Awarness by Rising Life Pakistan

Awarness by Rising Life Pakistan At Rising Life Autism Center, we believe every child is full of potential waiting to shine.
(1)

SERVICES
Applied Behavior Analysis (ABA) Therapy,
Speech and Language Therapy,
Occupational Therapy,
Social Skills Training
Diagnostic and Development Assessments

اے ڈی ایچ ڈی، آٹزم اور لرننگ سے متعلق ماہر نفسیات کے نقطہ نظر سے چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔بچوں میں ADHD، آٹزم اور سیکھن...
18/09/2026

اے ڈی ایچ ڈی، آٹزم اور لرننگ سے متعلق ماہر نفسیات کے نقطہ نظر سے چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔
بچوں میں ADHD، آٹزم اور سیکھنے کی مشکلات کو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، حالانکہ ہر بچے کی ضروریات اور developmental profile مختلف ہوتی ہے۔
ADHD
میں توجہ برقرار رکھنے، بے ساختہ ردِعمل کو قابو کرنے اور سرگرمی کی سطح کو منظم کرنے میں مشکلات نمایاں ہو سکتی ہیں۔
آٹزم میں سماجی رابطے اور ابلاغ کے انداز کے ساتھ دہرائے جانے والے رویوں، مخصوص دلچسپیوں یا حسی حساسیت میں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
جبکہ سیکھنے کی مخصوص مشکلات میں پڑھنے، لکھنے یا ریاضی جیسی تعلیمی مہارتوں میں دشواری ہو سکتی ہے۔

ماہرِ نفسیات کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ صرف ایک علامت کی بنیاد پر بچے کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کی نشوونما، رویے، گفتگو، سماجی روابط، تعلیمی کارکردگی اور گھر و اسکول میں functioning کو مجموعی طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں، زیادہ متحرک ہونا لازماً ADHD نہیں، بولنے میں تاخیر لازماً آٹزم نہیں، اور پڑھائی میں مشکل ذہانت کی کمی نہیں۔
بچے کو لیبل دینے سے پہلے سمجھیں، فیصلہ کرنے سے پہلے مناسب assessment کروائیں، اور تنقید کے بجائے مناسب support فراہم کریں۔
ہر بچہ منفرد ہے۔ درست تشخیص کا مقصد بچے کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو سمجھ کر اسے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ فراہم کرنا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
0300.7609681/0346.7757166

#بچوںکیذہنیصحت #ماہرنفسیات #والدینکیرہنمائی #مثبتوالدین #بچےکیصلاحیت #رائزنگلائف #فیصلآباد

بچے ہماری باتیں نہیں… ہماری عادتیں اپناتے ہیںوالدین کی یہ خواہش بہت قدرتی ہے کہ ان کا بچہ تمیز دار، صابر، سچا اور ذمہ دا...
18/09/2026

بچے ہماری باتیں نہیں… ہماری عادتیں اپناتے ہیں
والدین کی یہ خواہش بہت قدرتی ہے کہ ان کا بچہ تمیز دار، صابر، سچا اور ذمہ دار بنے۔ لیکن اکثر اوقات ہم بچوں کو نصائح، ڈانٹ اور ہدایات کے ذریعے بدلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے کان اتنے تیز نہیں ہوتے جتنی ان کی آنکھیں حساس ہوتی ہیں۔ وہ جو سنتے ہیں، اس سے زیادہ وہ دیکھتے ہیں اور جو دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں۔
عملی نمونہ (Lead by Example): اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ سچ بولے، تو ہمیں اس کے سامنے جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ موبائل کا استعمال کم کرے، تو پہلے ہمیں اپنے ہاتھوں سے اسکرین کو دور کرنا ہوگا۔
جذبات پر قابو: اگر ہم معمولی بات پر غصہ ہو کر چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں، تو بچہ بھی یہی سیکھے گا کہ مسائل کا حل غصے اور شائستگی کے بغیر بات کرنے میں ہے۔
گھر کا ماحول: بچہ ایک ایسا پودا ہے جو وہی رنگ اور خوشبو اختیار کرتا ہے جو اس کی مٹی (یعنی گھر کے ماحول) میں موجود ہوتی ہے۔
بدلاؤ بچے سے نہیں، خود سے شروع کریں
تربیتِ اولاد اصل میں خود کی تربیت کا نام ہے۔ جب والدین اپنے رویے، بات چیت کے انداز اور عادتوں کو بہتر بناتے ہیں، تو بچوں کے رویے بغیر کسی ڈانٹ کے خود بخود مثبت سمت میں ڈھلنے لگتے ہیں۔
اگر آپ اپنے بچے میں کوئی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، تو پہلے وہ تبدیلی اپنے عمل میں پیدا کیجیے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر
کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز فیصل آباد
پاکستان
0300.7609681/0346.7757166


