Mufti Mustafa Aziz .Official

Mufti Mustafa Aziz .Official

Share

سیرت میرا فخر، خدمت میرا سفر
Seerah My Pride, Service My Journey
Learn more about Mufti
https://linktr.ee/muftimustafaaziz

12/06/2026

قریش کا رد عمل ۔۔۔۔۔ جب ظلم ایک ہتھیار بن گیا

آسان سیرت ﷺ

REEL #73

***iMustafaAziz

12/06/2026

آج کے نوجوان کے لیے اس میں بہت بڑا سبق ہے!
٭اگر 10 سال کی عمر میں محنت کی عادت پڑ جائے، تو زندگی بھر کامیابی مقدر بنتی ہے۔
٭اگر انسان شروع سے ہی مشقت برداشت کر لے، تو آگے جا کر بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
٭جو نوجوان محنتی ہوگا، وہی آگے جا کر کسی بڑی ذمہ داری کا اہل بنے گا۔محمدﷺنے بچپن میں ہی محنت کی عظمت کو اپنایا، اور یہی صفت آپ کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے۔

11/06/2026

پندرھویں سال میں جنگ فجار

آسان سیرت ﷺ

REEL #23

***iMustafaAziz

11/06/2026

محنت اور مشقت… بچپن سے ہی سخت حالات کا سامنا
یہ کام محمدﷺکے لیے صرف ایک ذریعہ معاش نہ تھا، بلکہ یہ مشقت (Struggle) اور محنت (Hard Work) کی ابتدا تھی۔
٭یہ وہ عمر تھی جب آج کے دور میں بچے کھیل کود میں مگن ہوتے ہیں، مگر اللہ کے نبی ﷺمحنت کر رہے تھے۔
٭یہ وہ مرحلہ تھا جب محمدﷺاپنی زندگی کے تجربات سے سیکھ رہے تھے، تاکہ آگے جا کر امت کی رہنمائی کر سکیں۔محنت کسی بھی کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عظیم شخصیات کی زندگیاں … محنت، مشقت، اور جدو جہد سے بھری ہوئی ہیں۔

10/06/2026

پہلے آپ ہوائی سفر کر چکے ہیں تو ۔۔۔
ہوائی جہاز میں سفر کرنے والوں نے ایک بات ضرور محسوس کی ہوگی کہ چاہے وہ کتنے ہی تجربہ کار مسافر کیوں نہ ہوں، ہر بار پرواز سے پہلے انہیں حفاظتی ہدایات سننی پڑتی ہیں۔ فضائی عملہ یہی ہدایات دہراتا ہے، اور مسافروں کو ان پر توجہ دینی ہوتی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، بلکہ ایک فطری اصول ہے کہ اہم امور کو بار بار یاد دہانی کی جاتی ہے تاکہ انسان انہیں نہ صرف یاد رکھے بلکہ ان پر عمل بھی کرے۔

بالکل اسی اصول کے تحت اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید کو نازل فرمایا اور اپنی قدرت، توحید، رسالت اور آخرت کے مضامین کو بار بار دہرایا۔ اگر ہم مکی سورتوں کا جائزہ لیں تو تقریباً ساڑھے 22 پارے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئے، جن میں بار بار توحید، رسالت اور آخرت کو دہرایا گیا۔ اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ انسان کی فطرت یاد دہانی اور تکرار سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر غور کریں تو آپ نے بھی ایک بات کو بار بار مختلف مواقع پر بیان فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی دین کو دہراتے تھے، اور یہی وجہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں بھی توحید اور عقیدہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو بارہا سن چکے ہیں، کچھ نیا بیان کریں، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہوائی جہاز میں بار بار حفاظتی ہدایات سننا ضروری ہے تو دین کے بنیادی اصولوں کو بار بار دہرانا کیوں ضروری نہ ہوگا؟

اسی لیے، اگرچہ آپ پہلے بھی قرآن پڑھ چکے ہوں، لیکن رمضان میں ایک بار پھر اسے پڑھیں۔ اگر آپ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کر چکے ہیں، تو اسے دوبارہ پڑھیں۔ ہر موقع پر، ہر نئے رمضان سے پہلے، ہر اہم موڑ پر، قرآن اور سیرت کو اپنی زندگی میں تازہ کرتے رہیں۔ فطرت کی آواز جتنی زیادہ دہرائی جاتی ہے، اتنی ہی گہری اترتی ہے، اور انسان کی روح پر اس کے اثرات زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے خود اس حقیقت کو قرآن میں بیان فرمایا:
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ
"اور نصیحت کرتے رہو، بے شک نصیحت ایمان والوں کو فائدہ دیتی ہے۔" (الذاریات: 55)
لہٰذا، دین کی تعلیمات کو بار بار دہرانا اور ان پر عمل پیرا ہونا، ایک فطری اور الٰہی طریقہ ہے، جو ایمان کو تازگی بخشتا اور زندگی کے ہر لمحے میں ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔

مصطفی عزیز
سیرہ فیصل آباد پاکستان
18 فروری 2025

10/06/2026

عمرِ مبارک: 10 سال … محنت، شفقت اور صحبت کی تاثیر
یہ وہی عمر تھی جب مکہ کی گلیوں میں ایک یتیم بچہ بکریاں چرا رہا تھا۔
وہی بچہ، جو مستقبل میں دنیا کی سب سے عظیم امت کا سربراہ بننے والا تھا، وہی جس کی باتیں زمین و آسمان کی حقیقتیں واضح کرنے والی تھیں، وہی جس کی شفقت ہر جاندار کے لیے باعثِ رحمت بننے والی تھی۔
لیکن! یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں، یہ کیسا منظر ہے؟ کیا یہ صرف ایک معصوم چرواہے کی کہانی ہے، یا اس میں کوئی گہری حکمت پوشیدہ ہے؟یہ وہ مرحلہ تھا :
جہاں محنت (Hard Work)،
شفقت (Compassion)،
عاجزی (Humility)،
اور قیادت (Leadership) کی عملی تربیت ہو رہی تھی۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمدﷺنے مکہ والوں کی بکریاں …
چند قیراط (Qirats… Currency Unit) کے عوض چرائیں،
اور ساتھ ہی ہمیں ایک ایسا اصول دے دیا جو قیامت تک رہنمائی کرے گا:
’’ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں!‘‘ (بخاری)
یہ صرف ایک روزگار نہ تھا، بلکہ عظیم شخصیات کو سنوارنے کا ایک نظام تھا۔

09/06/2026

تلوار دراز کو ہدایت ملی، زبان دراز ہدایت سے محروم رہا

تحریر: مفتی مصطفی عزیز

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں سے وہ لوگ جو آپ کے خلاف تلوار لے کر میدان میں آئے، ان میں سے بہت سوں کو بعد میں ہدایت نصیب ہوئی، جبکہ وہ لوگ جو زبان سے گستاخی اور طعن و تشنیع میں آگے تھے، اکثر ہدایت سے محروم ہی رہے۔ یہ حقیقت نہ صرف تاریخ کا سبق ہے بلکہ موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے بھی غور و فکر کا مقام ہے۔

تلوار اٹھانے والوں میں سے ہدایت پانے والے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگیں لڑنے والے کئی بڑے سردار، جب اللہ نے ان کے دلوں کو کھولا، تو وہی لوگ اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور سپاہی بن گئے۔
1. حضرت عمر بن خطابؓ – ایک وقت تھا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے تھے، مگر جب اللہ نے ہدایت دی تو آپ "فاروقِ اعظم" کہلائے۔
2. حضرت خالد بن ولیدؓ – جنگِ احد میں مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچایا، لیکن جب ایمان لائے تو "سیف اللہ" یعنی "اللہ کی تلوار" بن گئے۔
3. حضرت ابو سفیان بن حربؓ – قریش کے سپہ سالار، جو کئی جنگوں میں اسلام کے خلاف لڑے، مگر آخر کار فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئے۔
4. حضرت وحشی بن حربؓ – حضرت حمزہؓ کو شہید کرنے والے، مگر بعد میں اپنی غلطی پر نادم ہو کر اسلام لے آئے اور مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے سچے مومن بننے کا ثبوت دیا۔
5. حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ – ابتدا میں اپنے والد ابو جہل کی طرح شدید دشمن تھے، مگر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانثار بن گئے اور میدانِ جہاد میں شہادت پائی۔
6. حضرت صفوان بن امیہؓ – شروع میں دشمنی میں پیش پیش، مگر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ایمان لے آئے۔
7. حضرت سہیل بن عمروؓ – حدیبیہ میں قریش کے نمائندے، مگر بعد میں نہ صرف خود مسلمان ہوئے بلکہ اپنی فصاحت و بلاغت سے اسلام کی خدمت کی۔
زبان سے گستاخی کرنے والوں میں سے ہدایت نہ پانے والے:

اس کے برعکس وہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زبان درازی میں حد سے بڑھ گئے، وہ اکثر کفر پر ہی مرے اور اللہ کی لعنت کے مستحق قرار پائے۔

1. ابو لہب – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہونے کے باوجود سب سے زیادہ زبان درازی کرتا تھا، قرآن میں اس کی مذمت نازل ہوئی (سورۃ المسد) اور کفر پر ہی مرا۔
2. ابو جہل – اسلام کے سخت دشمنوں میں سے، ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کرتا رہا، بالآخر جنگِ بدر میں مارا گیا۔
3. ولید بن مغیرہ – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "جادوگر" اور "شاعر" کہہ کر تمسخر کرتا، اللہ نے اس پر لعنت نازل کی (سورۃ المدثر)۔
4. امیہ بن خلف – حضرت بلالؓ پر مظالم ڈھانے والا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا، بدر میں مارا گیا۔
5. عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) – زبان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلتا رہا، اللہ نے اس کے نفاق کو ظاہر کر دیا اور وہ ذلت کے ساتھ مرا۔
یہ واقعات ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں:
تلوار اٹھانے والے اگر ہدایت کے طلبگار ہوئے تو اللہ نے ان کے دل کھول دیے۔
لیکن جو لوگ اپنی زبان کی بے احتیاطی میں حد سے گزر گئے، وہ ہدایت سے محروم رہ گئے۔
یہ اصول آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں اپنی زبان کے استعمال میں بہت محتاط رہنا چاہیے، خاص طور پر جب بات دین، علماء اور بزرگانِ دین کی ہو۔ آج کے دور میں بھی کچھ لوگ علماء کرام اور دینی اقدار کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں، تمسخر اڑاتے ہیں اور شریعت کا مذاق بناتے ہیں۔ ایسے لوگ خود کو ہدایت سے محروم کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کا احترام کریں، اہلِ علم کی قدر کریں، اور اپنی زبان کو ایسے الفاظ سے آلودہ نہ کریں جو ہمیں ہلاکت کی طرف لے جائیں۔
اللہ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے، علمائے کرام کی عزت کرنے اور دینِ اسلام کے شعائر کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مصطفی عزیز
سیرہ فیصل آباد پاکستان
15 فروری 2025

09/06/2026

پچیسویں (25) سال میں نکاحِ مسعود
(Blessed Marriage with Khadijah RA)
یہ دورِ جوانی (Era of Youth) کا سب سے یادگار لمحہ تھا، جہاں دو پاکیزہ روحیں ایک بندھن میں جڑ گئیں۔حضرت خدیجہ نے محمدﷺکی دیانت، صداقت اور اخلاق سے متاثر ہوکر نکاح کا پیغام بھیجا۔آپ ﷺنے چچا ابو طالب سے مشورہ کیا، اور پھر یہ مبارک نکاح (Blessed Marriage) انجام پایا۔(روض الانف،ج1،ص122)
٭ ابو طالب نے نکاح کا خطبہ دیا، جس میں حسب و نسب، دیانت اور نیکی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
٭ مہر (Dower) 500 درہم مقرر ہوا، اُس وقت کے لحاظ سے ایک معزز اور مناسب رقم تھی۔
٭ شادی کے بعد حضرت خدیجہk نے اپنا سارا مال و دولت محمدﷺکے سپرد کر دیا اور آپ نے اسے اللہ کے دین کے لیے وقف کرنے کا عزم کیا۔
یہ نکاح، محبت، عزت اور قربانی کی لازوال داستان تھا، جس نے ازدواجی زندگی کی بہترین مثال قائم کی۔

08/06/2026

The First Journey of the Prophet ﷺ to Syria

Easy Seerah ﷺ

REEL #22

***iMustafaAziz

08/06/2026

سیدنا عثمان ابن عفان رضی الله عنہ کی زندگی کی تین خوبصورت چیزیں جو آج کی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں
تحریر : مفتی مصطفی عزیز
سیرہ فیصل آباد پاکستان

جمعہ کی خطبے کی تیاری کے لیے آج کی صبح جب مَیں نے خلیفہ سوم سیدنا عثمان ابن عفان رضی الله عنہ کی زندگی کا مطالعہ کیا تو دل نے کہا کہ یہ کوئی عام کردار نہیں… یہ تو ایک آسمان کی طرح بلند کردار ہے… ایک روشن ستارہ جو آج بھی ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔

اس مختصر مطالعے کے بعد جو چیزیں میرے دل کو چھو گئیں… جو آج کی نوجوان نسل کی اصلاح کی ضمانت بھی ہیں… وہ تین خوبصورت خصائص ہیں جو سیدنا عثمان کی زندگی کی صورت میں آج بھی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔

نمبر ایک – قرآن کیساتھ گہرا تعلق

سیدنا عثمان رضی الله عنہ کی زندگی کی سب سے خوبصورت چیز قرآن کیساتھ ان کی وابستگی تھی… انہوں نے قرآن کی حفاظت کی… آج جو ایک مدون قرآن کی صورت ہمارے ہاتھوں کی زینت ہے… یہ درحقیقت سیدنا عثمان کی محنت کی بدولت ہے… انہوں نے مختلف علاقوں کی تلاوت کی صورتیں ایک کیں… ایک نسخہ تیار کیا… اور آج چودہ صدیوں بعد بھی قرآن کی ایک آیت بھی آگے پیچھے نہیں ہوئی… یہی تو قرآن کی طاقت ہے… یہی تو حفاظت کی ضمانت ہے… آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ قرآن کیساتھ اپنا تعلق جوڑے… اسے پڑھے… سمجھے… اور عمل کی طاقت حاصل کرے… کیونکہ یہی کتاب دل کی تازگی کی ضمانت ہے… یہی انسانی کردار کی اصلاح کی کنجی ہے۔

نمبر دو – حیا کی خوبصورتی

سیدنا عثمان کی ایک اور صفت جو آج کی بے باکی کی دنیا کو درس دیتی ہے… وہ حیا کی خوبصورتی ہے… رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: “عثمان کی حیا کی قدر آسمان کے فرشتے بھی کرتے ہیں… تو کیا مَیں نہیں کروں؟”

نوجوانو! آج کی زندگی کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ حیا آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے… نظروں کی حفاظت کی جگہ آوارگی نے لے لی… گفتگو کی شائستگی کی جگہ بدزبانی نے آ لیا… لباس کی پاکیزگی کی جگہ فیشن کی اندھی تقلید آگئی… لیکن آؤ آج کی تاریخ کی روشنی میں عہد کریں… کہ ہم حیا کو اپنا زیور بنائیں گے… نظروں کی حفاظت کریں گے… گفتگو کو پاکیزہ رکھیں گے… لباس کو باوقار بنائیں گے… کیونکہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے کہا: “اگر تم نے حیا کھو دی تو جو چاہو کر لو”… یعنی جو شخص حیا کھو دیتا ہے… وہ برائی کی ہر حد کو چھو سکتا ہے…

نمبر تین – اپناحق چھوڑ دینا… طاقت کی نشانی

سیدنا عثمان نے ایک ایسا عمل کیا جو آج کی طاقت کی لڑائی کی سیاست کو حیران کر دیتا ہے… انہوں نے اپناحق چھوڑ دیا حالانکہ وہ خلیفہ تھے… امیر المؤمنین تھے… لیکن انہوں نے کہا: “نبی صلى الله عليه وسلم نے جو وعدہ لیا تھا… اسے نبھاؤں گا… چاہے جان چلی جائے…”

نوجوانو! آج کی دنیا کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ کوئی اپناحق چھوڑنے کو تیار نہیں… چھوٹی چھوٹی باتوں کی لڑائی نے دل چھلنی کر دیے… گھر اجڑ گئے… تعلقات بکھر گئے… لیکن کبھی کبھی اپناحق چھوڑ دینا طاقت کی نشانی بھی ہوتا ہے… یہ کوئی کمزوری نہیں… یہ کردار کی طاقت کی دلیل ہے… یہی عمل دل جوڑ سکتا ہے… امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے… اور ایک طاقتور کردار کی صورت دکھا سکتا ہے…

پس آج کی تاریخ… آج کی زندگی… آج کی نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے… سیدنا عثمان کی زندگی کی یہ تین چیزیں مشعلِ راہ کی طرح روشن ہیں:

➥ قرآن کیساتھ تعلق
➥ حیا کی خوبصورتی
➥ اپناحق چھوڑ دینے کی طاقت

اگر آج کی نوجوان نسل یہ تین چیزیں اپنا لے… تو ہماری زندگی کی راہیں بھی روشن ہو سکتی ہیں… کردار کی اصلاح بھی ممکن ہے… دل کی تازگی بھی میسر آ سکتی ہے… اور ایک باوقار و با کردار انسانی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے…

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Faisalabad
37000