Govt High School MI Gulberg B Faisalabad

Govt High School MI Gulberg B Faisalabad

Share

ایک جذبہ ایک جنون ایک تعمیر ایک میراٹ بدلتے وقت کے ساتھ جدت اور تعلیم کا حسین امتزاج، شخصیت کا عروج

18/06/2026

District Education Authority, Faisalabad
18 جُون بین الاقوامی دن نفرت انگیز تقریر کے خلاف
نفرت نہیں
اخوت اور رواداری کو فروغ دیں۔
Maryam Nawaz Sharif
Govt of Punjab
Rana Sikandar Hayat
School Education Department, Government of the Punjab
Commissioner Faisalabad

Abdul Karim
Punjab Education Curriculum Training and Assessment Authority
Mian Muhammad Ashfaq

Photos from Govt High School MI Gulberg B Faisalabad's post 18/06/2026

بچوں کی حوصلہ افزائ حسب استطاعت تحائف دے کر کریں

18/06/2026

تعلیم کا مقصد صرف کتابی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ کردار سازی اور شخصیت کی نشوونما بھی ہے۔ جب ایک استاد یا سرپرست بچوں سے دوستی کا رشتہ قائم کرتا ہے، تو اس کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں:
​اعتماد کا قیام: جب بچہ استاد سے دوستی محسوس کرتا ہے، تو وہ بلا جھجک اپنے خیالات اور خدشات کا اظہار کر سکتا ہے۔
​تجسس میں اضافہ: خوف سے پاک ماحول میں بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت اور سوال کرنے کی ہمت بڑھتی ہے، جو تعلیم کا بنیادی جزو ہے۔
​جذباتی تعلق: دوستی کا رشتہ بچوں کی جذباتی ضروریات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے وہ اپنی مشکلات استاد کے سامنے آسانی سے رکھ سکتے ہیں۔
​بلاشبہ، جب محبت اور دوستی کو تعلیم کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے، تو سیکھنا نہ صرف آسان اور دلچسپ ہو جاتا ہے بلکہ یہ علم ایک دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔

13/06/2026

*مصروف والدین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق کیسے بنا سکتے ہیں؟*

آج کے دور میں بہت سے والدین ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے دن کا بڑا حصہ گھر سے باہر گزارتے ہیں۔ اکثر والدین یہ فکر کرتے ہیں کہ مصروف شیڈول کے باوجود وہ اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلق (Bonding) کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے مضبوط تعلق کے لیے صرف زیادہ وقت نہیں بلکہ معیاری وقت (Quality Time) زیادہ اہم ہوتا ہے۔

▪️1. *روزانہ چند منٹ صرف بچے کے لیے مخصوص کریں*

چاہے آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، روزانہ کم از کم 10 سے 15 منٹ صرف اپنے بچے کے لیے رکھیں۔ اس دوران موبائل فون، ٹی وی اور دیگر مصروفیات سے دور رہیں اور پوری توجہ بچے پر دیں۔

▪️2. *بچے کی بات غور سے سنیں*

بچے اکثر اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی باتوں کو اہمیت دینا اور دلچسپی سے سننا ان کے اعتماد اور تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

▪️3. *روزمرہ کاموں میں بچے کو شامل کریں*

کھانا تیار کرنا، میز لگانا، پودوں کو پانی دینا یا گھر کے چھوٹے کام بچے کے ساتھ مل کر کریں۔ اس سے بچے کو والدین کے قریب ہونے کا احساس ملتا ہے۔

▪️4. *سونے سے پہلے کا وقت خاص بنائیں*

سونے سے پہلے کہانی سنانا، دعا پڑھنا یا دن بھر کے واقعات پر بات کرنا بچے کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

▪️5. *محبت کا اظہار کریں*

بچے صرف چیزوں سے نہیں *بلکہ محبت بھرے الفاظ، گلے لگانے، مسکراہٹ اور توجہ سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ انہیں* بار بار بتائیں کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔

▪️6. *چھٹی کے دن خاندانی سرگرمیاں رکھیں*

ہفتے میں ایک دن بچوں کے ساتھ کھیلنے، پارک جانے، کتاب پڑھنے یا کسی مشترکہ سرگرمی کے لیے مخصوص کریں۔

▪️7. *موبائل سے زیادہ بچے کو ترجیح دیں*

گھر آنے کے بعد کچھ وقت ایسا ضرور ہو جب بچے محسوس کریں کہ وہ موبائل فون سے زیادہ اہم ہیں۔

