Baat se shaoor tak

Baat se shaoor tak

Share

بات سے شعور تک
زندگی، سوچ اور اصلاح پر مبنی بامعنی باتیں
روزانہ ایک نئی سوچ
ںشعور کی طرف ایک قدم

13/02/2026

انسان کی چاہت اور اللہ کی چاہت کیا ہے؟

یہ سوال بہت گہرا ہے۔ صوفیاء نے اس پر بہت خوبصورت باتیں کی ہیں، خاص طور پر واصف علی واصف جیسے اہلِ دل لوگوں نے۔

🌿 انسان کی چاہت کیا ہے؟

انسان کی چاہت عموماً خواہشات پر مبنی ہوتی ہے۔

وہ وہی چاہتا ہے جو اسے اچھا لگے، جو اسے فوری خوشی دے۔

اس کی نظر محدود ہوتی ہے، وہ صرف آج اور اپنے فائدے کو دیکھتا ہے۔

اکثر انسان ظاہری چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے: مال، شہرت، رتبہ، محبت۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان بہت جلد باز ہے — وہ ہر چیز فوراً چاہتا ہے۔

---

🌿 اللہ کی چاہت کیا ہے؟

اللہ کی چاہت میں حکمت ہوتی ہے۔

وہ بندے کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو۔

کبھی جو چیز ہمیں پسند ہو، وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اور جو چیز ہمیں ناگوار لگے، وہی ہمارے لیے خیر کا سبب بن جاتی ہے۔

📖 یہی بات قرآنِ کریم میں سورۃ البقرہ میں بھی بیان ہوئی ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔

---

🌙 فرق کیا ہے؟

انسان کی چاہت اللہ کی چاہت

جذباتی حکمت پر مبنی
محدود نظر مکمل علم
وقتی فائدہ دائمی بھلائی
نفس کی آواز رحمت کی آواز

---

🌟 اصل سکون کہاں ہے؟

جب انسان اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے تابع کر دیتا ہے تو دل کو سکون ملتا ہے۔
اسی کو رضا بالقضا کہتے ہیں — یعنی جو اللہ کرے، اس پر راضی رہنا۔

واصف صاحب نے خوب کہا تھا:

> "جو اللہ کی مرضی میں راضی ہو گیا، وہی کامیاب ہو گیا۔"

13/02/2026

“اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
— محمد ﷺ

🌙 ماہِ رمضان کا پیغام

ماہِ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اصل خوبصورتی چہرے کی نہیں، دل کی صفائی کی ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ نیت کی درستگی، نفس کی اصلاح اور اعمال کی بہتری کا نام ہے۔

رمضان میں جب ہم سحری اور افطار کے درمیان صبر کرتے ہیں، جب تنہائی میں بھی گناہ سے بچتے ہیں، جب کسی محتاج کی مدد کرتے ہیں — تب ہمارا دل سنورتا ہے اور اعمال نکھرتے ہیں۔

یاد رکھیں، اس بابرکت مہینے میں اللہ ہمارے لباس یا دولت کو نہیں دیکھتا، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ:

ہمارا دل کتنا نرم ہوا؟

ہماری نیت کتنی خالص ہوئی؟

ہمارے اعمال میں کتنی بہتری آئی؟

🌿 آئیے اس رمضان اپنے دل کو پاک کریں، نیت کو خالص کریں اور اعمال کو بہتر بنائیں — کیونکہ اصل کامیابی اللہ کی رضا ہے۔

11/02/2026

اندر کا چراغ
رات گہری ہو چکی تھی۔ شہر کی روشنیاں چمک رہی تھیں، مگر احمد کے دل میں اندھیرا تھا۔ زندگی کی دوڑ نے اسے تھکا دیا تھا۔ روزگار کی فکر، لوگوں کی باتیں، اپنوں کی امیدیں — سب اس کے سینے پر بوجھ بن چکی تھیں۔
وہ اکثر سوچتا تھا:
“یا اللہ، میری زندگی میں اتنی تکلیفیں کیوں ہیں؟”
ایک رات وہ چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ ستارے خاموش تھے، مگر ان کی چمک میں عجیب سا سکون تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے جواب کہیں باہر نہیں، اس کے اپنے اندر چھپا ہوا ہے۔
اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا:
“اگر اندھیرا نہ ہوتا تو کیا ستارے نظر آتے؟”
یہ خیال اس کے دل کو چھو گیا۔
اس نے سمجھ لیا کہ تکلیف دراصل سزا نہیں ہوتی، بلکہ صفائی ہوتی ہے۔ جیسے سونا آگ میں تپ کر مزید خالص اور چمکدار ہو جاتا ہے، ویسے ہی انسان آزمائشوں میں تپ کر مضبوط ہوتا ہے۔
احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی سوچ بدلے گا۔ اس نے شکوہ چھوڑ کر شکر اختیار کر لیا۔ ہر صبح اٹھ کر وہ تین نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا۔ آہستہ آہستہ اس کے اندر ایک نیا احساس پیدا ہونے لگا — اطمینان کا۔
اس نے جان لیا کہ روحانیت کا مطلب دنیا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کے درمیان رہ کر اپنے رب سے جڑ جانا ہے۔
تکلیف اب بھی موجود تھی، مگر اس کا نظریہ بدل چکا تھا۔ پہلے وہ مشکل کو دیوار سمجھتا تھا، اب وہ اسے دروازہ سمجھنے لگا — ایک نئی سیکھ کا دروازہ۔
ایک دن اس کے دوست نے پوچھا:
“تم اتنے پرسکون کیسے ہو گئے ہو؟”
احمد مسکرایا اور بولا:
“میں نے اپنے مسائل ختم نہیں کیے، میں نے ان کا مطلب سمجھ لیا ہے۔”
روحانی سکون تب آتا ہے جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ہر حال میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہر غم کے بعد آسانی ہے۔ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
ہم اکثر چاہتے ہیں کہ زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلے، مگر اصل سکون تب ملتا ہے جب ہم خود کو اللہ کی رضا کے حوالے کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیے —
طوفان کشتی کو ڈبو بھی سکتا ہے اور اسے کنارے تک بھی پہنچا سکتا ہے۔ فیصلہ ہوا کا نہیں، پتوار پکڑنے والے کا ہوتا ہے۔
اگر آج آپ کسی تکلیف سے گزر رہے ہیں تو شاید آپ کے اندر کا چراغ جلنے والا ہے۔ اندھیرا صرف روشنی کی اہمیت بتانے آتا ہے۔
اپنے دل کو مایوسی کا گھر نہ بننے دیں، اسے یقین کا مسکن بنا دیں۔
کیونکہ روح کی اصل غذا اُمید ہے۔ اور اُمید کبھی نہیں مرتی — جب تک انسان زندہ ہے۔

10/02/2026

السلام علیکم!
میں یہاں مثبت سوچ، روحانیت، حوصلہ افزا باتیں اور زندگی سے جڑے سبق شیئر کرتا ہوں۔
میرا مقصد دلوں کو جوڑنا اور سوچ کو بہتر بنانا ہے۔
اگر آپ سادہ اور بامقصد باتیں پسند کرتے ہیں تو میرا پیج فالو کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Punjab
Faisalabad