Al Hafiz Quranic Learning Hub-AQLH

Al Hafiz Quranic Learning Hub-AQLH

Share

Welcome to Al Hafiz Quranic Learning — your trusted platform for online Qur’an education tailored for children and adults worldwide.

Online Qur'an classes for kids & adults | Basic Tajweed | Noorani Qaida | Hifz | Duas | Islamic studies
🌙 Free trial • Female staff • Flexible timings • Personalized feedback
📚 Special focus on kids’ learning in an effective & engaging environment We offer structured and engaging classes that focus on correct recitation, memorization, and understanding of the Holy Qur’an.

🌟 What We Offer:
Noorani

17/05/2026

آئیے عہد کریں کہ عشرۂ ذوالحجہ کو عبادت، اطاعت اور نیکیوں سے سنواریں گے:

• پختہ نیت کریں کہ یہ مبارک دن غفلت میں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

• نفلی روزوں کا اہتمام کریں، خصوصاً 9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ۔

• کثرت سے تکبیرات پڑھیں اور اللہ کی بڑائی بیان کریں۔

• پانچ وقت نماز باجماعت ادا کریں اور نوافل کا اہتمام کریں ۔

• روزانہ قرآنِ کریم کی باقاعدہ تلاوت کریں۔

• صبح و شام ذکر و اذکار کا معمول بنائیں۔

• حسبِ استطاعت صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال کریں

• دل سے توبہ و استغفار کریں گے اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں۔

• جھوٹ، غیبت، فضولیات اور ہر گناہ سے مکمل پرہیز کریں۔

• قربانی کو اخلاص اور سنت کے مطابق ادا کرنے کی تیاری کریں۔

تکبیراتِ تشریق:

اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

جمع و ترتیب: محمد نعیم

17/05/2026

الله اكبر ، الله أكبر ، لا اله إلا الله ، الله أكبر ، الله أكبر ولله الحمد , الله أكبر كبيراً ، والحمد لله كثيراً ، وسبحان الله بكرة وأصيلاً

30/04/2026

شبِ جمعہ ، درود کثرت سے پڑھیں 🌹

םבםב رسول ٱ ɑɺɺ ﷺ🤍

درود ان پر سلام ان پر 🥰
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا 🤍

29/04/2026

*کیا زمین تمہارے لیے سمیٹ لینے والی نہیں ہے؟*

*✿۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :*
﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا،أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾
’’کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنا دیا ؟زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی؟‘‘
(المرسلات : ٢٥ - ٢٦)

یعنی اللہ تعالی نے زمین کو زندوں اور مردوں کے لئے جائے سکونت بنا دیا ہے، زندے زمین پر بنے گھروں میں پناہ لیتے ہیں اور مردہ لوگوں کو زمین اپنے اندر جگہ دیتی ہے، لہذا جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر اور پردہ ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔

*⇚جیسا کہ امام مجاہد رحمہ اللہ (١٠٤هـ) فرماتے ہیں :*
أَمَّا قَوْلُهُ: ﴿كِفَاتًا أَحْيَاءً﴾ [المرسلات: ٢٦] فَيَقُولُ: «يَكُونُونَ عَلَيْهَا أَحْيَاءً وَيَغِيبُونَ فِيهَا مَا أَرَادُوا»، وَأَمَّا قَوْلُهُ ﴿وَأَمْوَاتًا﴾ [المرسلات: ٢٦] «فَإِنَّهُمْ يُدْفَنُونَ فِيهَا».
’’زندہ کو سمیٹنے سے مراد یہ ہے کہ وہ زندگی میں اس پر ہوتے ہیں اور جو چاہتے ہیں اس میں چھپا لیتے ہیں اور مردہ حالت میں سمیٹنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں دفن کیے جاتے ہیں۔‘‘
(تفسير مجاهد، صـ: ٦٩١، تفسير ابن جرير : ٢٣/ ٥٩٨ وسنده صحیح)

