Gilgit-Baltistan United Students

Gilgit-Baltistan United Students Education & Information with tradition
We Use Education as a wepon to change the world. Our primary f Thankyou for Joining the GBians on Facebook !

Welcome to the GBians on Facebook, A hub for Conversation , news, ideas, education, informations ,political view , journalisim and many more , Like our page and stay connected.

04/08/2024
آئینہ ان کو دکھایا تو بُرا مان گئے۔۔گزشتہ دنوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی سابقہ آڈٹ رپورٹ پیش کرنے اور اس میں مبینہ گ...
09/06/2021

آئینہ ان کو دکھایا تو بُرا مان گئے۔۔

گزشتہ دنوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی سابقہ آڈٹ رپورٹ پیش کرنے اور اس میں مبینہ گھپلوں کی نشاندہی کرکے جواب طلب کرنے پر برادر تجمل مرحوم کے یونیورسٹی داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔ہم یونیورسٹی انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید مزمت کرتے ہیں اور تجمل مرحوم سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔
ہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مبینہ گھپلوں کے حوالے سے جلد از جلد تحقیقات کروا کر حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور اس میں ملوث کرداروں کی نشاندہی کرکے ان کو سزائیں دی جائیں ۔


قراقرم یونیورسٹی میں  آے روز نئے نئے  نمونے الگ الگ انداز کے ساتھ اپنی بہودہ حرکتوں کے ساتھ منظر پہ آرہے ہیں  اس مادر عل...
04/06/2021

قراقرم یونیورسٹی میں آے روز نئے نئے نمونے الگ الگ انداز کے ساتھ اپنی بہودہ حرکتوں کے ساتھ منظر پہ آرہے ہیں
اس مادر علمی کو یہ لوگ کیا بنانے چاہتے ہیں حکام بلا انکے خلاف کاروئی کیوں نہیں کرتی.....؟؟

15/04/2021

اسلام علیکم دوستوں! امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان اسمبلی نے کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں ایک بل پاس کیا تھا جس کے بعد مختلف اثرورسوخ رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے بندوں کو چور دروازے سے عارضی ملازمت دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد بل میں جعلی سازی کرکے اسمبلی سے باہر اس بل میں ایک شق اضافہ کیا گیا ہے جس کے مطابق فیڈرل ملازمین جو ڈیپوٹیشن پر گلگت بلتستان حکومت میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو بھی یہاں ریگولر کرینگے جو کہ جعلی سازی میں آتا ہے ان افراد نے جعلی سازی کرکے جرم کا مرتکب ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بل منظور ہونے سے ایک ماہ پہلے اور اس کے بعد اثرورسوخ رکھنے والے افراد بھرتی ہوگئے ہیں ایک اندازے کے مطابق ان افراد کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے۔ اب وہ زور بازو مستقل ہونے کے لیے دھرنے میں ہیں اس وقت ہم خاموش ہونگے تو وہ چور دروازے سے بھرتی ہونے والے افراد مستقل ہونگے اور پھر مزید پانچ سال تک سرکاری ملازمت آنے کے کوئی امکانات نہیں ہے۔
ہم گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اپنے حق کےلیے گلگت بلتستان گریجویٹس الائنس کو مضبوط کریں۔
ہم انشاءاللہ جمعہ کے دن گلگت بلتستان بھر میں احتجاج کریں گے جس کیلئے بروز جمعرات دن 3 بجے اجلاس ہوگا فیملی پارک گلگت اور گاہکوچ میں ۔ ان چور دروازے سے آنے والوں کو فارغ کرنے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔



GB Home Department has established a special cell to curb hate-speech on social media.The GB Home Department has promise...
27/03/2021

GB Home Department has established a special cell to curb hate-speech on social media.

The GB Home Department has promised to protect identities of the people reporting hate material.

اگر متفق ہے تو شئیر کریں
19/03/2021

اگر متفق ہے تو شئیر کریں

Gilgit-Baltistan
16/03/2021

Gilgit-Baltistan

عصر حاضر کا بڑا رہنما نواز خان ناجی۔۔۔۔۔۔خاکہ نمبر سات1988/89میں ابھی ٹی وی کا دو شروع نہیں ہوا تھا۔ گھر گھر میں شام کے ...
16/03/2021

