Islamic Information

Islamic Information Islamic Information

اسلام علیکم!
آپ سب دوستوں کے تعاون کا بہت شکریہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ آپ کے ذوق کو آباد رکھے اور آپ کے دین کے ساتھ لگاؤ کو اور زیادہ مضبوط بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.
اگر کوئی بھائ میرے ساتھ مل کر اس پیج کو اور اگے بڑھانے میں مدد کرے تو مجھ بہت خوشی ہو گی شکریہ.

02/03/2026

اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟ copied

21/02/2026

بسم اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ
صبح بخیر. 🙂

رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کی رفتار کو آہستہ کریں اور دل کو نرم بنائیں۔
سب سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ مہربان ہوں، اپنی نیتوں کو صاف اور ارادوں کو خالص کریں۔
ایسا سنیں کہ سامنے والے کو سکون ملے، اور ایسا بولیں کہ لفظ مرہم بن جائیں۔
جلدی اور غصے کے بجائے صبر اور شفقت کو اختیار کریں، کیونکہ ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔
مہربانی ہی وہ عبادت ہے جو دلوں کو زندہ رکھتی ہے اور روح کو روشنی دیتی ہے۔
اللہ کرے یہ رمضان ہمارے دلوں کو شفا، آنکھوں کو حیا، اور روح کو سکون عطا کرے۔ آمین یارب العالمین۔

19/02/2026

🌙*رمضان پورا ہی رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے — عشرے نہیں*

رمضان المبارک الله تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے جو ہدایت، تقویٰ، مغفرت اور نجات کا جامع ذریعہ ہے۔ یہ مہینہ محض رسمی عبادات کا نہیں بلکہ دل و عمل کی اصلاح کا مہینہ ہے۔

📖 *قرآنِ مجید کی روشنی میں رمضان*
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
ترجمہ:
📕 اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
(سورۃ البقرہ: 183)

📍- اس آیت سے واضح ہوا کہ رمضان اور روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ ہے، یعنی الله کی نافرمانی سے بچنا اور اس کی اطاعت اختیار کرنا۔

﴿أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَيُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾
ترجمہ:
📘 *یہ چند دن ہیں۔* پس جو تم میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ (روزے) دوسرے دنوں میں رکھیں۔ الله تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، اور تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا۔
(سورۃ البقرہ: 184)

📍- اس آیت میں الله تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ رمضان بہت مختصر اور جلد گزر جانے والا موقع ہے اس کا ہر دن اور ہر رات قیمتی ہے- رمضان کے روزے محدود ہیں، یعنی پورا مہینہ 29 یا 30 دن ہے۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ روزہ ایک محدود عبادت ہے، اور اس کے ہر دن کی قدر کرنی چاہیے۔
قرآن یہ نہیں کہتا کہ صرف پہلا عشرہ، دوسرا عشرہ وغیرہ مخصوص ہے، بلکہ پورا مہینہ اہم ہے۔

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾
ترجمہ:
📗 رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت و حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے۔
(سورۃ البقرہ: 185)

📍 اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کا اصل تعلق قرآن کی تلاوت، سمجھ اور اس پر عمل کے ساتھ ہے۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
ترجمہ:
📙 اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیجیے) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
(سورۃ البقرہ: 186)

📍 یہ آیت بتاتی ہے کہ رمضان دعا، توبہ اور الله تعالیٰ کی طرف رجوع کا خاص مہینہ ہے۔

📚 *احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں رمضان*
📘 جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
( بخاری 38 ، مسلم 760 )

📕 جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
( صحیح بخاری 37 )

🌸 *رمضان اور رحمتِ الٰہی* 🌸
📘 جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں
( بخاری 1899 ، مسلم 1079 )

📍یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ رمضان پورا کا پورا رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، نہ کہ صرف چند دن۔

⚠️ *ایک عام غلط فہمی*
اکثر یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ رمضان کا
1- پہلا عشرہ رحمت
2- دوسرا عشرہ مغفرت
3- تیسرا عشرہ جہنم سے نجات

📍لیکن حقیقت یہ ہے کہ
قرآن و صحیح احادیث میں عشروں کی یہ تقسیم بطور مخصوص دعاؤں کے ثابت نہیں
پورا رمضان ہی رحمت، مغفرت اور نجات کا مجموعہ ہے

