٹوائلٹ، گاڑی، کچن ، گارڈن، لاونج سب کی ذمہ داریاں بانٹی جا سکتی ھیں۔
اسی طرح بچیوں کو خاص طور پر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا سیکھاٸیں۔ انہیں کچن میں اپنے ساتھ مصروف رکھیں
ان کی حوصلہ افزاٸی کریں کہ کام نہیں آتا کوئی بات نہیں سیکھا تو جا سکتا ھے ناں۔۔ سیکھنے کی خو ھمیشہ رکھیں۔ اپنی شخصیت کو ہر دن کچھ نیا سیکھ کے چمکاتی جائیں اور انکو بتائیں کہ گھر داری بنیادی چیز ھے ۔۔
اسی طرح والدین اپنے بچوں کو بتائیں کہ خدمت گزار لوگ بہت با نصیب ھوتے ھیں۔
اپنے بچوں کو مینیجمنٹ سیکھائیں۔
۔وقت کی مینیجمنٹ
۔پیسے کی مینیجمنٹ
۔کاموں کی مینیجمنٹ
پیسے کی مینیجمنٹ کے لیے بچوں سے اپنے گھر کا بجٹ بنوائیں یا بجٹ بناتے ھوئے ساتھ رکھیں ۔ کسی دعوت کا بجٹ بنوائیں، کسی شادی کے خرچے کا بجٹ بنوائیں سیزن کی شاپنگ کا بجٹ, گھر پہ رنگ روغن کروانے کا بجٹ یا سیر
و سیاحت کا بجٹ۔
بیٹا ھو یا بیٹی، ان میں صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کا کانسیپٹ ڈویلپ کریں ، کیونکہ گندگی، ناپاکی، بے ترتیبی، گھروں میں ھی نہیں دماغوں میں بھی پنپنے لگتی ھے اور شخصیت کا حصہ بن جاتی ھے ۔بے ترتیبی ذندگی کے رنگ پھیکے کر دیتی ھے۔
بچوں کو سیکھائیں کہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ کام لینا بھی ایک فن ھے اور کام لینے کے لیے، کام کرنا آنا ضروری ھے۔ ملازم بھی مالک کے قائم کردہ معیار پہ کام کرتے ہیں۔۔
ٹائم مینیجمنٹ ایک پورا موضوع ھے،مہارت ھے۔ اس میں بچوں کی راہنمائی کریں کہ وہ کیسے اپنے وقت کا بہترین استعمال کر سکیں ۔
09/10/2022
تحریر: ایم کثیر رضا بگورو۔
چیف سیکرٹری صاحب اور چیف منسٹر صاحب ذرا اس طرف بھی دھیان دیں۔
گزشتہ کچھ دنوں سے گلگت بلتستان میں ایک موضوع زیر بحث ہے گرلز سپورٹس گالا جس کا نام محترم چیف منسٹر صاحب نے تبدیل کر کے گرلز ایورنئس پروگرام کا نام دیکر لالک جان سٹیڈیم میں پانچ اکتوبر سے شروع کرایا تھا اس حوالے سے گلگت میں مذہبی طبقہ نے تشویش کا اظہار بھی کیا احتجاج بھی کیے گیے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ معاشرے کو بے حیائی کیطرف لیکر جانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے چونکہ ہنزہ اور غذر میں ایسے میلے پہلے سے منعقد ہورہے تھے لیکن گلگت میں پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پہ حکومتی سطح پہ سپورٹس گالا گرلز ایورنئس کے نام سے جاری ہے یہ سپورٹس گالا کیا ہے کیا نہیں یہ میرا موضوع نہیں ہے سپورٹس کا انعقاد کرنا غلط ہے یا صحیح میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا چونکہ اس حوالے سے پہلے ہی بہت ساری باتیں ہوچکی ہیں آزاد خیال طبقہ اور مذہبی طبقہ ایسے معاملات میں ہمیشہ آمنے سامنے رہتے ہیں اور ابھی تلک یہ بحث مباحثے کا سلسلہ جاری ہے دونوں اطراف سے اپنے اپنے حق میں دلائل دئیے جارہے ہیں۔ نہ رکنے والی بحث کب تک جاری رہے گی نہیں معلوم لیکن فلحال میں جناب سی ایم صاحب اور جناب چیف سیکرٹری صاحب کی توجہ کسی اور مسئلہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں چونکہ دونوں چیف صاحبان آج کل تعلیمی میدان میں کوالٹی ایجوکیشن دینے کے حوالے سے مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری صاحب شہر کے مختلف سکولوں کے دورے بھی کررہے ہیں حکومت کی طرف سے پہلے ہی طلبہ و طالبات کے لئے مفت کتابیں دی جارہی تھی اب اس میں مزید اضافہ کرتے ہوے طلبہ اور طالبات کے لئے کنوئنس کی رقم کے ساتھ کھانے