فخر العلوم اسلامک اکیڈمی

فخر العلوم اسلامک اکیڈمی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from فخر العلوم اسلامک اکیڈمی, Tutor/Teacher, Ghakhar.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی محمد فخر عباس بندیالوی
ایم اے اسلامیات پنجاب یونیورسٹی لاہور
فاضل دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور
متخصص دارالعلوم جامعہ فریدیہ ساہیوال

اس گروپ کا مقصد علم دین کا فروغ ہے

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ  *کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود شریف پڑھنے ک...
25/08/2026

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ
*کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود شریف پڑھنے کا حکم*
*ثَالِثُهَا* : تَجِبُ مَرَّةً فِي الْعُمْرِ فِي صَلَاةٍ أَوْ فِي غَيْرِهَا، وَهِيَ مِثْلُ كَلِمَةِ التَّوْحِيدِ، وَهُوَ مَحْكِيٌّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ
(درود شریف پڑھنے کے احکام میں سے) تیسرا حکم یہ ہے کہ: یہ پوری زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے، خواہ نماز کے اندر ہو یا نماز کے باہر، اور یہ (حکم میں) کلمہ توحید (لا الہ الا اللہ) کی طرح ہے۔
*رَابِعُهَا* : تَجِبُ فِي الْقُعُودِ آخِرَ الصَّلَاةِ بَيْنَ قَوْلِ التَّشَهُّدِ وَسَلَامِ التَّحْلِيلِ، قَالَهُ الشَّافِعِيُّ وَمَنْ تَبِعَهُ.
چوتھا حکم یہ ہے کہ: نماز کے آخری قعدہ (بیٹھنے) میں، تشہد پڑھنے اور نماز ختم کرنے والے سلام کے درمیان (درود پڑھنا) واجب ہے۔ یہ امام شافعیؒ اور ان کے متبعین (پیروی کرنے والوں) کا قول ہے۔
(القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع صلی اللہ علیہ وسلم)
لامام السخاوی المتوفی 904ھ

24/08/2026

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ

*نبی کریم ﷺ پر *درود* بھیجنے کا حکم* ،
حُكْمُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وَأَمَّا حُكْمُهَا: فَقَدْ قَالَ شَيْخُنَا رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّ حَاصِلَ مَا وَقَفْتُ عَلَيْهِ مِنْ كَلَامِ الْعُلَمَاءِ فِيهِ عَشَرَةُ مَذَاهِبَ:
ہمارے(امام سخاوی علیہ الرحمہ)شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
علماء کرام کی گفتگو سے جو کچھ مجھے حاصل ہوا اور جس پر میری نظر پڑی ہے، اس میں دس مذاہب ہیں

*أَوَّلُهَا*
قَوْلُ ابْنِ جَرِيرٍ الطَّبَرِيِّ وَغَيْرِهِ: إِنَّهَا مِنَ الْمُسْتَحَبَّاتِ، وَادَّعَى الطَّبَرِيُّ الْإِجْمَاعَ عَلَى ذَلِكَ.
*پہلا قول* : *مستحب*
ابن جریر طبری اور دیگر علماء کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا *مستحب* ہے۔
امام طبری علیہ الرحمہ نے اس پر اجماع کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
وَاعْتُرِضَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ، وَمِمَّنْ لَمَحَ بِالِاعْتِرَاضِ عَلَيْهِ أَبُو الْيَمَنِ ابْنُ عَسَاكِرَ حَيْثُ قَالَ: وَحَمَلَ بَعْضُهُمْ مَا وَرَدَ مِنَ الْأَمْرِ بِذَلِكَ فِي الْآيَةِ عَلَى النَّدْبِ لَا عَلَى الْوُجُوبِ، وَلَا يُسَلَّمُ لِهَذَا الْقَائِلِ قَوْلُهُ، وَلَا يُسْلَمُ مِنَ الِاعْتِرَاضِ عَلَيْهِ فِيهِ، فَإِنَّهُ ادَّعَى عَلَى ذَلِكَ الْإِجْمَاعَ، وَهُوَ مَحَلُّ النِّزَاعِ. انْتَهَى.
*اس موقف پر اعتراض*
جن حضرات نے اس پر اعتراض کی طرف اشارہ کیا ہے، ان میں ابو الیمن ابن عساکر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا:
بعض علماء نے آیتِ کریمہ میں درود کے بارے میں وارد ہونے والے حکم کو وجوب کے بجائے استحباب پر محمول کیا ہے۔ لیکن اس قائل کی یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی اس اعتراض سے وہ بری الذمہ ہو سکتا ہے؛ کیونکہ اس نے اس مسئلے پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ یہی تو محلِ نزاع ہے۔
وَقَدْ أَوَّلَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ هَذَا الْقَوْلَ بِمَا زَادَ عَلَى الْمَرَّةِ الْوَاحِدَةِ، وَهُوَ مُتَعَيِّنٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اور بعض علماء نے اس قول کی یہ تاویل کی ہے کہ *ایک مرتبہ سے زیادہ درود بھیجنا مستحب ہے،*
اور یہی بات متعین معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
ثَانِيهَا: مُقَابِلُهَا، وَهُوَ أَنَّهَا وَاجِبَةٌ فِي الْجُمْلَةِ بِغَيْرِ حَصْرٍ، لَكِنْ أَقَلُّ مَا يَحْصُلُ بِهِ الْإِجْزَاءُ مَرَّةٌ،
*دوسرا قول* : *واجب*
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا فی الجملہ *واجب* ہے، لیکن اس کی کوئی متعین تعداد نہیں۔ البتہ کم از کم اتنا ضرور ہے کہ جس سے فرض ادا ہو جائے، اور وہ ایک مرتبہ ہے۔