عصر حاضر کا بڑا رہنما نواز خان ناجی۔۔۔۔۔۔
خاکہ نمبر سات

1988/89میں ابھی ٹی وی کا دو شروع نہیں ہوا تھا۔ گھر گھر میں شام کے وقت ریڈیو پر ریڈیو پاکستان گلگت سے فرمائشی گانوں کا پروگرام سُنا جاتا تھا۔ اس پروگرام کے بعد شنا خبروں کا آغاز ہوتا تھا۔ پانچ منٹ کا خبرنامہ ہوتا تھا۔ ہم اُس دور میں وحدت کالونی جوٹیال میں رہائش پزیر تھے۔
ایک رات فرمائشی پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ہی خبرنامہ شروع ہوا اور نیوز کاسٹر نے کہا ۔ "انا ریڈیو پاکستان گلیت ہن، شامے سات بشے دوبیو گا پوش منٹ بیلین، نواز خان ناجی جو خبریں پروجا" ( یعنی یہ ریڈیو پاکستان گلگت ہے، شام کے سات بج کے 45 منٹ ہوچکے ہیں نواز خان ناجی سے خبریں سُنے ۔
پہلی بار ایک منفرد اور خوبصورت آواز میں ایک نئے نیوز کاسٹر کی آواز میں مقامی خبریں سُننے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد کافی عرصے تک ناجی کی آواز میں ریڈیو پر خبرنامہ سنتے رہے۔ تب تک ہمیں یہ علم نہیں تھا کی نواز خان ناجی کون ہے اور کہا کا ہے۔
کچھ عرصے کے بعد مرحوم چاچا عزیز احمد ہاتھ میں ایک کتابچہ لئے گھر میں داخل ہوئے اور پڑھنے لگے۔ شام کے وقت کتاب انہوں نے پڑھ کےسائڈ پر رکھ دی۔ تب ہم غالبا 4th کلاس میں پڑھتے تھے تب بھی اخبار یا کتاب نظر آئے تو اُٹھاکے دیکھنے کی عادت تھی۔ اپنی عادت سے مجبور ہوکے کتاب دیکھنے لگے۔ کتاب پر "بالاورستان " نام کا ٹائٹل تھا اور مصنف کا نام نواز خان ناجی درج تھا۔ اندر زکر گلگت بلتستان کے متعلق تھا۔ میں نے چاچا سے پوچھا یہ کتاب کس کی ہے۔
چاچا نے کہا ہمارے شیرقلعہ کا ایک نوجوان ہے اس کی ہے۔ میں نے پوچھا کیا ریڈیو والا ناجی بھی یہی ہے۔ چاچا نے تصدیق کیا کی وہی ناجی ہے۔ مجھے عجیب سا لگا۔ ہم سوچتے تھے شائد گلگت میں کتاب لکھنے کی روایات ہی نہ ہو۔
چاچا نے مجھے کہاں کسی دن ناجی سے ملاقات کرادونگا ادھر گلگت شہر میں ہوتا ہے۔ ایک دو دن بعد چاچا کے ساتھ بائک پر شہر سے گزر رہے تھے۔ چاچا نے بائک موجود قراقرم لاج کے قریب روک کے دوسری طرف سے گزرنے والے بندے کو نواز کہہ کے آواز دیا۔ آواز سنتے ہی وہ بندہ سڑک کراس کرکے ہماری طرف آیا۔ چاچا مرحوم کے ساتھ بغلگیر ہونے اور میرے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد وہی قریب چائے پینے کینٹن پر جاکے بیٹھ ۔ کینٹن کی ٹیبل گے گردبیٹھ کے چائے کے آرڈر دیتے ہی چاچا نے مجھے کہا یہی ہے نواز خان ناجی جس کی آواز میں آپ خبرنامہ سُنتے ہو اور کل جو کتاب میں لے کے آیا تھا اُس کا مصنف بھی یہی ہیں۔ یہ بات سُن کے ناجی صاحب تھوڈے حیران ہوئے کی کیا ماجرہ ہے۔ پھر چاچا نے ناجی صاحب سے کہا یہ میرا بھتجا ہے کاکو (بڑے بھائی کا بیٹا ) ہے اور الازہر سکول میں کلاس فورتھ میں پڑھتا ہے۔ یہی تھی میری ناجی صاحب سے پہلی ملاقات۔ کتاب دیکھنے ،خبریں سننے اور ملاقات کرنے کے باوجود ناجی صاحب کے موقف کو سمجھنا میرے لئے ہرگز ممکن نہیں تھا کیونکہ عمر ہی ایسی تھی۔ جانے انجانے میں نواز خان ناجی کی شخصیت سے متاثر ضرور ہوا تھا۔ میری اُس وقت کی عمر کے بچے شائد آج کے جدید دور میں بھی میرے جتنے مثاثر ہو آج بھی ممکن نہیں۔ گھر کا موحول اور اندر کی بے قرادی کے سبب میری تب بھی ایسے کرداروں میں دلچسپی ضرور تھی۔
اس کے بعد بھی ناجی صاحب کو کئی بار گلگت شہر میں سراسری دیکھا اور ملا ضرور تھا۔ اس ملاقات کے چار پانچ سال بعد میں مرحوم چاچا عزیز احمد کے ہمراہ شندور میلہ دیکھنے گیا۔ تب میرے چاچا ضلع کونسل کے چیرمین تھے۔ ضلع کونسل غزر کے چیرمین کے لئے ٹویٹا سرکاری گاڈی ہوا کرتی تھی۔ شندور جاتے ہوئے چاچا کے ساتھیوں اور ضلع کونسل کے ملازمین نے لنگر کے مقام پر فیشنگ کی ۔ دو سو کے قریب مچھلیاں صاف کرکے شندور لے کے گئے۔ ہمارے شندور پہنچنے سے پہلے ہی ہمارے لئے سرکاری کیمپ لگ چکا تھا۔ ہمارے کیمپ کے ساتھ ایس پی مرحوم غزر امیر حمزہ ، ڈی سی مرحوم رحیم اللہ ، لوگل گورنمنٹ کے ڈائریکٹر مرحوم سعید وغیرے کے کیمپ لگے تھے۔ آگلے روز پولو سیمی فائنل کے بعد ایک پچاس ماڈل گاڈی پر مائک لگاکے کچھ لوگ شندور میں ایک ہنگامی جلسے کے اعلانات کرنے لگے۔ جلسے کے مقررہ وقت میں بھی جلسہ گاہ پہنچا۔ قراقرم نیشنل مومنٹ کے متحریک رہنما انجنئیر جمعہ گُل نے سٹیج سیکرٹری کی زمہ داریاں سنبھالی ۔ سب سے پہلی تقریر مرحوم میر نواز ایڈوکیٹ مجینی محلہ گلگت والے نے کی۔ کچھ اور مقریرین نے بھی تقریریں کی آخری تقریر کے لئے نواز خان ناجی چیرمین بی این ایف کو بُلایا گیا۔ ناجی نے سٹیج پر آکے تاریخی حقائق پر بات کرنے کے بعد بڑے جزباتی انداز میں خطے کی محرومیوں کا زکر کیا اور آخر میں دھمکی دی کی اگر ہمارے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی تو ہم بینظیر بھٹو کو شندور میں اُترنے نہیں دینگے۔ پہلی بار ایسی تقریر کو سُن کے میری آنکھیں نم ہوگئی۔ ناجی کی تقریر کو سب ہی نے سراہا۔۔۔
جلسے کے بعد جب ہم اپنے کیمپ میں پہنچے تو پتہ چلا کی ناجی صاحب اپنے ساتھیوں برادر شجاعت علی خان اور انجنئیر جمعہ گل کے ہمراہ ہماری ہمسائگی میں ہی خیمہ زن ہے۔ پروگرام کے بعد شندور میں فسٹیول کو کواریج دینے والے بی بی سی جیسے اداروں کے صحافیوں نے ناجی کے انٹرویوز شروع کئے۔ ناجی لوگوں کو وہاں کیمپ قوم پرستوں کے مدد گار ایس پی غزر امیر حمزہ مرحوم کی سفارش پر ملا تھا۔ فائنل کے روز صبح چاچا نے کہا کہ آپ کچھ مچھلیاں دے کے آنے کا کہا۔ میں مچھلیاں لے کے ان کے کیمپ کی طرف گیا تو نہ وہاں کیمپ تھا نہ مقیم سب اکھڑا تھا۔ لوگوں نے خدشے کا اظہار کیا کی ناجی اور اس کے ساتھیوں کو رات گئے گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں چترال منتقیل کیا گیا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر ہم واپس ہوئے تو شندور سے نیچے اوتر کے لنگر کے حدود میں ناجی کی پچاس ماڈل گاڈی کھڑی نظر آئی۔ قریب جاکے پتہ کیا تو ناجی نے کہا کی رات کو چترال پولیس گرفتار کرکے کے پی کے منتقیل کرنا چاہتی تھی ایس پی امیر حمزہ مرحوم کو پتہ چلا تو حمزہ صاحب نے غزر پولیس کو گرفتاری دیکھنے اور قوم پرستوں کو محفوظ انداز میں لنگر لے جاکے چھوڈنے کا حکم دیا تھا۔ کتنا نڈر تھا امیر حمزہ جو پولیس کی یونیفارم میں بھی قوم کے بیٹوں کی مدد کر رہا تھا۔۔۔۔
شندور والے والے پروگرام کے وقت میری عمر پندرہ سولہ سال تھی اور 9th میں پڑھتا تھا اس لئے مجھے ناجی کی باتیں سمجھ آنے لگی اور ان کے موقف سے ہمدردی بھی شروع ہوئی۔
اس کے بعد میٹرک سے فارغ ہونے تک گلگت شہر میں جہاں بھی قوم پرستوں کے پروگرام اور نواز ناجی کی تقریر کا پتہ چلتا ہم پہنچ جاتے۔ دسمبر 1998 کی بات ہی گلمتی کی دو یتم بچیاں اغواہوئی تو ایک ماہ تک غزر جام رہا۔ ہم غزر میں احتجاج میں سرگرم تھے ناجی حمید وغیرہ کے گلگت کے ساتھیوں کے ساتھ مل کے گلگت میں سراپا احتجاج تھے۔ لڑکیوں کی بازیابی کے بعد غزر میں ایک بڑا اجتماع جنوری 1999 میں منقید ہوا۔ مجھے سٹیج سیکرٹری کی زمہ داری ملی تھی۔ اس جلسے میں شرکت کے لئے گلگت سے گاہکوچ آئے تھے۔ تب تک ناجی گلگت شہر میں تو بہت ہی مشہور ہوچکے تھے مگر غزر میں سیاسی لوگوں کے علاوہ عوام سے ان کا سیاسی تعارف بڑے پیمانے پر ابھی نہیں ہوا تھا۔ نواز خان ناجی صاحب کو تقریر کے لئے دعوت دیتے ہوئے ان کا مکمل تعارف کرایا تو ناجی صاحب سٹیج پر آئے اور پیر کرم علی شاہ ، شہزادہ فاضل حسن شاہ سے مرتضی خان اور چاچا عزیز احمد تک کی موجودگی میں ناجی صاحب نے میلہ ہی لوٹا۔۔۔۔۔
جب ہم یونیورسٹی میں تھے تو ناجی صاحب کے دو کتابچے " چوتھا فریق " اور "ہم کون " پڑھنے کو ملے۔ جب بھی گلگت یا غزر جانا ہوتا ناجی صاحب سے ضرور ملتے اور سیکھنے کی کوشش کرتے۔
2003سے آج تک اکھٹے کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ میں ان کی 2004 سے 2015 تک ہونے والے تمام الیکشنز میں بھی ان کے ساتھ رہا۔ اچھے بُرے دن بھی اکھٹے کاٹے۔ ناجی صاحب کو قریب سے جاننے کا اتفاق ہوا۔
آئے آپ کو بتادیں کی ناجی ہے کون۔
