International Writers Forum

International Writers Forum local news and daily routine videos

یوم تاسیس 24 اکتوبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داستان مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجاہد بٹالین میں شمولیت اختیار کی جو ’’ سدھن ‘‘ بٹالین کے نام سے ...
24/10/2020

یوم تاسیس 24 اکتوبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داستان مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجاہد بٹالین میں شمولیت اختیار کی جو ’’ سدھن ‘‘ بٹالین کے نام سے مشہور تھی ۔ چونکہ اس میں سدھن قبیلے کے زیادہ لوگ شامل تھے ۔ کم عمری کی وجہ سے مجھے رائفل وغیرہ نہیں دی گئی ۔ تاہم مجھے دیگر کام سونپ دے گئے ۔ آٹھ ماہ تک میں بٹالین میں کام کرتا رہا ۔ بعد ازیں مجھے باقائدہ عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے آزاد کشمیر ریگولرفورسز ٹریننگ سنٹر ’’ بالی ماں ‘‘ تراڑکھل بھج دیا گیا ۔ اس ٹریننگ سنٹر میں چھوٹے ہتھیار(رائفل، اسٹین گن اور ھینڈ گرنینڈ) کی تربیت دی جاتی تھی اور یہ تربیتی سنٹر کمانڈ ر میجر’’ چنوں خان‘‘ کی زیر نگرانی میں چل رہا تھا ۔ ’’بالی ماں ٹریننگ سنٹر‘‘ میں تقریبا 2 ماہ کی عسکری تربیت حاصل کر کے ابھی فارغ ہی ہوا تھا تو حکم ملا کہ اپ لوگ پونچھ ’’ چھجا‘‘ محاذپر رپورٹ کریں ، کیونکہ وہاں پر مجاہدین کی زیادہ تعدا د بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکی تھی، اس لیے وہا ں پرتازہ دم عسکری تربیت یافتہ مجاہدین کی فوری ضرورت پڑی تھی ۔ چناچہ میں اور میرے ساتھ مجاہدین کی تازہ دم نفری رات8بجے چھجا محاذ پر پہنچ گئے ۔ ہم سب نئے تربیت یافتہ تھے ، علاقے سے پوری طرح واقف بھی نہ تھے اور جنگی کارویوں میں نا تجربہ کار ہونے کی وجہ سے خاصی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا جبکہ دوسری طرف ہندستان کی باقائدہ تربیت یافتہ اور اس وقت کے جدید اسلحہ سے لیس فوج ہمارے مقابلے تھی ۔ ڈوگرہ فوج نے اسی رات چھجا محاز پونچھ پر حملہ کر دیا اور شدید گولہ باری شروع کر دی میں اور میرے ساتھی درندہ صفت فوج کو دندان شکن جواب دیتے رہے، لیکن شہادتوں کی زیادتی کی وجہ سے بہت سارے جوان گبھرا گے اور مایوسی کے باعث محاذ جنگ چھوڑنے لگے ۔ اور سارے جوان’’ ساتیوال اور توپی ر کھ (پونچھ)‘‘ کی طرف نکل گئے ۔ چناچہ میں اور میرے ایک ساتھی سپاہی’’ سخی محمد‘‘ سکنہ منڈہول او ر ’’ دین محمد‘‘ سکنہ نیریاں شریف محاذ جنگ پرموجود رہے جبکہ ہمارا ایک ساتھی نائب صوبیدار شاہ محمد شہید ہو گیا تھا ۔ جب ڈوگرہ فوج کو اس بات کا علم ہو گیا کہ مجاہدین محاذ جنگ سے اگے چلے گئے ہیں تو ڈوگرہ فوج نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔ ھم نے راءفلوں کو جوڑ کر ایک دستی سٹیچربنایا اور اپنے ساتھی نائب صوبیدار شاہ محمد شہید کی لاش کو راءفلوں سے بنائے ہو ئے سٹیچر پر لا رہے تھے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے چھپے ہوئے ڈوگرہ فوج کے چند سپاہی فورا سامنے اگے اور ھ میں نعش پھینکنے کو کہا، اس واقعے کے بعد انھوں نے مجھے اور میرے دو ساتھیوں کو پکڑ کر ٹیلی فون کی تاروں کے ساتھ باندھ دیا اور ساتھ تشدد کرنا شروع کر دیا ۔ دوران تشدد ہمارے ایک ساتھی’’ سپاہی دین محمد ‘‘ کو شہید کر دیا ۔ مجھے اور سپاہی’’سخی محمد ‘‘ کو تاروں کے ساتھ باندھ کر ایک گڑھے میں پھنک دیا اور ایک ڈوگرہ سپاہی’’ جنت سنگھ‘‘ کو ہم پرگارڈ لگا دیا ۔ سخت گرمی میں ہم وہاں ایک دن بھوکے پیاسے باندھے رہے ۔ ہم جب بھی اس سے پانی مانگتے تو وہ ہیں گالیاں دیتا ۔ بالاخر اس نے ہم سے پوچھا تم کہاں کہ رہنے والے ہو تو میں نے اسے بتایا کہ ضلع میرپو ر کے علاقے کوٹلی کا رہنے والا ہوں ۔ وہ بولا میرا بھی تعلق میرپور سے ہے ۔ اس بات چیت کے بعد وہ ایک پانی کی کیتلی لایا جس سے ہم نے پانی پیا ۔ جب پاکستان آرمی کی 14 پنجاب نے دشمن پر گولہ باری کی تو ڈوگرہ جنت سنگھ وہاں سے بھاگ گیا ۔ ہم نے بمشکل تاریں کاٹی اور اپنے اپ کو آزاد کرایا ۔ ادھر ہماری ساری فوج’’ چھجا محاذ‘‘ سے ستیوال آ گئی اور ہم اکیلے تھے ۔ بعد ازیں ہم دشمن کے خطرے کے پیش نظر جہاں قریب ہی بھارتی فوج کی ایک چیک پوسٹ تھی سے چھپتے ہوئے ’’ درہ فقیر‘‘ (تیتری نوٹ) کے راستے نکلے اور دریائے پونچھ میں داخل ہوئے ۔ ساون کا مہنیہ تھا اور دریا میں تغیانی تھی لیکن ہم نے اس کی بھی پرواہ نہ کی اور اپنے اپ کو دریا کی موجوں کے حوالے کردیا ۔ دشمن کی انکھوں سے اجھل ہو کر ہم دریا میں بہہ گئے ۔ دریائے پونچھ کی موجیں ہ میں اپنے ساتھ بہا کے دوسو گز تک ’’ چکاں دا باغ‘‘ لے آئیں ۔ اس مقام سے ہم کنارے پر لگے ۔ دریاء سے نکل کر ہم ایک خالی گھر میں چلے گئے جہاں پر ہ میں مکئی کچی چھلیاں کھانے ملی اور ایک کتے کے برتن میں پڑا پانی پی کر بھوک اور پیاس بجھائی ۔ ہم دوبارہ دریا کے راستے چل دیے چلتے چلتے ہم ’’ تلی کوٹ‘‘ میں موجود پاک آرمی کی 14 پنجاب کے پاس پہنچ گئے ۔ جہاں انھوں نے ہم سے پوچھ گچھ کی اور پھر ہ میں اپنے سنٹر میں موجود کمانڈر فیروزخان کے حوالے کر دیا ۔ کمانڈر فیروزخان انڈین نیشنل آرمی سے صوبیدار میجر ریٹائرد تھے اور ایک محب الوطن کمانڈر تھے ۔ چونکہ میں اس وقت پڑا لکھا تھا اس لیے کمانڈر صاب نے مجھے ٹیلی فون اپریٹر لے لیا ۔ خستہ حالی کا یہ عالم تھا اس فوج میں نہ راشن ملتا تھانہ کوئی اور سہولت ۔ ہم گاءوں میں سے کھانا مانگ کر لایا کرتے تھے اور لوگ ہ میں پٹھے پرانے کپڑے دیتے جو ہم مجاہدوں کا لباس ہوتا تھا ۔ اکثر ہم جنگلی فروٹ وغیرہ کھا کے گزارہ کرتے تھے ۔ اس دور میں ٹیلی موصلات کا کوئی مربوط نظام نہ تھا جس کی وجہ سے میرے گھر میں کسی نے جھوٹی افواہ پھیلا دی کہ ’’ گلزار خان‘‘ شہید ہو گیا ہے ۔ میری موت کی خبر سنتے ہی میرے گھر میں کہرام مچ گیا اور لوگ افسوس کرنے اکٹھے ہو گئے، باپ نیم پاگل ہو گیا اور صدمے سے والدین نے گریہ زاری کرے کے برا حال کر دیا ۔ اور میری باقائدہ رسم قل بھی ادا کر دی گئی ۔ چناچہ مجھے 5 دن چٹھی ملی اور میں اپنے آبائی گاءوں پناگ شریف پہنچا تو مجھے دیکھ کر لوگ حیران تھے اور گھر والوں کو یقین نہ آرہا تھا واقع یہ ہمارا بیٹا ہے ۔ خیر میں نے سب کو یقین دلایا میں گلزار ہی ہوں اور زندہ ہوں اپ کو کسی نے غلط خبر سنائی ہے ۔ پانچ دن چٹھی گزارنے کے بعد میں واپس اپنی ڈیوٹی پر آٹھ بٹالین میں حاضر ہوا ۔ میری مجاہد بٹالین’’ چھجا محاذ‘‘ سے ’’سلوتری مہنڈر‘‘ آگئی تھی ۔ اس محاذپر ہم ایک ماہ تک دفاعی پوزیشن میں رہے ۔ سلوتری محاذپر ہمارے پاس فضاء میں مار کرنے کا کوئی ہتھیار نہ تھا جس کی وجہ سے ہندوستانی فوج کے ہوائی جہاز اس محاذ کی فضا سے گزر کر پونچھ جاتے جہا ں بھارت کی چھاتہ بردار فوج اتاری جاتی تھی ۔ اسی محاذپر ہم نے’’ قائداعظم محمد علی جناح‘‘ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی تھی ۔ اور اسی محاذ پر ہ میں ایک ماہ کی تنخواہ 10روپے دی گئی،علاقے کے لوگ جو مال خیرات کرتے تھے وہ سول کیشئر ہ میں آ کے دے جاتا تھا ۔ ضلع راجوری میں ’’ راجہ سخی دلیر ‘‘کا ا عسکری گروپ فتح حاصل کر کے واپس نکلا توبھارتی فوج نے دوبارہ حملہ کر دیا ہ میں کمانڈر کی طرف سے حکم ملاکہ اپ ’’سلوتری‘‘ سے انخلا کر کے ’’ بھمبر گلی‘‘ چلے جاءو ۔ چو نکہ ہم دفاعی پوزیشن میں تھے، دوباہ حکم ملا کہ اپ لوگ اس محاذ کو چھوڑ کر رات کی تاریکی ’’ نوشہرہ‘‘ چلے جاءو اور تیسری بار حکم ملا کہ اپ ’’ گھمبیر مغلاں ‘‘ چلے جاءو ۔ دشمن جس طرف بھی رخ کرتا تھاہ میں اس کو روکنا پڑتا تھا ۔ ’’ گھمبیر مغلاں ‘‘ میں ایک رات ٹھہرے تو واپس بھمبر گلی جانے کا کہا گیا ۔ دشمن نے راجوری پر حملہ کر دیا تھا اور دوسری طرف دشمن کے جہاز سید فاضل شاہ میدان میں چھاتہ بردار فوج اتار رہے تھے تاکہ کریلا(نکیال) پر حملہ کیا جائے جبکہ مہنڈر پر حملے کے لیے زمینی فو ج بھج دی گئی ۔ دشمن کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ہ میں بھمبر گلی سے واپس سلوتری محاذ جانے کا حکم ملا، ادھر دشمن نے بھمبر گلی پر قبضہ کرلیا ۔ میں اورمیرے ایک ساتھی (ٹھیرا ٹوپا محاذسلوتری) میں موجود تھے جہاں پر دشمن پونچھ میں موجود ہندستانی فوج کو ’’ ہیلیو ;;‘‘ سسٹم کے ذریعہ مسلسل پیغامات بھیج رہا تھا ۔ میں چونکہ سگنلر تھا سلوتری ٹھہرا ٹوپا پر میں نے دشمن فوج کے’’ ;;ہیلیو ‘‘ کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات کو انٹرسیپٹ کر لیا تھا جس میں دشمن پونچھ میں موجود اپنی فوج کو یہ پیغام دے رہا تھا ’’(ہم نے بھمبر گلی پر قبضہ کر لیا ہے اور اب کریلا کی طرف بڑھ رہے ہیں )‘‘ میں نے دشمن کا یہ پیغام فوری طور پر اپنے ساتھی سگنلر کو دیا اور اس نے اس پیغام کو کمانڈر فیروز خان کو دیا اور انھوں نے برگییڈ ہیڈ کوار سرککوٹا ( ہجیرہ ) کو پاس کیا جہاں موجود برگیڈ کمانڈر بوستان خان نے فوری طور پر مہنڈر میں موجود ’’ ٹیر ایکسچینج‘‘ کو دیا ۔ ایریا کمانڈر فتح محمد کریلوی کو حکم ملا کی دشمن کے اس حملے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ،انھوں نے مجاہدین وہاں بھیج کر دشمن کے اس حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ ہم واپس ’’سلوتری‘‘ مہنڈر پہنچے تو ہماری پلاٹون کے ساتھ دو بٹالین ; ; کرنل ہدایت خان کی کمانڈ میں موجود تھیں ، 12 دن کے بعد بھارتی فوج نے رات ایک بجے حملہ کر دیا، یہ حملہ پونچھ کی طرف سے تھا جو دوطرفہ تھا، میری سگنل سیکشن دو کمپنیوں کے درمیان میں تھی اور میں ٹیلی فون سیٹ لیے اگلے مورچے میں موجود تھا اور باقی سیکشن کے جوان 10گز پیچھے مورچے میں تھے ۔ ادھر پونچھ میں موجود بھارتی فوج کے توپ خانے نے شدید گولہ باری شروع کی جس سے ; کے لاتعداد لوگ شہید ہو گئے، گولہ باری کا سلسلہ قریبا 10منٹ تک جاری رہا ۔ جو نہی شیلنگ کا سلسلہ بند ہوا اچانک دشمن نے چاروں اطراف سے حلہ بول دیا، ادھر ھمارے کمانڈر کرنل فیروز خان نے مجھے پو چھا کہ کیا کمپنیاں اگے لڑ رہی ہیں تو میں نے جوابا ہاں کر دی ۔ جبکہ اکثر کمپنیاں میدان جنگ چھوڑ چکی تھی ۔ بعد میں کرنل صاحب نے مجھے بتایاکہ دشمن ہمارے ہیڈکوارٹر سے اگے نکل چکا ہے ۔ میں نے اپنا سامان اٹھایا اور ہیڈکوارٹر کی طرف نکل پڑا، راستے میں مجھے بھارتی فوج کے پانچ فوجی نظر آئے جنھوں نے میرا پیچھا کیا اور میں نے ان سے بچنے کے لیے راستے سے چھلانگ لگائی ، اور گہری کھائی میں گرا، انھوں نے مجھ پر دو دستی بم فائر کیے لیکن میں محفوظ رہا ۔ جب میں ہیڈ کورٹر پہنچا تو تمام مجایدین ’’ بٹل‘‘ کی طرف چلے گئے تھے ۔ چناچہ میں چلتا چلتا پہاڑی کے دامن میں پہنچا تو کمانڈر فیروز خان اور بٹالین ایجوٹنٹ نائب صوبیدار حسن محمد ساتھ چڑھائی چڑھ رہے تھے، میرے چلنے کی آواز سن کر وہ زمین پر لیٹ گئے پوزیشن سنبھال لی کہ شاہد دشمن آگیا ہے ابھی وہ فائر کرنے ہی والے تھے کہ میں نے آواز دی کہ میں آپ کا سگنلر گلزار خان ہوں ۔ انھوں نے میرے پیچھے رہنے کی وجہ دریافت کی تو میں نے ان کو بتایا کہ شدید گولہ باری کے باعث مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ یہ دشمن کا فائر ہے کہ اپنوں کا، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ۔ کرنل صاحب کی دریافت پر کہ ساتھ کیا لائے ہو! میں نے سگنل کا سارا سامان دکھایا جو کہ دشمن سے بچا لیا تھا ۔ اس پر کرنل صاحب نے شاباش دی اور نائب صوبیدار حسن محمد کو کہا کہ اس کی ساءٹیشن لکھ کر مجھ سر دستخط کروا لو ۔ ’’سلوتری‘‘ میں ہی ہ میں یہ حکم ملا کہ آپ لوگ وہاں سے انخلا کر کے دریا پونچھ سے پار چلے جاو، چونکہ دشمن ’’ مہنڈلا بٹل‘‘ پہنچ چکا تھا، وہاں سے ہم ’’سر ککوٹا‘‘ میں جمع ہو گئے جہاں باقی تمام کمپنیاں موجود تھیں ۔ ہم تمام لو گ ’’ سر ککوٹا‘‘ ہجیرہ میں جمع تھے کہ دشمن کے دو ہوائی جہازوں نے 17 بم گرائے جو پھٹ نہ سکے تاہم تمام لوگ دشمن کی گولہ باری سے محفوظ رہے ۔ پھر ہ میں حکم ملا کہ ’’بساڑی (پلندری)‘‘ دیسا پیر پہاڑی‘‘ چلے جاءو ،جہاں ہماری آرمی کا توپ خانہ تھا جس کی حفاظت کے لیے ہ میں وہاں بھیجا گیا ۔ جب ہم دیسا پیر پہاڑی پر پہنچے تو شدید سردی تھی اور برف پڑی تھی اور ہم پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے ۔ وہاں موجود صوبیدار میجر شیر خان نے مجھے دھان کی فصل کے سٹوں سے جوتے (پولیں ) بنا کے دیے ۔ جو برف سے بچنے کا واحد حل تھا ۔ بھارتی فوج کو ریاست میں کافی نازک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ آزاد فوج ہر محاذ جنگ پر بھارتی فوج کو پیچھے دھکیل رہی تھی اور آزاد کشمیر ریاست کے ایک بڑے حصے کو آزاد کرا کر اس کے نظم ونسق کو اپنے ہاتھ میں لے چکی تھی ۔ مجاہدیں آزاد ی اکثر محاذوں پر مسلسل اگے بڑھ رہے تھے ۔ ان حالات سے مجبور ہو کر بھارت نے مسلہ کشمیر سلامتی کونسل میں پیش کر دیا ۔

