Islamic Kutub khana

Islamic Kutub khana Islamic program recording

شہزادہ اہلحدیث مولانا علامہ عبدالقیوم ظہیر صاحب کیلئے کوئی اچھا سا جملہ
12/06/2026

شہزادہ اہلحدیث
مولانا علامہ عبدالقیوم ظہیر صاحب کیلئے
کوئی اچھا سا جملہ

12/06/2026
12/06/2026

نیو ترانہ
ہم یوتھ فورس کے دیوانے

غدیرِ خم ایک جگہ کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ حجۃ الوداع سے واپس آ رہے تھے۔ واپسی پر جب غدیرِ خم کے مقام پر پہ...
12/06/2026

غدیرِ خم ایک جگہ کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ حجۃ الوداع سے واپس آ رہے تھے۔ واپسی پر جب غدیرِ خم کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے فضائل میں چند باتیں ارشاد فرمائیں۔ محدثین نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت علیؓ پر تنقید کی تھی، تو اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:

"من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم والِ من والاه وعادِ من عاداه"

یعنی: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے بغض رکھے تو اس سے بغض فرما۔"

اس حدیث کو بنیاد بنا کر بعض لوگوں نے یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت علیؓ خلیفۂ بلا فصل ہیں یا آپ ﷺ کے جانشین ہیں، اور یہاں "مولا" سے مراد خلافت یا جانشینی لیتے ہیں۔ بعض غالی لوگ تو یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ "مولا" سے نعوذ باللہ خدائی اختیارات مراد لینے لگتے ہیں۔

حالانکہ عربی زبان میں "مولا" کا لفظ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مولا دوست کے معنی میں بھی آتا ہے، مددگار کے معنی میں بھی، آزاد کردہ غلام کے معنی میں بھی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: "مولیٰ ابن عباس"، یعنی حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام۔

لہٰذا ہر جگہ "مولا" کا ایک ہی معنی لینا درست نہیں، بلکہ سیاق و سباق کے مطابق معنی متعین ہوتا ہے۔

اگر یہاں "مولا" سے مراد خلافت، جانشینی یا خدائی اختیارات لیے جائیں تو پھر قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ کیا ہوگا؟

اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا

اگر "ولی" اور "مولا" کا معنی ہر جگہ خلیفہ یا جانشین لیا جائے تو کیا اس آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ "اللہ ایمان والوں کا خلیفہ ہے"؟ یا "اللہ ایمان والوں کا جانشین ہے"؟ ظاہر ہے کہ ایسا ترجمہ کوئی نہیں کرتا۔

اسی طرح قرآن میں فرمایا:

نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ

اگر "مولا" کا معنی ہر جگہ خلیفہ یا جانشین لیا جائے تو اس آیت کا ترجمہ کس طرح کیا جائے گا؟

اسی طرح قرآن میں ہے:

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ

یہاں بھی "مولا" آیا ہے۔ کیا یہاں "مولا" کا معنی خلیفہ لیا جائے گا یا مددگار، کارساز اور دوست؟

لہٰذا عربی زبان، قرآن کے استعمال اور حدیث کے سیاق و سباق کو سامنے رکھا جائے تو یہاں "مولا" سے مراد محبت، نصرت، دوستی اور قربت ہی بنتی ہے، نہ کہ خلافت یا خدائی اختیارات۔

اس کی سب سے بڑی دلیل خود حدیث کے اگلے الفاظ ہیں:

"اللهم والِ من والاه وعادِ من عاداه"

یعنی: "اے اللہ! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔"

یہاں گفتگو محبت اور دشمنی کی ہو رہی ہے، خلافت اور جانشینی کی نہیں۔

رہی بات عیدِ غدیر منانے کی، تو اگر غدیرِ خم کا دن بطور عید منانا دین کا حصہ ہوتا تو سب سے پہلے حضرت علیؓ اسے مناتے۔ حضرت علیؓ کی زندگی میں یہ دن تقریباً اکتالیس مرتبہ آیا، لیکن کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ آپؓ نے اسے بطور عید منایا ہو۔

اسی طرح حضرت حسنؓ کی زندگی میں بھی یہ دن بارہا آیا، اور حضرت حسینؓ کی زندگی میں بھی تقریباً اکاون مرتبہ آیا، لیکن نہ حضرت علیؓ، نہ حضرت حسنؓ اور نہ حضرت حسینؓ سے اس دن کو بطور عید منانا ثابت ہے۔

جب خود اہلِ بیتؓ سے عیدِ غدیر منانا ثابت نہیں، تو پھر آج اس دن کو مستقل عید قرار دینا کس بنیاد پر ہے؟

اسلام میں صرف دو عیدیں ثابت ہیں
عید الفطر

عید الاضحی

ان کے علاوہ کسی تیسری عید کا ثبوت نہ رسول اللہ ﷺ سے ملتا ہے، نہ حضرت علیؓ سے، نہ حضرت حسنؓ سے اور نہ حضرت حسینؓ سے۔

لہٰذا غدیرِ خم ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں حضرت علیؓ کی فضیلت، محبت اور احترام کا بیان ہے، لیکن اسے خلافتِ بلا فصل یا مستقل عید کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا محلِ نظر ہے۔

28/05/2026
28/05/2026
28/05/2026

Address

Rail Bazar
Gaggoo
6100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Kutub khana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share