24مارچ 1961 کے روز گاوں شیرقلعہ تحصیل پونیال ضلع غزر گلگت بلتستان میں یشکن قبیلے سے تعلق رکھنے والے حیات کے گھر ان کی دوسری زوجہ کے بطن سے پہلی نرینہ اولاد کی پیدائش ہوئی۔ حیات خان کا خاندان صدیوں قبل کھلترکوٹ گور (گوہر آباد ) دیامر سے شیر قلعہ آکے آباد ہوا تھا۔ ان کی پیدائش کے وقت ان کے والد کی عمر پچاس سال کے قریب تھی۔ نومولود بچے کا نام نواز خان رکھا گیا۔ نواز خان کے والد کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔۔۔۔ نواز خان پانچ سال کا ہوا تو انہیں گاوں کے مقامی سکول میں داخل کرایا گیا۔ جہاں سے انہوں نے 1976 میں مڈل پاس کیا۔ نواز خان کا شمار اپنی کلاس کے لائق طلبہ میں ہوتا تھا۔ پرائمری پاس کرتے ہی نواز خان علم میں دلچسپی کے سبب معروف عالم دین اور علمی شخصیت خلیفہ دُر مقنون کی محفلوں میں شریک ہونے لگے۔ خلفیہ مقنون اپنے عہد کی بڑی عالم فاضل شخصیت ہے۔ نواز خان نے ان سے عربی فارسی اور دینی علوم اور تصووف اور شاعری کے متعلق بنیادی تربیت حاصل کی۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ وہ دینی تعلم اور قرآن پاک کو بھی پڑھنے لگے۔ 1977 میں نواز خان نے ہائی سکول نمبر ایک گلگت میں 9thکلاس میں داخلہ لیا اور شاہ کریم ہاسٹل کنوداس میں رہائیش پزیر ہوئے۔ گلگت آکے بھی سکول کی۔تعلیم کے ساتھ ساتھ واعظین (شعیہ امامیہ اسماعیلوں کے ہاں مزہبی خطاب کرنے والے خطیب کو کہاں جاتا ہے )۔ میٹرک میں ہی وہ مکمل واعظ بن چکے تھے ۔ جب تک گلگت میں زیر تعلیم رہے شعیہ امامیہ اسماعیلی فرقہ کے ممتاز عالم دین الواعظ جناب فدا علی ایثار جیسے عالموں سے اسلام اور اسماعلیت کے متعلا بھی دینی علم حاصل کرتے رہے۔ جغرافیاں اور تاریخ میں نواز خان کو سکول کے زمانے سے ہی بڑی دلچسپی تھی۔ مڈل کلاسز میں ہی ورلڈ گلوب کو سمجھنے میں دسترس حاصل کرچکے تھے۔ ہاسٹل اور سکول کے پروگرامات میں تقاریر بھی کرتے رہتے تھے۔ سیاست میں دلچسپی کا انداز اس بات سے لگائی جاسکتی ہے کی پرائمری کے زمانے میں بکریاں چرانے جانے والا ننھا نواز خان بکریوں کے سامنے تقریرں کرتا ہیں اور بکریوں کو خبریں سناتا ہے۔ جغرافیآں اور نقشوں میں دلچسپی کے سبب سکول کے زمانے میں بھی دنیا کے نقشوں پر لائنیں کھنچتے تھے۔۔۔ کبھی افغانستان اور پاکستان وغیرہ کس جوڈ کے ایک نیا ملک میں بناتے کبھی اسلامی ملک کے بلاک کی لائنیں کھنچتی۔ دس سال کی عمر میں بھی بنگال کے ٹوٹنے کے اسباب پر شیرقلعہ میں بیٹھا ایک بچہ سوچتا ہے اور افسردہ ہوجاتا ہے۔ 1979 میں گلگت ہائی سکول سے میٹرک پاس کرنے کے بعد کراچی چلے جاتے ہیں۔ اور 1986 میں کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کرکے گاوں واپس آتے ہی آغاخان سکول شیرقلعہ میں بحثیت معلم پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ تھوڈے عرصے بعد سکول کی۔ملازمت کو چھوڈنے کے ساتھ ساتھ زہن سے ہمیشہ کے لئے لفظ نوکری کو ہی نکال باہر کرتے ہیں۔
گلگت میں اکثر ایڈوکیٹ جوہر علی صاحب کی محفلوں میں حصہ لینا شروع کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ شاعری کی بھی کوشش کی 1987/88 میں چند مشاعروں میں بطور شاعر بھی شرکت کی۔ شاعری کم کی مگر جتنی کی وہ کمال کی تھی۔ ناجی ان کا تخلص ہے۔
1988میں بحثیت نیوز کاسٹر ریڈیو پاکستان سے وابسطہ ہوجاتے ہیں۔ ریڈیو کے دنوں میں گلگت بلتستان کی محرومیوں اور یہاں کے قومی سوال کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس ابتدائی تجزیہ پر مشتمل بالاورستان نام سے ایک کتاب تحریر کرتے ہیں اور اس کتاب میں بھی واضع منشور کے ساتھ ایک قومی پارٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہیں ۔ ان کی باتیں عام آدمی کو آج سمجھ نہیں آتی تو اکتیس سال قبل کیسے سمجھ آجاتی۔
اس ب احسان علی ایڈوکیٹ اور چند دیگر سنئیر ساتھیوں سے بھی قومی جماعت کی تشکیل پر بات چیت کی۔ دوستوں نے دلچسپی نہیں لی تو دسمبر 1989 میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ایک پریس کانفرنس کے زریعہ کیا۔ تب گلگت میں نہ تو باضابطہ پریس کلب تھا نہ ہی آج کی طرح درجنوں صحافی ۔ پریس کانفرنس موجودہ مدینہ مارکیٹ می پچھلی لائین میں موجود بروشال کیفے نامی ریسٹورنٹ میں کیا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز خان ناجی بی این ایف کے آکلوتے رہنما اور آکلوتے ممبر تھے۔ اور کوریج کرنے والا اکلوتا صحافی سعادت علی مجاہد تھا نواز ناجی کے ساتھ ممتاز درویش دانشور شمعون مصطفی بطور مبصر شریک ہوئے تھے۔
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز خان ناجی نے وہ باتیں کی جو تاریخ میں کبھی نہیں کی گئی تھی۔ وہ باتیں کچھ یوں تھی۔

