Jamia Hassan Bin Ali R.A

Jamia Hassan Bin Ali R.A Jamia Hassan Bin Ali R.A was established in 6th May 2023 15 Shawwal 1444H

قائم شدہ 15شوال المکرم 1444ھجری بمطابق 6 مئی 2023ء

*شرکِ اکبر سے بچنے والے انسان کے دل میں شرکِ اصغر کا طوفان کیوں؟*  _از تحریر: قاری عبدالرشید، اولڈھم_ظاہر محفوظ اور باطن...
09/07/2026

*شرکِ اکبر سے بچنے والے انسان کے دل میں شرکِ اصغر کا طوفان کیوں؟*
_از تحریر: قاری عبدالرشید، اولڈھم_
ظاہر محفوظ اور باطن کے حال سے ۔ مسلمان غافل کیوں؟۔ ایمان کی حفاظت اور اخلاص کی حفاظت کیسے کی جائے؟ دل و دماغ کو اصلاح پر آمادہ کردینے والی تحریر۔
تمہید
توحید رب العالمین سے عقیدت و محبت اور اس پر کامل ایمان، ہر مومن مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جس طرح جسم کے لیے سانس ضروری ہے، اسی طرح روح کے لیے توحید ضروری ہے۔ توحید صرف زبان سے "اللہ ایک ہے" کہہ دینے کا نام نہیں۔ یہ دل کا یقین، عمل کا جھکاؤ اور زندگی کا ہر فیصلہ اللہ کی رضا کے تابع کرنے کا نام ہے۔

اور جہاں روشنی ہوتی ہے وہاں اندھیرے کا ذکر بھی آتا ہے۔ توحید کی ضد کا نام شرک ہے۔ شرک ایمان کے لیے وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ساری بنیاد کھوکھلی کر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے سب سے پہلے شرک سے بچنے کا حکم دیا۔

یہ بات سمجھانے کے لیے ایک قریبی مثال لے لیتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے ہم سب نے *کرونا وبا* دیکھی۔ ان دنوں میں ہم صرف مریض سے نہیں بچتے تھے۔ ہم اس جراثیم سے بھی بچتے تھے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا تھا۔ ہم ماسک پہنتے تھے، فاصلہ رکھتے تھے، ہاتھ دھوتے تھے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جان عزیز تھی۔

بالکل اسی طرح ایمان کی حفاظت کے لیے بھی ہمیں شرک کے "ظاہر" اور "باطن" دونوں سے بچنا ہے۔ کیونکہ *کرونا وبا* جان کا دشمن تھی، اور شرک ایمان کا دشمن ہے۔ حفاظت دونوں سے ضروری ہے۔

شرک کا ذکر آئے تو علماء نے اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں: شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر۔ ہمارے منبروں، بیانات اور تحریروں میں زیادہ زور شرکِ اکبر پر ہوتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ آج میڈیا کے دور میں کتابی حوالے کے ساتھ ویڈیو کلپ بھی دلیل بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن اس تحریر کا مقصد شرکِ اکبر کو دہرانا نہیں، بلکہ اس "دوسرے طوفان" کی طرف توجہ دلانا ہے جو شرکِ اکبر سے بچنے والوں کے دلوں میں بھی اٹھ سکتا ہے۔ اور وہ ہے شرکِ اصغر۔

وہ سوال جو ہر صاحبِ ایمان کو خود سے کرنا چاہیے
ہر مسلمان یہ چاہتا ہے کہ وہ شرکِ اکبر سے محفوظ رہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی غیر اللہ کو سجدہ کرے، بت کو پوجے، یا اللہ کے سوا کسی کو مشکل کشا مانے تو اس کا سارا ایمان برباد ہو جائے گا۔ اس لیے ہم اس کے خلاف بولتے بھی ہیں اور خود بھی بچتے ہیں۔

لیکن کیا کبھی ہم نے رک کر اپنے دل سے یہ سوال کیا؟
جس شرکِ اکبر سے ہم اتنی فکر سے بچ رہے ہیں، کہیں شرکِ اصغر ہمارے دل کے اندر خاموشی سے گھر تو نہیں بنا رہا؟

ہم ظاہر کی حفاظت کرتے ہیں۔ عقیدے کا اعلان کرتے ہیں۔ کفر و شرک سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دل کے اندر جو باریک بیماریاں پلتی ہیں، ان کی طرف ہماری نظر نہیں جاتی۔ حالانکہ یاد رکھیں، توحید صرف نعرہ نہیں ہے۔ توحید دل کے اخلاص کا نام ہے۔ نیت کی صفائی کا نام ہے۔ ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا نام ہے۔

شرکِ اصغر: نظر نہ آنے والا خطرہ
علماء کرام فرماتے ہیں کہ شرکِ اصغر وہ اعمال اور کیفیات ہیں جو انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتیں، لیکن توحید کے کمال اور اخلاص میں دراڑ ڈال دیتی ہیں۔ یہ ایمان کی عمارت کو ایک دم گراتا نہیں، لیکن اس کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔

اور اس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مریض کو اپنی بیماری کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔

شرکِ اصغر کی کئی صورتیں ہیں۔ غیر اللہ کی قسم کھانا، تعویذوں پر حد سے زیادہ بھروسہ کرنا، نیک فال اور بد فال کا عقیدہ رکھنا۔ لیکن ان سب میں سب سے زیادہ عام اور سب سے زیادہ باریک صورت "ریا" کی ہے۔

ریا کیا ہے؟
ریا یہ ہے کہ انسان نماز پڑھے، روزہ رکھے، درس دے، تحریر لکھے، خدمت کرے، لیکن دل کے کسی کونے میں یہ خواہش جاگ جائے کہ لوگ مجھے نیک سمجھیں، لوگ میری تعریف کریں، لوگ میرا نام لیں۔

نماز اس لیے لمبی ہو جائے کہ کوئی دیکھ رہا ہے۔ بیان میں آواز اس لیے بلند ہو جائے کہ سامعین متاثر ہوں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ اس لیے لگائی جائے کہ زیادہ لائک اور شیئر آئیں۔

یہیں رک کر محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کے ہاں میزان ظاہر پر نہیں لگتی۔ میزان نیت پر لگتی ہے۔ ایک بہت بڑا عمل اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے بے وزن ہو سکتا ہے۔ اور ایک چھوٹا سا عمل جو رات کی تنہائی میں کیا گیا، اخلاص کی وجہ سے آسمانوں تک پہنچ سکتا ہے۔

دینی خدمت: عظمت بھی، امتحان بھی
دعوت، تعلیم، تصنیف، خطابت، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے دین پہنچانا۔ یہ سب انبیاء کا ورثہ ہیں۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے۔

لیکن یہی میدان اخلاص کا سب سے بڑا امتحان بھی ہیں۔

شروع میں نیت بالکل صاف ہوتی ہے۔ مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ کچھ اور چیزیں دل میں داخل ہو جاتی ہیں۔ پہلے کسی کی تعریف اچھی لگتی ہے۔ پھر تعریف کی عادت پڑ جاتی ہے۔ پھر جب تعریف نہ ہو تو دل میں بے چینی ہوتی ہے۔ پھر انسان لاشعوری طور پر وہ کام اس لیے کرنے لگتا ہے تاکہ اس کا نام رہے، اس کی پہچان رہے، اس کا مقام رہے۔

یہ وہ نازک موڑ ہے جہاں شرکِ اصغر دل میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس لیے ہر داعی، ہر معلم، ہر لکھاری کو چاہیے کہ وہ بار اپنا جائزہ لے۔ تنہائی میں بیٹھ کر خود سے تین سوال کرے:
1. اگر میری اس خدمت کو کوئی نہ دیکھے تو کیا میں پھر بھی کروں گا؟
2. اگر میرا نام نہ لیا جائے تو کیا میں پھر بھی لکھوں گا؟
3. اگر تالیاں نہ بجیں تو کیا میں پھر بھی بیان کروں گا؟

اگر دل سے جواب "ہاں" ہے تو شکر کریں۔ اور اگر تامل ہے تو سمجھیں کہ دل کے علاج کی ضرورت ہے۔

آج کے دور کی نئی آزمائش
ہمارا دور پہلے سے مختلف ہے۔ پہلے ریا کا دائرہ محدود تھا۔ محلے کے دس بیس لوگ دیکھ لیتے تھے۔ اب موبائل اور سوشل میڈیا نے ہر شخص کے ہاتھ میں ایک عالمی اسٹیج دے دیا ہے۔

آپ ایک پوسٹ کرتے ہیں۔ منٹوں میں لائکس کی گنتی سامنے آ جاتی ہے۔ ایک ویڈیو لگاتے ہیں۔ ویوز اور کمنٹس فوراً نظر آ جاتے ہیں۔ ایک دینی پیغام شیئر کرتے ہیں۔ فالوورز بڑھنے لگتے ہیں۔

یہاں غلط فہمی نہ ہو۔ ہر دینی پوسٹ ریا نہیں ہے۔ ہر ویڈیو شہرت کی طلب نہیں ہے۔ اگر نیت یہ ہے کہ اللہ کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، لوگوں کی اصلاح ہو، تو یہ کام باعثِ اجر بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔

لیکن خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب دل کا رخ بدل جائے۔ جب انسان صبح اٹھ کر یہ نہ سوچے کہ آج اللہ کے لیے کیا کرنا ہے، بلکہ یہ سوچے کہ کل والی پوسٹ پر کتنے لائک آئے۔ جب خوشی اور غمی کا پیمانہ اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کا ردِ عمل بن جائے۔

بس یہیں سے شرکِ اصغر کا طوفان شروع ہو جاتا ہے۔ ظاہر میں توحید کا جھنڈا بلند ہے، لیکن باطن میں دل مخلوق کا محتاج ہو چکا ہے۔

