23/07/2026
کیا آپ نے کبھی اتنی بڑی اور خوبصورت کھجور دیکھی ہے؟
اپنے والد صاحب کے تقریباً 15 سال پرانے ڈھکی کھجور (Dhakki Date Palm) کے باغ پر گیا۔ ماشاء اللہ اس باغ میں لگے خوشوں اور ان پر موجود بڑے سائز کے پھل دیکھ کر واقعی حیران رہ گیا۔ قدرت کی یہ خوبصورتی اور محنت کا یہ نتیجہ دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔
ڈھکی کھجور پاکستان کی اعلیٰ ترین اقسام میں شمار ہوتی ہے اور خاص طور پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کامیابی سے کاشت کی جاتی ہے۔ اس کا پھل سائز میں بڑا، بے حد میٹھا، نرم اور اعلیٰ معیار کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے تازہ کھجور کے طور پر بھی بہت پسند کیا جاتا ہے اور خشک کر کے بہترین معیار کا چھوہارا بھی تیار کیا جاتا ہے، جس کی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اچھی مانگ موجود ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈھکی کھجور صرف تازہ یا خشک شکل میں ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس سے کھجور کا شربت، پیسٹ، جام، بیکری مصنوعات، مٹھائیاں اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کی جاتی ہیں۔ اگر جدید باغبانی کے اصولوں، مناسب دیکھ بھال اور بہتر مارکیٹنگ کو اپنایا جائے تو یہ فصل کسانوں کے لیے بہترین منافع بخش کاروبار ثابت ہو سکتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی ڈھکی کھجور کھائی ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں، اور اگر معلومات پسند آئیں تو پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پاکستان کی اس قیمتی نعمت کے بارے میں جان سکیں۔
14/07/2026
گزشتہ پوسٹ پر آپ سب کے قیمتی سوالات کا بے حد شکریہ۔ بہت سے دوستوں نے ہمارے سنگھڑ (Singhar) لیموں کے باغ کی پیداوار، معاشی اہمیت، پودوں کی افزائش (Propagation) اور اس کی کاروباری صلاحیت کے بارے میں سوالات کیے۔ اسی لیے یہ مختصر معلوماتی پوسسٹ تیار کی ہے تاکہ دلچسپی رکھنے والے دوستوں اور کاشتکاروں کو اس بہترین مقامی قسم کے بارے میں بنیادی معلومات ایک جگہ پر مل سکیں۔
ہمارے باغ کی مختصر معلومات:
باغ کی عمر: 9 سال
کل رقبہ: 40 کنال (تقریباً 5 ایکڑ)
کل پودے: 447
اس سال فی پودا اوسط پیداوار: 76 سے 90 کلوگرام
اس حساب سے اس سال باغ کی مجموعی پیداوار تقریباً 33,972 سے 40,230 کلوگرام (یعنی تقریباً 34 سے 40 میٹرک ٹن) ہوگی ۔
پیکنگ 6.5 کلوگرام کے تھیلوں میں کی جا رہی ہے، جس کے مطابق تقریباً 5,226 سے 6,189 تھیلے تیار ہوئے۔موجودہ سیزن میں پشاور اور راولپنڈی فروٹ منڈی میں 6.5 کلوگرام کے ایک تھیلے کی قیمت تقریباً 500 سے 650 روپے رہی۔
نوٹ: اس میں کھاد، آبپاشی، سپرے، مزدوری، پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر پیداواری اخراجات شامل نہیں ہیں، اس لیے اصل منافع ان اخراجات کو منہا کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔
سنگھڑ لیموں کی افزائش (Propagation)
سنگھڑ لیموں کی افزائش مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے، جن میں Seed، Budding، Grafting اور خاص طور پر Air Layering (گوٹی) زیادہ کامیاب اور مقبول طریقے ہیں۔Air Layering کے ذریعے ایک صحت مند مادری پودے سے بہت کم وقت میں بڑی تعداد میں معیاری پودے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مضبوط درخت سے ہر سال سینکڑوں نئی گوٹیاں تیار کرنا ممکن ہے، جنہیں نرسری میں کامیابی سے بڑھا کر فروخت کیا جا سکتا ہے۔