گلگت بلتستان سری نگر اور مظفر آباد کی طرح متنازعہ علاقہ ہے۔
گلگت بلتستان میں پاکستان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔۔۔۔
سٹیٹ سبجیکٹ رول کی معطلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
موجودہ گلگت بلتستان ، کرگل لداخ ، چترال اور شناکی کوہستان پر مشتمل ایک آزادی ریاست کے قیام کا اعادہ کیا گیا۔۔۔
اس ریاست کا نام تاریخی حوالوں کے ساتھ بالاورستان قرار دیا۔۔۔۔
جموں کشمیر پر ہونے والے ہر سطح کے مزاکرات میں بالاورستان کو اہم فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
یہ باتیں گلگت بلتستان کے لوگوں کے لئے ناقابل فیہم تھی۔ عام اداروں کو تو چھوڈے اداروں کو اور بیروکریسی کو بھی کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کچھ جاہل لوگوں نے کہاں کی پونیال کا ایک بیروزگار پاگل نوجوان نے پاگل پن کی باتیں شروع کی ہیں۔۔۔۔
اُس دور میں گلگت میں نوکریوں کی کوششوں میں لگے نوجوانوں نے بیروزگار ایکشن کمیٹی بنائی تھی۔ ایک روز ناجی پُل روڈ گلگت میں موجود "روبی ہوٹل " میں چائے پی رہے تھے۔ بیروزگار ایکشن کمیٹی کا ایک وفد ناجی کے پاس آیا اور ان سے کہا کی ناجی صاحب ہمارے پاس اچھا مقریر نہیں آپ کی تقریر سننے کے لئے آپ کے پاس کارکن نہیں اگر آپ ہمارے پروگرامات میں آکے تقریریں کروگے تو ہمارے جلسوں میں بھی جان آئے گی اور آپ کا تعارف بھی ہوگا اور آپ کو کارکن بھی ملینگے۔ اس کے بعد ناجی نے بیروزگار ایکشن کمیٹی کے جلسوں میں تقریریں شروع کی۔ ایک سال یہ سلسلہ جاری رہا بہت سارے لوگ نوکریوں میں لگے اور ان بیروزگار نوجوانوں میں سے بونجی سے تعلق رکھنے والی شجاعت علی خان اور جگلوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد رفیق نے ناجی کے پروگرام سے اتفاق کرکے بی این کے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
تب تک ناجی کو گلگت شہر میں کچھ نوجوانوں کی ہی حمایت حاصل تھی۔ 1992 میں بی این ایف نے باضابطہ کام شروع کیا گیا۔ نواز خان ناجی قائد و چیرمین ، رفیق نمبردار وائس چیرمین اور شجاعت علی خان پہلے مرکزی جنرل سیکرٹری بنے۔ گلگت چائنہ ٹریڈ کے قریب مرکزی سیکرٹریٹ قائم کیا گیا۔چھوٹے چھوٹے پروگرام اور کارنر میٹنگز شروع کی گئی۔ سکردو تک دورے شروع کئے گئے اور ناجی گلگت بلتستان کی سیاست میں اُبھرنے لگا۔۔۔۔
1994میں حمیدخان صاحب بی این ایف میں شامل ہوئے ۔
ناجی نے پہلے مرحلے میں حمید صاحب کو غزر کا آرگنائزر بنایا بعدازاں انہیں سیکرٹری انٹرنیشنل آفئیرز بنایا۔۔۔ شروع کے زمانے میں گلگت شہر سے نوجوانوں میں منظور شاہ ، جاوید شاہ اور موجودہ معروف صحافی شگری وغیرہ اور پونیال سے پروفیسر امیر شاہ ، ہاشیم خان ، جق خان اور شہزاد جبکہ یاسین سے علی مدد بھائی وغیرہ ابتدائی ممبر بنے۔۔۔۔
1996میں ناجی اور حمید میں اختلافات ہوئے جس کے بعد ناجی کی جماعت میں پہلی گروپنگ ہوئی ۔ اس گروپنگ میں رفیق نمبردار ایچ گروپ کا حصہ بنے حمید صاحب کے ساتھ جبکہ شجاعت علی خان اور دیگر ناجی کے ساتھ رہے۔ 1997 میں مرحوم ایس ایس پی امیر حمزہ کی کوششوں سے گروپنگ ختم ہوئی۔ 1997 کی بلیک جوبلی کے بعد ناجی کی جماعت عالمی منظرنامے پر آئی۔۔۔ جموں کشمیر میں بھی روابط کا آغاز ہوا۔
گلگت میں یکم نومبر اور 28 اپریل وغیرہ کے پراگرامات بھی ہونے لگے۔ یوں تو ناجی اور اس کے ساتھیوں کو ہر سال چودہ اگست کے روز 2003 تک گرفتار کیا جاتا تھا۔
1994/95میں بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں ناجی کسی دوست کی مدد سے مہمان گیلری کس پاس لت کے قومی اسمبلی کی گیلری میں پہنچا جہاں سے دوران سیشن پمفلیٹس ممبران قومی اسمبلی پر پھینکے ۔ دن بھر تفتیش کے بعد شام کو انہیں چھوڈا گیا۔
1995 کے بعد کراچی سے کشمیر تک کے دورے کئے۔
1997اور 2000 میں ناجی دیگر قوم پرستوں کے ساتھ گرفتار ہوکے سٹی تھانہ ، کینٹ تھانہ اور شروٹ چوکی میں بدترین تشدد کا نشانہ بنے اور گلگت و چیلاس جیل میں پابند سلاسل رہے۔ 2000سے 2003 تک دو کتابچہ لکھے۔
1997 سے 2002:کے درمیان نوجوان نسل کے پسندیدہ رہنما بن گئے۔ 2004 چار میں جی بی ایل اے 19 غزر ایک سے ناقابل شکست مانے جانے والے پیر کرم علی شاہ کے مقابلے۔میں پہلی بار انتخابات میں حصہ لے کے پہلی کوشش میں چار ہزار ووٹ لینے کے باوجود شکست ہوئی۔ 2004 تک گلگت میں وقت دیتے تھے چار کے بعد غزر میں وقت دینا شروع کیا۔ 2005 میں ممبی انڈیا میں ہونے والے ورلڈ سوشل فورم میں شرکت کی۔
درمیان میں کاروبار بھی کرنے کی کوشش کی چین اور ہانگ کانگ سے امپورٹ کا کام کرتے رہے۔ والد کے وفات کے وقت چین میں تھے۔
2009 میں پی پی پی کے آرڈر کے بعد ایک بار پھر بی این ایف کے پلٹ فارم سے پی پی پی کے پیر کرم علی شاہ کا مقابلہ کیا ۔ آبائی پولنگ سٹیشن پر سرکار نے فائرنگ کرائی۔ پولنگ بکس غائب کیا گیا۔ ان کے کارکن زبیر کو شہید کرنے کے بعد کھُلی دھاندلی کرکے صرف دوسو ووٹوں کے فرق سے اسمبلی میں جانے سے زبردستی روکا گیا۔ 2011 میں پیر صاحب کے گورنر بن جاننے کے بعد ضمنی الیکشن۔میں حصہ لیا۔۔ اسلام آباد اور گلگت میں پی پی پی کی حکومت ہونے ، وزیر اعلی اور گورنر کی مداخلت کے باوجود پی پی پی کے اُمیدوار کو عوامی قوت سے چار ہزار ووٹوں کی برتری سے شکست دے کے جموں کشمیر کی تینوں آکائیوں کے اندر ایک نئی تاریخ رقم کی اور اپنی پارٹی کا جھنڈا لگا کے اسمبلی میں داخل ہوکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔
2015 میں پاکستان میں مسلم لیگ کی حکومت ہوتے ہوئے طھی ناجی نے اپنے حلقے سے مسلم لیگ کو 101 ووٹوں سے شکست دے کے مسلسل دوسری بار اسمبلی کے رکن بن گئے یہ سری نگر ، مظفر آباد اور گلگت میں قوم پرستوں کی پہلی اور انوکھی تاریخ ہے۔ اس وقت نواز خان ناجی پارلمانی کمیٹی کے چیرمین ہے۔