سلف صالحین کا خوف اور ہمارا غرور
ہمارے اسلاف کے حالات پڑھیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہ راتوں کو اٹھ کر روتے تھے اور کہتے تھے: "اے اللہ میرے عمل میں ریا داخل نہ کر دینا"۔ وہ اپنی نیکیاں چھپاتے تھے۔ اگر کوئی تعریف کر دیتا تو گھبرا جاتے تھے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں عدل قائم ہوا۔ کسی نے تعریف کی تو وہ فوراً سجدے میں چلے گئے اور کہا: "یا اللہ یہ تیری توفیق ہے، مجھے اس میں حصہ دار نہ بنا"۔

اور آج ہم؟ ایک نیکی کر کے اس کی تصویر لگا دیتے ہیں۔ ایک صدقہ دے کر اس کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک مجلس کر کے اسے ریکارڈ کر لیتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب حرام ہے۔ کبھی نیت تعلیم ہوتی ہے، کبھی دوسروں کو ترغیب دینا مقصود ہوتا ہے۔ لیکن دل سے سوال تو ضرور کرنا چاہیے کہ اصل محرک کیا تھا؟ اللہ کی رضا یا لوگوں کی واہ واہ؟

دل کا مقام اور میزانِ آخرت
ایک مومن کو یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صرف ہمارے ہاتھ پاؤں نہیں دیکھتا۔ وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے۔

حدیث پاک میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین لوگوں کا فیصلہ ہوگا۔ ایک شہید، ایک عالم، ایک سخی۔ دنیا کی نظر میں تینوں ہیرو۔ لیکن جب ان سے پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے: "ہم نے یہ کام تیرے لیے کیا"۔ اللہ فرمائے گا: "تم جھوٹے ہو۔ تم نے یہ اس لیے کیا تاکہ لوگ کہیں کہ یہ بہادر ہے، یہ عالم ہے، یہ سخی ہے۔ اور کہہ دیا گیا"۔ پھر حکم ہوگا کہ انہیں چہرے کے بل جہنم میں ڈال دیا جائے۔

اللہ اکبر۔ عمل کتنا بڑا تھا، لیکن نیت میں ذرا سی خرابی تھی۔ سارا عمل ضائع۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ دل کی حفاظت، ظاہر کی حفاظت سے بھی زیادہ اہم ہے۔

شرکِ اصغر سے بچاؤ کے 5 عملی راستے
اس بیماری سے بچنے کے لیے ہمیں چند باتیں اپنانی ہوں گی:

*1. نیت کی تجدید*: ہر کام سے پہلے دل میں کہیں: "یا اللہ میں یہ صرف تیری رضا کے لیے کر رہا ہوں"۔ کام کے دوران اور بعد میں بھی یہ نیت دہراتے رہیں۔

*2. لوگوں کی تعریف کو معیار نہ بنائیں*: اگر تعریف ہو تو فوراً اللہ کا شکر ادا کریں اور ڈر جائیں کہیں یہ آزمائش نہ ہو۔ اگر تنقید ہو تو گھبرائیں نہیں، اپنا عمل چیک کریں۔ معیار صرف ایک: اللہ راضی ہے یا نہیں؟

*3. کچھ عمل ضرور چھپا کر کریں*: رات کا نفل، تنہائی کا ذکر، چھپا ہوا صدقہ۔ یہ وہ عمل ہیں جو دل کو ریا سے بچاتے ہیں۔

*4. قرآن و سنت سے رشتہ مضبوط کریں*: جب دل قرآن کی روشنی سے بھر جائے گا تو ریا کا اندھیرا خود نکل جائے گا۔ روز تھوڑا قرآن، تھوڑا ترجمہ، تھوڑا تدبر لازمی کریں۔

*5. اخلاص کی دعا*: نبی کریم ﷺ نے یہ دعا سکھائی:
_اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ_
"اے اللہ! میں جانتے ہوئے تیرے ساتھ شرک کرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اس شرک سے بخشش مانگتا ہوں جسے میں نہیں جانتا"۔

اختامیہ
خلاصہ یہ ہے کہ شرکِ اکبر سے بچنا ایمان کی حفاظت ہے۔ اور شرکِ اصغر سے بچنا اخلاص کی حفاظت ہے۔ اور اخلاص کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے اعمال پر تبصرہ کرنے سے پہلے اپنے دل کا محاسبہ کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری زبان توحید کا اعلان کر رہی ہو اور ہمارا دل شہرت اور نام کا محتاج ہو؟

حقی موحد وہ ہے جو خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی، تنہائی میں بھی اور مجمع میں بھی، عبادت میں بھی اور خدمت میں بھی، صرف ایک اللہ کی رضا کا طلبگار ہو۔ جس کا اصول یہ ہو: "اگر ساری دنیا میری تعریف کر دے اور اللہ ناراض ہو جائے تو میں ناکام ہوں۔ اور اگر ساری دنیا میری برائی کرے اور اللہ راضی ہو جائے تو میں کامیاب ہوں"۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر کی تمام صورتوں سے محفوظ فرمائے۔ ہمارے دلوں کو خالص توحید اور اخلاص سے منور فرمائے۔ اور ہمارے تمام اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
*آمین یا رب العالمین*
*نوٹ*: یہ تحریر اصلاحِ امت کے لیے ہے۔ اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا فتوی لگانا نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی کی دعوت دینا ہے۔_

05/07/2026

جامعہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما۔میں ایک طالب علم کے حفظ تکمیل قرآن مجید کے موقع پر ایک پروقار مگر مختصر تقریب سعید جامع مسجد عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔۔۔سموں میں منعقد ہوئی۔۔۔۔

یہ دوہرا معیار اب نہیں چلے گا۔                                   《جب اپنا کرے تو آئیں بائیں شائیں، 》                  او...
03/07/2026

یہ دوہرا معیار اب نہیں چلے گا۔ 《جب اپنا کرے تو آئیں بائیں شائیں، 》 اور غیر کرے تو فتوے؟ یہ دوہرا معیار اب نہیں چلے گا*

*ناموسِ معاویہؓ: وہ لکیر جسے پار کرنے۔ والا امت سے خارج*

*از تحریر: قاری عبدالرشید، اولڈھم، *

*تمہید: معاملے کی نوعیت اور امت کا ردعمل*
گزشتہ روز انڈیا میں ایک معروف عالم سید سلمان ندوی کی وفات ہوئی۔ وہ اپنی علمی حیثیت اور تقریری اسلوب کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔ تاہم ان کی زندگی ہی میں ان کی شخصیت متنازع ہو چکی تھی۔ اس کی بڑی وجہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں ان کا وہ انداز تھا جسے اہل سنت والجماعت کا بڑا طبقہ کھلی گستاخی سے تعبیر کرتا ہے۔

ان کی کئی پرانی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن میں سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت دیگر جلیل القدر صحابہ کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔ ان کی وفات کے بعد ایک ویڈیو کلپ "رجوع" کے نام سے وائرل ہوا، لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ جن صحابہ کی توہین کی گئی تھی، ان کے نام لے کر کوئی واضح توبہ یا اصلاح منقول نہیں۔ انداز بیان بھی ایسا کہ جیسے وہ کوئی احسان کر رہے ہوں۔رجوع اور توبہ کا انداز و الفاظ ایسے نہیں ہوا کرتے۔

اس پس منظر میں امت کا وہ اصول سامنے آتا ہے جس پر سلف صالحین سے لے کر آج تک اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ صحابہ کرام کی عزت، حرمت اور ناموس کی حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی شخص جتنا بھی بڑا عالم، مقرر یا پیر کیوں نہ ہو، اگر وہ اس لکیر کو پار کرے گا تو امت اس سے براءت کا اعلان کرے گی۔ کیونکہ معاملہ کسی شخصیت کا نہیں، بلکہ پورے دین کی بنیاد کا ہے۔

*حصہ اول: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نگاہ میں معاویہؓ کا مقام*

صحابہ کرام کا دفاع صرف جذباتی نہیں، بلکہ نصوص اور دلائل پر مبنی ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقام قرآن و سنت اور سلف کے اقوال سے ثابت ہے۔

*1. کاتب وحی کا شرف*
رسول اللہ ﷺ نے خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو وحی لکھنے کی ذمہ داری سونپی۔ یہ وہ شرف ہے جو ہر صحابی کو نہیں ملا۔ امام ذہبی رحمہ اللہ "سیر اعلام النبلاء" میں فرماتے ہیں کہ وہ ان بڑے کاتبین میں سے تھے جو آپ ﷺ کے لیے قرآن لکھتے تھے۔

اب غور کیجیے۔ وہ مقدس ہاتھ جنہوں نے قرآن کے الفاظ کو قلم بند کیا، جنہوں نے وحی کو محفوظ کیا، آج کوئی ان ہاتھوں پر طعن کرے تو وہ قرآن کی حرمت کا پاس کیسے رکھ سکتا ہے؟ کاتب وحی کی توہین درحقیقت اس کتاب کی توہین ہے جسے وہ لکھتے تھے۔

*2. نبی کریم ﷺ کی دعا*
مسند احمد میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہم اجعله هادیا مهدیا واهد به"۔ یعنی "اے اللہ! اسے ہدایت والا اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما"۔

یہ دعا کسی عام شخص کے لیے نہیں۔ جس کے لیے رسول اللہ ﷺ خود دعا کر دیں، اس کے خلاف زبان کھولنا اللہ کی اس دعا سے ٹکرانے کے مترادف ہے۔ امت کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعا رد نہیں ہوتی۔

*3. صحابی ہونے کا قرآنی مقام*
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا: `رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ`۔ یعنی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔

مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت تمام صحابہ کے لیے ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے مصداق ہیں۔ تو جو اللہ کے فیصلے "رضی اللہ عنہ" پر راضی نہ ہو، وہ آخر کس کے دائرے میں ہے؟