*⇚بیان بن بشر روایت کرتے ہیں :*
«خَرَجْنا في جِنازةٍ فيها عامرٌ الشَّعْبيُّ، فلمَّا انْتَهَيْنا إلى الجَبَّانِ تلا هذه الآيةَ: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ۝٢٥ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ۝٢٦﴾ قال: كِفَاتُ الأمواتِ - وأشار إلى القبورِ - وهذه كفَاتُ الأحياءِ؛ وأشارَ بيدِهِ إلى البُيوتِ» .
ہم عامر شعبی رحمہ اللہ کے ساتھ ایک جنازے میں گئے، جب قبرستان پہنچے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی
اور قبروں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : یہ مردوں کو سمیٹنا ہے ۔ پھر گھروں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : یہ زندوں کو سمیٹنا ہے۔ (سنن سعيد بن منصور - تكملة التفسير - ط الألوكة ٨/‏٢٣٦ وسنده صحیح)

*⇚امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
«أَحْيَاءً فَوْقَهَا عَلَى ظَهْرِهَا، وَأَمْوَاتًا يَقْبُرُونَ فِيهَا«» .
’’زندہ حالت میں زمین کی پشت پر اور مردہ حالت میں اس میں مدفون ہوتے ہیں۔‘‘
(تفسیر عبد الرزاق : ٣٤٤٤، تفسير الطبري : ٢٣/ ٥٩٨ وسنده صحیح)

⇚⇚نیز زندوں کے لیے زمین اس طرح سمیٹنے کا باعث بھی ہے کہ انسان کے قضائے حاجت کے فضلات کو چھپا لیتی ہے۔

*جیسا کہ امام مجاہد رحمہ اللہ (١٠٤هـ) فرماتے ہیں :*
«كَفَتَتْ أَذَاهُمْ أَحْيَاءً وَتَكْفِتُهُمْ أَمْوَاتًا».
’’جب زندہ ہوتے تو ان کی گندگی کو چھپا لیتی ہے اور جب فوت ہوتے ہیں تو انہیں اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔‘‘
(غريب الحديث للحربي : ١/ ٢١٧ وسنده صحیح)

*⇚اسی طرح امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (٣١٠هـ) فرماتے ہیں :*
«جائز أن يكون عُني بقوله: ﴿كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾ تكفت أذاهم في حال حياتهم، وجيفهم بعد مماتهم» .
’’یہ بھی درست ہے کہ زندہ اور مردہ کو سمیٹنے سے مراد یہ ہو کہ یہ زندگی میں اُن کی گندی کو اور وفات کے بعد ان کی لاش کو چھپاتی ہے۔‘‘
(تفسیر الطبري : ٢٣/ ٥٩٦)

*✿۔ ایک فقہی مسئلہ :*
بعض اہلِ علم نے اس آیت مبارکہ سے استدلال کیا ہے کہ زندہ انسان سے جو اجزاء الگ ہوتے ہیں اگر آسانی ہو تو انہیں بھی زمین میں دفن کر دینا بہتر ہے ۔

⇚جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (٢٤٠هـ) کے سامنے یہ آیت تلاوت کی گئی تو انہوں نے فرمایا :
يُدْفَنُ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءٍ: الْأَظَافِرُ. وَالشَّعْرُ. وَالدَّمُ.
’’زندہ کی تین چیزیں دفن کی جاتی ہیں : ناخن، بال اور خون۔‘‘
(الوقوف والترجل من الجامع للخلال : ١٥٣)

اس سلسلے میں کئی ایک مرفوع روایات بھی ہیں، لیکن ان میں سے کچھ ثابت نہیں، *جیسا کہ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (٤٥٨هـ) فرماتے ہیں :*
قَدْ رُوِيَ فِي دَفْنِ الظُّفُرِ وَالشَّعْرِ أَحَادِيثُ أَسَانِيدُهَا ضِعَافٌ.
’’بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے متعلق کئی احادیث مروی ہیں جن کی اسانید ضعیف ہیں۔‘‘
(السنن الكبرى : ١/ ٣٥)

*حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٧٤٨هـ) اسے بلا نکیر یوں فرماتے ہیں :*
قد جاء في دفن الشعر والظفر أحاديث ضعاف.
’’بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے متعلق کئی ضعیف روایات مروی ہیں۔‘‘
(المهذب في اختصار السنن الكبير : ٦٧)

*⇚البتہ نافع بیان کرتے ہیں :*
أن ابن عُمَر حَلَقَ رَأسَه، فأَمَرَ بِدَفن شَعره.
’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر منڈوایا اور حکم دیا کہ ان کے بالوں کو دفن کر دیا جائے۔‘‘
(مسائل حرب الكرماني كتاب الطهارة - ت بهجت : ٧٧٤، الوقوف والترجل للخلال: ١٥٢ وسنده حسن واحتج به أحمد)

*⇚مہدی بن میمون بیان کرتے ہیں :*
دَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ يَوْمَ جُمُعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَعَا بِمِقْصَرٍ فَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَجَمَعَهَا، فَأَنْبَأَنَا هِشَامٌ: «أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهَا أَنْ تُدْفَنَ»
’’ہم جمعہ کے بعد محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے ناخن تراش منگوا کر اپنے ناخن کاٹے اور انہیں جمع کیا۔ ہشام بن حسان نے ہمیں بتایا کہ وہ انہیں دفن کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔‘‘
(مصنف ابن أبي شيبة : ٥/ ٢٤١، الوقوف والترجل للخلال : ١٥٤ وسنده صحیح)

جمہور علماء حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے ہاں بھی ان اشیاء کو دفن کرنا مستحب ہے، کیوں کہ ان کے ہاں یہ انسانی جسم کا حصہ ہیں اور ان کی تعظیم و توقیر ہے۔

*⇚حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (٨٥٢هـ) فرماتے ہیں :*
قَدِ اسْتَحَبَّ أَصْحَابُنَا دَفْنَهَا لِكَوْنِهَا أَجْزَاءَ مِنَ الْآدَمِيِّ.
’’ہمارے اصحاب نے انہیں دفن کرنے کو مستحب سمجھا ہے کیونکہ یہ بندے کے اجزاء ہیں۔‘‘
(فتح الباري : ١٠/ ٣٤٦)

البتہ امام مالک رحمہ اللہ سے اس کے برعکس قول مروی ہے ۔
(الجامع لمسائل المدونة لابن يونس الصقلي ٢٤/‏١٥٥)

*⇚البتہ اگر دفن نہ بھی کیے جائیں تو کوئی حرج نہیں، جیسا کہ حرب بیان کرتے ہیں:*
سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ: يُدْفَنُ الشَّعْرُ وَالْأَظَافِرُ وَإِنْ لَمْ يُفْعَلْ لَمْ يُرَ به بأس.
’’میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو فرماتے سنا کہ ناخن اور بال دفن کر دینے چاہئیں۔ اگر بندہ ایسا نہ بھی کرے تو انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔‘‘
(الوقوف والترجل من الجامع للخلال : ١٥١)

*⇚شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ (١٤٢١هـ) فرماتے ہیں :*
ذكر أهل العلم أن دفن الشعر والأظافر أحسن وأولى، وقد أثر ذلك عن بعض الصحابة رضي الله عنهم، وأما كون بقائه في العراء أو إلقائه في مكان يوجب إثمًا فليس كذلك.
’’اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنا اچھا اور بہتر ہے، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ملتا ہے، لیکن ایسی بات نہیں ہے کہ انہیں کسی جگہ پھینک دینے سے یا کھلی جگہ پر رکھ دینا سے کوئی گناہ ہو گا ۔‘‘
(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين : ١١/‏١٣٢)