پینے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے یہ خوش آئند بات ہے اس سے بچوں کے لئے آسانیاں پیدا ہونگی اس حوالے سے میں دونوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ دونوں محترم چیف صاحبان کے سامنے تعلیمی اداروں میں موجود چند مسائل رکھنا چاہتا ہوں چونکہ یہ مسائل شايد سپورٹس گالا اور دیگر انتظامات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جناب چیف منسٹر صاحب اور جناب چیف سیکرٹری صاحب! شاید آپکے علم میں ہوگا گلگت بلتستان میں بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں بچوں کے لئے سکول کی بلڈنگ نہیں ہے اگر بلڈنگ ہے تو سٹاف نہیں ہے اگر سٹاف بھی ہے تو بچوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں نہیں ہے۔ کھانا تو بچے گھر پہ بھی جاکر کھاسکتے ہیں یا گھر سے ٹفن میں لیجاکر بھی کھاسکتے ہیں لیکن فرنیچرز گھر سے لیکر نہیں جاسکتے ہیں۔ حالیہ ایک دو مہنوں سے سوشل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں حراموش کے ایک گاؤں میں موجود پرائمری سکول میں بچے کھلے آسمان تلے کلاسس لینے پر مجبور ہے ابھی سردیوں کا موسم شروع ہونے جارہا ہے آپ سوچ سکتے ہیں بچے کیسے تعلیم حاصل کر لینگے کھلے آسمان تلے؟ اسی طرح کچھ دنوں پہلے بگروٹ بلچہ بوائز پرائمری سکول کی تصاویر سوشل میڈیا میں دیکھی گئ فرنیچر نہیں ہونے کی وجہ سے کیسے بچے فرش پہ بیٹھ کے پڑھنے پہ مجبور ہے سردیوں میں کیسے گزارہ ہوگا بچوں کا؟ اسی طرح بگروٹ اور حراموش کے دیگر سکولوں میں بھی بچوں کے لئے کرسیاں موجود نہیں ہے محکمہ کے زمداران کو اطلاع دینے کے باوجود فرنیچر مہیا نہیں کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح مونیکا گرلز ہائیر سکینڈری سکول دتوچہ بگروٹ میں طالبات کے لئے کرسیاں نہیں ہے جسکی وجہ سے طالبات فرش پہ بیٹھ کے پڑھ رہی ہے اور کلاس رومز میں وائٹ بورڈز بھی موجود نہیں ہے۔ پتہ نہیں پوری جی بی میں ایسے اور کتنے سکولز ہونگے جہاں بنیادی ضروریات کی چیزوں کی کمی ہوگی یہ تو میں گلگت شہر کی سب سے قریبی وادی کی بات کر رہا ہوں دور دراز علاقوں کی کیا حالت ذار ہوگی اسکا آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں اگر آپ دونوں محترم شخصیات ایسے ایک دو پسماندہ علاقوں میں موجود سکولوں کا دورہ کرکے انکی پریشانیاں دور کرتے تو کتنا اچھا ہوتا سپورٹس گالا کے زریعہ عوام میں انتشار پیدا کرنے سے؟ لیکن ایسا کیسے کرسکتے ہیں چونکہ آپکو تو ظاہری نمود نمائیش سے مطلب ہے انتہائی معزرت کے ساتھ یہ صرف آپ دونوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ جی میں آنے والے ہر چیف سیکرٹری اور چیف منسٹر کی بات کررہے ہیں کوئی بھی آتا ہے اور اپنی مرضی کے کچھ کام کر کے چلا جاتا ہے عوام کیا چاہتی ہے یہ کوئی نہیں دیکھتا ہے۔ اس لئے آپ دونوں صاحبان سے گزارش ہے اگر معیار تعلیم میں بہتری لانا چاہتے ہو تو سکولوں کا دورہ کریں تاکہ پتہ چلے گا اصل مسائل کیا ہیں یہ کھیل کود اور دیگر تفریحات ہوتی رہنگی انشاءاللہ لیکن یہ کام آپ کریں تو بہتر ہوگا سپورٹس گالا کی وجہ سے جو لوگ آپ سے ناراض ہوگئے ہیں وہ بھی دعائیں دینگے آپکو۔ شکریہ۔
اطلاع براے طلبہ و طالبات:
یونیورسل ہائیری سیکنڈری سکول اینڈ کالج اوشکھنداس گلگت کے تمام 9th اور 10th کلاس کے طلبا و طالبات کو اطلاع کی جاتی ہےکہ kIU بورڈ کے آن لائن سالانہ امتحانی جارہےہیں اس لیے سکول میں رابط کریں 20 تاریخ تک افس ٹائم صبح 9:30 سے11 بجے کے درمیان سکول کھلا رہےگا۔