*حصہ دوم: وہ لکیر جسے سلف نے کھینچا*

امت مسلمہ نے ہمیشہ ایک واضح لکیر کھینچی ہے۔ اس لکیر کا نام "حب جمیع الصحابہ" ہے۔ عقیدہ طحاویہ میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا: "نحب اصحاب رسول اللہ ﷺ ولا نفرط فی حب احد منهم ولا نتبرأ من احد منهم"۔ یعنی ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں، کسی ایک سے غلو نہیں کرتے اور کسی ایک سے براءت نہیں کرتے۔

اس لکیر کو ائمہ نے انتہائی سخت الفاظ میں بیان کیا ہے:

*1. امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فیصلہ 241ھ*
جب ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ معاویہ پر طعن کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا: "من شتم معاویة فاتهمه علی الاسلام"۔ یعنی "جو معاویہ کو برا کہے، اس کے اسلام پر شک کرو"۔ یہ فتوی السنہ للخلال میں موجود ہے۔

ام احمد کا یہ جملہ کوئی جذباتی ردعمل نہیں تھا۔ یہ امت کے اس اجماعی موقف کا اعلان تھا کہ صحابی پر طعن کرنا اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے۔

*2. امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ کا میزان 264ھ*
آپ فرماتے ہیں: "اذا رایت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللہ ﷺ فاعلم انہ زندیق"۔ یعنی "جب تم کسی شخص کو صحابہ میں سے کسی کو برا کہتے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے"۔

پھر اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "لان الرسول ﷺ عندنا حق، والقرآن حق، وانما ادی الینا هذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللہ ﷺ"۔ یعنی ہمارے نزدیک رسول ﷺ برحق ہیں، قرآن برحق ہے، اور یہ قرآن و سنت ہمیں صحابہ کے ذریعے پہنچے ہیں۔ پس جو صحابہ پر طعن کرے وہ اصل میں قرآن و سنت کی سند کو گرانا چاہتا ہے۔ یہ قول الکفایہ للخطیب میں منقول ہے۔

*3. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا نچوڑ 1176ھ*
"ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء" میں آپ نے صحابہ کے باہمی اختلافات کو "مجتہدین کا اختلاف" قرار دیا۔ آپ نے واضح کیا کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم سب صحابہ کے لیے دعائے خیر کریں۔ اور جو ان میں سے کسی ایک کو بھی برا کہے، وہ اہل قبلہ کے دائرے سے خارج ہے۔

یہ تینوں شہادتیں امت کے مختلف ادوار سے ہیں، لیکن پیغام ایک ہی ہے۔ صحابہ کی حرمت ناقابلِ مصالحت ہے۔

*حصہ سوم: امت نے عملی طور پر تعلق کس سے توڑا؟*

عقیدہ صرف کتابوں میں نہیں رہا۔ امت نے اسے عملی زندگی میں بھی نافذ کیا۔ جب کوئی صحابہ کی لکیر پار کرتا ہے تو امت تین سطحوں پر اس سے تعلق توڑ دیتی ہے۔

*1. علمی بائیکاٹ*
علم حدیث کا بنیادی اصول ہے: "الروایۃ لا تقبل من المبغض للصحابہ"۔ یعنی صحابہ سے بغض رکھنے والے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔

وجہ بہت واضح ہے۔ دین ہمیں صحابہ کے ذریعے ملا ہے۔ اگر راوی ہی صحابی کو ناقابل اعتماد سمجھتا ہے تو اس سے دین کیسے لیا جائے؟ یہ اصول محدثین نے نبی ﷺ کے فرمان "میرے صحابہ کو برا مت کہو" کی روشنی میں بنایا۔

*2. سماجی اور شرعی بائیکاٹ*
اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کا متفقہ موقف رہا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام یا امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو برا کہے، اس سے نکاح حرام ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، اس کا ذبیحہ حلال نہیں، اور اس سے ہر دینی و سماجی تعلق منقطع ہے۔

یہ بائیکاٹ نفرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ دین کی حفاظت کے لیے ہے۔ کیونکہ جو شخص صحابہ کی عزت نہیں کرتا، وہ دراصل اس نسل کی عزت نہیں کرتا جس نے دین ہم تک پہنچایا۔

*3. ریاستی اور قانونی سطح پر*
مسلم ممالک نے اس اجماعی غیرت کو قانون کی شکل دی۔ پاکستان میں 1984ء کا "تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیتؓ ایکٹ" اسی سوچ کا مظہر ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ ریاست خود اعلان کرے کہ صحابہ کی توہین کرنا ایک سرخ لکیر ہے جسے پار نہیں کیا جا سکتا۔

*خاتمہ: اللہ کے لیے، رسول ﷺ کے لیے، اور حق کے لیے*

اے اللہ! تو گواہ رہنا کہ ہم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت کی، کیونکہ تو ان سے راضی ہوا۔ اور ہم نے اس سے براءت کی جس نے ان پر طعن کیا، کیونکہ تیرے رسول ﷺ نے فرمایا: "میرے صحابہ کو برا مت کہو"۔

اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی امت کا ایک فرد حاضر ہے۔ جس نے آپ کے صحابی، کاتب وحی، فقیہ امت اور خلیفہ المسلمین کی عزت پر پہرہ دیا۔ اگر یہ کمزور الفاظ آپ کے دل کو خوش کرتے ہیں، تو ہماری قلم کو قبول فرما لیجیے۔

اور سن لو اے معاویہؓ کے دشمن! تم نے تاریخ سے جنگ چھیڑی، اور تاریخ نے تمہیں مٹا دیا۔ تم نے صحابہ سے تعلق توڑا، اور امت مسلمہ نے تم سے تعلق توڑ دیا۔ یہی تمہارا انتقام ہے۔ وہ انتقام جو چودہ سو سال سے جاری ہے، اور قیامت تک جاری رہے گا۔

کیونکہ "وہ لکیر" اب بھی کھڑی ہے۔ وہ لکیر جس کے ایک طرف رضائے الہی ہے، اور دوسری طرف تاریخ کا کچرا دان ہے۔ اور جو اسے پار کرے گا، وہ امت مسلمہ سے خارج ہو جائے گا۔ جس کے دل میں صحابہ کرام کا ادب و احترام نہیں ۔ اگر وہ زندہ ہے تو قابل اکرام نہیں مرگیا تو دعائے مغفرت کا حق دار نہیں۔ اس میں دیوبندی۔ندوی کا کوئی امتیاز نہیں۔۔۔۔۔۔

`رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ`

وصل اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

---

*مراجع و مصادر*

1. القرآن الکریم: سورہ المجادلہ آیت 22، سورہ الحشر آیت 10
2. مسند الامام احمد بن حنبل، مؤسۃ الرسالہ، بیروت
3. سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد 3، صفحہ 128
4. السنۃ للخلال، جلد 1، صفحہ 476
5. الکفایۃ فی علم الروایۃ للخطیب البغدادی، صفحہ 97
6. شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز الحنفی
7. ازالۃ الخفاء للشیخ شاہ ولی اللہ دہلوی، جلد 2
8. قانون تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیتؓ، پاکستان 1984ء

30/06/2026

---جامعہ حسن بن علی میں آج 16ویں بچے نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی۔اس موقع پر وقار تقریب سعید منعقد ہوئی۔

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین*۔

*معزز* علماء کرام، محترم اساتذہ، مکرم والدین، اور میرے عزیز حاضرین!

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

آج کا یہ دن *جامعہ حسن بن علی* کی تاریخ کا ایک نہایت خوشی، سعادت اور شکر کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے ہمیں یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ ہمارے ادارے کے سولہویں طالبِ علم نے قرآنِ کریم کی تکمیل کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ صرف ایک بچے کی کامیابی نہیں بلکہ اس کے والدین، اساتذہ، اور پورے ادارے کی محنت، دعا اور اخلاص کا ثمر ہے۔

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ جس گھر میں قرآن کی آواز گونجتی ہے وہاں برکتیں نازل ہوتی ہیں، اور جس دل میں قرآن بس جاتا ہے وہ دل نورِ ایمان سے منور ہو جاتا ہے۔ آج ہم اس خوش نصیب بچے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جس نے اپنے سینے کو اللہ کے کلام سے آراستہ کیا۔

محترم حاضرین!

