28/12/2025
آج کچھ ایسا بولنے کا جی چاہ رہا ہے جو کبھی چاہ کر بھی نہیں بولے بات کچھ یوں ہے کہ دو تین روز سے فیسبک پہ کئی طرح کی پوسٹس دیکھنے کو ملی ہیں جس میں مختلف طریقوں سے جناب محترم سابقہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری علی گوہر بلوچ صاحب کا بہت لمبے چوڑے انداز میں شکریہ ادا کیا گیا ہے اور کام صرف اتنا ہے کہ موصوف نے ایک گاؤں کا ٹرانسفارمر نیا لگوایا ہے یا شاید تبدیل کروایا ہے اور اصل میں تکلیف صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بنیادی ضرورت کے لئے بھی ان سیاست دانوں کے احسانوں تلے دبے ہیں ریاست ہمیں ہماری بنیادی ضروریات بھی میرٹ پر نہیں دے سکتی
اس میں کچھ قصور ہمارے اپنے ہیں اور کچھ ہمارے ملک کا سسٹم ہی اس طرح کا ہے کہ بنیادی انفراسٹرکچر بھی سفارش ، رشوت ، بد عنوانی ، پسند نا پسند ، سیاسی وابستگی اور دعا سلام کے بغیر بھی آپ کا نہیں ہو سکتا اور اگر یہ کچھ ہے تو انفراسٹرکچر بھی آپکا اور گرانٹیں بھی آپ بھی کی اور ایک بات واضح کر دوں یہ سارا کچھ دیہاتوں تک محدود ہے شہروں میں کم از کم یہ معاملات ایک عام آدمی حل کروا سکتا ہے۔