23/08/2026
Great personality ..be bless sir Rana Ismail
رانا اسماعیل جان — گوپس کا باصلاحیت سپوت، نوجوانوں کے لیے رہنما اور خدمتِ خلق کا روشن استعارہ
گوپس خاص سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت، متحرک اور باوقار شخصیات میں رانا اسماعیل جان ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ کامیابیوں، تعلیمی قابلیت، انتظامی تجربے، سماجی خدمات اور نوجوانوں کی رہنمائی کے حوالے سے انہوں نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ گوپس، غذر اور پورے گلگت بلتستان کے لیے ایک قابلِ فخر شناخت قائم کی ہے۔
رانا اسماعیل جان کا آبائی تعلق بنیادی طور پر یاسین سے ہے۔ ان کے والدِ محترم یاسین سے ہجرت کرکے گوپس تشریف لائے اور یہاں زمین حاصل کرکے مستقل طور پر سکونت اختیار کی۔ اگرچہ آج ان کا خاندان گوپس میں آباد ہے، تاہم ان کے خاندان کی جڑیں اور خاندانی نسبت یاسین سے جڑی ہوئی ہیں۔ یوں رانا اسماعیل جان کی شخصیت میں یاسین کی روایتی اقدار اور گوپس کی معاشرتی و ثقافتی وابستگی دونوں نمایاں نظر آتی ہیں۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گوپس میں حاصل کی، جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم گوپس اور گلگت سے مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ اسلام آباد منتقل ہوئے، جہاں پنجاب کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے محمد علی جناح یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا۔ تعلیم کے دوران ان کی محنت، مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کی لگن نے ان کے مستقبل کے پیشہ ورانہ سفر کی مضبوط بنیاد رکھی۔
ایم بی اے کی تکمیل کے بعد رانا اسماعیل جان نے عملی زندگی کا آغاز کیا اور مختلف معروف قومی و بین الاقوامی اداروں میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بالخصوص ہیومن ریسورسز (HR) کے شعبے میں انہوں نے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں اور اپنی انتظامی صلاحیت، قائدانہ انداز، ادارہ جاتی نظم و نسق اور انسانی وسائل کی مؤثر مینجمنٹ کے باعث ایک تجربہ کار HR پروفیشنل کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
ان کے پیشہ ورانہ سفر میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آغا خان ہیلتھ سروسز، اسلامک ریلیف UK، ہاشو گروپ، IMDC، KCBL اور GHQ سمیت مختلف اہم اداروں کے ساتھ وابستگی شامل رہی ہے۔ مختلف نوعیت کے اداروں اور شعبوں میں کام کرنے کے اس وسیع تجربے نے ان کی پیشہ ورانہ بصیرت، انتظامی مہارت اور قیادت کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا۔
خصوصاً ہاشو گروپ کے ساتھ وابستگی کے دوران انہوں نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی تعلیم، تربیت، کیریئر رہنمائی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرامز، کیریئر کونسلنگ، تربیتی نشستوں اور رہنمائی کے مختلف اقدامات میں ان کی خدمات قابلِ ذکر رہیں۔ ان کی کوشش رہی کہ خطے کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور عملی زندگی میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
اسی سلسلے میں ہاشو فاؤنڈیشن کے ذریعے بچوں کی تعلیمی معاونت کے لیے شروع کیے گئے Child Education Support Program میں بھی ان کی کاوشیں شامل رہیں۔ اس پروگرام کا مقصد مستحق بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع، ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کرنا تھا۔ گوپس، یاسین، غذر اور گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد مستحق بچوں نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رانا اسماعیل کی دلچسپی صرف اپنی پیشہ ورانہ ترقی تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کے کم وسائل رکھنے والے طبقات کی بہتری کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔
بعد ازاں KCBL میں خدمات کے دوران انہوں نے نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی نمایاں کاوشوں میں KCBL کی تاریخ میں پہلی مرتبہ Management Trainee Officer (MTO) Program کا آغاز بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقۂ کار کے تحت آن لائن ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد قابل اور اہل یونیورسٹی گریجویٹس کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے گئے۔
یہ اقدام گلگت بلتستان کے نوجوان گریجویٹس کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ انہیں اپنی قابلیت کی بنیاد پر بینکنگ کے شعبے میں داخل ہونے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عملی میدان میں استعمال کرنے کا موقع ملا۔ ایسے اقدامات نوجوان نسل کے لیے نہ صرف روزگار کے دروازے کھولتے ہیں بلکہ ان میں میرٹ، خود اعتمادی اور پیشہ ورانہ مسابقت کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔
رانا اسماعیل جان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو نوجوانوں کی رہنمائی اور ان کے مستقبل کے حوالے سے ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ گلگت بلتستان، بالخصوص گوپس، یاسین اور غذر کے باصلاحیت نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے، بہتر تعلیم حاصل کرنے، کیریئر کا درست انتخاب کرنے اور روزگار کے مناسب مواقع تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کی جائے۔
آج وہ آرمی ہیڈکوارٹرز (GHQ)، AG Branch میں بطور DD-HR اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اپنے تجربے، محنت، ذمہ داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ قابلیت کے باعث وہ اپنے شعبے میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہے ہیں۔
سماجی خدمت اور رضاکارانہ سرگرمیاں
رانا اسماعیل جان کی شخصیت کا دوسرا نمایاں پہلو ان کی سماجی اور رضاکارانہ خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنی سماجی سرگرمیوں کا آغاز اسکاؤٹنگ سے کیا اور گوپس خاص میں GSL کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسکاؤٹنگ کے ذریعے انہیں نوجوانوں کی تربیت، کمیونٹی سروس، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قیادت کے عملی تجربات حاصل ہوئے، جنہوں نے بعد میں ان کی شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔
بعد ازاں انہوں نے اسلام آباد لوکل اور ریجنل کونسل کے مختلف شعبہ جات اور Portfolios میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ مختلف کمیونٹی سرگرمیوں میں فعال شرکت کے ذریعے انہوں نے سماجی روابط، رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے میدان میں اپنا تجربہ وسیع کیا۔
اس وقت بھی وہ اسماعیلی نیشنل کونسل کے ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ مختلف منصوبوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں English Language Program اور Ismaili Students Network (ISN) سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی، رہنمائی اور معاونت شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے نوجوان طلبہ کی تعلیمی ترقی، زبان دانی، رہنمائی اور بہتر مواقع تک رسائی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
ان سرگرمیوں میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ تجربہ کمیونٹی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو رہا ہے۔ وہ نوجوانوں کو صرف تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دیتے بلکہ انہیں اپنی شخصیت سازی، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی طرف بھی راغب کرتے ہیں۔
ایک قابلِ فخر سفر
رانا اسماعیل جان کی زندگی کا سفر اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ محدود وسائل اور چھوٹے علاقے سے تعلق رکھنے والا انسان بھی محنت، تعلیم، مستقل مزاجی، درست رہنمائی اور خدمت کے جذبے کے ذریعے قومی سطح کے اداروں میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
یاسین سے گوپس تک ان کے خاندان کی ہجرت اور پھر گوپس میں نئی بنیاد قائم کرنے سے لے کر اعلیٰ تعلیم، قومی و بین الاقوامی اداروں میں پیشہ ورانہ خدمات، نوجوانوں کے لیے روزگار و تربیت کے مواقع، بچوں کی تعلیمی معاونت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود تک، رانا اسماعیل جان کا سفر ایک مسلسل جدوجہد اور خدمت کی داستان ہے۔
وہ آج بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی رہنمائی، تعلیم، کیریئر ڈویلپمنٹ اور کمیونٹی سروس کے لیے سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت محض ایک کامیاب HR پروفیشنل کی نہیں بلکہ ایک ایسے متحرک، باصلاحیت، ذمہ دار اور خدمت گزار انسان کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی کامیابی کو دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
رانا اسماعیل جان گوپس اور گلگت بلتستان کے ان نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال ہیں جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان اگر تعلیم کو اپنا ہتھیار، محنت کو اپنا راستہ، میرٹ کو اپنا اصول اور خدمت کو اپنی ترجیح بنا لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے بلکہ اپنے علاقے، معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثبت اور دیرپا کردار ادا کرسکتا ہے۔
گوپس کی مٹی سے اٹھنے والی ایسی باصلاحیت شخصیات یقیناً پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ اللہ تعالیٰ رانا اسماعیل جان کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں اسی جذبے کے ساتھ اپنی قوم، علاقے اور نوجوان نسل کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔
Rana Burhan Jan