بچپن کے منفی تجربات (Adverse Childhood Experiences - ACEs) اور شخصیت سازیبچپن انسان کی شخصیت کی بنیاد ہوتا ہے۔ ابتدائی س...
18/09/2026

بچپن کے منفی تجربات (Adverse Childhood Experiences - ACEs) اور شخصیت سازی
بچپن انسان کی شخصیت کی بنیاد ہوتا ہے۔ ابتدائی سالوں میں ملنے والا جذباتی، جسمانی اور سماجی ماحول یہ طے کرتا ہے کہ ایک فرد بڑا ہو کر دنیا، تعلقات اور مشکلات کو کس نظر سے دیکھے گا۔ جب بچپن میں کسی بچے کو مسلسل منفی تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو یہ اس کی شخصیت کی تعمیر پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔
بچپن کے منفی تجربات کیا ہیں؟
ان تجربات میں درج ذیل حالات شامل ہیں:
جذباتی یا جسمانی تشدد: بات بات پر سخت ڈانٹ، طعنہ زنی، یا جسمانی سزا۔
نظرا ندازی (Neglect): بچے کی بنیادی جذباتی یا جسمانی ضروریات (محبت، تحفظ، خوراک) کو پورا نہ کرنا۔
گھریلو ناچاقی: والدین کے درمیان مسلسل لڑائی جھگڑے، طلاق، یا گھر میں پرتشدد ماحول۔
احساسِ غیر تحفظ: والدین کی طرف سے عدم توجہ یا خوف کا ماحول۔
شخصیت پر پڑنے والے اثرات
دفاعی اور حساس رویہ (Defensive & Sensitive Behavior)
منفی ماحول میں پلنے والے بچے اکثر ہر بات کو اپنے اوپر حملہ سمجھتے ہیں۔ وہ بڑے ہو کر یا تو بہت جلد غصے میں آ جاتے ہیں یا مسلسل خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔
اعتماد کی کمی اور سیلف ڈاؤٹ (Low Self-Esteem)
جس بچے کو بچپن میں مسلسل تنقید یا نظر اندازی کا سامنا رہا ہو، وہ بڑا ہو کر بھی خود کو ناکافی اور دوسروں سے کم تر محسوس کرتا ہے۔
تعلقات میں خوف اور الجھن (Attachment Issues)
ایسے افراد کو دوسروں پر بھروسہ کرنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ وہ یا تو تعلقات سے دور بھاگتے ہیں (Avoidant) یا پھر کھو دینے کے خوف سے حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں (Anxious Attachment)۔
جذبات پر قابو نہ رکھ پانا (Emotional Dysregulation)
بچپن کا خوف اور تناؤ ان کے ذہن کے حساسی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے معمولی پریشانی پر بھی وہ شدید ذہنی دباؤ یا بے چینی (Anxiety) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اصلاح اور بہتری کا راستہ
بچپن کے منفی تجربات کی وجہ سے شخصیت پر پڑنے والے اثرات حتمی نہیں ہوتے۔ آگاہی اور مثبت اقدامات کے ذریعے انہیں بدلا جا سکتا ہے:

خود آگاہی (Self-Awareness): یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے موجودہ ردعمل کا تعلق ماضی کے زخموں سے ہے۔
جذباتی تبادلہ اور گفتگو: اپنے اندرونی خوف اور جذبات کو کسی معالج یا معتبر دوست کے سامنے ظاہر کرنا۔
مثبت خود کلامی (Positive Self-Talk): خود کو ملامت کرنے کے بجائے ہمدردی اور نرمی سے دیکھنا۔
پیشہ ورانہ رہنمائی: سائیکو تھراپی یا کونسلنگ کے ذریعے ماضی کے ٹراما (Trauma) سے باہر نکلنا۔
بچپن کے منفی تجربات شخصیت پر اثر انداز ضرور ہوتے ہیں، لیکن انسان کا اپنا ارادہ اور صحیح رہنمائی اسے ایک متوازن اور مضبوط شخصیت میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز فیصل آباد پاکستان
0300.7609681/0346.7757166
#سائیکالوجی

ہر بچہ اپنی ذات میں منفرد ہے۔ کچھ بچے زیادہ متحرک ہوتے ہیں، کچھ کو توجہ برقرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے، جبکہ کچھ بچے بغ...
17/09/2026

ہر بچہ اپنی ذات میں منفرد ہے۔ کچھ بچے زیادہ متحرک ہوتے ہیں، کچھ کو توجہ برقرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے، جبکہ کچھ بچے بغیر سوچے فوراً ردِعمل دیتے ہیں۔ ADHD کو صرف شرارت، ضد یا لاپرواہی سمجھنے کے بجائے بچے کی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔
ADHD ایک نیورو ڈویلپمنٹل حالت ہے جس میں توجہ، impulse control اور activity level سے متعلق مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔ یہ مشکلات بچے کی پڑھائی، گھر کے معمولات، سماجی تعلقات اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
کن علامات پر توجہ دینی چاہیے؟
اگر بچہ بار بار:
توجہ برقرار رکھنے میں مشکل محسوس کرے
کام مکمل کرنے میں دشواری کا سامنا کرے
بہت زیادہ بے چین یا متحرک رہے
اپنی باری کا انتظار نہ کر پائے
بات کاٹنے یا فوراً جواب دینے کی عادت رکھے
چیزیں بار بار بھولے یا گم کرے
غصے یا frustration کو سنبھالنے میں مشکل محسوس کرے
تو ان علامات کو سمجھنے اور مناسب assessment کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
بچے کو ڈانٹنے سے پہلے اسے سمجھیں
بچے کو بار بار “شرارتی”، “سست” یا “لاپرواہ” کہنا اس کی مدد نہیں کرتا۔
اس کے بجائے واضح ہدایات دیں، بڑے کام کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کریں، روزانہ کا معمول بنائیں اور بچے کی اچھی کوشش کو فوراً سراہیں۔
مثلاً:
“شاباش! آپ نے آج اپنا کام وقت پر شروع کیا۔”
مثبت reinforcement بچے کو مطلوبہ رویہ سیکھنے اور اپنی کامیابی کو محسوس کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
والدین کا کردار بہت اہم ہے
محبت، صبر، مستقل مزاجی اور مناسب routine بچے کے لیے ایک معاون ماحول پیدا کرتے ہیں۔ کھیل، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور والدین کے ساتھ مثبت وقت بھی بچے کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں۔
یاد رکھیں، ADHD والے بچے کو صرف نظم و ضبط کی نہیں بلکہ سمجھ، تربیت، مناسب حکمتِ عملی اور مسلسل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچے کی توجہ، بے قراری یا impulsivity مسلسل رہیں اور اس کی تعلیم، تعلقات یا روزمرہ زندگی کو نمایاں طور پر متاثر کریں تو qualified professional سے جامع assessment اور رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہے۔
ایک خوبصورت پیغام
بچے کے رویے کو بدلنے سے پہلے، اس کے پیچھے موجود ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ہر بچے میں صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف اس کی کمزوریوں کو تلاش کرنا نہیں، بلکہ اس کی صلاحیتوں کو پہچاننا، درست سمت دینا اور اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
سمجھیں • قبول کریں • رہنمائی کریں • حوصلہ دیں
Better Understanding. Better Support. Brighter Future.
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
Rising Life Autism Center Faisalabad
Clinical & Counseling Services Pakistan
Alfarabi College of Allied Health Sciences, Near Bank Alfalah, Shadab Mor, Jhang Road, Faisalabad
📞 0300-7609681 | 0346-7757166

