18/10/2025
کڑوا سچ💔
اس بار پاکستان جاکر وہیں کوئی کاروبار کرونگا دو وقت کی روٹی ہی تو کھانی ہے، 1 سال شادی کو ہوا ، ماں باپ بیوی کے پاس رہوں گا بس یہ والا سال نکل جائے، یہ سوچتے سوچتے 2 سال گزر چکے تھے ، سلیم یہی سوچ کر ہر رات سوجاتا کہ یہ سال آخری سال ہے، چھٹی مل گئی پاکستان چلا گیا، وہی روایتی 4 دن کی مہمان نوازی اور تحائف تقسیم کرنے تک کا وقت گزرا اور اس بار تو گھر میں کچھ بڑے فیصلے ہوئے، سلیم کی بیوی اور ماں باپ کی آپس میں نہیں بن رہی نند بھابھی میں بھی ناراضگی مل بیٹھ کر بات کی فیصلہ ہوا کہ الگ ہو جائیں، کرائے کا مکان دیکھا ایڈوانس دیا شفٹ ہوگیا، نئے گھر میں بیوی تو آزاد ہوگئی مگر سلیم ایک بار پھر سے پردیس کا قیدی ٹھہرا پیسے ختم ہو گئے واپس آگیا، اب جہاں ایک گھر کا خرچ بھیجتا تھا وہاں بیوی کو الگ گھر کا خرچ اور ماں باپ چھوٹی بہن کی پڑھائی اسکے جہیز کا خرچ مگر ہر رات سونے سے پہلے وہی خواب کہ بس بہن کی شادی تک مسئلہ ہے پھر پردیس چھوڑ دینا ہے ، بہن کی شادی ہو گئی سلیم کو اللہ نے بیٹا دیا ، بیٹے کے بہتر مستقبل کی سوچ نے ایک بار پھر سے سلیم کو پردیسی بنا دیا فکر ستانے لگی کہ ابا کا گھر اگر بیچ بھی دیا جائے تو اس میں سے میرا حصہ اتنا نہیں ہوگا کہ اپنا گھر بنا سکوں، لہذا کسی طرح سے ایک پلاٹ لے لوں پھر پردیس چھوڑ دونگا 2 سال لگائے قسطوں پر پلاٹ لے لیا اگلے 2 سال میں وہ پلاٹ سلیم کی جائداد بن گیا مگر سلیم کو یہاں تک پہنچتے پردیس میں 12 سال گزر چکے تھے ، اللہ نے ایک بیٹی بھی دیدی جب بیٹی کو گود میں لیا تو خاموش زبان سے نم آنکھوں سے دل میں وعدہ کیا ، اے میری پیاری گڑیا تیری خوشیوں کیلیئے تیرے باپ کا ہر خواب قربان میں تیرے لئے ہر سکھ کماؤں گا، اس بار سلیم نے پردیس کو ہنس کر قبول کیا، اگلے 5 سال محنت کی اس پلاٹ پر چھوٹا سا گھر بنایا ، بیٹا بیٹی سکول جاتے ہیں، بیٹا اب اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ موٹر سائیکل مانگی سلیم نے لے دی وہ سلیم جس کی سوچ تھی کہ بس بہن کا جہیز بنا لوں پھر پردیس چھوڑ دینا آج اپنی بیٹی کے جہیز کیلیئے جاپانی استری خرید رہا تھا ، یہ کوئی اور ہی سلیم ہے اسکے بال سفید ہو چکے ہیں سرہانے کے نیچے دوائیاں ہیں، اب سلیم نے پردیس چھوڑنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے ، بلکہ جب کبھی خواب بھی آئے تو ڈر جاتا ہے اور کروٹ لیکر پھر سو جاتا ہے یہ سوچ کر کہ جب تک زندگی ہے میں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے پردیس میں ہی رہنا ہے