آج کل فروٹ نرسری کا شعبہ بھی ایک بہترین ذریعۂ آمدن بن چکا ہے۔ اگر کوئی شخص مناسب تربیت اور درست طریقہ کار کے ساتھ سنگھڑ لیموں کے معیاری پودے تیار کرے تو نہ صرف اپنی نرسری قائم کر سکتا ہے بلکہ مقامی اور قومی سطح پر پودوں کی فروخت سے بھی اچھی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ ایک صحت مند مادری پودا وقت کے ساتھ سینکڑوں نئے پودوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔سنگھڑ لیموں نہ صرف ایک اعلیٰ معیار کا پھل ہے بلکہ یہ ایک کامیاب زرعی کاروبار (Agribusiness) کی بہترین مثال بھی ہے۔ مناسب منصوبہ بندی، جدید باغبانی کے اصولوں اور معیاری نرسری کے ذریعے نوجوان، کسان اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد اس سے بہتر معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر آپ سنگھڑ لیموں کی کاشت، باغ کے انتظام، نرسری کے قیام، Air Layering یا دیگر باغبانی کے موضوعات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو ضرور سوال کریں۔ میں اپنی محدود معلومات اور عملی تجربے کی روشنی میں رہنمائی کرنے کی کوشش کروں گا۔اللہ تعالیٰ ہمارے تمام کسانوں کی محنت میں برکت عطا فرمائے، ہماری زمینوں کو شاداب رکھے اور پاکستان کی زراعت کو مزید ترقی دے۔ آمین۔
13/07/2026
الحمدللہ! آج کسانوں کے ساتھ ہمارے سنگھڑ (Singer/Singhar) لیموں کے باغ میں کچھ وقت گزارنے اور اس کی موجودہ حالت کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ باغ میرے والد صاحب نے تقریباً 9 سال قبل تحصیل پروآ، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل، انتھک محنت، مستقل دیکھ بھال اور بہترین انتظام کے باعث آج یہ باغ بھرپور نشوونما پا چکا ہے اور اعلیٰ معیار کی پیداوار دے رہا ہے۔ اپنے آبائی باغ کو پھلتا پھولتا دیکھنا میرے لیے نہایت خوشی، فخر اور اطمینان کا باعث ہے۔
سنگھڑ (Singhar) لیموں ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک منفرد اور نہایت معروف مقامی قسم ہے، جس کی شناخت آج پورے پاکستان میں قائم ہو چکی ہے۔ اس کا آغاز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی گاؤں سنگھڑ سے ہوا، جہاں سے یہ اپنی غیر معمولی خصوصیات کی بدولت پورے ملک میں متعارف ہوا۔ یہ قسم اپنے بے بیج ہونے، زیادہ رس، پتلے چھلکے، خوشبودار ذائقے، بڑے سائز، عمدہ معیار اور بہترین پیداواری صلاحیت کی وجہ سے دیگر اقسام سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہی خصوصیات اسے صارفین اور کاشتکاروں دونوں کے لیے یکساں طور پر پسندیدہ بناتی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی گرم آب و ہوا، زرخیز میدانی زمین، وافر دھوپ اور مناسب آبپاشی سنگھڑ لیموں کی کامیاب کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کا سنگھڑ لیموں اپنے ذائقے، معیار اور مارکیٹ ویلیو کی وجہ سے ملک بھر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ جدید باغبانی کے اصول، بروقت کھاد، متوازن آبپاشی، مناسب تراش خراش اور مؤثر باغی انتظام کے ذریعے اس کی پیداوار اور معیار میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو مقامی کاشتکاروں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آخر میں ایک دلچسپ بات! 😊 میرے والد صاحب پیشے کے اعتبار سے Horticulturist نہیں ہیں، لیکن Pomology (Fruit Science) اور Agronomic Crops کے عملی میدان میں ان کا تجربہ، مشاہدہ اور مہارت واقعی قابلِ تعریف ہے۔ شاید انہی کی رہنمائی نے مجھے بھی باغبانی سے محبت کرنا سکھائی، اگرچہ میں نے ان کے راستے سے کچھ مختلف سمت اختیار کی۔ وہ پھلدار باغات کے شوقین ہیں، جبکہ میری دلچسپی Floriculture اور Ornamental Plants میں ہے۔
22/06/2026
تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، بلکہ کچھ مقامات خود اپنی کہانی سناتے ہیں۔مجھے ہمیشہ ایسے تاریخی مقامات کی سیر کرنا پسند ہے جو ہمیں اپنے ماضی، ثقافت اور ورثے سے جوڑتے ہیں۔ ہر تاریخی مقام اپنے اندر ایک منفرد داستان سموئے ہوتا ہے، اور اسے ہی چنیوٹ کے تاریخی ریڈ برج کی بھی ایک کہانی ہے ۔
دریائے چناب پر قائم یہ شاندار پل اپنی منفرد لوہے کی ساخت کی وجہ سے چنیوٹ کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہ دراصل برطانوی دور کا ایک تاریخی ریلوے پل تھا، جو 1928 سے 1930 کے درمیان تعمیر کیا گیا۔ اکتوبر 1928 میں اس کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ 1930 کی دہائی کے آغاز میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ یہ پل چنیوٹ کو چناب نگر سے ملاتا تھا اور اس زمانے میں تجارت اور آمدورفت کے لیے ایک نہایت اہم راستہ تھا۔اس پل کی مضبوط لوہے کی ساخت اور سرخ رنگ کے فولادی ڈھانچے نے اسے "ریڈ برج" کے نام سے مشہور کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب ٹریفک میں اضافہ ہوا تو جون 2001 میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تقریباً 450 ملین روپے کی لاگت سے اس کے ساتھ ایک نیا دو رویہ کنکریٹ پل تعمیر کیا۔ بعد ازاں مقامی انجینئرز نے ایک منفرد اقدام کرتے ہوئے تاریخی ریلوے پل کی پٹریوں کے اوپر اسفالٹ سڑک تعمیر کی، تاکہ جدید ٹریفک کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
آج یہ دونوں پل چنیوٹ۔سرگودھا روڈ پر آمدورفت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دریائے چناب کا دلکش منظر، کشتی رانی اور پُرسکون ماحول اس مقام کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اس تاریخی ورثے کی سیر میرے لیے ایک یادگار تجربہ رہی۔ ایسے مقامات ہمیں اپنی تاریخ پر فخر کرنا سکھاتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ اپنے قومی ورثے کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
19/06/2026
پونسیانا (Royal Poinciana) جسے عام طور پر فلیم ٹری (Flame Tree)، فلیمبوئنٹ (Flamboyant) اور گلموہر (Gulmohar) بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے خوبصورت ترین درختوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے شوخ نارنجی سے سرخ رنگ کے پھول اور چھتری نما گھنا سایہ اسے بے حد دلکش بناتے ہیں۔ اس کے ہر پھول میں پانچ پنکھڑیاں ہوتی ہیں جن میں سے ایک بڑی پنکھڑی پر زرد اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں، جبکہ اس کے ہلکے سبز، باریک اور فرن جیسے پتے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
یہ درخت اصل میں مڈغاسکر کا رہائشی ہے اور گرم علاقوں میں مکمل دھوپ اور اچھی نکاسی والی زمین میں بہترین نشوونما پاتا ہے۔ یہ 6 سے 12 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے اور بعد میں لمبی، چپٹی اور لکڑی جیسی پھلیاں پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ درخت ایک بار قائم ہونے کے بعد خشک سالی برداشت کر لیتا ہے، لیکن ابتدائی برسوں میں اسے باقاعدہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی افزائش (Propagation) عام طور پر بیج (Seeds) کے ذریعے کی جاتی ہے۔
پونسیانا زیادہ تر پارکوں، باغات اور سڑکوں کے کنارے خوبصورتی اور گھنے سائے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں سطح کے قریب اور طاقتور ہوتی ہیں، اس لیے اسے عمارتوں یا فٹ پاتھوں کے قریب نہیں لگانا چاہیے۔ اس کی لکڑی نسبتاً کمزور ہوتی ہے، اس لیے ابتدائی کٹائی ضروری ہے تاکہ شاخیں مضبوط رہیں۔ بعض علاقوں میں اس کی چھال اور پتے روایتی طور پر سوزش کے علاج میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
