Mufti Mustafa Aziz .Official

Mufti Mustafa Aziz .Official سیرت میرا فخر، خدمت میرا سفر
Seerah My Pride, Service My Journey
Learn more about Mufti
https://linktr.ee/muftimustafaaziz

ملائیشیا میں فروغِ سیرت کا ایک خوبصورت سنگِ میل 🇲🇾سیرتِ رسول ﷺ کو پڑھنے، پڑھانے کے مشن کے تحت ملائیشیا میں سیرتِ طیبہ کو...
15/09/2026

ملائیشیا میں فروغِ سیرت کا ایک خوبصورت سنگِ میل 🇲🇾

سیرتِ رسول ﷺ کو پڑھنے، پڑھانے کے مشن کے تحت ملائیشیا میں سیرتِ طیبہ کورس کی اختتامی تقریب کا انعقاد۔

تقریب میں سیرۃ کے CEO & Founder مفتی مصطفیٰ عزیز حفظہ اللہ بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائیں گے۔
معلم کورس: شیخ امیر حمزہ حفظہ اللہ

📍 مسجد نلائی 3،، ملائیشیا
📅 16 ستمبر 2026

#ملائیشیا

Seeraht Mission in Malaysia 🇲🇾A journey dedicated to learning and teaching the Seerah of Prophet Muhammad ﷺ beyond borde...
15/09/2026

Seeraht Mission in Malaysia 🇲🇾

A journey dedicated to learning and teaching the Seerah of Prophet Muhammad ﷺ beyond borders — inspiring people to know, understand, and pass on his blessed life and teachings to future generations.

Mufti Mustafa Aziz

14/09/2026
چھپی ہوئی مدد… آزمائش میں خیر خواہوں کی ہمدردیاگرچہ قریش نے سخت پابندی (restrictions) لگا رکھی تھی، لیکن کچھ رحم دل افر...
10/09/2026

چھپی ہوئی مدد… آزمائش میں خیر خواہوں کی ہمدردی
اگرچہ قریش نے سخت پابندی (restrictions) لگا رکھی تھی، لیکن کچھ رحم دل افراد (kind-hearted people) چھپ کر مدد کرتے رہے:
حکیم بن حزام، (حضرت خدیجہk کے بھتیجے) رات کے وقت چھپ کر (secretly) کھانے کی اشیاء پہنچاتے۔
مطعم بن عدی، کبھی کبھار غذائی سامان (food supplies) بھیجتے۔
ہشام بن عمرو اور دیگر چند افراد بھی خفیہ طور پر (in secrecy) مدد کرتے۔

محمدﷺ… امید کی کرنیہ آزمائش کسی عام انسان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، مگر محمدﷺ ہمیشہ صبر (patience) اور بھروسے (faith) ...
09/09/2026

محمدﷺ… امید کی کرن
یہ آزمائش کسی عام انسان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، مگر محمدﷺ ہمیشہ صبر (patience) اور بھروسے (faith) کا درس دیتے رہے۔جب صحابہ کرام jمایوس (hopeless) ہو جاتے، تو محمدﷺ فرماتے:’’اللہ تعالیٰ ہمارے لیے جلد راستہ نکال دے گا!‘‘()
حضرت خدیجہk، جو مکہ کی مالدار خاتون (wealthy woman) تھیں، نے اپنی تمام دولت مسلمانوں کی مدد کے لیے خرچ کر دی، مگر خود بھی اس سختی (hardship) میں کمزور ہو گئیں۔
حضرت ابو طالب، جو اس وقت اسی(80) سال کے بزرگ تھے، اپنے بھتیجے کی حفاظت کے لیے ہر طرح کی قربانی (sacrifice) دینے کو تیار تھے۔
رات کے وقت وہ محمدﷺ کا بستر بار بار تبدیل (frequently changed) کرواتے تاکہ دشمن نقصان نہ پہنچا سکے۔

شعبِ ابی طالب میں زندگی… سخت ترین آزمائشجب بائیکاٹ (boycott) شروع ہوا، تو بنو ہاشم اور بنو مطلب…مسلمان اور غیر مسلم…سب ...
08/09/2026