*جامعہ حسن بن علی* کی عمر اگرچہ ابھی صرف تین سال مکمل ہوئی ہے اور یہ ادارہ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مختصر عرصے میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ ادارہ اب اپنے تعلیمی سفر کے چوتھے سال میں قدم رکھ چکا ہے، اور اسی مختصر مدت میں سولہ بچوں کی تکمیلِ قرآن ایک عظیم کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کی روشن دلیل ہے۔

یہ کامیابی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جب نیت خالص ہو، محنت مسلسل ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہو تو تھوڑا وقت بھی بڑی برکتوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ *جامعہ حسن بن علی* کا مقصد صرف قرآن پڑھانا نہیں بلکہ قرآن کے پیغام کو دلوں میں زندہ کرنا، اچھے اخلاق پیدا کرنا اور ایسی نسل تیار کرنا ہے جو دین اور معاشرے دونوں کی خدمت کر سکے۔

میں اس موقع پر ادارے کے تمام اساتذہ کرام کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اخلاص اور لگن کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور تعلیم کا فریضہ انجام دیا۔ اسی طرح ان والدین کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کو قرآنِ کریم سے جوڑا اور ان کی دینی تعلیم کا اہتمام کیا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ *جامعہ حسن بن علی* کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس ادارے کو دینِ اسلام کی خدمت کا مضبوط مرکز بنائے، اساتذہ، طلبہ اور معاونین کی تمام کوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور ہمیں قرآنِ کریم کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

*شریک علماء کرام*
مقامی علماء کرام کے نام
*مولانا ضیاء الاسلام صاحب
*مولانا انعام الحق صاحب
*مولانا حافظ شعیب صاحب
*قاری غلام مرتضی صاحب
*استاذی المکرم قاری عبدالجلیل صاحب
اور دیگر مقام علماء۔ *مولانا وقاص صاحب
*قاری عاصم صاحب
*قاری ادریس صاحب
*استاذ کا نام قاری بلال حسین صاحب ۔*
*مولانا عابد حسین صاحب۔ *
---

☆شہادت سیدنا *فاروق و حسین* رضی اللہ عنہما* اور ماہ *محرم الحرام* کے احکام ومسائل۔                               (انگریز...
20/06/2026

☆شہادت سیدنا *فاروق و حسین* رضی اللہ عنہما* اور ماہ *محرم الحرام* کے احکام ومسائل۔ (انگریزی ترجمہ کے ساتھ)

از: تحریر: مفتی محمد راشد ڈسکوی
رفیق شعبہٴ تصنیف وتالیف واستاذ جامعہ فاروقیہ کراچی

*نئے ھجری سال کی ابتداء*

محرم الحرام اسلامی تقویم ھجری کا پہلا مہینہ ہے، کتنے ہی پڑھے لکھے، دیندار لوگ ایسے ہیں، جنھیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں؛ جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم، اس کے مہینوں کے نام اور ان کی تاریخ ہر کسی کو معلوم ہوتی ہے۔ جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتدا ہوتی ہے تو وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں، خوب ہلّہ غلّہ کرتے ہیں، گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کا آغاز کرتے ہیں؛ اس مقام پر ہم کو غور یہ کرنا ہے کہ ”نیو ائیر“ کی اس طرز پر ابتدا ہم نے کہاں سے لی؟! ہمارے لیے تو ”نیو ائیر“ کی ابتداء محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں؛ اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ ورسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے؛ ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت نہیں، ہم تو خود ساری دنیا کو تہذیب وشائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔

*نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ*

تو ”نئے سال“ کی ابتداء ہو یا ”نئے مہینے“ کی، اس کی ابتداء کا مسنون طریقہ شریعت میں یہ ہے کہ مہینے کے اختتام پر نئے مہینے کے چاند کو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے، یہ عمل مسنون ہے، اور جب چاند نظر آجائے تو نیا چاند دیکھنے کی دعا بھی پڑھی جائے، یہ بھی مسنون ہے، اس مسنون طریقے کے ہی اپنانے میں اور دعاؤں کا اھتمام کرنے میں ہی برکت، حفاظت اور ثواب ہے، ھمیں فضول قسم کی رسومات اور خرافات سے بچتے ہوئے اسی کا اھتمام کرکے سچے مسلمان اور محب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھونے کا ثبوت دینا چاہیے؛ امام ابن السنی نے مہینہ کی ابتداء کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وعادت شریفہ کا یوں ذکر فرمایا ہے:

”ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا رأی الھلال قال: ”اللّٰھم اجعلہ ھلال یُمنٍ و برکةٍ“ (عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص:۵۹۶، رقم الحدیث: ۶۴۱، مکتبة الشیخ، کراتشي)
ترجمہ: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی رات کے چاند کو دیکھتے تو یوں دعا مانگتے: اے اللہ! ہمارے لیے اس چاند کو خیرو برکت والا بنا دے۔

*نیا چاند دیکھتے وقت کی مسنون دعا*

ایک دوسری روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کا ذکر ہے:

”اللھم اھِلَّہ علینا بالیُمْنِ والإِیْمَانِ والسَّلامَةِ والإِسلامِ، ربِّيْ ورَبُّکَ اللہ“ (مسند أحمد بن حنبل، مسند أبي محمد طلحہ بن عبیداللہ، رقم الحدیث:۱۳۹۷،۲/۱۷۹، دارالحدیث، القاھرة)

ترجمہ: اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن وسلامتی اور ایمان واسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند) میرا اور تمہارا رب اللہ تعالی ہی ہے۔ ہمیں بھی مہینے کی ابتداء اُسی طرح کرنی چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا؛ تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں؛ چہ جائیکہ! ہم رسوم و بدعات اور نوحہ خوانی سے ابتداء کریں۔

*اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اھمیت*

دوسری بات یہ کہ ھمیں چاہیے ہم اسلامی تقویم ھجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں، اگرچہ! دوسرے کلینڈروں کا استعمال گناہ نہیں ہے، شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے؛ لیکن شمسی تقویم کا ایسا استعمال کہ ھم اسلامی تقویم کو بالکلیہ بھلا بیٹھیں، یہ کسی طرح درست نہیں؛ اس لیے کہ اسلامی تقویم ھجری کی حفاظت بھی مسلمانوں کا فرض ہے اور اس کے استعمال میں ثواب ہے، جس سے محروم نہیں ھونا چاہیے۔

نیز! اپنی شناخت اور اپنے امتیاز کو باقی رکھنا بھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے بڑی اھمیت رکھتا ہے، اس معاملے میں اس کی بہتر شکل یہ ہے کہ ھم قمری تاریخ کے استعمال کو ترجیحی بنیادوں پر دوسری تقویم کے مقابلے میں استعمال کریں۔ خدانخواستہ! اگر سب مسلمان اسلامی تقویم ھجری کو چھوڑ بیٹھیں اور بھلا دیں تو سب کے سب اللہ کے یہاں مجرم ٹھہریں گے؛ اس لیے کہ اسلام کی بہت ساری عبادات کا تعلق اسی تقویم سے ھے، حضرت حکیم الامت (حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی) رحمہ اللہ اپنی تفسیر ”بیان القرآن“ میں رقمطراز ہیں: ”البته چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حساب ِقمری پر ہے؛ اس لیے اس کی حفاظت ”فرض علی الکفایہ“ ہے، پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے، جس سے حساب ِقمری ضائع ہو جائے؛ (تو) سب گنہگار ھوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے؛ لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ھے اور حسابِ قمری کا برتنا بوجہ اُس کے فرضِ کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے“ (بیان القرآن، سورة التوبة:۳۶،۳/۱۳۱، مکتبہ رحمانیہ، لاہور)

اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کی اللہ کے ھاں بڑی قدر ہے، یہ عظمت والے مہینوں میں سے ھے، تاریخی روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت سے عظیم الشان واقعات پیش آئے، احکامات کے اعتبار سے صحیح اور مستند احادیث سے جو امور سامنے آتے ہیں، وہ صرف دو ہیں:

*ماہِ محرم الحرام میں پہلا حکم۔* اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے، نیز! نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کی چیز ہے؛ چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ھے: ”افضل الصّیام بعد رمضان، شھر اللہ المحرم، وافضل الصّلاة بعد الفریضة صلوة اللیل“․ (صحیح مسلم، کتاب الصوم، باب فضل صوم المحرم، رقم الحدیث: ۲۰۲)

ترجمہ: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

”حین صام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یوم عاشوراء، وأمر بصیامہ، قالوا: یا رسول اللہ! إنہ یوم تُعظِّمہ الیھود والنصاری؟ فقال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ”فإذا کان العام المقبل ان شاء اللہ صُمنا الیوم التاسع، قال: فلم یأت العام المقبل، حتی توفی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم“ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: أيّ یوم یصام في عاشوراء؟ رقم الحدیث: ۱۱۳۴، ۲/۷۹۷، دارالکتب العلمیة)
ترجمہ: جب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن خود روزہ رکھا، اور حضرات صحابہ (کرام رضی اللہ عنہم) کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا؛ تو اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس دن کی تو یہود ونصاری بھی تعظیم کرتے ہیں؟ (غالباً یہ عرض کرنا مقصود ہو گا کہ روزہ رکھ کر تو ھم نے بھی اس دن کی تعظیم کی، گویا ھم ایک عمل میں ان کی مشابہت اختیار کرنے لگے)، تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے“۔ (اس طرح سے مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہے گا) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: اگلا سال آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔

اسی وجہ سے فقہاء کرام فرماتے ہیں: صرف عاشوراء کا روزہ نہ رکھا جائے؛ بلکہ اس کے ساتھ ۹ یا ۱۱ محرم کا روزہ بھی ملا لیا جائے؛ تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت سے بچ سکیں۔

صحیح مسلم کی ہی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش بھی زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے،

”عن عائشة رضي اللہ عنھا قالت: کانت قریش تصوم عاشوراء في الجاھلیة، وکان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یصومہ، فلما ھاجر إلی المدینة صامہ وأمر بصیامہ، فلما فرض شھر رمضان، قال: من شاء صامہ، ومن شاء ترکہ“․ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صوم عاشوراء، رقم الحدیث:۱۱۲۵، ۲/۷۹۲، دارالکتب العلمیة)

ترجمہ: (ام المومنین) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہٴ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزہ رکھتے تھے، جب آپ علیہ الصلاة والسلام نے مدینہ منورہ کی طرف ھجرت فرمائی، تو وھاں بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، پھر جب ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے کی فرضیت کا حکم آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اختیار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے، جو چاہے نہ رکھے“۔ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ھوا کہ ھجرت سے قبل بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی عادت شریفہ روزہ رکھنے کی تھی اور ھجرت کے بعد دوسروں کو بھی تاکید فرمائی تھی۔

*ماہِ محرم الحرام میں دوسرا حکم*

عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر کھانے پینے یا کسی بھی اعتبار سے وسعت کرنا، اس کی خاص فضیلت وارد ہے؛ چنانچہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابو سعید الخدری، حضرت ابو ھریرہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”من وسَّع علی عیالہ في یوم عاشوراء، وسع اللہ علیہ السنة کلھا“․ (شعب الإیمان للبیہقي، کتاب الصیام، صوم التاسع والعاشر: ۳/۳۶۵)