#بچوںکیذہنیصحت #والدینکیرہنمائی

بچوں کی ذہنی صحت — ہماری مشترکہ ذمہ داریبچے کی صحت صرف اس کے جسمانی طور پر صحت مند ہونے کا نام نہیں۔ ذہنی اور جذباتی صحت...
16/09/2026

بچوں کی ذہنی صحت — ہماری مشترکہ ذمہ داری
بچے کی صحت صرف اس کے جسمانی طور پر صحت مند ہونے کا نام نہیں۔ ذہنی اور جذباتی صحت بھی بچے کی مجموعی نشوونما کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ ایک صحت مند ذہن بچے کو سیکھنے، دوسروں سے تعلق بنانے، مشکلات کا سامنا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ❤️
کبھی بچہ اپنی پریشانی الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا۔ اس کے جذبات اس کے رویے، خاموشی، غصے، رونے، توجہ میں کمی یا لوگوں سے دور رہنے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے رویے کو صرف ضد یا بدتمیزی سمجھنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بچہ اندر سے کیا محسوس کر رہا ہے۔
👀 کن علامات پر توجہ دینی چاہیے؟
اگر بچے میں مسلسل:
اداسی، خوف یا بے چینی
نیند یا بھوک میں نمایاں تبدیلی
دوستوں اور گھر والوں سے دوری
توجہ یا پڑھائی میں مشکل
غیر معمولی غصہ یا چڑچڑاپن
خود اعتمادی میں کمی
بار بار جسمانی شکایات
رویے یا روزمرہ معمول میں واضح تبدیل
نظر آئے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
❤️ والدین کیا کر سکتے ہیں؟
بچے سے بات کریں اور اسے توجہ سے سنیں، بغیر فوراً تنقید یا فیصلہ کیے۔
اسے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دیں اور یہ احساس دلائیں کہ اس کے جذبات اہم ہیں اور ضرورت پڑنے پر مدد مانگنا بالکل درست ہے۔
گھر میں محبت، تحفظ اور ایک مناسب routine فراہم کریں۔ مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، کھیل، متوازن غذا اور خاندان کے ساتھ مثبت وقت بھی بچے کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں۔
سب سے بڑھ کر، بچے کو یہ احساس دیں کہ:
“آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم آپ کو سننے اور سمجھنے کے لیے موجود ہیں۔”
اگر جذباتی، رویوں یا روزمرہ کام کرنے میں مشکلات مسلسل رہیں یا بچے کی زندگی، تعلیم اور تعلقات کو متاثر کریں تو qualified Clinical Psychologist، Counsellor یا Child Mental Health Professional سے assessment اور رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہے۔

Healthy Mind → Healthy Development → Brighter Future
بچوں کی بات سنیں، ان کے جذبات کو اہمیت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ضرورت کے وقت بروقت مدد فراہم کریں۔
ہر بچے کو سنے جانے، سمجھے جانے اور محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔ 🌱
Rising Life Autism Center Faisalabad
Clinical & Counseling Services Pakistan
📍 Alfarabi College of Allied Health Sciences, Near Bank Alfalah, Shadab Mor, Jhang Road, Faisalabad
📞 0300-7609681 | 0346-7757166

