22/10/2025
اولاد قدرت کا ایک انمول تخفہ ہے۔ اس نعمت کی قدر وقیمت کا اندازہ صرف وہ لوگ لگا سکتے ہیں جن کا دامن اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے محروم رکھا ہو۔ گھر کے آنگن کو چار چاند لگانے والے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو والدین کی اُمیدیں بھی ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہیں۔ دور حاضر میں بچوں کی تربیت ایک چیلنج بن کر رہ گیا ہے کیونکہ اگر ہم دیکھیں تو پرانے زمانے اور آج کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری وہ روایتی اقدار بھی اب آہستہ آہستہ ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ دور الگ تھا جب بچے باپ کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے تھے بچے اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتے تھے۔
آج اگر دیکھا جائے تو بے شمار ڈگریاں لے کر بھی وہ فرمانبرداری، وہ پاس، بڑوں کا وہ ادب و احترام بچوں کو چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔ بچوں کی نافرمانی کی اصل وجہ اُن کی تربیت ہے بلکہ اگر ہم یوں سمجھ لیں کہ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جہاں ہم تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں پر یہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی ہم اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کرنے پر دیتے ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق بچوں کی تربیت کا اصل وقت اُن کی پیدائش سے لے کر آٹھ سال تک ہوتا ہے ۔ اس دورانیے میں بچے نے جو بننا ہوتا ہے وہ بن جاتاہے چاہے وہ جھوٹ بولنے والا بنے، چوری کرنے والا بنے یا پھر ایک نیک اور ہمدرد انسان بنے کیونکہ بچے کی مثال گیلی مٹی کی مانند ہے والدین جس سمت جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں وہ ڈھل جاتا ہے۔ بچے کی اولین درس گاہ ماں کی گود ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو اقدارِ عالیہ کا خوگر بنائے اور اُسے اخلاقِ حُسنہ کا خوبصورت مجسمہ بنانے کی کوشش کرے بالکل اُسی طرح جیسے حضرت فرید الدین گنج شکر کی ماں اُنہیں نمازی بنانے کیلئے جائے نماز کے نیچے شکر کی پُڑیا رکھ لیتی تھی اگر بابا فرید کی ماں ایسا کرسکتی ہے تو کیا آج کی ماں اس طرح کی کوئی انوکھی تدبیر نہیں کرسکتی ؟