Muhammad Ibrar Horticulturist

Muhammad Ibrar Horticulturist Anthophile,Student & enthusiast in Horticulture, Floriculture and Agricultural Sciences.

Sharing field visits, research insights, and plant cultivation tips.living,loving,learning and making memories,sharing smiles,chasing dreams and having zest for life.

ٹیکسلا میوزیم — ہزاروں سال پرانی تاریخ کا خزانہ پنجاب کے تاریخی شہر ٹیکسلا میں واقع یہ میوزیم گندھارا تہذیب کے شاندار فن...
13/08/2026

ٹیکسلا میوزیم — ہزاروں سال پرانی تاریخ کا خزانہ

پنجاب کے تاریخی شہر ٹیکسلا میں واقع یہ میوزیم گندھارا تہذیب کے شاندار فن پاروں کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں موجود نوادرات تقریباً 600 قبل مسیح سے 500 عیسوی تک کے مختلف ادوار کی تاریخ کو ہمارے سامنے لاتے ہیں۔اس میوزیم کا سنگِ بنیاد 1918ء میں لارڈ چیمسفورڈ نے رکھا، جبکہ یہ عمارت 5 اپریل 1928ء کو عوام کے لیے کھولی گئی۔ اس میوزیم کی بنیاد اُس دور میں ہونے والی عظیم آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں کے بعد رکھی گئی، جن کی قیادت مشہور ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے کی۔ٹیکسلا کی کھدائیوں سے بھِر ماؤنڈ، سرکپ اور سرسُکھ جیسے قدیم شہر دریافت ہوئے، جبکہ دھرم راجیکا اور جولیاں جیسے بدھ مت کے اہم مراکز بھی اسی تاریخی خطے کا حصہ ہیں۔

میوزیم میں بدھا کے مجسمے، پتھر اور اسٹوکو کے فن پارے، قدیم سکے، زیورات، موتی، برتن، اوزار، کھلونے اور طبی آلات سمیت ہزاروں تاریخی اشیاء محفوظ ہیں۔ خاص طور پر گندھارا آرٹ یہاں کی سب سے بڑی کشش ہے۔ٹیکسلا کے آثارِ قدیمہ کو 1980ء میں UNESCO World Heritage Site کا درجہ دیا گیا، جو اس علاقے کی عالمی تاریخی اہمیت کا ثبوت ہے۔

مقام: ٹیکسلا، پنجاب، پاکستان

ایک آدمی جس نے اپنی زندگی میں کاروبار ہارا، کئی انتخابات ہارے، ذہنی دباؤ کا سامنا کیا… پھر ایک دن وہ دنیا کے طاقتور ترین...
10/08/2026

ایک آدمی جس نے اپنی زندگی میں کاروبار ہارا، کئی انتخابات ہارے، ذہنی دباؤ کا سامنا کیا… پھر ایک دن وہ دنیا کے طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک پر پہنچ گیا۔

1831 میں اس کا کاروبار ناکام ہوا۔
1832 میں وہ انتخاب ہار گیا۔
1833 میں دوبارہ کاروباری مشکلات میں پھنس گیا۔
1835 میں اس کی منگیتر کا انتقال ہوگیا۔
1843 میں وہ کانگریس کا ٹکٹ حاصل نہ کر سکا۔
1858 میں سینیٹ کا انتخاب ہار گیا۔

اتنی ناکامیوں کے بعد شاید کوئی بھی شخص سوچتا کہ بس، اب کافی ہے۔ مگر اس شخص نے کوشش نہیں چھوڑی۔ 1860 میں وہ امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔وہ شخص تھا Abraham Lincoln اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ یہی شخص امریکہ کی خانہ جنگی کے مشکل ترین دور میں ملک کی قیادت کر رہا تھا۔

