01/05/2026
آج یومِ معلم کے بابرکت موقع پر دل ایک ایسے چراغ کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کی روشنی صرف علم تک محدود نہیں بلکہ فکر، شعور اور بیداری کی پوری کائنات کو منور کرتی ہے۔ وہ شخصیت جس نے درسِ قرآن و اہلِ بیتؑ کو محض الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ انقلاب کے طور پر پیش کیا — استاد جواد نقوی — یقیناً ہمارے عہد کے ان معلمین میں سے ہیں جنہوں نے علم کو جہادِ فکری میں بدل دیا۔
معلم صرف کتاب کا قاری نہیں ہوتا، بلکہ زمانے کا معمار ہوتا ہے۔ جب استاد اپنے شاگرد کو فقط معلومات نہیں بلکہ شناختِ حق و باطل عطا کرے، جب وہ اسے مکتبِ امام حسینؑ سے جوڑ دے، جب وہ اس کے اندر ظلم کے خلاف قیام کا جذبہ پیدا کرے — تو وہ استاد ایک فرد نہیں رہتا، وہ ایک تحریک بن جاتا ہے۔
آج کے پُرفتن دور میں جہاں فکری یلغار، ثقافتی حملے اور دینی تحریفات عام ہیں، وہاں ایسے معلم کی ضرورت اور اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ استاد جواد نقوی نے اپنے دروس، خطابات اور تحریروں کے ذریعے یہی کام کیا:
انہوں نے ہمیں بتایا کہ تشیع صرف عقیدہ نہیں، بلکہ ایک مکمل انقلابی نظامِ حیات ہے۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ انتظارِ ظہور، عمل کے بغیر ایک کھوکھلا تصور ہے، اور حقیقی منتظر وہ ہے جو معاشرے میں عدل کے قیام کے لیے جدوجہد کرے۔
یومِ معلم ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر قوموں نے عزت، آزادی اور بیداری حاصل کرنی ہے تو انہیں ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو خوف کے بت توڑ سکیں، خاموشی کے حصار کو چیر سکیں، اور حق کی صدا کو بلند کر سکیں۔
ہم اپنے اس روحانی معلم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں فقط پڑھایا نہیں، بلکہ ہمیں جگایا ہے۔
انہوں نے ہمیں فقط سکھایا نہیں، بلکہ ہمیں بنایا ہے۔
یہی وہ معلم ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے:
"وہ چراغ جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دے، وہی حقیقی استاد ہے۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے اساتذہ کی قدر کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