*⇚شیخ عبد العزيز ابن باز رحمہ اللہ (١٤٢٠هـ) فرماتے ہیں :*
لا يجب دفن ما يقلم من الأظفار، أو يقطع من الشعر، لا يجب دفنه، إذا ألقي في القمامة لا بأس، ولا حرج، إن دفنه؛ فلا حرج، وإن ألقاه في القمامة؛ فلا حرج، الأمر واسع، والحمد لله.
’’جو ناخن تراشے جاتے ہیں یا بال کاٹے جاتے ہیں انہیں دفن کرنا واجب نہیں، انہیں کوڑے دان میں پھینک دیں تو بھی کوئی حرج نہیں اور دفن کر دیں تب بھی ٹھیک ہے، الحمد للہ اس معاملے میں گنجائش ہے ۔‘‘
(نور على الدرب، حكم دفن بقايا الشعر والأظافر)

بہر حال خلاصہ یہ ہوا کہ اگر آسانی ہو تو ان اجزاء کو دفن کر دینا بہتر ہے، لیکن یہ لازم یا واجب نہیں، کہیں بھی رکھے یا پھینکے جا سکتے ہیں کیونکہ اس باب میں مرفوعا کچھ ثابت نہیں۔

حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ

28/04/2026

دنیا کی دوڑ میں کہیں ہم اصل مقصد تو نہیں بھول گئے؟ 🥀

کتنی سچی بات ہے کہ ہمیں اپنی دنیا سنوارنے کی جتنی فکر ہے، اس کا عشر عشیر بھی ہم دین کے لیے نہیں کرتے۔ ہم ایک دوسرے کو کاروبار، تعلیم اور دنیاوی فائدے کے مشورے تو دیتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے بیٹھ کر یہ سوچا کہ ہماری اور ہماری نسلوں کی آخرت کیسے سنورے گی؟

الحافظ قرآنی لرننگ ہب (AQLH) کا مقصد صرف قرآن پڑھانا نہیں، بلکہ آپ کے گھروں میں دین کی روشنی پہنچانا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی روشن ہو۔

درج ذیل کورسز کے لیے آج ہی رابطہ کریں:
✅ تجوید کے ساتھ قاعدہ اور قرآن مجید
✅ حفظِ قرآن
✅ بنیادی دینی مسائل اور نماز کی اصلاح
✅ خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص اوقات

رابطہ کریں:
📞 واٹس ایپ: 0340-7214916
📍 آن لائن کلاسز - آپ کے گھر کے سکون میں۔



💡 "آپ کے خیال میں آج کے دور میں بچوں کو دین سے جوڑنے کا سب سے بہترین طریقہ کیا ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔"

23/04/2026

کیا خوب فرمانا ہے مولانا عبد العزیز ناصر حفظہ اللہ کا کہ

علم اللہ تعالیٰ کی عبادت کا نام ہے

وہ بندہ جسے دس آیات حفظ ہیں اس بندے سے اللہ کے زیادہ قریب ہے جسے نو آیات حفظ ہیں ۔

23/04/2026

مغفرت اور بخشش کی مسنون دعائیں

22/04/2026

سيدنا براء بن عازب رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"میں نے نبی صلی الله عليه وسلم سے زیادہ دلنشیں آواز یا بہتر قرات کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔"

(صحيح البخاري : ٧٥٤٦، صحح مسلم : ٤٦٤)