مسلسل پریشانی (Chronic Anxiety) اور ذیلی نفسیاتی دباؤ ہماری جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب ...
15/09/2026

مسلسل پریشانی (Chronic Anxiety) اور ذیلی نفسیاتی دباؤ ہماری جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب انسان مسلسل ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے تو اس کا نروس سسٹم ہر وقت "Fight or Flight" (جنگ یا فرار) کی حالت میں رہتا ہے، جس سے جسم میں کورٹیسول اور ایڈری نالین جیسے سٹریس ہارمونز کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔
مسلسل پریشانی کے اہم علامات
جسمانی علامات: دل کی دھڑکن تیز ہونا، پٹھوں میں کھنچاؤ، سر درد، معدے کے مسائل (تیزابیت یا قبض) اور شدید تھکن۔
ذیلی و نفسیاتی علامات:نیند کی خرابی (بے خوابی)، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، منفی سوچ کا غلبہ، اور ہر وقت کسی ناگہانی واقعے کا خوف۔
رویے کی تبدیلیاں:چڑچڑا پن، کام کی صلاحیت میں کمی، اور لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کا رجحان۔
عملی و حمایتی تدابیر
گہرے سانس کی مشقیں (Deep Breathing): جب بھی پریشانی بڑھے، 4 سیکنڈ کے لیے سانس اندر لیں، 4 سیکنڈ روکیں اور 6 سیکنڈ میں باہر نکالیں۔ یہ عمل پیراسیمپتھیٹک نروس سسٹم کو فعال کر کے فوری سکون دیتا ہے۔
سوچ کی اصلاح (Cognitive Reframing): غیر منطقی یا منفی خیالات کو تحریر کریں اور خود سے سوال کریں کہ ان خیالات میں حقیقت کتنی ہے اور مبالغہ آرائی کتنی۔
جسمانی حرکت اور روٹین:روزانہ 20-30 منٹ کی ہلکی ورزش یا واک دماغ میں اینڈورفنز (خوشی کے ہارمونز) پیدا کرتی ہے۔
پیشہ ورانہ رہنمائی: اگر پریشانی روزمرہ کی زندگی، رشتوں یا پیشہ ورانہ کارکردگی کو شدید متاثر کر رہی ہو تو سائیکالوجسٹ یا تھراپسٹ سے سیشن لینا بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز
0300.7609681/0346.7757166

🧠 ADHDہائپر ایکٹو چائلڈ کو کیسے منیج کیا جائے؟ والے بچے کے رویے کو کیسے سنبھالیں؟ADHD والے بچے کو صرف شرارتی، ضدی یا لاپ...
15/09/2026