گلگت بلتستانیں ساٹھ ستر اور اسی کی دہائی جوہر علی خان کا عہد مانا جاتا تھا۔ آج کا عہد ناجی کا عہد ہے۔ 1997 سے اب تک جی بی میں بننے والی تمام قومی جماعت نواز خان ناجی کے ہی سیاسی بیانیے پر سیاست کر رہی ہے۔ ناجی کا الیکشن ناجی نہیں اس کے حامی لڑتے ہیں۔ دونوں الیشنکز میں ناجی واحد ممبر ہے جو زاتی ایک پیسہ خرچ کئے بغیر لڑتا ہے۔۔۔۔
ناجی کے چند ناقدین ان پر بزدل ہونے یا دل چھوٹا ہونے کی بات کرتے ہیں یہ بات اس لئے درست نہیں کی گلگت میں جہاں لوگ آئنی حقوق دو جیسے مبہم مطالبات کرتے تھے وہاں تیس سال قبل 29 سال کا اکیلا نوجوان آزادی کی بات کرتا ہے۔
جہاں پولیس حولدار کو چیلنج نہیں کیا جاتا ہو وہاں ناجی آزادی کی بات کرتا ہے کیا ایسی بات کرنے والا شخص بزدل ہوسکتا ہے۔ دو بار ممبر بن جانے کے باوجود ناجی آج بھی باپ کے 1980 بنائے ہوئے 10*12 گئے کمرے میں رہتا ہے۔ آج بھی فٹ پاتھ پر پیدل چلتا ہے۔ اس وقت بھی ناجی اپنے حلقے میں مضبوط ترین اُمیدوار تو ہے ہی اس کے ساتھ اس وقت ناجی گلگت بلتستان کا سب سے قدآوار حق پرست رہنما ہے۔
ناجی کی خوبیوں اور صلاحتوں اور کامیابیوں پر تو تفصیلی بات تو ہوئی اب تھوڈی سی بات اگر ان کی ناکامیوں پر یا کمزوریوں پر کی جائے تو میرے خیال سے یہ چند ایک خامیاں یا ناکامیاں ان کی بھی بحثیت انسان ہونگی۔ جو کچھ یوں ہیں۔