شعبِ ابی طالب میں زندگی… سخت ترین آزمائش
جب بائیکاٹ (boycott) شروع ہوا، تو بنو ہاشم اور بنو مطلب…مسلمان اور غیر مسلم…سب کے سب محمدﷺ کے ساتھ اس وادی (valley) میں قید ہو گئے۔
پانی کی شدید قلت (shortage) تھی کیونکہ قریش نے کنووں اور زمزم کے پانی پر پابندی (restriction) لگا دی تھی۔
کھانے پینے کی اشیاء کی رسد (supply) مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی۔
بچے بھوک سے بلکتے (crying out of hunger) تھے اور ان کی چیخ و پکار مکہ کی گلیوں تک سنائی دیتی تھی۔
لوگ درختوں کے خشک پتے (dry leaves) چبانے پر مجبور ہو گئے۔بعض اوقات لوگ چمڑے کے ٹکڑے (leather pieces) جلا کر کھاتے… تاکہ کچھ طاقت (energy) مل سکے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصh نے ایک بار ایک خشک چمڑے کا ٹکڑا (dry piece of leather) پانی میں ابال کر کئی دن گزارے۔(السہیلی، الروض الانف، ج2ص189)

قریش کا تحریری معاہدہ… مکمل بائیکاٹجب قریش نے محسوس کیا کہ محمدﷺ کی دعوت رکنے کا نام نہیں لے رہی، تو انھوں نے ایک تحریری...
07/09/2026

قریش کا تحریری معاہدہ… مکمل بائیکاٹ
جب قریش نے محسوس کیا کہ محمدﷺ کی دعوت رکنے کا نام نہیں لے رہی، تو انھوں نے ایک تحریری معاہدہ (written agreement) تیار کیا، جس پر قریش کے تمام سرداروں نے دستخط کیے۔
اس معاہدے میں درج ذیل شرائط (terms) طے کی گئیں:
بنو ہاشم اور بنو مطلب سے ہر قسم کا تجارتی لین دین (trade and business dealings) بند ہوگا۔ان سے کوئی بھی رشتہ داری (marriage alliance) قائم نہیں کی جائے گی۔جب تک وہ محمد ﷺ کو قریش کے حوالے نہ کر دیں، یہ مکمل بائیکاٹ (complete boycott) جاری رہے گا۔یہ معاہدہ ایک چمڑے کے صحیفے (leather parchment) پر لکھا گیا اور خانہ کعبہ کی دیوار پر لگا دیا گیا تاکہ کوئی اس کی خلاف ورزی نہ کر سکے۔یہ بائیکاٹ تقریباً تین سال (7 نبوی سے10 نبوی تک) جاری رہا۔(ابن سعد ، الطبقات الکبریٰ، ج1ص210)

شعبِ ابی طالب کی جگہ اور محلِ وقوعشعبِ ابی طالب مکۂ مکرمہ کے شمال مشرق میں ایک گھاٹی (narrow valley) تھی، جو جبلِ ابوقب...
06/09/2026

شعبِ ابی طالب کی جگہ اور محلِ وقوع
شعبِ ابی طالب مکۂ مکرمہ کے شمال مشرق میں ایک گھاٹی (narrow valley) تھی، جو جبلِ ابوقبیس اور جبلِ خدیما کے درمیان واقع تھی۔ یہ جگہ قریش کی بستی سے کافی حد تک الگ تھی، اور یہاں تک پہنچنے کے راستے پتھریلے (rocky and difficult paths) تھے۔(اطلس العالم ،ص16)
یہ پہلے بنو ہاشم کی رہائش گاہ تھی، لیکن معاشرتی بائیکاٹ (social boycott) کے بعد، یہ ایک قید خانے جیسی جگہ بن گئی، جہاں قریش نے سخت پہرہ بٹھا دیا تھا، تاکہ کسی کو بھی کھانے پینے کا سامان نہ پہنچایا جا سکے۔

دوسری کرن… حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اسلام مکہ میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی، جو اپنی سختی، اصول پسندی اور جرات کے لیے جانی ج...
05/09/2026

