24/12/2023
قانون بقائے توانائی (Law of conservation of energy)
تحریر : مجاہد الحق
1842 میں روبرٹ مائیر نام کا ایک سائنسدان نے مختلف تجربات اور مشاہدات کئے جس کے بعد وہ اس نتیجہ پہ پہنچا کہ توانائی تو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس بنیاد پہ ایک قانون بنا جسے قانون بقائے توانائی کہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق
"توانائی نہ پیدا ہوتی ہے نہ فنا ہوتی ہے، بلکہ ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہے".
وضاحت:
ایک نظریہ کے مطابق اس جہاں میں کوئی بھی چیز پیدا نہیں ہوتی بلکہ جو بھی چیز بنتی ہے اسکی پہلی کوئی نہ کوئی شکل ہوتی ہے وہ اسی سے تبدیل ہوتی ہے۔
اسی طرح توانائی ہے اسکی کئی شکلیں ہیں، ہوا کی شکل میں، روشنی کی شکل میں، گرمی کی شکل میں اور پھر آواز کی شکل میں اسی طرح ان کی کئی اور شکلیں بھی ہے۔
بس توانائی انہی شکلوں میں تبدیل ہوتی رہی ہے۔
آپ بجلی گھر کا مشاہدہ کریں آپکو بقائے تونائی سمجھ آجائے گی۔
اونچائی پہ موجود پانی کے اندر مخفی توانائی (potential energy) ہوتی ہے جب پانی نیچے آتا ہے تو وہ مخفی توانائی، حرکی توانائی (kinetic energy) میں تبدیل ہوگی اور جب یہی پانے آگے جا کر ٹربائن (turbine) کے ساتھ ٹکراتا ہے تو مکینیکل انرجی (mechanical energy) پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے ٹربائن گھومتا ہے جس کی وجہ سے جنریٹر (generator) گھومتا یے جس سے برقی توانائی (Electrical energy) پیدا ہوتی ہے یوں یہ برقی توانائی مختلف مراحل سے گزر کر ہمارے گھروں تک پہنچ جاتی ہے اور کنوئے پہ لگے پانی کے موٹر کے کے اندر مکینیکل انرجی میں تبدیل ہوتی ہے یوں موٹر اس انرجی کے ذریعے پانی کو ٹینکی میں پہنچا دیتا ہے یعنی واپس اسی اونچائی پہ پہنچا دیتا ہے یعنی مخفی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اس پوری کہانی سے یہ بات سامنے آگئی کہ توانائی پہلے جس شکل میں تھی ،کئی شکلیں بدلنے کے بعد واپس اسی شکل میں تبدیل ہوگئی لیکن ختم نہیں ہوئی۔
اسی وجہ سے ہم کی سکتے ہیں توانائی ہمیشہ قائم رہتی ہے ختم نہیں ہوتی.
۔۔۔
یاد رکھیں توانائی سو فیصد ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل نہیں ہوسکتی، توانائی کی شکلیں بدلتے ہوئے تھوڑی توانائی کو موت ہوتی ہے۔ جس کو ہم dead energy کہتے ہیں۔۔
Dead energy کو سمجھنے کیلئے انٹراپی کو سمجھنا ہوگا۔
انشاءاللّٰہ اگلے تحاریر میں اس ٹاپک پہ بات کریں گے۔۔