ناجی صاحب سیکنڈ لائین لیڈر شپ نہیں لاسکے۔۔۔۔۔
کیڈر سازی پر جتنا کام کرنے کی ضرورت تھی اور جو وہ کرسکتے تھے وہ نہیں کر پائے۔
آج بھی کبھی کبھار غیر ضروری جزباتی ہوجاتے ہیں۔۔۔
پارٹی کے ادارے نہیں بناسکے۔
ناجی صاحب خود تو ہر وقت بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے مطابق ارتقا سے گزرتے رہتے ہیں مگر اپنے کارکنوں کو ارتقا سے گزار نہ سکے وغیرہ وغیرہ ہے۔

جیسا بھی ہو مجھے ان بائیس سالوں میں میں سری نگر جموں ، لداخ اور مظفر آباد سے گلگت بلتستان تک سب ہی رہنماوں سے ملا ہوں ان سب سے ملنے کے بعد میں اس بات کا برملا اعتراف کرتا ہوں کی پوری ریاست جموں کشمیر میں جغرافیاں ، تاریخ ، انٹرنیشنل گریٹ گیم پر ناجی کے مقابلے میں دوسرا کوئی اور نہیں ہے۔ ناجی اعلی پائے کا مقریر اور کرسماتی شخصیت کا بھی مالک ہے۔یہ بات میں زاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ تحقیق کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔ بس ناجی کی بدقسمتی یہ ہے کی ناجی کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہاں بھی شیرقلعہ کے ایک عام گھرانے سے ہے اس لئے مخالف تو مخالف اپنے ہمخیالوں میں بھی بہت سارے دوست زاتی عداوت میں ان کو قبول نہیں کرتے ہیں۔
ناجی کی کئی باتوں سے زاتی حثیت میں۔مجھے بھی اختلاف ہے مگر ہمارے پاس سب سے بہتر پھر بھی نواز خان ناجی ہی ہے۔
ناجی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کی نواز خان ناجی کو ماضی میں غدار کہنے والے لوگ بھی آج گلگت بلتستان کے متعلق وہی بات کرتے ہیں جو ناجی نے انہیں. 1989 میں بتایا تھا۔