17/06/2026
🎓✨ Postgraduate Admissions 2026–27 – University of Agriculture Faisalabad ✨🎓
Pakistan’s #1 in Agriculture & Forestry
Entry Test Schedule & Registration:
1st Entry Test
🖊️ Registration: June 04 – June 18, 2026
📖 Test Date: July 19, 2026 (Sunday)
2nd Entry Test
🖊️ Registration: July 21 – August 10, 2026
📖 Test Date: August 16, 2026 (Sunday)🌟
Ranked 33rd worldwide & 1st in Pakistan in Agriculture & Forestry!👉 Apply online for MS/MPhil/MSc (Hons)/MBA/PhD and secure your future with UAF – where excellence meets opportunity.📞 For queries: 041-9200189 | ✉️ [email protected]
🔗 Visit: www.uaf.edu.pk
23/05/2026
الحمدللہ، میں نے اپنی انٹرن شپ ایگری فلورا فارم، جڑانوالہ فیصل آباد میں مکمل کر لی ہے۔ 23 فروری 2026 سے 22 مئی 2026 تک بطور انٹرن ہارٹیکلچرِسٹ خدمات انجام دیتے ہوئے مجھے کٹ فلاور پروڈکشن، ڈرپ اریگیشن مینجمنٹ، لیبر مینجمنٹ اور نیوٹریشن پلاننگ جیسے اہم شعبوں میں عملی سیکھنے کا موقع ملا۔یہ انٹرن شپ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہوئی، جس کے دوران مجھے پیشہ ورانہ ماحول میں کام کرنے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنی عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع ملا۔
میں خصوصی طور پر سر عدیل ارشد کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے بہترین تربیت فراہم کی اور پورے عرصے میں میری مثبت انداز میں رہنمائی فرمائی۔ اسی طرح میں سر ڈاکٹر افتخار صاحب کا بھی بے حد مشکور ہوں جنہوں نے میری رہنمائی کرتے ہوئے مجھے اپنی انٹرن شپ کے لیے بہترین کٹ فلاور فارم میں بھیجا۔ آج مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اس ادارے سے بہت کچھ سیکھا ہے، جو یقیناً میرے مستقبل میں مددگار ثابت ہوگا۔
Muhammad Ibrar Horticulturist
10/05/2026
زینیا ایک تیزی سے بڑھنے والا سالانہ پھول ہے جو اپنے شوخ رنگوں، آسان دیکھ بھال اور لمبے عرصے تک کھلنے والے پھولوں کی وجہ سے باغبانوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ پھول اصل میں میکسیکو سے تعلق رکھتا ہے اور Daisy خاندان (Asteraceae) کا حصہ ہے۔ زینیا کے پودے جھاڑی نما ہوتے ہیں اور مختلف اقسام 6 انچ سے 4 فٹ تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے پھول سنگل، ڈبل اور سیمی ڈبل شکل میں ہوتے ہیں جبکہ نیلے رنگ کے علاوہ تقریباً ہر رنگ میں دستیاب ہیں، جیسے پیلا، نارنجی، سرخ، گلابی، جامنی اور سبز۔ یہ پھول باغ، گملوں، گلدستوں اور تتلیوں و شہد کی مکھیوں کو متوجہ کرنے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
زینیا کو اگانا بہت آسان ہے۔ اس کے بیج سردی ختم ہونے کے بعد براہِ راست مٹی میں لگائے جاتے ہیں کیونکہ یہ گرم موسم اور دھوپ پسند کرتا ہے۔ روزانہ کم از کم 6 سے 8 گھنٹے دھوپ ضروری ہے۔ اچھی نکاسی والی مٹی اس کے لیے بہترین رہتی ہے۔ بیج تقریباً ¼ انچ گہرائی میں لگائیں اور پودوں کے درمیان 9 سے 12 انچ فاصلہ رکھیں تاکہ ہوا آسانی سے گزر سکے۔ زینیا کے بیج عموماً 3 سے 7 دن میں اگ آتے ہیں اور بہت جلد خوبصورت پھول دینا شروع کر دیتے ہیں۔
زینیا کی دیکھ بھال بھی نہایت آسان ہے۔ ابتدا میں مٹی کو ہلکا نم رکھیں، بعد میں پودا کچھ حد تک خشک سالی برداشت کر لیتا ہے لیکن باقاعدہ پانی بہتر رہتا ہے۔ پانی ہمیشہ جڑوں میں دیں تاکہ پتوں پر نمی نہ رہے۔ مرجھائے ہوئے پھول توڑتے رہنے سے نئے پھول زیادہ آتے ہیں اور پودا مسلسل کھلتا رہتا ہے۔ زیادہ کھاد کی ضرورت نہیں کیونکہ اضافی نائٹروجن صرف پتے بڑھاتی ہے۔ مناسب فاصلہ اور ہوا کی آمدورفت رکھنے سے Powdery Mildew جیسی بیماریوں سے بھی بچاؤ رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے باغ کو رنگین، خوبصورت اور تتلیوں سے بھرپور بنانا چاہتے ہیں تو زینیا ایک بہترین انتخاب ہے۔