*نتیجہ*

مصروف والدین بھی اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط اور خوشگوار تعلق قائم کر سکتے ہیں، *بشرطیکہ وہ اپنے محدود وقت کو محبت، توجہ اور دلچسپی کے ساتھ استعمال کریں۔ بچوں کو والدین* *کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ اور محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی چھوٹے* *چھوٹے لمحات زندگی بھر کے مضبوط رشتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔*

11/06/2026

پرائیویٹ سکول کا اصل کھیل
300 بچے داخل
25 ذہین — الگ سیکشن، بہترین استاد، فیس معاف
250 باقی — صرف فیس مشین
رزلٹ آیا تو:
25 کی تصاویر بورڈ پر
250 کا نتیجہ پردے میں
اور والدین سوچتے ہیں
میرا بچہ نالائق ہے
سرکاری سکول میں 70 بچے
ایک استاد
وسائل نہیں
پھر بھی پوزیشن
مگر بورڈ نہیں لگا سکتے

پرائیویٹ ادارے مہنگی دکانیں
یہ دھوکہ ہے — تعلیم نہیں

09/06/2026

ہیڈ ٹیچر کا اصل کردار — صرف دفتر میں بیٹھنا نہیں!
تحریر: نعیمہ امین

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہیڈ ٹیچر کا کام صرف فائلوں پر دستخط کرنا، اساتذہ کی نگرانی کرنا اور میٹنگز میں شرکت کرنا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ایک ہیڈ ٹیچر دراصل پورے اسکول کا محرک ہوتا ہے۔ جب کوئی اسکول کامیابی کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے پیچھے ایک محنتی اور باصلاحیت ہیڈ ٹیچر کی مسلسل کوششیں شامل ہوتی ہیں جو روزانہ مشکلات کا سامنا کرتا ہے، اہم فیصلے کرتا ہے، اساتذہ کی رہنمائی کرتا ہے اور بچوں کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بناتا ہے۔

ہیڈ ٹیچر کی اہم ذمہ داریاں

1۔ قیادت اور سمت کا تعین

ہیڈ ٹیچر اسکول کے لیے واضح وژن اور اہداف مقرر کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اساتذہ، طلبہ، عملہ اور والدین ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں۔

2۔ تدریس اور تعلم کی نگرانی

معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہیڈ ٹیچر کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں شامل ہیں:

- اسباق کی نگرانی
- لیسن پلان اور نوٹس کا جائزہ
- کلاس روم آبزرویشن
- نصاب کے مؤثر نفاذ کی جانچ
- اساتذہ کی پیشہ ورانہ رہنمائی

3۔ اساتذہ اور عملے کا انتظام

ہیڈ ٹیچر تمام عملے کی سرگرمیوں کو منظم کرتا ہے:

- ذمہ داریوں کی تقسیم
- حاضری اور وقت کی پابندی کی نگرانی
- میٹنگز کا انعقاد
- باہمی تنازعات کا حل
- ٹیم ورک کو فروغ دینا

4۔ طلبہ کی تعلیمی ترقی پر نظر

ایک مؤثر ہیڈ ٹیچر طلبہ کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیتا ہے اور بہتری کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔

5۔ نظم و ضبط کا قیام

اسکول میں نظم و ضبط، احترام اور ذمہ داری کے کلچر کو فروغ دینا ہیڈ ٹیچر کی اہم ذمہ داری ہے۔

6۔ والدین کے ساتھ مضبوط تعلقات

والدین تعلیم کے اہم شراکت دار ہیں۔ ہیڈ ٹیچر والدین سے مؤثر رابطہ رکھتا ہے، ان کے مسائل سنتا ہے اور انہیں اسکول کی سرگرمیوں میں شامل کرتا ہے۔

7۔ محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی

طلبہ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے، جس میں:

- اسکول سیکیورٹی
- مناسب کلاس روم ماحول
- صحت و صفائی اور حفاظتی امور پر توجہ

8۔ اسکول کے وسائل کا مؤثر استعمال

ہیڈ ٹیچر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عمارت، تدریسی سامان اور دیگر وسائل درست انداز میں استعمال اور محفوظ کیے جائیں۔

9۔ اسکول پروگرامز اور تقریبات کا انتظام

اسمبلی، کھیلوں کے مقابلے، اوپن ڈے، سالانہ تقریب اور گریجویشن جیسے پروگراموں کی منصوبہ بندی اور نگرانی بھی ہیڈ ٹیچر کی ذمہ داری ہے۔

10۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی

بہترین ہیڈ ٹیچر صرف نگرانی نہیں کرتا بلکہ اساتذہ کی تربیت، کوچنگ اور حوصلہ افزائی کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔

11۔ اسکول کی نمائندگی

ہیڈ ٹیچر حکومتی اداروں، تعلیمی تنظیموں، کمیونٹی رہنماؤں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اسکول کی نمائندگی کرتا ہے۔

12۔ روزمرہ مسائل کا حل

ہر دن نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں۔ ایک کامیاب ہیڈ ٹیچر طلبہ، اساتذہ، والدین، مالی معاملات اور انتظامی امور سے متعلق مسائل کو دانشمندی سے حل کرتا ہے۔

اختتامیہ

ایک ہیڈ ٹیچر کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنے احکامات جاری کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی مؤثر قیادت کرتا ہے، دوسروں کو کتنا متاثر کرتا ہے اور اپنی پوری اسکول کمیونٹی کی کتنی بہترین معاونت کرتا ہے۔

آپ کی نظر میں ہیڈ ٹیچر کے لیے سب سے مشکل ذمہ داری کون سی ہے؟

—کاپیڈ

08/06/2026

محتاط ہوجائیں

08/06/2026

عملی اور تخلیقی تربیت کے چند اہم پہلو:
​عملی دنیا کا مشاہدہ: ہسپتال، تھانے، عدالت یا تجارتی مراکز کا دورہ بچوں کو یہ سکھاتا ہے کہ معاشرہ عملی طور پر کیسے کام کرتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو کوئی کتاب نہیں سکھا سکتی۔
​بزنس اور معاشیات کی سمجھ: چھوٹی دکانوں سے لے کر بڑے کاروباری ماڈلز کو دیکھ کر بچوں میں چیزوں کی قدر، پیسے کے درست استعمال اور کاروباری سوچ (Entrepreneurship) کی بنیاد پڑتی ہے۔
​ادبی اور اخلاقی نشوونما: کتابیں پڑھنے کی عادت، کہانیاں لکھنا، اور آرٹ کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنا بچوں کو ایک حساس اور مخلص انسان بناتا ہے، نہ کہ صرف ایک سائنٹیفک مشین۔

03/06/2026

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ہمارے بچے اب روزانہ اسکول جانے کی ذمہ داریوں سے آزاد ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سے گھروں میں یہ چھٹیاں بچوں کے لیے سیکھنے اور ترقی کا موقع بننے کے بجائے موبائل فون، ویڈیو گیمز، یوٹیوب اور سوشل میڈیا میں ضائع ہو جاتی ہیں۔

آج کا بچہ گھنٹوں اسکرین کے سامنے گزار سکتا ہے، لیکن اگر والدین دانشمندی سے منصوبہ بندی کریں تو یہی وقت بچوں کی شخصیت سازی، لیڈرشپ اسکلز، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔

والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو صرف “مصروف” رکھنا کافی نہیں بلکہ انہیں ایسی سرگرمیوں میں شامل کرنا ضروری ہے جو ان کے ذہن، کردار اور ان میں موجود لامحدود صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔

میں معزز والدین کو 10 ایسی بہترین تجاویز پیش کرتا ہوں جن کی مدد سے والدین اپنے بچوں کو گھر کے اندر صحت مند اور تعمیری انداز میں مصروف رکھ سکتے ہیں۔

1۔ گھر میں “فیملی لیڈرشپ پروجیکٹ” شروع کریں

بچوں کو گھر کے کسی چھوٹے منصوبے کا لیڈر بنائیں۔

مثلاً:

* فیملی لائبریری ترتیب دینا
* گھر کی صفائی مہم
* فیملی ایونٹ پلان کرنا
کوئی بھی ایسی ذمہ داری جس میں بچے کو اپنی عقل اور فہم کا استعمال کرنا پڑے

جب بچے کسی سرگرمی کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں تو ان میں لیڈرشپ، فیصلہ سازی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

2۔ روزانہ مطالعے کی عادت پیدا کریں

بچوں کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ کتاب پڑھنے کا وقت مقرر کریں۔

کتابیں:

* اخلاقی کہانیاں
* سائنسی معلومات
* کامیاب لوگوں کی زندگیوں پر مبنی کتابیں

مطالعہ بچوں کی سوچ، زبان اور تخیل کو وسعت دیتا ہے۔کوشش کریں کہ گھر میں ایک چھوٹی لائبریری یا بک کارنر بنایا جائے