Congratulations to Brother Burhan Ullah  Proud Of Darel Diamer, Burhan Ullah S/O Doctr Abdul Qadim completed LLB from  P...
12/03/2021

Congratulations to Brother Burhan Ullah Proud Of Darel Diamer, Burhan Ullah S/O Doctr Abdul Qadim completed LLB from Punjab University and became officially an advocate, previously, he did MSC in Governance and Public Policy from NUML university Islamabad.
Nowadays, he is doing his Law practice at F-8 Islamabad court.
Wish you best of Luck for your bright future. May Allah almighty give you more success,❤️💜♥️copy post dear shokur shahi.....

غذر سے تعلق رکھنے والا ذیشان مرتضیٰ مرحوم حسن قمر کے دوست کے لیے مسیحا بن گیا وقت پر نہ آتا تو آج ایک کی بجاٸے دو لاشیں ...
10/03/2021

غذر سے تعلق رکھنے والا ذیشان مرتضیٰ مرحوم حسن قمر کے دوست کے لیے مسیحا بن گیا وقت پر نہ آتا تو آج ایک کی بجاٸے دو لاشیں اٹھانا پڑتا۔
ذیشان مرتضیٰ نے زیرو پوائنٹ امپھری کے فٹبال گراؤنڈ سے واپسی پہ دو بچوں کو ڈوبتا دیکھا اور بچانے گٸیے جس میں ایک کو بچا لیا لیکن حسن قمر کافی پہلے ڈوب چکا تھا جسے بچا نہ سکے۔
یقنا نفسا نفسی کی دور میں دوسروں کی جانوں کے خطر اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے بہت کم ہی ملتے ہیں۔

سکردو : پاک آرمی کی طرف سے جاری ٹیکنیکل ٹریننگ سیشن تھری کا اختتام ، 2 سو سے زائد ہنر مند افراد عملی زندگی میں داخل ہو گ...
27/02/2021

سکردو : پاک آرمی کی طرف سے جاری ٹیکنیکل ٹریننگ سیشن تھری کا اختتام ، 2 سو سے زائد ہنر مند افراد عملی زندگی میں داخل ہو گئے۔ آرمی پبلک سکول میں جاری تربیتی ورکشاپ کا تیسرا سیشن اپنے اختتام کو پہنچا جس میں 2 سو سے زائد غیر ہنر مند افراد کو کمپوٹر ، الیکٹرانک اور ٹیلرینگ کی تربیت دی گئی ان میں زیادہ تعداد خصوصی افراد کی تھی۔ 6 ہفتوں سے جاری تربیتی سیشن کے اختتامی تقریب کے دوران سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سید امجد زیدی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی، انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی خصوصی افراد سمیت غیر ہنرمند افراد کو معاشرے کے کارآمد افراد بنانے کےلئے کی جانے والی کاوشیں قابل تعریف ہیں جس پر پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا میں انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔ پاک فوج کی طرف سے جاری تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر ہنرمند افراد کو اسناد کے ساتھ ساتھ ضروری سازوسامان دیکر عملی زندگی کا آغاز کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے-

Address

No Need :)
Gilgit Baltistan
O5811

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit-Baltistan United Students posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Gilgit-Baltistan United Students:

Shortcuts

Share