کبھی کبھی ناکامیاں ہمیں روکنے نہیں آتیں، وہ ہمیں یہ بتانے آتی ہیں کہ ہم میں ابھی کتنا حوصلہ باقی ہے۔اس لیے زندگی میں اپنا بہترین دو، مشکل وقت سے گھبراؤ نہیں اور اپنی طاقت، حوصلہ اور یقین کبھی مت کھونا۔ اپنا مستقبل خود بناؤ، کیونکہ تمہاری آج کی ثابت قدمی ہی تمہاری کل کی پہچان بنے گی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلیات کے گھنے جنگلات میں ایک ایسی سرنگ موجود ہے جو تقریباً 130 سال پرانی ہے، اور کئی سال تک کچرے کے ...
07/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلیات کے گھنے جنگلات میں ایک ایسی سرنگ موجود ہے جو تقریباً 130 سال پرانی ہے، اور کئی سال تک کچرے کے نیچے دبی رہی؟

یہ ہے موٹو ٹنل (Moto Tunnel)، جو ایوبیہ نیشنل پارک میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر 1891ء میں برطانوی حکومت نے کی تھی۔ اس زمانے میں گلیات کے پہاڑی علاقوں میں سڑکیں بہت کم تھیں، اس لیے لوگوں اور گھوڑوں کے ذریعے سامان کی آمدورفت آسان بنانے کے لیے یہ سرنگ بنائی گئی۔

اس سرنگ کو مضبوط پتھروں اور اینٹوں سے اس انداز میں تعمیر کیا گیا کہ آج بھی، ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے باوجود، یہ اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ یہ اس دور کی بہترین انجینئرنگ کی ایک خوبصورت مثال سمجھی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سرنگ کے دونوں راستے مٹی، جھاڑیوں اور کچرے سے بند ہو گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی سال تک لوگ اس کے اوپر سے گزرتے رہے، مگر انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے قدموں کے نیچے ایک تاریخی سرنگ چھپی ہوئی ہے۔

2020ء میں اس سرنگ کو دوبارہ دریافت کیا گیا، صفائی اور بحالی کا کام کیا گیا، اور 29 اکتوبر 2020ء کو اسے دوبارہ سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔ آج یہ ایوبیہ آنے والے سیاحوں کی پسندیدہ تاریخی جگہوں میں شمار ہوتی ہے۔ سرنگ کے اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا، قدرتی خاموشی اور 130 سال پرانی پتھریلی دیواریں ایسا احساس دلاتی ہیں جیسے آپ ماضی کے سفر پر نکل آئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹو ٹنل صرف ایک راستہ نہیں بلکہ گلیات کی تاریخ، برطانوی دور کی انجینئرنگ اور قدرتی حسن کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔

مقام: ایوبیہ نیشنل پارک، ضلع ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا، پاکستان۔

اگر آپ نے کبھی موٹو ٹنل دیکھی ہے تو اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں، اور اگر نہیں دیکھی تو اسے اپنی اگلی گلیات ٹرپ کی فہرست میں ضرور شامل کریں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟دونگا گلی (نتھیا گلی) میں موجود یہ بڑے بڑے پانی کے ٹینک تقریباً 95 سال پہلے، یعنی 1930 میں برطانوی دور ...
06/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟
دونگا گلی (نتھیا گلی) میں موجود یہ بڑے بڑے پانی کے ٹینک تقریباً 95 سال پہلے، یعنی 1930 میں برطانوی دور میں بنائے گئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی یہ نظام اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ ٹینک پہاڑوں کے قدرتی چشموں اور بارش کا پانی جمع کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ پانی بغیر کسی موٹر یا بجلی کے، صرف قدرتی ڈھلوان کی مدد سے زیرِ زمین پائپ لائن کے ذریعے ایوبیہ اور مری تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس زمانے میں ایسی انجینئرنگ واقعی قابلِ تعریف تھی۔ یہ تاریخی جگہ دونگا گلی بازار کے قریب، مشہور پائپ لائن ٹریک کے آغاز پر واقع ہے۔ اردگرد سرسبز چیڑ کے جنگلات، ایوبیہ نیشنل پارک اور مشکپوری کی خوبصورت پہاڑیاں اس جگہ کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