22/04/2026

بچوں کو اخلاقی بگاڑ سے کیسے بچائیں؟
25 اہم نکات
​❶ اچھا اخلاقی نمونہ اور طرزِ عمل پیش کریں۔
❷ اخلاقِ حسنہ پر ملنے والے اجر سے آگاہ کریں۔
❸ بچوں کے ساتھ اپنائیت اور شفقت سے پیش آئیں ۔
❹ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔
❺ گھر میں بڑوں کے ادب کا ماحول بنائیں۔
❻ محبت اور احترام کے عملی طریقے بتائیں۔
❼ دوسروں کی خدمت کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں۔
❽ اچھی کتابیں مہیا کریں۔
❾ ایثار کے طریقے سکھائیں۔
❿ گھریلو سطح پر تربیتی مجالس کا اہتمام کریں۔
⓫ بچوں کو غصہ کم کرنے کا عملی طریقہ بتائیں۔
⓬ معافی مانگنا سکھائیں۔
⓭ انبیاء علیہم السلام اور نیک لوگوں کے اخلاقِ حسنہ کے قصے سنائیں۔
⓮ بچوں کو میڈیا اور اسکرین کا عادی نہ بننے دیں۔
⓯ غلط اور لچر الفاظ استعمال نہ کریں۔
⓰ میوزک والے کارٹون بالکل بند کر دیں۔
⓱ بری صحبت سے دور رکھیں۔
⓲ بچوں کے سامنے والدین جھگڑا نہ کریں۔
⓳ بچوں کو گالیاں بالکل نہ دیں۔
⓴ بچوں کے سامنے غیبت نہ کریں۔
㉑ حسد کی عادت ختم کریں۔
㉒ خود غرضی کی عادت عملاً ختم کروائیں۔
㉓ غربت کو مسئلہ عظیم بنا کر بچوں کے سامنے پیش نہ کریں۔
㉔ بچوں کے سامنے دوستوں سے صرف باوقار قسم کی بے تکلفی کا مظاہرہ کریں۔
㉕ خاندانی لڑائیوں کا تذکرہ بچوں کے سامنے نہ کریں۔
انتخاب و ترتیب
【 ✍: مُحَمَّد مُرتضیٰ ساجِد 】
(عَفَا اللّٰهُ عَنْهُ وَعَنْ وَالِدَيْهِ وَعَنْ مَشَايِخِهِ وَعَنْ جَمِيْعِ الْمُسْلِمِيْنَ)

21/04/2026

امام بخاری کی پرورش ان کی والدہ نے کی،
​امام شافعی کی پرورش ان کی والدہ نے کی،
​امام احمد بن حنبل کی پرورش ان کی والدہ نے کی،
​محمد فاتح کی پرورش ان کی والدہ نے کی تاکہ وہ قسطنطنیہ کے فاتح بنیں،
​حافظ ابن حجر کی پرورش ان کی بہن نے کی،
​اور ابن تیمیہ کی والدہ کا نام "تیمیہ" تھا، جو ایک مبلغہ (واعظہ) تھیں، چنانچہ وہ اپنی والدہ کی نسبت سے مشہور ہوئے!
​عورتیں مردوں کو بنانے والی فیکٹریاں ہیں،
​جب عورت کی اصلاح ہو جائے تو گھر اور معاشرہ دونوں سنور جاتے ہیں!

_______________

​الْبُخَارِيُّ رَبَّتْهُ أُمُّهُ،
​الشَّافِعِيُّ رَبَّتْهُ أُمُّهُ،
​أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَبَّتْهُ أُمُّهُ،
​مُحَمَّدٌ الْفَاتِحُ رَبَّتْهُ أُمُّهُ لِيَكُونَ فَاتِحَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ،
​الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ رَبَّتْهُ أُخْتُهُ،
​وَابْنُ تَيْمِيَّةَ كَانَتْ أُمُّهُ تُسَمَّى تَيْمِيَّةَ، وَكَانَتْ وَاعِظَةً، فَنُسِبَ إِلَيْهَا، وَعُرِفَ بِهَا!
​النِّسَاءُ مَصَانِعُ الرِّجَالِ،
​إِذَا صَلُحَتِ الْمَرْأَةُ صَلُحَ الْبَيْتُ وَالْمُجْتَمَعُ

21/04/2026

”مجھ پر جب بھی کوئی مصیبت ٹوٹی جو بہت بڑی محسوس ہوئی، تو اپنے گناہوں کا خیال آتے ہی وہ مجھے حقیر لگنے لگی!“
(مطرف رحمه اللّٰه | ربيع الأبرار ونصوص الأخيار : ٤ /١٦٢)

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Khan Model Colony
Faisalabad
38860