ترجمہ: جو شخص عاشوراء کے دن اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے میں وسعت و فراخی کرے گا، اللہ تعالی سارا سال اس پر (رزق) میں وسعت فرمائے گا۔

اگرچہ اس حدیث کی اسنادی حیثیت پر کلام ھے؛ مگر محدثین کی تصریحات کے مطابق ایسی روایات جو مختلف طرق سے مروی ھوں، ان کی مختلف اسناد کی وجہ سے ان میں قوت پیدا ہو جاتی ہے؛ اس لیے اس کو فضائل میں بیان کرنے پر کوئی بڑا اشکال باقی نہیں رہتا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اس مضمون کی روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”ھذہ الاسانید وان کانت ضعیفة، فھی إذا ضم بعضھا الی بعض، اخذت قوة․ واللہ اعلم“ (شعب الإیمان للبیھقي، کتاب الصیام، صوم التاسع والعاشر: ۳/۳۶۵)

یعنی ”اگرچہ ان روایات کی سندوں میں ضعف ہے؛ لیکن ان میں مجموعی طور پر اتنی بات ضرور پائی جاتی ہے کہ ان اسانید کو ملا لیا جائے تو قوّت کی شکل بن جاتی ہے“۔

علامہ سخاوی نے اپنی کتاب ”المقاصد الحسنة“ میں اسی بات کو اختیار کیا ہے۔ (المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الأحادیث المشتھرة علی الألسنة، حرف المیم، رقم الحدیث: ۱۱۹۱، ص: ۴۹۴)

*{ماہِ محرم سے متعلق دو موضوع احادیث}*

روافض اور اہل بدعت کی طرف سے اس ماہِ مبارک میں کچھ موضوع اور منگھڑت روایات بھی علی الاعلان بیان کی جاتیں ہیں اور ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے؛ حالانکہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائی، بہت بڑا جرم ہے، ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”من کذب عليّ متعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار“․ (المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الاحادیث المشتھرة علی الألسنة، باب: تغلیظ الکذب علی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث:۳، ۱/۱۰، دارالکتب العلمیة)

ترجمہ: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔

اس لیے اس ”جرم“ کے ارتکاب سے باز رہنا بہت ضروری ہے، ان من گھڑت روایات میں سے ایک یہ ہے:

”ما من عبد یبکي یوم قتل الحسین، إلا کان یوم القیامة مع أولی العزم من الرسل“․ (عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص: ۵۹۶، رقم الحدیث:۶۴۱، مکتبة الشیخ، کراتشي)

ترجمہ: ”جو شخص بھی شہادت حسین کے دن (ان کے غم میں) روئے گا، قیامت کے دن وہ اولو العزم رسولوں کے ساتھ ہو گا“۔

اور ایک دوسری روایت یہ ہے:

”من صام تسعة أیام من أول المحرم بنی اللہ لہ قبة في الھواء میلا في میل لھا أربعة أبواب“․ (عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص: ۵۹۶، رقم الحدیث: ۶۴۱، مکتبة الشیخ، کراتشي)

ترجمہ: ”جس نے پہلی محرم سے نو دن کے روزے رکھے، اللہ اس کے لیے ہوا میں ایک خیمہ بنائیں گے، جو ایک میل چوڑا اور ایک میل لمبا ہوگا اور اس کے چار دروازے ہوں گے“۔

واضح رہے کہ ان جیسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات کو بیان کرنا یا ان پر یقین کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے؛ اس لیے ان جیسی بہت سی روایات اور افسانوی باتیں جو محرم الحرام کے آتے ہی عام کی جاتی ہیں کہ جن کی کوئی فنی شہادت اور ثبوت نہیں ہوتا، ان سے پورے اہتمام سے نہ صرف بچا جائے؛ بلکہ ان کے بیان کرنے والے کے اس بیان کو رد کرنے کی بھی از حد ضرورت ہے۔

*محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم*

ایک اور چیز جس کا رواج (محرم میں) عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیے، کیوں؟ اس لیے کہ اس مہینے میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہائیت بے دردی سے شہید کر دیا گیا، ان کے ساتھ اظہار ھمدردی کے لیے غم منانا، سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ھے، سوچنا تو یہ ھے کہ ھمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا رھنمائی ملتی ہے؟

اس بارے میں سب سے پہلے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں:

ہر مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دے؛ اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور اہلِ علم صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے افضل لختِ جگر کے بیٹے، یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے، آپ عبادت کرنے والے، بڑے بہادر اور بہت زیادہ سخی تھے؛ لیکن آپ کی شہادت پر شیعہ جس انداز سے رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں، وہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے؛ بلکہ ان کی یہ حرکات بناوٹی اور ریاکاری سے تعلق رکھتی ہیں، آپ کے والد (حضرت علی کرم اللہ وجہ) آپ سے زیادہ افضل تھے، اُن کو چالیس ھجری، سترہ رمضان، جمعہ کے دن، جب کہ وہ اپنے گھر سے نمازِ فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، شہید کر دیا گیا؛ لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے افضل ھیں، جنھیں چھیالیس ھجری، عید الاضحی کے دن انہی کے گھر میں شہید کر دیا گیا؛ لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو بھی اس طرح ماتم نہیں کرتے، جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات (حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما) سے افضل ھیں، جن کو مسجد کے محراب میں نماز کی حالت میں جب کہ وہ قرأت کر رہے تھے، شہید کر دیا گیا؛ لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ان تینوں حضرات سے افضل تھے؛ لیکن شیعہ ان کی وفات کے دن اس طرح ماتم نہیں کرتے، جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا وآخرت میں بنی آدم کے سردار ہیں، ان کی وفات کے دن بھی یہ شیعہ اس طرح ماتم نہیں کرتے، جس طرح یہ جاھل رافضی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کرتے ہیں۔ (البدایہ والنہایہ ۱۱/۵۷۹) اس قول کو ملاحظہ کرنے سے روافض کے ڈرامے اور ڈھونگ کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، اس کے بعد سمجھنا چاہیے کہ ”شہادت“ کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا؟ تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہاء سعادت کی بات ہے۔

*حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت*

یہی وجہ تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مستقل حصولِ شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے، (صحیح البخاری، کتاب فضائل مدینہ، باب کراہیة النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن تعری المدینة، رقم الحدیث: ۱۸۹۰، ۳/۲۳، دار طوق النجاة)

*حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت*
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنھیں بارگاہِ رسالت سے ”سیف اللہ“ کا خطاب ملا تھا، وہ ساری زندگی شہادت کے حصول کی تڑپ لیے ہوئے قتال فی سبیل اللہ میں مصروف رہے؛ لیکن اللہ کی شان انھیں شہادت نہ مل سکی، تو جب ان کی وفات کا وقت آیا تو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے کہ میں آج بستر پر پڑا ہوا اونٹ کے مرنے کی طرح اپنی موت کا منتظر ہوں۔ (البدایہ والنھایہ، سنة احدی وعشرین، ذکر من توفی احدی وعشرین: ۷/۱۱۴، مکتبة المعارف، بیروت)

*جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق شہادت۔*
شہادت تو ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے، جس کی تمنا خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے کی اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں، پھر شہید کر دیا جاوٴں، (پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کر دیا جاوٴں، (پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاوٴں“۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب: فضل الجھاد والخروج في سبیل اللہ، رقم الحدیث: ۴۹۶۷)

الغرض! یہاں تو صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ شہادت تو ایسی نعمت ہے جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے، اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر ہمیں بتلایا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا دن ہے جس میں کسی نہ کسی صحابیِ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو، کتب تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے، ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی، جس کا مقتضی یہ ہے کہ اس دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے، نیز! اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی؛ لیکن کیا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی شہادت کے دن کو بطور یادگار کے منایا؟ نہیں؛ بالکل نہیں، تو پھر کیا ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟ خدا را ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی شیطانی اور گمراہ کن رسومات و اعمال سے بچنے کی مکمل کوش کریں۔

*شرعاً سوگ کرنے کا حکم*

شرعاً سوگ کرنے کی صرف چند صورتیں ہیں اور وہ بھی عورتوں کے لیے: (۱) مطلقہ بائنہ کے لیے صرف زمانہ عدت میں، (۲) جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں، (۳) کسی قریبی رشتے دار کی وفات پر صرف تین دن۔ اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر عورت کے لیے سوگ کرنا جائز نہیں ہے، اور سوگ کا مطلب یا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس عرصہ میں زیب وزینت اور بناوٴ سنگھار نہ کرے، زینت کی کسی بھی صورت کو اختیار نہ کرے، مثلا: خوشبو لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا اور رنگ برنگے خوشنما کپڑے پہننا وغیرہ، اس کے علاوہ کوئی صورت اپنانا مثلا: اظہارِ غم کے لیے سیاہ لباس پہننا یا بلند آواز سے آہ وبکا اور سیاہ لباس وغیرہ پہننا جائز نہیں۔ نیز! مردوں کے لیے تو کسی صورت میں سوگ کی اجازت نہیں ہے تو پھر محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی سوگ اور ماتم کے کیا معنی؟

*محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم*

اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکلیہ بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے، جس کا ترک لازم ہے، لہٰذا جب سوگ جائز نہیں تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہوگی؛ بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہ کی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ھوئی، (ملاحظہ ہو: تاریخ مدینة الدمشق لابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاة والسلام وأزواجہ: ۳/۱۲۸، دار الفکر، تاریخ الرسل والملوک للطبري، ذکر ما کان من الأمور في السنة الثانیة، غزوة ذات العشیرة، ۲/۴۱۰، دار المعارف بمصر)

