13/02/2026
عنوان: معمارِ قوم یا معاشی قیدی؟ — جب سفید پوشی کا بھرم مہنگائی کی نذر ہو جائے
جس استاد کے ذہن میں شام کے راشن اور بجلی کے بلوں کا خوف رقص کر رہا ہو، وہ کلاس روم میں کھڑے ہو کر نسلوں کے مستقبل کا نقشہ کیسے تیار کر سکتا ہے؟
کیا ہم ایک 'معاشی طور پر کچلے ہوئے' شخص سے 'متحرک' قوم کی توقع رکھ سکتے ہیں؟"
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ معاشی استحصال صرف پرائیویٹ اسکولوں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی کا طوفان ہر حد پار کر چکا ہے، وہاں سرکاری اسکول کا استاد اپنی "سفید پوشی" کا بھرم رکھنے کی ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں وہ روز ہارتا ہے۔
نفسیات کہتی ہے کہ جب انسان کی بنیادی ضرورتیں (Basic Needs) غیر محفوظ ہوں، تو اس کی تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔ ایک استاد جو اسکول سے فارغ ہو کر اپنی موٹر سائیکل پر 'رائڈ شیئرنگ' ایپ چلانے یا پارٹ ٹائم ٹیوشن ڈھونڈنے پر مجبور ہو، وہ کلاس روم میں پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ کیسے پڑھا سکتا ہے؟ ہم اسے "انبیاء کا پیشہ" کہہ کر اس کے صبر کا امتحان تو لیتے ہیں، مگر اسے وہ معاشی وقار دینے سے کتراتے ہیں جو اس کا حق ہے۔
گزشتہ تین دنوں سے لاہور کی سڑکیں ایک لرزہ خیز منظر کی گواہ ہیں۔ وہ معتبر اساتذہ، جنہیں کلاس روم کی زینت ہونا چاہیے تھا، آج اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ پنشن میں کٹوتی، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ ہونا اور لیو انکیشمنٹ جیسے مطالبات دراصل کسی رعایت کی بھیک نہیں، بلکہ اس 'سفید پوش' طبقے کی بقا کی آخری پکار ہے۔
مہنگائی کے اس بے رحم طوفان میں، جہاں پٹرول اور بجلی کے بل استاد کی آدھی سے زیادہ تنخواہ نگل جاتے ہیں، وہاں ریاست کا ان کے مطالبات سے منہ موڑ لینا اور انہیں سڑکوں پر رولنا "تعلیمی خودکشی" کے مترادف ہے۔ جب ایک استاد کو یہ خوف کھائے جا رہا ہو کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی پنشن اتنی بھی نہیں ہوگی کہ وہ باعزت طریقے سے زندہ رہ سکے، تو وہ پوری یکسوئی سے تختہ سیاہ پر کیا خاک لکھے گا؟
سرکاری اسکول کا استاد صرف بچوں کو نہیں پڑھاتا، وہ ریاست کے ہر حکم کی تعمیل کرتا ہے—خواہ وہ مردم شماری ہو یا انتخابی ڈیوٹی۔PSER Survey ہو یا Polio Duty مگر جب باری اس کے معاشی تحفظ کی آتی ہے، تو حکومتیں اندھی اور بہری ہو جاتی ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر بیٹھے ان اساتذہ کی تذلیل دراصل اس ملک کے مستقبل کی تذلیل ہے۔
ریاست کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے بھی کسی استاد کے ہی شاگرد ہیں۔ اگر معمارِ قوم ہی معاشی طور پر مفلوج ہو گیا، تو اس کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی عمارت (قوم) کبھی سیدھی کھڑی نہیں ہو سکے گی۔
میرا معاشرے اور اربابِ اختیار سے سوال: لاہور میں بیٹھے اساتذہ کا احتجاج صرف ان کی اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ اس پیشے کی حرمت بچانے کے لیے ہے۔ اگر ہم نے استاد کو مہنگائی کے اس بے رحم طوفان میں تنہا چھوڑ دیا، تو کل کو کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اس پیشے کا رخ نہیں کرے گا۔ کیا ہم ایک ایسی بنجر نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں، مگر ان کو سینچنے والا کوئی مطمئن استاد نہ ہو؟
"اے قوم کے معمارو! آپ لاہور کی سڑکوں پر اکیلے نہیں ہیں۔ آپ کی تھکن، آپ کا یہ احتجاج اور آپ کی آنکھوں میں چھپی اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر, آپ کا سڑک پر بیٹھنا دراصل اس معاشرے کے ہر اس فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہے جس نے کبھی آپ سے 'الف' لکھنا سیکھا تھا۔ آپ کا وقار ہی دراصل اس ملک کا وقار ہے۔"
#حقِ_معلم