دوسری کرن… حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اسلام
مکہ میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی، جو اپنی سختی، اصول پسندی اور جرات کے لیے جانی جاتی تھی…
وہ عمر بن خطابh تھے!
قریش کے سب سے طاقتور جوانوں میں سے ایک، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں، تو دینِ حق کو طاقت ملے گی، اور اگر دشمنی پر رہے، تو مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش بن جائیں گے۔
یہ آزمائش شدت اختیار کر چکی تھی… مظالم بڑھ رہے تھے… مکہ کی گلیوں میں اذیتوں کی صدائیں بلند تھیں۔اسی دوران ایک دن حضرت عمرh غصے میں بھرے ہوئے نکلے۔
تلوار میان سے باہر تھی، اور رخ سیدھا محمدﷺ کی طرف تھا۔ وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ آج، معاذ اللہ، اس فتنے کو ختم کر دینا ہے!
راستے میں ایک صحابی نے جب حضرت عمرh کو اس جوش میں دیکھا، تو کہا:’’پہلے اپنے گھر کی خبر لو! تمھاری بہن فاطمہk اور بہنوئی سعیدh پہلے ہی اسلام قبول کر چکے ہیں!‘‘
پھر کیا تھا؟ غصہ اور بھڑک اٹھا! سیدھے بہن کے گھر پہنچے، اور اندر داخل ہوتے ہی دیکھا کہ وہ قرآن کی آیات پڑھ رہے ہیں۔’’یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ تم نے بھی دین بدل لیا؟‘‘پھر وہ لمحہ آیا جب غصہ قابو سے باہر ہو گیا، اور حضرت عمرh نے اپنی بہن کو مارا، خون بہہ نکلا!
مگر کیا دیکھا؟بہن کے چہرے پر خوف نہیں تھا، عزم تھا!حضرت عمرh کی تلوار لرز گئی، مگر بہن کی آواز مضبوط ہو گئی:
’’ہاں! ہم اسلام لے آئے ہیں! جو کرنا ہے کر لو، مگر حق کو نہیں چھوڑیں گے!‘‘
یہ الفاظ سن کر دل میں ہلچل مچ گئی۔
پھر وہ لمحہ آیا، جب دل میں حق کی روشنی اتری۔
’’مجھے وہ کلام دو، جو تم پڑھ رہے تھے!‘‘
جب سورہ طٰہٰ کی آیات پڑھیں، تو ایسا لگا جیسے دل کے سارے پردے ہٹ گئے ہوں، جیسے روشنی ہر اندھیرے کو نگل گئی ہو!آنکھوں میں آنسو آ گئے… ہونٹوں پر لرزش تھی… دل نرم ہو چکا تھا۔
اور پھر وہی عمر بن خطابh، جو محمدﷺکو قتل کرنے نکلے تھے،
اب سیدھے دارِ ارقم جا پہنچے۔دروازہ کھٹکھٹایا… اندر موجود صحابہ گھبرا گئے…مگر جب حضرت عمرh اندر داخل ہوئے، تو اعلان کر دیا:’’اے اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ اللہ کے رسول ہیں!‘‘
مکہ گونج اٹھا… اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہو گئیں!(صحیح بخاری، ،زرقانی،ج2،ص272)

پہلی کرن… حضرت حمزہh کا اسلامابو جہل اپنی خباثت کے ساتھ دارُ النَّدوہ سے نکلا، اور راستے میں حضور ﷺکو پایا۔ قریش اکڑ اور...
04/09/2026

پہلی کرن… حضرت حمزہh کا اسلام
ابو جہل اپنی خباثت کے ساتھ دارُ النَّدوہ سے نکلا، اور راستے میں حضور ﷺکو پایا۔ قریش اکڑ اور غرور کے ساتھ بے دردی سے گستاخانہ کلمات کہے اور ظلم پر اُتر آیا۔ بات صرف زخم تک نہیں رکی، بلکہ طعن و تشنیع کے نشتر بھی برسا دئیے۔یہ سب ایک باندی نے دیکھا، جو بےچین ہو گیا۔
حمزہhکہاں ہیں؟
وہ جن کی بہادری پر پورا مکہ ناز کرتا تھا، وہ کہاں ہیں؟شکار سے واپسی پر جب حضرت حمزہh کو خبر ملی کہ ابو جہل نے محمدﷺکی شان میں گستاخی کی ہے، تو ان کے اندر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ وہ عرب کے عظیم شکاری تھے، ایک جنگجو، ایک بہادر سپاہی!غصے کی شدت سے کمان ہاتھ میں تھی…
سیدھے حرم میں پہنچے… اور قریش کے مجمع کے بیچ میں کھڑے ابو جہل کے سر پر کمان دے ماری!
’’تم محمد (ﷺ) کو گالیاں دیتے ہو؟
جاؤ، میں بھی ان کے دین پر ہوں! جو کرنا ہے، کر لو!‘‘
یہ اعلان تھا،
ایک جرأت مند فیصلہ!
ابھی ایمان پوری طرح دل میں نہیں اترا تھا،
مگر محمدﷺکی بارگاہ میں آ کر جب دل کی کیفیت کا ذکر کیا،
تو اللہ کے نبی ﷺنے دعا کی، اور حضرت حمزہ hکے لیے ہدایت کی روشنی مکمل ہو گئی۔(مستدرک،ج3،ص193)
اب اسلام کے لیے ایک نئی ڈھال تیار ہو گئی تھی، ایک ایسا محافظ، جس سے دشمن بھی کانپتے تھے!

Address

Faisalabad
37000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Mustafa Aziz .Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category