اس مہینے میں شادی نہ ہونے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس مہینے میں نحوست ہے جب کہ شرعاً یہ بات بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے؛ بلکہ یہ عقیدہ یا ذہن رکھنا ہی گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی۔ اکابرین مفتیانِ عظام کے فتاوی میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاوی رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے:

(الجواب): ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش و اقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں، حرام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

”لا یحل لامرأة توٴمن باللہ والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علٰی زوج أربعة أشھر وعشراً“․

ترجمہ: ”جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے؛ مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے“۔ (بخاري، باب: تحد المتوفی عنھا أربعة أشھر وعشراً إلخ، ص: ۸۰۳، ج:۲، پ:۲)، (صحیح مسلم، باب: وجوب الإحداد في عدة الوفات، إلخ، ص: ۴۹۶، ج:۱)، (مشکوٰة، باب العدة، الفصل الأول، ص: ۲۸)

ماہ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنا نامبارک اور ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام نے جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا ہو، اعتقادا یا عملاً ان کو ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ روافض اور شیعہ سے پوری اھتیاط برتیں، ان کی رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت حرام ہے۔

”مالابد منہ“ میں ہے: ”مسلم را تشبہ بہ کفار وفساق حرام ہے۔“ یعنی: مسلمانوں کو کفار وفساق کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔ (ص: ۱۳۱)

ماہ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی میں اختلاف بھی نہیں ہے۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھیے:

(سوال) بعض سنی جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے۔ ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے، اس کا کیا حکم ہے؟

(الجواب) تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ (احکام شریعت، ص: ۹۰، ج:۱) فقط واللہ اعلم بالصواب (فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعة والسنة، ماہ محرم میں شادی کرے یا نہیں؟ ۲/۱۱۵، دارالاشاعت، کراچی)

اسی طرح فتاوی حقانیہ (کتاب البدعة والرسوم، محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم؟ ۲/۹۶، جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک) میں بھی موجود ہے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، آمین، ماخوذ از

ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ 11، جلد: 99، محرم الحرام 1437 ھجری مطابق نومبر 2015ء
[18/06, 11:27 pm] Meta AI: یہ مفتی محمد راشد ڈسکوی صاحب کا محرم الحرام پر ایک جامع مضمون ہے۔ اس میں نئے ہجری سال اور محرم کے صحیح احکام، بدعات اور عوام میں پھیلی غلط فہمیوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔

میں اس کے اہم نکات آپ کے لیے خلاصہ کر دیتا ہوں:

*1. نئے ہجری سال اور محرم کی اہمیت*
- محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو "New Year" جنوری سے نہیں، بلکہ محرم سے منانا چاہیے کیونکہ ہماری اپنی مکمل تہذیب ہے۔
- نئے چاند کا اہتمام کرنا اور یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
`اللھم اھِلَّہ علینا بالیُمْنِ والإِیْمَانِ والسَّلامَةِ والإِسلامِ، ربِّيْ ورَبُّکَ اللہ`
یعنی "اے اللہ! اس چاند کو امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما۔ میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے"
- اسلامی کیلنڈر کو ترک کر دینا درست نہیں، کیونکہ زکوٰۃ، روزے، حج، عدت جیسی بہت سی عبادات کا مدار قمری حساب پر ہے۔ اس کی حفاظت "فرضِ کفایہ" ہے۔

*2. محرم میں ثابت شدہ 2 مسنون اعمال*
مصنف کے مطابق صحیح احادیث سے محرم میں صرف 2 خاص باتیں ثابت ہیں:

*پہلا: روزے رکھنا*
1. رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔ `صحیح مسلم`
2. خاص طور پر عاشوراء یعنی 10 محرم کا روزہ۔ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نبی ﷺ نے 9 یا 11 محرم کا روزہ بھی ساتھ ملانے کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس لیے 9+10 یا 10+11 محرم کا روزہ رکھنا بہتر ہے۔

*دوسرا: اہل و عیال پر وسعت کرنا*
عاشوراء کے دن گھر والوں پر کھانے پینے، خرچ میں فراخی کرنا۔ حدیث میں ہے کہ جو ایسا کرے گا اللہ پورا سال اس کے رزق میں وسعت فرمائے گا۔ اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے فضائل میں بیان کی جا سکتی ہے۔

*3. محرم سے منسوب 2 منگھڑت روایات*
مصنف نے خبردار کیا ہے کہ یہ 2 روایات موضوع یعنی جھوٹی ہیں، انہیں بیان کرنا جائز نہیں:
1. "جو حسین کے غم میں روئے وہ قیامت میں اولوالعزم رسولوں کے ساتھ ہو گا"
2. "جو پہلی محرم سے 9 روزے رکھے اللہ اس کے لیے ہوا میں 1 میل کا خیمہ بنائے گا"
نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنا بہت بڑا گناہ ہے۔

*4. محرم میں سوگ/ماتم کا حکم*
مضمون کا سب سے اہم حصہ یہ ہے۔
- شریعت میں سوگ صرف 3 صورتوں میں جائز ہے: 1. بیوہ کے لیے 4 ماہ 10 دن، 2. مطلقہ بائنہ کے لیے عدت، 3. کسی رشتہ دار کی وفات پر 3 دن۔ اس کے علاوہ سوگ حرام ہے۔
- شہادت غم کی نہیں، سعادت کی چیز ہے۔ حضرت عمرؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور خود نبی ﷺ شہادت کی تمنا کرتے تھے۔
- حضرت حسینؓ کی شہادت یقیناً ہر مسلمان کے لیے غم کا باعث ہے، لیکن جس طرح کا ماتم، نوحہ، سینہ کوبی کی جاتی ہے یہ سنت نہیں۔ علامہ ابن کثیرؒ کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابوبکرؓ اور نبی ﷺ کی وفات پر بھی اس طرح ماتم نہیں کیا گیا۔
- محرم کو "غم کا مہینہ" کہہ کر خوشی ترک کرنا، شادی نہ کرنا، یہ سب بدعت اور سوگ ہے جو حرام ہے۔

*5. محرم میں شادی کا حکم*
چونکہ سوگ جائز نہیں، اس لیے محرم میں شادی کرنا بالکل جائز ہے۔ اس میں کوئی نحوست نہیں۔
دلیل: حضرت علیؓ کی حضرت فاطمہؓ سے شادی بھی اسی ماہِ محرم میں ہوئی تھی۔
دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتبِ فکر کے فتاویٰ میں بھی یہی ہے کہ محرم میں شادی کو ناجائز سمجھنا گناہ ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کا فتویٰ بھی نقل کیا گیا: "تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے"۔

*خلاصہ ایک لائن میں*: محرم کا احترام روزے رکھ کر، بدعات سے بچ کر اور شریعت کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے۔ نہ خوشیوں کو حرام قرار دیا جائے، نہ غم کو دین بنا لیا جائے۔

آپ اس مضمون میں سے کس موضوع پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟ عاشوراء کے روزوں کا طریقہ، یا محرم میں پھیلی ہوئی دوسری رسومات کا شرعی حکم: اس تحریر کا انگریزی ترجمہ
اس پورے مضمون کا انگریزی ترجمہ بھی پیش خدمت ہے:

*The Martyrdom of Sayyiduna Farooq and Husain (RA) and the Rulings & Issues of the Sacred Month of Muharram*

_By: M***i Muhammad Rashid Diskwi_
_Associate, Department of Authorship & Compilation, and Teacher at Jamia Farooqia, Karachi_

*The Beginning of the New Hijri Year*

Muharram-ul-Haram is the first month of the Islamic Hijri calendar. There are many educated and religious people who have no knowledge of the Islamic calendar at all. In contrast, everyone knows the Solar calendar, the names of its months, and their dates. When the first month of the Solar year, January, begins, people celebrate, make merry and create a lot of noise, as if this is how they start the new year.

At this point, we must reflect: where did we adopt this manner of starting the "New Year" from?! For us, the "New Year" actually begins with the blessed month of Muharram. And since we Muslims, in terms of our way of life, are the inheritors of a complete and perfect civilization, it is against the dignity of a Muslim to go around like a beggar with his hand outstretched before others in matters of life and custom. We have no need to bow before anyone's door. We ourselves are the ones who teach the world the etiquettes and ways of civilization and refinement.

*The Islamic Way of Welcoming the New Month*

Whether it is the beginning of a "new year" or a "new month", the Sunnah method prescribed by Shariah is that at the end of the month, effort should be made to sight the new moon of the new month. This act is Sunnah. And when the moon is sighted, the du'a for sighting the new moon should also be recited. This too is Sunnah. There is blessing, protection, and reward only in adopting this Sunnah method and in being diligent about these du'as. We should avoid useless customs and superstitions, and by adhering to this we should prove that we are true Muslims and lovers of the Prophet ﷺ.

Imam Ibn al-Sunni has mentioned the Sunnah and noble habit of the Prophet ﷺ regarding the beginning of the month as follows:

_“Inna Rasoolallahi ﷺ kana iza ra-al-hilala qala: ‘Allahumma aj’alhu hilala yumnin wa barakah’”_
_(Amal al-Yawm wal-Laylah li Ibn al-Sunni, p: 596, Hadith no: 641, Maktaba al-Shaikh, Karachi)_

Translation: When the Messenger of Allah ﷺ saw the crescent of the first night, he would supplicate: "O Allah! Make this moon a moon of goodness and blessing for us."