وَادَّعَى بَعْضُ الْمَالِكِيَّةِ الْإِجْمَاعَ عَلَيْهِ، وَعِبَارَةُ ابْنِ الْقَصَّارِ مِنْهُمْ:
بعض مالکی علماء نے اس پر بھی اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں ابن القصار کی عبارت یہ ہے:
الْمَشْهُورُ عَنْ أَصْحَابِنَا أَنَّ ذَلِكَ وَاجِبٌ فِي الْجُمْلَةِ عَلَى الْإِنْسَانِ، وَفَرْضٌ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا مَرَّةً فِي دَهْرِهِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى ذَلِكَ.
وَذَكَرَ الْفَاكِهَانِيُّ عَقِبَ هَذَا مَا مُلَخَّصُهُ:
ہمارے اصحاب سے مشہور قول یہ ہے کہ انسان پر فی الجملہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا واجب ہے، اور اس پر فرض ہے کہ اپنی زندگی میں قدرت ہونے کی صورت میں کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھے۔

عربی لینگویج جاننا کیوں ضروری ہے سننے کے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریںچینل کو سبکرائب کرنا مت بھولیے https://youtu.be/1JXW...
22/08/2026

عربی لینگویج جاننا کیوں ضروری ہے سننے کے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں
چینل کو سبکرائب کرنا مت بھولیے
https://youtu.be/1JXWM4ialmc?si=s61rGKz3yzWtL90Q

22/08/2026

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یاحبیب اللہ
لفظ *صلوٰۃ* کے معنی
جب لفظ صلوٰۃ کی اللہ تعالیٰ کی طرف ہو اس وقت معنی *مغفرت* اور *رحمت* ہوگا
وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي حَاتِمٍ فِي «تَفْسِيرِهِ»
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ:
﴿هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ﴾ [الأَحْزَابِ: ٤٣]،
يَغْفِرُ لَكُمْ، وَيَأْمُرُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لَكُمْ.
ترجمہ:
حضرت امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں سعید بن جبیر اور مقاتل بن حیان سے نقل کیا ہے کہ
﴿وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے﴾، یعنی وہ تمہیں *بخش* دیتا ہے
اور فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمہارے لیے *استغفار* کریں۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مَعْنَى صَلَاةِ الْمَلَائِكَةِ:
الدُّعَاءُ بِالْبَرَكَةِ.
ترجمہ:
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ فرشتوں کی صلاۃ کا معنی *برکت* کی دعا کرنا ہے۔
وَقَدْ عَلَّقَ ذَلِكَ الْبُخَارِيُّ عَنْهُ، فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُصَلُّونَ، يُبَرِّكُونَ.
ترجمہ:
اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تعلیقاً نقل کیا ہے،فرماتے ہیں کہ: حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا
: وہ *صلاۃ* بھیجتے ہیں، یعنی *برکت* کی دعا کرتے ہیں۔
وَنَقَلَ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا:
صَلَاةُ الرَّبِّ: الرَّحْمَةُ، وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ: الِاسْتِغْفَارُ.
ترجمہ:
اسی طرح
امام ترمذی نے حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہ اور اہلِ علم کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، انہوں نے فرمایا:
رب تعالیٰ کی *صلاۃ* سے مراد *رحمت* ہے، اور فرشتوں کی *صلاۃ* سے مراد *استغفار* ہے۔
وَهُوَ مَنْقُولٌ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ وَالضَّحَّاكِ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: صَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ: الدُّعَاءُ.
ترجمہ:
اور یہی قول حضرت ابو العالیہ اور حضرت ضحاک رحمہما اللہ سے بھی منقول ہے، البتہ ان دونوں نے فرمایا: فرشتوں کی *صلاۃ* سے مراد *دعا* ہے۔