مجھے بھی حال ہی میں اس جگہ جانے کا موقع ملا۔ اتنے سال پرانا یہ نظام اپنی آنکھوں سے دیکھ کر واقعی حیرت ہوئی۔ اگر آپ کبھی گلیات جائیں تو اس تاریخی مقام کو ضرور دیکھیں۔ یہ صرف پانی کا ٹینک نہیں بلکہ ہماری تاریخ اور بہترین انجینئرنگ کی ایک خوبصورت یادگار ہے۔

05/08/2026

پہاڑوں کی چوٹی پر کھڑے ہو کر احساس ہوا ، بعض اوقات زندگی میں سب سے خوبصورت منظر، سب سے مشکل راستہ طے کرنے کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے۔

ذرا ان تصویروں کو غور سے دیکھیے...! کیا آپ جانتے ہیں کہ جس نیلگوں جھیل کے کنارے میں ہوں، اس کے نیچے صرف پانی نہیں بلکہ ا...
04/08/2026

ذرا ان تصویروں کو غور سے دیکھیے...! کیا آپ جانتے ہیں کہ جس نیلگوں جھیل کے کنارے میں ہوں، اس کے نیچے صرف پانی نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ دفن ہے؟ شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ خانپور ڈیم بننے کے بعد کئی بستیاں، کھیت اور لوگوں کی برسوں پرانی یادیں ہمیشہ کے لیے اس جھیل کا حصہ بن گئیں۔ پہلی نظر میں یہ جگہ صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام محسوس ہوتی ہے، لیکن جب اس کی تاریخ جانتے ہیں تو اس کی خوبصورتی کے ساتھ اس کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

1968ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ تقریباً 15 سال کی مسلسل محنت کے بعد 1983ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ ایک دن یہی ڈیم اسلام آباد اور راولپنڈی کے لاکھوں لوگوں کی پیاس بجھائے گا اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کو زندگی دے گا۔ اس عظیم منصوبے کے لیے کئی خاندانوں نے اپنے آبائی گھر اور بستیاں چھوڑ دیں، مگر ان کی قربانی آج بھی اس جھیل کی ہر لہر میں محسوس ہوتی ہے۔

ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ خانپور کے اردگرد کا علاقہ ہزاروں سال پرانی گندھارا تہذیب سے بھی جڑا ہوا ہے۔ قریب ہی بدھ مت کے تاریخی آثار اور قدیم مقامات موجود ہیں، جبکہ راجگان کی تاریخی مسجد آج بھی اس علاقے کے ماضی کی خاموش گواہ ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ نیلا پانی صرف ایک جھیل نہیں بلکہ وقت کی کئی داستانوں کو اپنی آغوش میں سمیٹے ہوئے ہے۔ آج خانپور ڈیم پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کا شفاف پانی، سرسبز پہاڑ، کشتی رانی، جیٹ اسکی، کلف ڈائیونگ اور پُرسکون ماحول ہر آنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ لیکن میرے لیے اس سفر کی سب سے خوبصورت بات صرف مناظر نہیں تھے، بلکہ یہ احساس تھا کہ ہم جس جگہ کھڑے ہیں، اس کے پیچھے محنت، قربانی اور تاریخ کی ایک طویل داستان موجود ہے۔

کبھی موقع ملے تو صرف تصویریں لینے کے لیے نہیں، بلکہ اس جگہ کی کہانی کو محسوس کرنے کے لیے بھی ضرور خانپور ڈیم جائیے۔ یقین مانیں، واپسی پر آپ کے ساتھ صرف خوبصورت تصاویر نہیں بلکہ ایک نئی سوچ بھی ہوگی۔

جنگلات صرف لکڑی کا نام نہیں، بلکہ قدرت کی وہ قیمتی نعمت ہیں جو ہماری صحت، معیشت اور ماحول کو زندگی بخشتی ہیں۔ حال ہی میں...
02/08/2026

