05/03/2026
اہل تشیع سے میرا ایک گلہ ہے۔ میں سمجھتا یہ گلہ ہر اس مسلمان کا ہے جو فرقہ پرستی سے پاک ہے۔ جو اتحاد کا داعی ہے۔ جو علم کی پیاس رکھتا ہے۔ جو حق کا متلاشی ہے۔
گزشتہ دنوں میں شہید خامنہ ای کو سنا۔ پھر الگوردھم نے پکڑ لیا اور ان کی ریلز فیڈ کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ سنو تو دھیمہ لہجہ اور مدبرانہ گفتگو ایسے جیسے آپ کے من سے بوجھ ہٹا رہی ہو۔ جیسے حرف حرف آپ کے دل میں اتر رہا ہو۔ جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔
پھر وہ مرد مجاہد تھے۔ بے خوف تھے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے شیدائ تھے۔ اور جو اقبال کا شیدائ ہو وہ بے خوف کیوں نا ہو گا؟ وہ رب کا بندہ کیوں نا ہو گا؟ وہ قرآن سے رہنمائ لینے والا کیوں نا ہو گا؟ وہ حیدر کا غلام کیوں نا ہو گا؟
اہل تشیع بتائیں کہ اتنے میٹھے، اتنے غیور اقبال کے شیدائ کو آپ نے باقی مسلمانوں سے دور کیوں رکھا؟ سب کہ رہے ہمیں تو علم ہی نہیں تھا آپ کے امام ایسے بھلے انسان ہیں۔ میں آپ سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ مجھ سمیت ان باقیوں کو آگاہ کس نے کرنا تھا؟
ہم نے جن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جن کو سوشل میڈیا پر دیکھا۔ جن کو آپ نے ہمارے سامنے رکھا بخدا وہ تو ایسے نہیں تھے۔ ان کے گستاخ لہجوں میں اوروں کیلئیے تحقیر ہوتی ہے۔ ان کے الفاظ ہمارے دلوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ ان کی باتیں ہمیں آپ سے دور کرتی ہیں۔
کون لوگ ہیں یہ؟ اگر شیعت کا روپ یہ لوگ ہیں تو شہید خامنہ ای کون تھے؟ اور اگر شیعت کا روپ خامنہ ای تھے تو یہ کون لوگ ہیں؟ آپ انہیں ہمارے سامنے لا کر پیش کیوں کرتے ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ کچھ اُدھر والوں نے غلط فہمیاں پیدا کیں تو پیچھے آپ بھی نا رہے۔ آپ کو شیعت کا یہ چہرہ ہمارے سامنے رکھنا چاہئیے تھا
ہمارا آپ سے گلہ بنتا ہے۔ کیا آپ کی ذمہ داری نا تھی؟ آج سب فرق بھلا کر ہم آپ کے ساتھ جو بھائ بن کر کھڑے ہیں پہلے بھی ہو سکتے تھے نا؟
(عرفان چوہان)