3۔ پبلک سپیکنگ کی مشق کروائیں

ہر روز بچے کو کسی ایک موضوع پر 3 سے 5 منٹ گفتگو کرنے کا موقع دیں۔

مثلاً:

* میرا پسندیدہ کھلاڑی
* پاکستان کی خوبصورتی
* میری زندگی کا مقصد
پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات
سیر و سیاحت

یہ سرگرمی اعتماد، اظہارِ خیال اور لیڈرشپ اسکلز پیدا کرتی ہے۔

4۔ گھریلو ذمہ داریاں سونپیں

بچوں کو عمر کے مطابق ذمہ داریاں دیں۔

مثلاً:

* اپنا بستر درست کرنا
* کتابیں ترتیب دینا
* میز لگانا
* پودوں کو پانی دینا
واش روم صاف کرنا
ناشتہ بنانا
بائیک یا گاڑی صاف کرنا

ذمہ داری قبول کرنا ہی قیادت کی پہلی سیڑھی ہے۔

5۔ تخلیقی و تعمیری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں

بچوں کو یہ مواقع دیں:

* ڈرائنگ
* پینٹنگ
* کہانی نویسی
* دستکاری
* ماڈل سازی
سکیچنگ
آرٹ
کچن گارڈننگ
تیراکی
نشانہ بازی
گھڑ سواری
سیلف ڈیفینس
فرسٹ ایڈ
سائنس پروجیکٹس

تخلیقی و تعمیری سرگرمیاں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخیل کو فروغ دیتی ہیں۔

6۔ مالی تعلیم (Financial Literacy) سکھائیں

بچوں کو جیب خرچ کا بجٹ بنانا سکھائیں۔

انہیں سمجھائیں:

* بچت کیا ہے؟
* ضرورت اور خواہش میں فرق کیا ہے؟
* پیسے کی اہمیت کیا ہے؟

یہ عادت مستقبل میں انہیں ذمہ دار اور کامیاب فرد بننے میں مدد دیتی ہے۔

7۔ فیملی ڈسکشن سیشن منعقد کریں

روزانہ یا ہفتہ وار خاندان کے تمام افراد مل کر کسی موضوع پر گفتگو کریں۔

مثلاً:

* کامیابی کیا ہے؟
* اچھا دوست کون ہوتا ہے؟
* سچائی کی اہمیت
لیڈرشپ
پرسنل گرومنگ
فیشن اور خوبصورتی
تعلقات
مذہب اور سائنس
مقصد حیات وغیرہ

اس سے بچوں کی تنقیدی سوچ اور کمیونیکیشن اسکلز مضبوط ہوتی ہیں۔

8۔ نئی مہارت سیکھنے کا ہدف دیں

ہر بچہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کم از کم ایک نئی مہارت سیکھے۔

مثلاً:

* کمپیوٹر اسکلز
* خطاطی
* زبان سیکھنا
* فوٹوگرافی
* کوکنگ

نئی مہارتیں بچوں کا اعتماد بڑھاتی ہیں اور ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔

9۔ روزانہ جسمانی سرگرمی لازمی بنائیں

اگر شدید گرمی کی وجہ سے باہر جانا ممکن نہ ہو تو گھر کے اندر بھی سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں۔

مثلاً:

* انڈور ایکسرسائز
* یوگا
* اسٹریچنگ
* رسہ کودنا
صبح سویرے یا شام کو کم از کم دو گھنٹے جسمانی کھیل مثلاء کرکٹ ،فٹ بال ،ٹینس

جسمانی صحت ذہنی صحت کی بنیاد ہے۔

10۔ “اسکرین فری آور” متعارف کروائیں

گھر میں روزانہ کم از کم دو سے تین گھنٹے ایسے مقرر کریں جب پورا خاندان موبائل فون اور دیگر اسکرینز سے دور رہے۔

اس دوران:

* گفتگو کریں
* کتاب پڑھیں
* بورڈ گیمز کھیلیں
* مشترکہ سرگرمیاں انجام دیں

یہ وقت بچوں اور والدین کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

میرا معزز والدین کے لیے اہم پیغام

بچے خود بخود لیڈر نہیں بنتے، بلکہ ان کی قیادت، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور کردار گھر کے ماحول میں تشکیل پاتے ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں والدین کے لیے ایک قیمتی موقع ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو صرف مصروف نہ رکھیں بلکہ ان کی شخصیت کو نکھاریں، ان کی صلاحیتوں کو دریافت کریں اور انہیں مستقبل کے کامیاب انسان بننے کے لیے تیار کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Gulberg B
Faisalabad
33110228

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 00:30