جنگلات صرف لکڑی کا نام نہیں، بلکہ قدرت کی وہ قیمتی نعمت ہیں جو ہماری صحت، معیشت اور ماحول کو زندگی بخشتی ہیں۔ حال ہی میں مجھے این ٹی ایف پی (Non-Timber Forest Products) ماڈل ڈسپلے شاپ، گلیات ، ضلع ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا جانے کا موقع ملا۔ یہ منفرد مقام خیبر پختونخوا فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی زیرِ نگرانی قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کمیونٹی جنگلات سے حاصل ہونے والی قدرتی و نامیاتی جڑی بوٹیاں، ادویاتی پودے اور دیگر غیر لکڑی جنگلاتی مصنوعات (NTFPs) کو محفوظ اور پائیدار انداز میں عوام تک پہنچاتی ہے۔

سب سے خاص بات وہاں موجود عملے کا خوش اخلاق اور تعاون پر مبنی رویہ تھا۔ انہوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ مختلف ادویاتی جڑی بوٹیوں کی شناخت، ان کے قدرتی مسکن اور روایتی طبی استعمال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ قیمتی جڑی بوٹیاں صدیوں سے گردوں، معدے، زخموں، سانس کی بیماریوں، جوڑوں کے درد اور دیگر کئی امراض کے علاج میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ایک ہارٹیکلچر کے طالب علم کی حیثیت سے یہ میرے لیے نہایت معلوماتی اور یادگار تجربہ تھا، کیونکہ کتابی علم کے ساتھ عملی طور پر ان پودوں کو ان کے قدرتی ماحول میں دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

اس شاپ میں قدرتی و نامیاتی جڑی بوٹیاں، جنگلی شہد، ہربل ٹی، خشک مشروم، مصالحہ جات، جنگلاتی پھل اور دیگر جنگلاتی مصنوعات فروخت کی جا رہی تھیں، جو مقامی افراد جنگلات سے ماحول دوست اور پائیدار طریقے سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں بلکہ جنگلات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے فروغ اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی بہترین مثال بھی ہیں۔

شاپ کے ساتھ قائم Medicinal & Aromatic Plants In-Situ Conservation Area پاکستان کی قیمتی ادویاتی اور خوشبودار نباتات کے تحفظ کے لیے ایک قابلِ تعریف اقدام ہے۔ یہاں مختلف مقامی انواع کو ان کے قدرتی ماحول میں محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔ ایسے منصوبے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ عوام، طلبہ اور محققین میں قدرتی وسائل اور جڑی بوٹیوں کی اہمیت کے بارے میں شعور بھی اجاگر کرتے ہیں۔

قدرت سے محبت کرنے والے افراد، طلبہ، محققین اور سیاحوں کے لیے یہ جگہ یقیناً ایک بہترین منزل ہے، جہاں خوبصورت قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قیمتی ادویاتی جڑی بوٹیوں، جنگلاتی وسائل اور ان کے پائیدار استعمال کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

Peshawar, NWFP

نہ شہر کا شور، نہ وقت کی جلدی،بس گلیات کی وادیاں، بادلوں کی رفاقت،گرم چائے، تنوری روٹی…اور دل کا برسوں بعد مسکرانابادلوں...
02/08/2026

نہ شہر کا شور، نہ وقت کی جلدی،
بس گلیات کی وادیاں، بادلوں کی رفاقت،
گرم چائے، تنوری روٹی…
اور دل کا برسوں بعد مسکرانا

بادلوں کی چادر، پہاڑوں کی بلندی، سڑک کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل، گرم چائے اور تنوری روٹی ۔ کبھی کبھی سکون کسی منزل میں نہیں، بلکہ ایسے چند لمحوں میں ملتا ہے جہاں فضا خاموش ہو، بادل ہمسفر ہوں، اور دل دنیا کے شور سے آزاد ہو جائے۔

بلیک نائٹ شیڈ (جسے اردو میں عام طور پر مکوہ کہا جاتا ہے) ایک عام جڑی بوٹی ہے جو Solanum nigrum گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ...
05/05/2026

