18/09/2026
اے ڈی ایچ ڈی، آٹزم اور لرننگ سے متعلق ماہر نفسیات کے نقطہ نظر سے چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔
بچوں میں ADHD، آٹزم اور سیکھنے کی مشکلات کو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، حالانکہ ہر بچے کی ضروریات اور developmental profile مختلف ہوتی ہے۔
ADHD
میں توجہ برقرار رکھنے، بے ساختہ ردِعمل کو قابو کرنے اور سرگرمی کی سطح کو منظم کرنے میں مشکلات نمایاں ہو سکتی ہیں۔
آٹزم میں سماجی رابطے اور ابلاغ کے انداز کے ساتھ دہرائے جانے والے رویوں، مخصوص دلچسپیوں یا حسی حساسیت میں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
جبکہ سیکھنے کی مخصوص مشکلات میں پڑھنے، لکھنے یا ریاضی جیسی تعلیمی مہارتوں میں دشواری ہو سکتی ہے۔
ماہرِ نفسیات کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ صرف ایک علامت کی بنیاد پر بچے کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کی نشوونما، رویے، گفتگو، سماجی روابط، تعلیمی کارکردگی اور گھر و اسکول میں functioning کو مجموعی طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں، زیادہ متحرک ہونا لازماً ADHD نہیں، بولنے میں تاخیر لازماً آٹزم نہیں، اور پڑھائی میں مشکل ذہانت کی کمی نہیں۔
بچے کو لیبل دینے سے پہلے سمجھیں، فیصلہ کرنے سے پہلے مناسب assessment کروائیں، اور تنقید کے بجائے مناسب support فراہم کریں۔
ہر بچہ منفرد ہے۔ درست تشخیص کا مقصد بچے کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو سمجھ کر اسے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ فراہم کرنا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
0300.7609681/0346.7757166
#بچوںکیذہنیصحت #ماہرنفسیات #والدینکیرہنمائی #مثبتوالدین #بچےکیصلاحیت #رائزنگلائف #فیصلآباد