IHSAN TUTOR

IHSAN TUTOR

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from IHSAN TUTOR, Education Website, khanpur Mahar, Ghotki.

11/05/2026

Syllabus for screening Test of CCE-2025 to be conducted by SPSC

11/05/2026

Screening Test of CCE-2025 Date announced by SPSC
30-05-2026



Photos from  IHSAN TUTOR's post 10/05/2026

Taulka-wise Vacancy Positions for JST Junior Science Teachers

10/05/2026

The official results for Junior Science Teacher have been announced, with 8725 candidates successfully passing the written examination so far.




Photos from  IHSAN TUTOR's post 10/05/2026

Jobs in multiple government organizations advertised in today's newspapers

Photos from  IHSAN TUTOR's post 10/05/2026

سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئیے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئیے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو گنے سے بھرے ٹرالے کے نیچے أ گئیے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئیے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں
نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا
میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟
میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنو
زندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا
میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی میمبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔
میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔!!
اہلیت ہوتے ہوئے بھی جج نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ بطور جج مجھ پر پریشر آ سکتا ہے مگر بطور وکیل کوئی مجھے مجبور نہیں کر سکتا میں حلال طریقہ رزق سے اتنا کما لیتا ہوں کہ گزارا ہو جاتا ہے بس میں اتنے میں ہی خوش و مطمئن ہوں
جج صاحب بتاتے ہیں کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عزت عہدے میں نہیں اعمال میں ہوتی ہے.

Photos from  IHSAN TUTOR's post 06/05/2026

SPSC has announced the results of written part of CCE 2025 held in the month of December 2025

Photos from  IHSAN TUTOR's post 06/05/2026

Current government employment opportunities listed in newspapers

04/05/2026

The Federal Investigation Agency has announced an extension of its application submission deadline to May 11, 2026, giving applicants more time to submit their documents.

Photos from  IHSAN TUTOR's post 01/05/2026

ڀرتي اينوميريٽرز (EGRA اينڊ لائن سروي)
اداري جو نالو: آڪسفورڊ پاليسي مينيجمينٽ
عهدي جو نالو: اينوميريٽرز (مرد ۽ عورتون)
فيلڊ جا هنڌ:
گهوٽڪي، جيڪب آباد، قمبر شهدادڪوٽ، ڪشمور، شڪارپور، ميرپورخاص، مٽياري، سانگهڙ، سجاول، ٽنڊو محمد خان، ٺٽو، بدين ۾
ٽريننگ جو هنڌ: حيدرآباد
شروعاتي تاريخ: 8 مئي 2026
مدو: 16 ڏينهن
معاوضو: 100,000 پاڪستاني رپيا (هڪ مُشت، ٽيڪس سميت)
سهولتون
• ٽريننگ دوران رهائش ۽ سفر (حيدرآباد ۾) فراهم ڪيو ويندو
• فيلڊ ڪم دوران ضلعي اندر سفر مهيا ڪيو ويندو
• مقرر ڪيل ضلعن ۾ رهائش فراهم نه ڪئي ويندي
اهليت جا معيار:
• لاڳاپيل مقامي ٻولي ۾ رواني
• سروي يا ڊيٽا گڏ ڪرڻ جو تجربو
• ٻارن سان ڪم ڪرڻ جو تجربو
• مڪمل مدت لاءِ دستياب هجڻ
• مقرر ڪيل ضلعن ۾ ڪم ڪرڻ جي صلاحيت
• اسمارٽ فون يا ٽيبليٽ استعمال ڪرڻ ۾ مهارت
• اينڊرائيڊ فون لازمي (پاور بئنڪ هجي ته بهتر)
اهم هدايتون:
• پنهنجي سي وي ۾ واضح طور پنهنجو ضلعو لکو
• مقامي اميدوارن کي ترجيح ڏني ويندي
• چونڊ ٽريننگ جي ڪارڪردگي جي بنياد تي ٿيندي
• اسائنمينٽ وڌائي به سگهجي ٿي
درخواست ڏيڻ لاءِ
پنهنجو سي وي هن اي ميل تي موڪليو [email protected]

Photos from  IHSAN TUTOR's post 01/05/2026

The Prime Minister's Apna Ghar residential housing scheme presents a fantastic chance for individuals seeking to own their own homes.





Want your school to be the top-listed School/college in Ghotki?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Khanpur Mahar
Ghotki
65070

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00