05/05/2026
بلیک نائٹ شیڈ (جسے اردو میں عام طور پر مکوہ کہا جاتا ہے) ایک عام جڑی بوٹی ہے جو Solanum nigrum گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ پودا عموماً ایک میٹر تک لمبا ہوتا ہے اور اس پر چھوٹے سفید ستارے جیسے پھول اور سیاہ یا گہرے جامنی رنگ کی بیریاں لگتی ہیں۔ یہ پودا مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ اسے ایک عام گھاس سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔یہ پودا صدیوں سے خوراک اور دوا کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، خاص طور پر افریقہ، بھارت اور ایشیا میں۔ اس کے پکے ہوئے پھل اور اچھی طرح اُبالے گئے پتے کھائے جاتے ہیں۔ لیکن احتیاط بہت ضروری ہے کیونکہ کچے (سبز) پھل زہریلے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے بغیر صحیح پہچان کے اسے استعمال نہ کریں۔
روایتی طب میں اسے معدے کے مسائل، بخار، جلدی بیماریوں اور سوزش کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور جگر کو محفوظ رکھنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ پودا زمین سے نقصان دہ دھاتیں جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے سائنسی تحقیق میں اہم سمجھا جاتا ہے۔اس پودے کو خطرناک ڈیڈلی نائٹ شیڈ سے ہرگز نہ ملائیں کیونکہ دونوں مختلف ہیں۔ کسی بھی جنگلی پودے کو استعمال کرنے سے پہلے ماہر سے تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔
02/05/2026
ڈی لیلی (Daylilies) ایک نہایت مقبول (perennial) پودا ہے جو کم دیکھ بھال میں بھی شاندار پھول دیتا ہے۔ اس کا ہر پھول صرف ایک دن کے لیے کھلتا ہے، مگر ایک صحت مند پودا کئی ہفتوں تک مسلسل نئے پھول دیتا رہتا ہے۔ اس کے لمبے، گھاس جیسے پتے (1 سے 4 فٹ) اور اونچی ڈنڈیوں (scapes) پر کھلنے والے پھول اسے باغ کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے بہترین بناتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی 80,000 سے زائد اقسام موجود ہیں، جو پیلے، نارنجی، سرخ، گلابی اور جامنی رنگوں میں دستیاب ہیں ۔
ڈی لیلی مکمل دھوپ (روزانہ 6 گھنٹے یا زیادہ) میں بہترین نشوونما پاتا ہے، لیکن ہلکی چھاؤں بھی برداشت کر لیتا ہے۔ اسے اچھی نکاسی والی مٹی میں لگائیں اور بہار یا خزاں اس کے لیے بہترین وقت ہے۔ پودوں کے درمیان 1 سے 2 فٹ فاصلہ رکھیں تاکہ انہیں بڑھنے کی جگہ ملے۔ اگرچہ یہ پودا خشک سالی برداشت کر لیتا ہے، لیکن بہتر پھولوں کے لیے باقاعدہ پانی دینا ضروری ہے۔ بہار میں ہلکی کھاد دینے سے پھول زیادہ اور خوبصورت آتے ہیں۔ یہ پودا عام طور پر بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رہتا ہے، تاہم کبھی کبھار ایفڈز یا تھرپس کا حملہ ہو سکتا ہے۔
یہ پودا کیاریوں، بارڈر، ڈھلوان جگہوں (erosion control) اور حتیٰ کہ گملوں میں بھی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اس کی جڑیں موٹی اور ٹیوب نما (tuberous) ہوتی ہیں، جو اسے عام للی (bulb والی) سے مختلف بناتی ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے پھول اور کلیاں کھانے کے قابل ہیں اور ایشیائی کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پودے کو صحت مند رکھنے کے لیے ہر 3 سے 5 سال بعد اس کی جڑوں کو تقسیم کریں۔اپنے باغ کو خوبصورت، رنگین اور کم محنت والا بنانے کے لیے ڈی لیلی ایک بہترین انتخاب ہے۔
Muhammad Ibrar Horticulturist