🧠 ADHD
ہائپر ایکٹو چائلڈ کو کیسے منیج کیا جائے؟
والے بچے کے رویے کو کیسے سنبھالیں؟
ADHD
والے بچے کو صرف شرارتی، ضدی یا لاپرواہ سمجھنا درست نہیں۔ ایسے بچوں کو توجہ برقرار رکھنے، اپنی باری کا انتظار کرنے، جذبات کو قابو کرنے، ہدایات پر عمل کرنے اور کام منظم کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اس لیے بچے کے رویے کو صرف روکنے یا سزا دینے کے بجائے اسے سمجھنا، مناسب ماحول فراہم کرنا اور مطلوبہ مہارتیں سکھانا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔
بچے کی ضروریات کو سمجھیں
سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ بچہ کن حالات میں زیادہ مشکل کا سامنا کرتا ہے۔ لمبا ہوم ورک، شور، انتظار، معمول میں تبدیلی، تھکن یا بھوک بعض بچوں کے لیے مشکل بڑھا سکتی ہے۔
مختصر اور واضح ہدایات دیں
ایک وقت میں ایک ہدایت دیں۔
“اپنا بیگ رکھو، کتاب نکالو، ہوم ورک کرو اور میز صاف کرو۔”
“اپنی ریاضی کی کتاب نکالو۔”
پہلا کام مکمل ہونے کے بعد اگلی ہدایت دیں۔
روزانہ کا معمول بنائیں
ایک واضح اور مستقل روزمرہ معمول بچے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
جاگنا → ناشتہ → اسکول → ہوم ورک → کھیل → کھانا → سونا
ضرورت کے مطابق تصویری شیڈول بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بڑے کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں
لمبا کام بچے کو مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ کام کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کریں۔
چھوٹا کام → مختصر وقفہ → اگلا کام
ہر مرحلے کی کامیابی پر بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔
اچھے رویے کی حوصلہ افزائی کریں
صرف غلط رویے پر توجہ نہ دیں۔ جب بچہ اچھا رویہ دکھائے تو فوراً تعریف کریں۔
“شاباش! آپ نے اپنی باری کا انتظار بہت اچھے طریقے سے کیا۔”
تعریف، اسٹیکر، ریوارڈ چارٹ یا پسندیدہ سرگرمی مناسب مثبت reinforcement بن سکتی ہے۔
مناسب جسمانی سرگرمی دیں
بچے کے معمول میں کھیل، واک، کھیلوں اور مختصر movement breaks کو شامل کریں۔ مناسب جسمانی سرگرمی بچے کو اپنی توانائی منظم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جذبات کو منظم کرنا سکھائیں
کچھ بچوں کو غصہ، مایوسی یا frustration کو سنبھالنے میں مشکل ہوتی ہے۔
بچے کو سکھائیں:
رکیں → سانس لیں → اپنے جذبات کو پہچانیں → مدد مانگیں → دوبارہ کوشش کریں۔
سزا کے بجائے متبادل رویہ سکھائیں
صرف یہ کہنا کہ “ایسا مت کرو” کافی نہیں۔
اگر بچہ بات کاٹتا ہے تو اسے سکھائیں:
“اپنی باری کا انتظار کرو۔”
اگر بچہ چیز مانگنے کے لیے چیختا ہے تو اسے مناسب الفاظ یا اشارے کے ذریعے اپنی ضرورت بیان کرنا سکھائیں۔
گھر اور اسکول میں مستقل مزاجی رکھیں
والدین اور اساتذہ اگر مل کر ایک جیسے بنیادی اصول، routines اور reinforcement strategies استعمال کریں تو بچے کے لیے توقعات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
بچے کو لیبل نہ کریں
“تم بہت شرارتی ہو۔”
“تم کبھی نہیں سنتے۔”
“تم بہت لاپرواہ ہو۔”
اس کے بجائے کہیں:
“آئیں، اسے ایک ایک قدم کرکے کرتے ہیں۔”
“میں آپ کی مدد کرتا ہوں۔”
“آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے۔”
یاد رکھیں: ADHD والے بچے کو صرف زیادہ ڈانٹ کی نہیں، بلکہ بہتر حکمتِ عملی، صبر اور مسلسل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچے کی توجہ، بے قراری، impulsivity یا جذباتی/رویوں کی مشکلات گھر، اسکول، دوستی یا روزمرہ زندگی کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہوں تو مناسب ماہر سے جامع assessment اور رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہے۔
ہمارا پیغام
سمجھیں → منظم کریں → سکھائیں → حوصلہ دیں → کامیابی کی طرف لے جائیں
> “بچے کے رویے کو بدلنے سے پہلے، اس کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔”
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
کلینیکل اینڈ کاؤنسلنگ سروسز پاکستان
📍 الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز، نزد بینک الفلاح، شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد
📞 0300-7609681 | 0346-7757166





















Address

Faisalabad
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923467757166

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awarness by Rising Life Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Awarness by Rising Life Pakistan:

Shortcuts

Share