*خلاصۂ کلام*
رمضان المبارک
ایامِ معدودات ہے —
یعنی گنتی کے چند دن قرآن سے جڑنے کا مہینہ ہے- گناہوں سے توبہ اور عملی تبدیلی کا موقع ہے-

*جو شخص رمضان پا کر بھی نہ بدلا، وہ واقعی بڑے نقصان میں ہے۔*
👆 تھوڑا نہیں پورا سوچیں👆

الله تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر پہچاننے، اس کے ہر لمحے کو غنیمت جاننے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲

*وما علینا الا البلاغ المبین*
اور ہمارے ذمے تو صرف الله تعالیٰ کا واضح پیغام پہنچا دینا ہی ہے بس

طالب دعا!

غلام محی الدین

تمام مسلمانوں کو رمضان کی ڈھیروں مبارکباداللہ کرے یہ مہینہ ہمارے دلوں کو نور سے بھر دے۔ آمین
18/02/2026

تمام مسلمانوں کو رمضان کی ڈھیروں مبارکباد

اللہ کرے یہ مہینہ ہمارے دلوں کو نور سے بھر دے۔ آمین

18/02/2026

ترکیہ کے شہر میں سکول کے بچوں نے اپنی عقیدت کا ایک خوبصورت انداز میں اظہار کیا ماشاءاللہ

18/02/2026

اے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی روزہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی حاضری نصیب فرما آمین

30/11/2024

ذرا سوچیں کہ معاذ بن جبلؓ کو کیسا لگا ہو گا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا " معاذ اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ "

اور عبداللہ بن عباسؓ کو کیسی خوشی ہوئی ہوگی جب رسول اللہﷺ نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ” اے اللہﷻ اسے قرآن سکھا دیجیے“۔

علی ابن ابی طالبؓ کیا سوچتے ہوں گے جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کل ضرور جھنڈا ایک ایسے شخص کے حوالے کروں گا جو اللہﷻ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہﷻ اور اس کا رسول بھی اسے محبت کرتے ہیں اور پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو یہ خود ہیں ۔ ؟

یا سعد بن ابی وقاصؓ کے شل ہاتھوں میں تو بجلی دوڑ گئی ہو گی جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا ہوگا کہ
" اے سعد تیر چلا ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان "

اور عثمان بن عفانؓ کے کیا جذبات ہوں گے جب انہوں نے تبوک کی جنگ کےلیے جانے والی فوج کو مکمل سامان فراہم کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "عثمان نے آج جو کچھ کیا اس کے بعد کچھ بھی اسے نقصان نہ پہنچائے گا ۔"

یا ابو موسیٰ اشعرؓی نے پھر قرآن کی تلاوت کیسے کی جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کاش تم مجھے اس وقت دیکھ لیتے جب میں کل تمہاری تلاوت سن رہا تھا “

اور سائب بن یزیؓد کیا سوچتے ہوں گے کہ جن کے سر کے بالوں کو رسول اللہﷺ نے چھوا تو صرف وہ ہی سیاہ رہ گئے ، جب ان کے باقی بال بڑھاپے میں سفید ہو گئے ؟

اور انصاؓر کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہوگا جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا ۔

اور انصارؓ کیسا فخر کرتے ہوں گے جب اللہ کے نبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے اور نفاق کی علامت ان سے دشمنی ہے ۔

اور صدیقؓ کے جذبات کیا تھے جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو ابوبکر کو بنا لیتا ۔

اماں عائشؓہ کا دل تو دھڑکنا بھول ہی گیا ہو گا جب رسول اللہﷺ نے اُن کے نام کے ساتھ جواب دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟

اور بلال بن رباحؓ کے آنسو کیا تھم گئے ہوں گے جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے بلال مجھے وہ عمل تو بتاؤ جس سے تم سب سے زیادہ امید رکھتے ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔

اور عمر بن خطابؓ کو کیسا محسوس ہوا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس داخل ہونے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ نے دربان سے فرمایا کہ اسے داخل ہونے دو اور جنت کی بشارت دو ۔

اور اب ذرہ تصور کریں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کو دیکھیں گے اور محمد عربیﷺ ہم سے کہیں گے : " تم میرے وہ بھائی ہو جن سے ملنے کے لیے میں رویا ، تم میرے وہ بھائی ہو جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے ۔ "
اس وقت ہم کیا محسوس کریں گے؟
یا اللہ ہمیں بھی ان میں شامل فرماآمین یااللہ۔

