11/05/2026
“میں اللّٰہ سے ہر اُس گناہ کی معافی مانگتی ہوں جو نیکیوں کو مٹا دیتا ہے۔
میں اللّٰہ سے ہر اُس گناہ کی معافی مانگتی ہوں جو برائیوں میں اضافہ کر دیتا ہے۔
میں اللّٰہ سے ہر اُس گناہ کی معافی مانگتی ہوں جو مجھے جنت سے دور کر دے۔
میں اللّٰہ سے ہر اُس گناہ کی معافی مانگتی ہوں جو مجھے جہنم کے قریب کر دے۔” 🤍
11/05/2026
*🌦️سيِّد الإستغفار
*اللهُم أنت ربي لا إله إلَّا أنت خلقتني وأنا عبدُك ، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت ، أعوذ بكَ مِن شرِّ ما صنعت ، أبوء لك بنعمتك عليَّ ، وأبوء لك بذنبي فاغفر لي ؛ فإنه لا يغفر الذنوب إلَّا أنت*
*
11/05/2026
📊 سروے 📊
😊 ناراض مت ہوں
کیا آپ کے گھر میں سےکوئی بچی مدرسہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہے؟
Yes/No
11/05/2026
جلدی گھبرا جانا فیصلوں کو کمزور کر دیتا ہے جبکہ صبر کامیاب لوگوں کی اصل پہچان ہے ۔🤎
11/05/2026
"اپنے آپ کو ہمیشہ پرامید (پرجوش) رکھو، اور جو اللہ چاہے گا وہی ہو کر رہے گا۔ ہمیشہ خوش و خرم، ہشاش بشاش اور فراخ دل رہو؛ کیونکہ تمہارے سامنے دنیا بہت وسیع ہے اور راستہ کھلا ہوا ہے۔ یہی تمہارے لیے خیر (اور بہتری) ہے۔"
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ
[شرح رياض الصالحين (٤/٨٧)]
11/05/2026
🍀*استاد اور شاگرد*...
*امام شافعی رحمه الله کے شاگرد ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ ایک روز شافعی نے مجھے سے کہا : ”*ربیع! اگر میرے بس میں ہوتا تو میں یہ علم تمہیں کھانے کی طرح کھلا دیتا*“
(المدخل إلى السنن الكبير للبيهقي : 646)
”*استاد کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ شاگردوں کو اپنے بیٹوں کی مانند سمجھے* *جیسا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : (میں تمہارے لیے ایک باپ کی مانند ہوں)*۔“
(ميزان العمل للغزالي : 363)
*یہ بات معلوم شدہ ہے کہ طلبہ میں علم کی حرص کم یاب بلکہ ناپید ہو چلی ہے۔ اس لیے علماء کو چاہیے کہ طلبہ میں علم کی محبت پیدا کریں*۔“
(كشف المشكل لابن الجوزي : 15/1)
حسن بن صالح ثوری رحمہ اللہ (١٦٩هـ) فرماتے ہیں :
’’*لوگوں کو اپنے دین میں علم کی اسی طرح ضرورت ہے، جیسے انہیں اپنی دنیا میں کھانے اور پینے کی ضرورت ہوتی ہے*۔‘‘
(مسند الدارمي : ٣٣٦ وسنده صحیح)
اللهم وفقنا لما تحب و ترضى-آمین
11/05/2026
" الطَّاعةُ تَـجلِبُ للعبدِ برَكَاتِ كُلِّ شَيءٍ، والمَعْصِيَةُ تَمْحَقُ عَنه كُلَّ بَركَة "
*"فرماںبرداری بندے کے لیے ہر چیز کی برکتیں لے کر آتی ہے، جبکہ نافرمانی اس سے ہر برکت کو چھین لیتی ہے۔"*
امام ابن القیم رحمہ اللہ
10/05/2026
سيد الحفاظ ابو زرعۃ الرازی رحمہ اللہ (٢٦٤ھ) جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو فرمایا : ”اے اللہ! میں تیرے دیدار کا مشتاق ہوں!“ پھر کہنے لگے : ”اگر مجھ سے پوچھا جائے گا کہ کس عمل کی بنا پر تم میرے دیدار کا شوق رکھتے تھے؟! تو میں کہوں گا : یارب! تیری رحمت کی بنا پر!“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : ٣٤٦/١)
10/05/2026
ایک باپردہ عورت اور ایک بے پردہ عورت میں کیا فرق ہوتا ہے، اس تصویر کے ذریعے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے !
اس لیے زمانے کے ساتھ نہیں شریعت کے ساتھ چلیں إن شاء اللہ ہمیشہ خیر و بھلائی مقدر رہے گی
10/05/2026
کہا جاتا ہے ایک دیہاتی جب دسترخوان پر بیٹھتا تو بہت زیادہ کھاتا تھا۔
لوگوں نے سوچا کہ اسے کسی بات میں لگا دیا جائے تاکہ ہم بھی سکون سے اپنا حصہ کھا لیں۔
چنانچہ انہوں نے کہا: ذرا ہمیں حضرت یوسفؑ کا قصہ سناؤ۔؟
دیہاتی فوراً بولا:
گُم ہوئے ۔۔۔ پھر مل گئے!“ 🫠
(عربی سے ماخوذ)
09/05/2026
جب گناہ کم ھوں تو آنکھیں بہت جلد بہہ پڑتی ہیں۔
مجموع رسائل ابن رجب ٢٦٢/١