*The Sunnah Du'a at the Time of Sighting the New Moon*

In another narration, it is mentioned to recite this du'a at that time:

_“Allahumma ahillahu ‘alaina bil-yumni wal-imaani was-salamati wal-Islam, Rabbi wa Rabbuka Allah”_
_(Musnad Ahmad ibn Hanbal, Musnad Abi Muhammad Talha ibn ‘Ubaydillah, Hadith no: 1397, 2/179, Darul-Hadith, Cairo)_

Translation: "O Allah! Cause this crescent to appear over us with security, faith, safety, and in submission to Islam. My Lord and your Lord is Allah." We should also begin the month in the same way as was the method of the Prophet ﷺ, so that we may attain blessings and mercy. How much more so when we should not begin it with customs, innovations, and wailing.

*The Importance of Using the Islamic Calendar*

Secondly, we should develop the habit of using the Islamic Hijri calendar and keep this calendar in mind in our daily usage. Although using other calendars is not a sin, and there is no prohibition in Shariah against adopting them; however, such use of the Solar calendar that we completely forget the Islamic calendar is in no way correct. This is because protecting the Islamic Hijri calendar is also an obligation upon Muslims, and there is reward in its use, and we should not be deprived of it.

Furthermore, preserving one's identity and distinction is also of great importance for a dignified Muslim. The better form of this matter is that we give priority to using the lunar date over other calendars. God forbid, if all Muslims abandon and forget the Islamic Hijri calendar, then all of them will be sinners in the sight of Allah. This is because many of Islam's acts of worship are connected to this very calendar.

Hakim al-Ummah, Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanwi (RA), writes in his Tafsir _Bayan al-Qur'an_: "However, since the rulings of Shariah depend on the lunar calculation, its preservation is a _Fard Kifayah_ (collective obligation). So if the entire Ummah adopts another system as its norm, such that the lunar calculation is lost, then all will be sinful. And if it remains preserved, then the use of other calculations is also permissible; but it will certainly be contrary to the Sunnah of the Salaf. And using the lunar calculation is undoubtedly more virtuous and better because it is a _Fard Kifayah_."
_(Bayan al-Qur'an, Surah at-Tawbah: 36, 3/131, Maktaba Rahmaniyyah, Lahore)_

This first month of the Islamic year holds great value in the sight of Allah. It is among the sacred months. According to historical narrations, many great events occurred in this month. In terms of rulings, the matters that come to us from authentic and sound hadith are only two:

*The First Ruling in the Sacred Month of Muharram:* Fasting on any day during this blessed month is the most virtuous fast after Ramadan. Moreover, fasting on the 9th and 10th of Muharram, or the 10th and 11th of Muharram, is even more virtuous.

It is narrated in Sahih Muslim: _“Afdalus-siyami ba’da Ramadhan, shahrullahil-Muharram, wa afdalus-salati ba’dal-faridhati salatul-layl”_
_(Sahih Muslim, Kitab as-Sawm, Bab Fadli Sawm al-Muharram, Hadith no: 202)_

Translation: "The most virtuous fast after the fasts of Ramadan is the fast of Allah's month, Muharram, and the most virtuous prayer after the obligatory prayer is the night prayer (Tahajjud)."

Hazrat Ibn Abbas (RA) reports:
_“Hina sama Rasoolullahi ﷺ yawma ‘Ashura, wa amara bi siyamihi, qalu: Ya Rasoolallah! Innahu yawmun tu’azzimuhul-Yahudu wan-Nasara? Faqala Rasoolullahi ﷺ: Fa-idha kana al-‘amul-muqbil in sha’Allahu sumna at-tasi’ah, qala: Falam ya’til-‘amul-muqbil hatta tuwuffiya Rasoolullahi ﷺ”_
_(Sahih Muslim, Kitab as-Siyam, Bab: Ayyu Yawmin Yusamu fi ‘Ashura, Hadith no: 1134, 2/797, Darul-Kutub al-‘Ilmiyyah)_

Translation: When the Messenger of Allah ﷺ himself fasted on the day of ‘Ashura and commanded the Companions (RA) to fast, they said: "O Messenger of Allah! The Jews and Christians also venerate this day." So the Messenger of Allah ﷺ said: "If Allah wills, next year we will also fast on the 9th." (So that the doubt of resemblance would be removed). Ibn Abbas (RA) says: The next year did not come before the Messenger of Allah ﷺ passed away.

For this reason, the Fuqaha say: One should not fast only on ‘Ashura, but should also fast on the 9th or 11th of Muharram with it, so that one can avoid resemblance to the Jews.

It is also known from another narration in Sahih Muslim that the Quraysh also used to fast on ‘Ashura in the days of Jahiliyyah:

_“‘An ‘A’ishata radiyAllahu ‘anha qalat: Kanat Qurayshun tasumu ‘Ashura fil-Jahiliyyah, wa kana Rasoolullahi ﷺ yasumuh, falamma hajara ilal-Madinati samaahu wa amara bi siyamih, falamma furida shahru Ramadhan, qala: Man shaa’a samahu, wa man shaa’a tarakah”_
_(Sahih Muslim, Kitab as-Siyam, Bab Sawm ‘Ashura, Hadith no: 1125, 2/792, Darul-Kutub al-‘Ilmiyyah)_

Translation: (Ummul-Mu'mineen) Hazrat Aisha Siddiqah (RA) says that in the days of Jahiliyyah, the Quraysh used to fast, and the Messenger of Allah ﷺ also used to fast. When he migrated to Madinah Munawwarah, he fasted there too and commanded the Companions (RA) to fast. Then when the obligation to fast in the month of Ramadan was revealed, he gave people the choice and said: "Whoever wishes, let him fast on ‘Ashura, and whoever wishes, let him leave it." From this noble hadith it is known that even before Hijrah, it was the noble habit of the Prophet ﷺ to fast, and after Hijrah he emphasized it to others.

*The Second Ruling in the Sacred Month of Muharram*

There is a special virtue narrated for being generous to one's family on the day of ‘Ashura, whether in food, drink, or any other respect. Hazrat Ibn Mas'ud, Hazrat Abu Sa'id al-Khudri, Hazrat Abu Hurairah, and Hazrat Jabir (RA) have reported that the Messenger of Allah ﷺ said:

_“Man wassa’a ‘ala ‘iyalihi fi yawmi ‘Ashura, wassa’Allahu ‘alayhis-sanata kullaha”_
_(Shu’ab al-Iman lil-Bayhaqi, Kitab as-Siyam, Sawm at-Tasi’ wal-‘Ashir: 3/365)_

Translation: Whoever is generous to his family on the day of ‘Ashura, Allah will be generous to him in sustenance for the entire year.

Although there is some criticism regarding the chain of this hadith, according to the declarations of the Muhaddithin, narrations that are reported through multiple routes gain strength due to their various chains. Therefore, there is no major objection to mentioning it in the context of virtues. Imam Bayhaqi (RA), after mentioning narrations of this meaning, says:

_“Hadhihil-asanidu wa in kanat da’eefah, fa-hiya idha dumma ba’duha ila ba’d, akhadhat quwwah. Wallahu A’lam”_
_(Shu’ab al-Iman lil-Bayhaqi, Kitab as-Siyam, Sawm at-Tasi’ wal-‘Ashir: 3/365)_

Meaning: "Although the chains of these narrations are weak, collectively they attain strength when some are joined to others."

Allama Sakhawi has also adopted this view in his book _Al-Maqasid al-Hasanah_.
_(Al-Maqasid al-Hasanah fi Bayan Kathir minal-Ahadith al-Mushtahirah ‘al-Alsina, Harf al-Mim, Hadith no: 1191, p: 494)_

*Two Fabricated Hadiths Related to the Month of Muharram*

The Rafidah and the people of innovation openly narrate some fabricated and baseless narrations in this blessed month and publicize them a lot. Whereas there is mention in the Prophetic hadith that attributing any statement to the Noble Prophet ﷺ that he did not say is a great crime, and there is a threat of Hell for such a person. As the Prophet ﷺ said:

_“Man kadhaba ‘alayya muta’ammidan falyatabawwa’ maq’adahu minan-Nar”_
_(Al-Maqasid al-Hasanah fi Bayan Kathir minal-Ahadith al-Mushtahirah ‘al-Alsina, Bab: Taghleez al-Kadhib ‘ala Rasoolillahi ﷺ, Hadith no: 3, 1/10, Darul-Kutub al-‘Ilmiyyah)_

Translation: "Whoever lies about me intentionally, let him take his seat in Hell."

Therefore, it is very necessary to refrain from committing this "crime". One of these fabricated narrations is:

_“Ma min ‘abdin yabki yawma qutila al-Husayn, illa kana yawmal-qiyamati ma’a ulil-‘azmi minar-Rusul”_
_(Amal al-Yawm wal-Laylah li Ibn al-Sunni, p: 596, Hadith no: 641, Maktaba al-Shaikh, Karachi)_

Translation: "Any servant who weeps on the day Husain was killed, will be with the Ulul-‘Azm Messengers on the Day of Resurrection."

And another narration is:

_“Man sama tis’ata ayyamin min awwali al-Muharram, banAllahu lahu qubbatan fil-hawa meelan fi meel, laha arba’atu abwab”_
_(Amal al-Yawm wal-Laylah li Ibn al-Sunni, p: 596, Hadith no: 641, Maktaba al-Shaikh, Karachi)_

Translation: "Whoever fasts nine days from the beginning of Muharram, Allah will build for him a tent in the air, one mile wide and one mile long, with four doors."

It should be clear that narrating such baseless and false narrations, or believing in them, is not permissible in any way. Therefore, not only should one completely avoid many such narrations and fables that are circulated as soon as Muharram arrives, for which there is no scholarly evidence or proof, but there is also an urgent need to refute the one who narrates them.

*The Ruling on Mourning in the Sacred Month of Muharram*

Another thing that has become very common (in Muharram) is that this month is a month of grief, one should not celebrate in this month. Why? Because in this month, the grandson of the Messenger, Hazrat Husain (RA), and the young and old of his family were brutally and cruelly martyred. To show sympathy with them, it is necessary to mourn, observe grief, and avoid every happy activity.