24/10/2024
*Increase Swalawat Upon Prophet ﷺ**إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آم...
16/09/2024

*Increase Swalawat Upon Prophet ﷺ*
*إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.*

10/08/2024

*ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات*


*1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

*2 غصے کو قابو میں رکھو*
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

*3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،*
سورۃ القصص، آیت نمبر 77

*4 تکبر نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 23

*5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 22

*6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

*7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

*8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11

*9 والدین کی خدمت کیا کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

*‏10 والدین سے اف تک نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

*11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 58

*12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282

*13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36

*14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280

*15 سود نہ کھاؤ،*
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

*16 رشوت نہ لو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

*17 وعدہ نہ توڑو،*
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

*‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

*20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،*
سورۃ ص، آیت نمبر 26

*21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

*23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

*24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

*‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

*26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

*27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

*28 بدگمانی سے بچو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*29 غیبت نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*30 جاسوسی نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*31 خیرات کیا کرو،*
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

*32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو*
سورة المدثر، آیت نمبر 44

*33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،*
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

*34 فضول خرچی نہ کیا کرو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

*‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،*
سورة البقرۃ، آیت 262

*36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،*
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

*37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

*38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،*
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

*39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 114

*40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،*
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

*43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 256

*44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

*45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

*46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

*47 جنسی بدکاری سے بچو،*
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

*48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

*49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 286

*50 منافقت سے بچو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

*‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

*52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

*53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

*54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

*55 بخیل نہ بنو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

*56 حسد نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

*57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

*58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

*62 صحیح راستے پر رہو،*
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

*63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

*64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،*
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

*65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

*‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*67 جوا نہ کھیلو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*68 ہیرا پھیری نہ کرو،*
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

*69 چغلی نہ کھاؤ،*
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

*70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

*73 طہارت قائم رکھو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

*74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

*‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

*76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

*77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،*
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

*78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

*79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

*‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 27

*82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،*
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

*83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

*84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔*
سورة توبہ، آیت نمبر 105

*85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،*
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

*‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،*
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

*‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،*
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

*88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

*89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،*
سورۃ النور، آیت نمبر 31

*90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

*91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

*92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،*
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

*93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،*
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

*‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

*95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔*
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

*96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،*
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

*97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،*
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

*98 خود کو لالچ سے بچاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

*99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

*100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،*
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

*اسے لازمی پڑھیں اور دیکھیں کہاں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ایک ڈائری بنا لیں تو ذیادہ اچھا ہے۔*
*جزاک اللہ خیرا*

17/07/2024

سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی الله
تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی
کی ۔ حسن حسين زينب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے
کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش
تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات
سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو
سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے
لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان
میں بیاہی جا سکے ۔ رشتہ قبول ہوتا ہے تو فاطمہ بنت حزم ) سیده ام البنين
سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی
ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے
کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس
گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں
کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔ اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا بلکہ
ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے
مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن حسین علی کی صرف اطاعت
کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں
کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔
چار بیٹوں میں عباس ابن علی، عبدالله ابن على، جعفر ابن علی اور عثمان ابن
علی تھے ۔ سیدنا عباس علیہ السلام لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت
میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔ جنگ صفین میں
سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس
کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے آبا کی
آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں
) حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ( مطلب کہ یہ سوال بھی
نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔
واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے
تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا
حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔ آپ پانی لینے
جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں
وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین
عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سيدنا عباس مولا حسین سے درخواست
کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ
سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے اس لئیے صرف آپ کو
تیر نکالنے کا کہا ۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت
تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔ آپ کے
چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام
شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین
کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور
ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔
، واقعہ کربلا کے بعد جب قاصد خبر لے کر مدینہ منورہ پہنچا
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہید ہوا
جعفر شہید ہوا عثمان شہید ہوا عبداللہ بھی شہید ہو گیا فرمانے لگی سب
چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے
لگی کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے
شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے
بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔
یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے
بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی
کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔
خدا ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت
فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا .

Address

Faqir Wali

Telephone

+923117573521

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Islamic Information:

Shortcuts

Share

Category