09/05/2025
"زندگی گزارنے کے وہ ہُنر، طریقے، سلیقے
جو اسکول، مدارس میں سِکھائے جانے چاہیئں"
آج کا بچّہ ہاتھ میں موبائل لیے،
سوشل میڈیا میں گُم ہے، لیکن دل اُلجھا ہُوا،
دماغ بوجھل ہے۔ ڈگریاں تو ہیں، مگر اصل زندگی کے فیصلے کرنے کا ڈھنگ نہیں۔ ہمارے اسکول، مدارس، کالج پڑھائی تو کراتے ہیں، مگر وہ طور طریقے نہیں سِکھاتے جو زندگی کو سنوارنے کے لیے ضروری ہیں۔
بات کرنے کا سلیقہ:
بچّوں کو یہ سِکھانا ضروری ہے کہ
اختلاف بھی عِزّت سے کیا جا سکتا ہے۔ کیسے
اپنی بات شائستگی سے کہی جائے، دوسروں کی بات سُنی جائے اور ہر معاملے کو جھگڑے کے بجائے بات چِیت سے حل کیا جائے۔ نرمی، لحاظ اور برداشت ہی اصل اخلاق ہیں۔
دل و دماغ کو سنبھالنا:
دُنیا کی دوڑ میں بچّہ تھک چُکا ہے۔ اُسے سِکھانا ہے کہ دن میں کچھ لمحے خاموشی کے گُزارے، آنکھیں بند کرے، گہری سانس لے، دل کی سُن لے، دماغ کی سُنے۔ یہ وہ ہُنر ہے جو اُسے صبر، سکون اور شُکرگزاری سِکھائے گا۔
سیکھنے کا طریقہ:
بچّے رٹّے تو لگا لیتے ہیں، لیکن سیکھنے
کی سمجھ نہیں آتی۔ اُنہیں یہ سِکھانا چاہیے کہ سوال کیسے پوچھنا ہے، بات کو کیسے سمجھنا ہے، اور عِلم کو کیسے دل میں اُتارنا ہے۔ سیکھنے کا سلیقہ آ جائے تو تعلیم بوجھ نہیں لگتی۔
غلط سوچوں کو پہچاننا:
ہر انسان کبھی نہ کبھی غلط سوچتا ہے۔
جیسے فوراً کسی پر الزام دینا یا بغیر سمجھے رائے قائم کر لینا۔ بچّوں کو یہ سِکھایا جائے کہ کب دماغ اُنہیں دھوکہ دے رہا ہے، اور کیسے اپنے خیالات پر نظر رکھی جائے۔
ٹیکس اور ذمّے داریاں:
جب بچّہ بڑا ہو اور کمانے لگے تو اُسے یہ پتہ ہو کہ مُلک کو کیا دینا ہے، کیوں دینا ہے، اور کیسے دینا ہے۔ خرچ، آمدنی، اور حساب کتاب سیکھنا ایک اچھے شہری کی پہچان ہے۔
کمپیوٹر پر حساب کتاب:
آج کی دُنیا میں کمپیوٹر، خاص طور پر ایکسل اور اے آئی جیسے سافٹ ویئر کا استعمال آنا بہت ضروری ہے۔ بچّوں کو سِکھایا جائے کہ خرچ، بچت اور منصوبہ بندی کیسے کرتے ہیں۔
پیسے جمع کا سلیقہ:
جَیب میں کتنے پیسے رکھنے ہیں، کہاں خرچ کرنے ہیں، اور کہاں سے بچانا ہے — یہ سب سِکھانا بہت ضروری ہے۔ جِس نے بچپن میں بچت سیکھی، وہ جوانی میں قرض سے بچ گیا۔
نوکری ڈھونڈنے کا فن:
ہماری نوجوان نسل ڈگری لے کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتی ہے، کیونکہ نہ نوکری ڈھونڈنا آتی ہے، نہ درخواست لکھنا، نہ انٹرویو دینا۔ یہ سب اسکول میں سِکھایا جانا چاہیے۔
جھگڑا سلجھانے کا ہُنر:
اگر کسی سے ناراضی ہو جائے تو اُسے کیسے محبّت سے سلجھایا جائے، غصّے کو کیسے تھاما جائے، یہ اصل تربیت ہے۔ ضد، انا اور چِڑچِڑے پن پر قابو پانا انسان کو انسان بناتا ہے۔
دماغی صحت کا دھیان:
جِسم کی صفائی تو سب کرتے ہیں، لیکن دل و دماغ کی صفائی کون کرے؟ بچّوں کو سِکھایا جائے کہ اپنے جذبات کو کیسے پہچانیں، کب مدد مانگنی ہے، اور کب تنہائی یا غم کا حل تلاش کرنا ہے۔
دھیان سے سُننے کا ہُنر:
بولنا سب سیکھ لیتے ہیں، سُننا کم لوگ سیکھتے ہیں۔ سُننا صِرف کانوں کا نہیں، دل کا ہُنر ہے۔ جو دوسروں کو دھیان سے سُنتا ہے، وہ رشتے بھی جوڑ لیتا ہے، دل بھی جیت لیتا ہے۔
آخر میں ماں باپ، اساتذہ، اور تعلیمی نظام
کے ذمّے داران سے گزارش ہے کہ کتابوں کا عِلم نہیں، بچّوں کو جینے کے ہُنر بھی سِکھائیں۔ بچّہ تبھی خوداعتماد ہوتا ہے جب اُسے معلوم ہو کہ ہر مسئلے سے کیسے نِمٹنا ہے۔ ہر استاد، ہر کلاس، ہر بچّے سے یہ سفر شروع کریں، تاکہ پاکستان کا کل روشن ہو۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
جاوید اختر آرائیں