بلیک نائٹ شیڈ (جسے اردو میں عام طور پر مکوہ کہا جاتا ہے) ایک عام جڑی بوٹی ہے جو Solanum nigrum گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ پودا عموماً ایک میٹر تک لمبا ہوتا ہے اور اس پر چھوٹے سفید ستارے جیسے پھول اور سیاہ یا گہرے جامنی رنگ کی بیریاں لگتی ہیں۔ یہ پودا مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ اسے ایک عام گھاس سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔یہ پودا صدیوں سے خوراک اور دوا کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، خاص طور پر افریقہ، بھارت اور ایشیا میں۔ اس کے پکے ہوئے پھل اور اچھی طرح اُبالے گئے پتے کھائے جاتے ہیں۔ لیکن احتیاط بہت ضروری ہے کیونکہ کچے (سبز) پھل زہریلے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے بغیر صحیح پہچان کے اسے استعمال نہ کریں۔

روایتی طب میں اسے معدے کے مسائل، بخار، جلدی بیماریوں اور سوزش کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور جگر کو محفوظ رکھنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ پودا زمین سے نقصان دہ دھاتیں جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے سائنسی تحقیق میں اہم سمجھا جاتا ہے۔اس پودے کو خطرناک ڈیڈلی نائٹ شیڈ سے ہرگز نہ ملائیں کیونکہ دونوں مختلف ہیں۔ کسی بھی جنگلی پودے کو استعمال کرنے سے پہلے ماہر سے تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔

ڈی لیلی (Daylilies) ایک نہایت مقبول (perennial) پودا ہے جو کم دیکھ بھال میں بھی شاندار پھول دیتا ہے۔ اس کا ہر پھول صرف ا...
02/05/2026

ڈی لیلی (Daylilies) ایک نہایت مقبول (perennial) پودا ہے جو کم دیکھ بھال میں بھی شاندار پھول دیتا ہے۔ اس کا ہر پھول صرف ایک دن کے لیے کھلتا ہے، مگر ایک صحت مند پودا کئی ہفتوں تک مسلسل نئے پھول دیتا رہتا ہے۔ اس کے لمبے، گھاس جیسے پتے (1 سے 4 فٹ) اور اونچی ڈنڈیوں (scapes) پر کھلنے والے پھول اسے باغ کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے بہترین بناتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی 80,000 سے زائد اقسام موجود ہیں، جو پیلے، نارنجی، سرخ، گلابی اور جامنی رنگوں میں دستیاب ہیں ۔
ڈی لیلی مکمل دھوپ (روزانہ 6 گھنٹے یا زیادہ) میں بہترین نشوونما پاتا ہے، لیکن ہلکی چھاؤں بھی برداشت کر لیتا ہے۔ اسے اچھی نکاسی والی مٹی میں لگائیں اور بہار یا خزاں اس کے لیے بہترین وقت ہے۔ پودوں کے درمیان 1 سے 2 فٹ فاصلہ رکھیں تاکہ انہیں بڑھنے کی جگہ ملے۔ اگرچہ یہ پودا خشک سالی برداشت کر لیتا ہے، لیکن بہتر پھولوں کے لیے باقاعدہ پانی دینا ضروری ہے۔ بہار میں ہلکی کھاد دینے سے پھول زیادہ اور خوبصورت آتے ہیں۔ یہ پودا عام طور پر بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رہتا ہے، تاہم کبھی کبھار ایفڈز یا تھرپس کا حملہ ہو سکتا ہے۔
یہ پودا کیاریوں، بارڈر، ڈھلوان جگہوں (erosion control) اور حتیٰ کہ گملوں میں بھی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اس کی جڑیں موٹی اور ٹیوب نما (tuberous) ہوتی ہیں، جو اسے عام للی (bulb والی) سے مختلف بناتی ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے پھول اور کلیاں کھانے کے قابل ہیں اور ایشیائی کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پودے کو صحت مند رکھنے کے لیے ہر 3 سے 5 سال بعد اس کی جڑوں کو تقسیم کریں۔اپنے باغ کو خوبصورت، رنگین اور کم محنت والا بنانے کے لیے ڈی لیلی ایک بہترین انتخاب ہے۔

Muhammad Ibrar Horticulturist

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ibrar Horticulturist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share