19/08/2026

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ
وعلی آلک واصحابک یا حبیب اللہ
*لفظ صلوٰۃ کا دوسرا معنی*
*وَالْمَعْنَى الثَّانِي: الْعِبَادَةُ،
وَمِنْهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ* "،
​ترجمہ:
​"لفظ *صلوٰۃ* کا دوسرا معنی "" *عبادت* "" ہے۔
اسی معنی میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
«جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نماز (عبادت/دعا) پڑھے»۔
اور اس فرمان کی تفسیر پہلے معنی (دعا) کے ساتھ بھی کی گئی ہے، اور یہی (تفسیری قول) زیادہ کثیر (ترجیح یافتہ) ہے۔"
*​وَقَدْ فُسِّرَ بِالْمَعْنَى الْأَوَّلِ أَيْضًا، وَهُوَ الْأَكْثَرُ.
وَقِيلَ: إِنَّ الصَّلَاةَ فِي اللُّغَةِ الدُّعَاءُ، وَهُوَ عَلَى نَوْعَيْنِ: دُعَاءُ عِبَادَةٍ، وَدُعَاءُ مَسْأَلَةٍ. *فَالْعَابِدُ دَاعٍ كَالسَّائِلِ،
وَبِهِمَا فُسِّرَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60]؛
فَقِيلَ: أَطِيعُونِي أُثِبْكُمْ،
وَقِيلَ: سَلُونِي أُعْطِكُمْ.
وَقَوْلُهُ: ﴿أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ [البقرة: 186].»**
ترجمہ:
​"اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: لغت میں ' *صلوٰۃ* ' کا اصل معنی *دعا* ہے،
اور دعا کی دو قسمیں ہیں: 1.دُعائے عبادت
2. دُعائے مسألہ (سوال کرنا/مانگنا)۔
3. پس عبادت کرنے والا بھی سائل (مانگنے والے) کی طرح دعا کرنے والا ہی ہوتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: *﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾* (تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری قبول کروں گا) کی تفسیر ان دونوں معنوں سے کی گئی ہے۔
چنانچہ کہا گیا:
(میری اطاعت کرو، میں تمہیں ثواب دوں گا)،
اور یہ بھی کہا گیا: (مجھ سے مانگو، میں تمہیں عطا کروں گا)۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:
﴿ *أُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾* (میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے)۔"
(القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم)

18/08/2026

الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ
لفظ صلوٰۃ کے معنی
أما أصلها لغةً: فيرجع إلى معنيين:
​أحدهما: الدعاء والتبرك،
فمنه:
﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ﴾ [التوبة: ۱۰۳] وقوله ﴿وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ﴾ [التوبة: ۹۹]
وقوله ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ﴾ [التوبة: ٨٤].
ومنه: ، أي: الدعاء للميت.
(القول البدیع فی الصلاۃ علٰی الحبیب الشفیع)
ترجمہ:
لفظ ""صلوٰۃ "" کے معنی
پہلا معنی: دعا اور برکت چاہنا۔
​قرآنی دلائل:
​اللہ تعالیٰ کا فرمان:
﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ﴾ "
اور ان کے لیے دعا کیجیے، بیشک آپ کی دعا ان کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔" (سورۃ التوبہ: 103)
​اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ﴾ "
اور رسول کی دعاؤں کو (اللہ کی قربت کا ذریعہ بناتے ہیں)۔" (سورۃ التوبہ: 99)
​اللہ تعالیٰ کا فرمان:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ﴾ "اور ان میں سے کسی (منافق) پر کبھی نمازِ جنازہ (دعا) نہ پڑھیں۔" (سورۃ التوبہ: 84)
الصلاة على الجنازة
​، یعنی میت کے لیے دعا کرنا۔

17/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ
ہم علم صرف کے اسباق شروع کرنے لگے ہیں
مکمل اسباق سننے کے لیے ہمارے گروپ کو فالو
اور نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں اور
ہمارے یوٹیوب چینل کو سبکرائب کریں
https://www.youtube.com/
#علم #صرف #علم #نحو
Following

04/08/2026

بچوں کی تعلیم و تربیت اور دین متین کی ترویج و اشاعت کے لیے ہمارا پیج اور یوٹیوب چینل اور ٹک ٹاک ضرور لائک،فالو اور شیئر کریں شکریہ
https://youtube.com/?si=pDjeI2rWmTCAy-7a

tiktok.com/

اسم ضمیر کی اقسام
19/04/2026

اسم ضمیر کی اقسام

اسم کی تقسیم باعتبار اعراب و بناء
19/04/2026

اسم کی تقسیم باعتبار اعراب و بناء

Address

Ghakhar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فخر العلوم اسلامک اکیڈمی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category