افسوس ناک انٹرنیشنل رائٹرز فورم کے چئیرمین چوہدری محمد عارف کا جوانسالہ بھتیجا ذیشان ایوب جو کہ گلھارشریف میں کچھ دوستوں...
26/03/2020

افسوس ناک
انٹرنیشنل رائٹرز فورم کے چئیرمین چوہدری محمد عارف کا جوانسالہ بھتیجا ذیشان ایوب جو کہ گلھارشریف میں کچھ دوستوں کے ساتھ موجود تھا پولیس کی طرف سے ریڈ کی وجہ سے بھاگتے ہوئے گہری کھائی میں گر کر جاں بحق ہو گیا ہے ۔مرحوم اپنے نانا کے گھر کے گیا ہوا تھا۔ ہم جوانسالہ ذیشان ایوب کی وفات پر چوہدری محمد عارف سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے غم اور دکھ کی اس گھڑی میں ان سے دلی تعزیت کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔کوٹلی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا جس کے زمہ دار ڈی سی کوٹلی اور ایس پی کوٹلی ہیں دونوں کا فوری تبادلہ کیا جائے۔اور ہم اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

14/03/2020

Top Fans

کوٹلی ۔۔۔۔آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے ۔لیکن پلاننگ بلکل ناہونے کی وجہ سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔۔۔۔آئے روز یہاں کے لوگ...
14/03/2020

کوٹلی ۔۔۔۔آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے ۔لیکن پلاننگ بلکل ناہونے کی وجہ سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔۔۔۔آئے روز یہاں کے لوگ سہولیات کے نہ ہونے کا رونا روتے ہیں لیکن جب کوئ کام کرنے لگتا ہے تو ہم خود اسکے راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ایک عرصہ دراز بعد کوٹلی کو ایک ایسا مرد مجاہد ملا تھا جو کوٹلی کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا جو عوامی مسائل کو حل کرنے نکلا تھا جو نا اہل سیاستدانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا تھا۔جو کوٹلی کی ترقی کا vision لے کہ چل رہا تھا۔لیکن شاید قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔آج انکے تبادلہ کے ساتھ یہ تمام منصوبے بھی شاید بند ہو جائیں۔ہمیں معلوم ہے کہ انکی کوٹلی کی گراں قدر خدمات انکے جوش انکے جذبہ کو دیکھتے ہوئے یہ تبادلہ لازماً دھیرکوٹ کی عوام کہ لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہوگا۔اور ہم دعا گو ہیں کہ میجر (ر)ناصر رفیق جلد از جلد دوبارہ کوٹلی میں تعینات ہوں اور قبضہ مافیا کا بالکل خاتمہ کریں۔

13/03/2020

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) احتساب عدالت نے جیو اور جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے اور ان کی گرفتاری پر تقریبا تمام سینئر صحاف...

13/03/2020
13/03/2020

اسلام آباد(نیوز ڈدیسک) سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کچھ عرصہ قبل عمرہ کی ادائیگی کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے جہاں پر پاکستانی نے انہیں گھیر لیا اور انکے س...

Address

Gam Kotli
11100

Telephone

+923556608883

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when International Writers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to International Writers Forum:

Shortcuts

Share