But the question is, what guidance does Shariah give us about this?

First, consider a statement of Allama Ibn Kathir (RA):

It is appropriate for every Muslim that the incident of the martyrdom of Hazrat Husain (RA) saddens him, because he was the leader of the Muslims and among the knowledgeable Companions (RA). He was the son of the most beloved daughter of the Messenger of Allah ﷺ, i.e., the grandson of the Prophet ﷺ. He was a worshipper, very brave, and extremely generous. But the manner in which the Shi’ah express grief and sorrow over his martyrdom is in no way appropriate; rather, their actions are related to fabrication and show. His father, Hazrat Ali (RA), was more virtuous than him, and he was martyred in 40 AH on the 17th of Ramadan, on a Friday, while he was going from his house for Fajr prayer. But the Shi’ah do not mourn his day of killing in the way they mourn on the day of the martyrdom of Hazrat Husain (RA).

Similarly, Hazrat Uthman Ghani (RA) is more virtuous than Hazrat Ali (RA) according to Ahlus-Sunnah wal-Jama’ah, and he was martyred in 46 AH on the day of Eid al-Adha in his own house. But the Shi’ah do not mourn his day of killing in the way they mourn on the day of the martyrdom of Hazrat Husain (RA).

Similarly, Hazrat Umar ibn al-Khattab (RA) is more virtuous than these two gentlemen (Hazrat Uthman and Hazrat Ali RA), and he was martyred in the Mihrab of the mosque while he was reciting in prayer. But the Shi’ah do not mourn his day of killing in the way they mourn on the day of the martyrdom of Hazrat Husain (RA).

Similarly, Hazrat Siddiq Akbar (RA) was more virtuous than these three gentlemen, but the Shi’ah do not mourn on his day of death in the way they mourn on the day of the martyrdom of Hazrat Husain (RA). And the Noble Prophet ﷺ, who is the leader of the children of Adam in this world and the Hereafter, the Shi’ah do not mourn on his day of death in the way these ignorant Rafidah mourn on the day of the martyrdom of Hazrat Husain (RA).
_(Al-Bidaya wan-Nihaya 11/579)_

By observing this statement, it becomes easy to understand the drama and pretension of the Rafidah. After that, one should understand: Is the status of "martyrdom" one of joy or of grief and mourning? The teachings of the Prophet ﷺ teach us that attaining martyrdom is a matter of immense felicity.

*The Passion for Martyrdom of Hazrat Farooq-e-Azam (RA)*

This is why Hazrat Umar Farooq (RA) used to constantly pray for the attainment of martyrdom.
_(Sahih al-Bukhari, Kitab Fada’il al-Madinah, Bab Karahiyyatin-Nabi ﷺ an Tu’ra al-Madinah, Hadith no: 1890, 3/23, Dar Tawq an-Najah)_

*The Passion for Martyrdom of Hazrat Khalid ibn al-Walid (RA)*
Hazrat Khalid ibn al-Walid (RA), who was given the title "Saifullah" (Sword of Allah) from the court of Prophethood, spent his entire life striving in fighting in the path of Allah with a longing for martyrdom. But by the will of Allah, he did not attain martyrdom. So when the time of his death came, he wept profusely, saying that today I am waiting for my death on my bed like the death of a camel.
_(Al-Bidaya wan-Nihaya, Sanah Ihda wa ‘Ishreen, Dhikr man Tuwuffiya Ihda wa ‘Ishreen: 7/114, Maktaba al-Ma’arif, Beirut)_

*The Passion for Martyrdom of the Noble Prophet ﷺ*
Martyrdom is such a great felicity and blessing that the Noble Messenger of Allah ﷺ himself desired it for himself and encouraged the Ummah towards it. There is a narration of Hazrat Abu Hurairah (RA) in which the Prophet ﷺ said: "I wish that I fight in the path of Allah and then be martyred, then be given life again, then fight in the path of Allah and be martyred, then be given life again, then fight in the path of Allah and then be martyred."
_(Sahih Muslim, Kitab al-Imarah, Bab: Fadli al-Jihad wal-Khuruj fi Sabeelillah, Hadith no: 4967)_

The purpose here is simply to show that martyrdom is such a blessing that it was intensely desired. It is not something to lament or grieve over. If this act is accepted as correct, then we should be told: Is there any day in the whole year in which the martyrdom of some Companion of the Messenger did not occur? Look at the books of history and biography, and you will find the martyrdom of someone on every day. The implication of this is that day should be made a day of expressing grief and lamentation.

Also, consider that even during the blessed life of the Messenger of Allah ﷺ, many great and beloved personalities of the Prophet ﷺ attained martyrdom. But did our beloved Prophet ﷺ also observe their day of martyrdom as a memorial? No, absolutely not. So are we then more grief-stricken than our Prophet ﷺ? God, let us examine our deeds and make every effort to avoid such satanic and misguided rituals and acts.

*The Ruling on Mourning in Shariah*

In Shariah, mourning is permissible only in a few situations, and that too only for women:
1. For a _mutallaqah ba'inah_ (irrevocably divorced woman) only during the period of ‘iddah,
2. For a woman whose husband has died, only during the period of ‘iddah,
3. Upon the death of a close relative, only for three days.

Other than this, mourning is not permissible for a woman on any occasion. And the meaning or method of mourning is that during this period she should not adorn herself, she should not adopt any form of adornment, such as: applying perfume, applying kohl, applying henna, and wearing colorful, attractive clothes, etc. Other than this, adopting any other form, such as wearing black clothes to express grief or wailing loudly and wearing black clothes, etc., is not permissible.

Moreover, men are not permitted to mourn in any situation. So then what is the meaning of mourning and lamentation as soon as the Sacred Month of Muharram begins?

*The Ruling on Marriage in the Sacred Month of Muharram*

According to the details mentioned above, mourning in this blessed month is completely baseless and an excess in religion in the name of religion, which must be abandoned. Therefore, when mourning is not permissible, then there is no prohibition in Shariah against marriage in this month; rather, the strange thing is that the marriage of Amir al-Mu'mineen Hazrat Ali (RA) to Hazrat Fatimah al-Zahra (RA) took place in this very blessed month.
_(See: Tarikh Madinat Dimashq li Ibn ‘Asakir, Bab Dhikri Banihi wa Banatihi ﷺ wa Azwajihi: 3/128, Dar al-Fikr; Tarikh ar-Rusul wal-Muluk lit-Tabari, Dhikr ma Kana minal-Umur fis-Sanah ath-Thaniyah, Ghazwat Dhat al-‘Ushayrah: 2/410, Dar al-Ma’arif bi Misr)_

The meaning of not having marriage in this month would be that there is inauspiciousness in this month, whereas this is completely baseless and unfounded in Shariah. In fact, to have this belief or mindset is itself a sin. Allah has not placed any inauspiciousness in any day or time. There are explicit statements on this in the fatawa of the senior M***is. Below is the answer to this very issue, quoted from _Fatawa Rahimiyyah_:

_(Answer): It is not permissible to declare the blessed month of Muharram as a month of mourning and grief. There is a hadith that women are permitted to mourn for their relatives for three days, and for the death of their husband, mourning for four months and ten days is necessary. Other than this, mourning for more than three days for anyone's death is not permissible, it is haram. The saying of the Prophet ﷺ is:_

_“La yahillu li-imra’atin tu’minu billahi wal-yawmil-akhiri an tuhadda ‘ala mayyitin fawqa thalathi layalin illa ‘ala zawjin arba’ata ashhurin wa ‘ashra”_

Translation: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for a dead person for more than three nights, except for a husband, for whom it is four months and ten days."
_(Bukhari, Bab: Tuhiddu al-Mutawaffa ‘anha Arba’ata Ashhurin wa ‘Ashra, p: 803, 2, p: 2), (Sahih Muslim, Bab: Wujub al-Ihdad fi ‘Iddatil-Wafah, p: 496, 1), (Mishkat, Bab al-‘Iddah, al-Fasl al-Awwal, p: 28)_

To consider marriage, etc., in the blessed month of Muharram as inauspicious and impermissible is a grave sin and contrary to the belief of Ahlus-Sunnah. To consider something haram and impermissible, in belief or in action, that Islam has declared halal and permissible, endangers one's faith. Muslims should be completely cautious of the Rafidah and Shi’ah, and stay away from their rituals; participation in them is haram.

It is in _Ma La Budda Minhu_: "It is haram for a Muslim to resemble the disbelievers and sinners." _(p: 131)_

There is also no difference between Deobandis and Barelvis regarding marriage, etc., in the blessed month. Read the fatwa of Maulana Ahmad Raza Khan Barelvi Sahib:

_(Question) Some Sunni groups neither cook bread nor sweep during the ten days of Muharram. They say that bread will be cooked after the burial of the ta'ziyah. They do not change clothes for these ten days. They do not perform any marriage in the month of Muharram, what is the ruling on this?_

_(Answer) All three things are mourning, and mourning is haram._
_(Ahkam-e-Shariat, p: 90, 1)_
_Only Allah knows best_
_(Fatawa Rahimiyyah, Kitab al-Bid’ah was-Sunnah, Should one marry in the month of Muharram or not? 2/115, Darul-Isha’at, Karachi)_

Similarly, it is also present in _Fatawa Haqqaniyyah_ (Kitab al-Bid’ah war-Rusum, The ruling on marriage in the Sacred Month of Muharram? 2/96, Jamia Haqqaniyyah, Akora Khattak). May Allah, Lord of all the worlds, grant us the ability to avoid all evils, and keep us on the Straight Path, avoiding excess and deficiency. Ameen.

_Taken from_
_Monthly Darul-Uloom, Issue 11, Vol: 99, Muharram-ul-Haram 1437 AH, corresponding to November 2015_

Address

Garhi Afghanan
Garhi Afghanan

Telephone

+923135230510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Hassan Bin Ali R.A posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category