13/07/2025
As slam o alaikum
Our mission is to make it easy for students of all ages to learn Quran online through our expertly designed classes.
Welcome to𝐈 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐄𝐝𝐮𝐜𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 is an online Quran learning platform, where we are dedicated to providing high-quality Quranic education accessible to everyone, regardless of location. We offer a range of online Quran classes designed to meet the needs of every learner, from learning Quran for kids to advanced Quran memorization online. Whether you are looking for Quran lessons for beginners or someon
13/07/2025
As slam o alaikum
28/08/2024
📖✨ Discover the path to knowledge with online Quran learning! ✨📖
Do you want to increase your understanding of Quran from the comfort of your home? Our online Quran learning platform offers:
🌟 Expert Tutors: Learn from qualified and experienced tutors. 🌟 Flexible Scheduling: Classes to fit your busy life. 🌟 Personalized lessons: your learning pace and goals. 🌟 Interactive Sessions: Engage in meaningful and interactive lessons.
Begin your spiritual journey today and connect with our supportive community. Click the link to register and increase your Quranic knowledge! 🌐📚
23/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ ایمان والے نہیں ہیں ۔
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ:اورکچھ لوگ کہتے ہیں۔} اس سے پہلی آیات میں مخلص ایمان والوں کا ذکر کیاگیا جن کا ظاہر و باطن درست اور سلامت تھا،پھر ان کافروں کا ذکر کیا گیا جو سرکشی اور عناد پر قائم تھے اور اب یہاں سے لے کرآیت نمبر20 تک منافقوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے جو کہ اندرونِ خانہ کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبانوں سے اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کا ظاہر ان کے باطن کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۱ / ۵۱)
اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…جب تک دل میں تصدیق نہ ہو اس وقت تک ظاہری اعمال مؤمن ہونے کے لیے کافی نہیں۔
(2)… جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب منافقین ہیں۔
(3)… یہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے کھلے کافروں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔
{وَ مِنَ النَّاسِ:اورکچھ لوگ۔}منافقوں کو ’’کچھ لوگ‘‘کہنے میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات اور انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتابلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں۔ اسی لئے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو محض انسان یا صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنے میں ان کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔اگرآپ قرآن پاک مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنا کفار کاطریقہ ہے جبکہ مسلمان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ عظمت و شان سے کرتے ہیں۔
21/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
{خَتَمَ اللّٰهُ: اللہ نے مہر لگادی۔} ارشاد فرمایا کہ ان کافروں کا ایمان سے محروم رہنے کاسبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے جس کی بناء پر یہ حق سمجھ سکتے ہیں نہ حق سن سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے نفع اٹھاسکتے ہیں اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے جس کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی وحدانیت کے دلائل دیکھ نہیں سکتے اور ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۱ / ۲۶)
بعض کافرایمان سے محروم کیوں رہے؟
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ جو کافر ایمان سے محروم رہے ان پر ہدایت کی راہیں شروع سے بند نہ تھیں ورنہ تو وہ اس بات کا بہانہ بناسکتے تھے بلکہ اصل یہ ہے کہ ان کے کفرو عناد ، سرکشی و بے دینی ، حق کی مخالفت اور انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عداوت کے انجام کے طور پر ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگی اور آنکھوں پر پردے پڑگئے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہر ِقاتل کھا لے اور اس کے لیے دوا فائدہ مند نہ رہے اور طبیب کہہ دے کہ اب یہ تندرست نہیں ہوسکتا تو حقیقت میں اس حال تک پہنچانے میں اس آدمی کی اپنی کرتوتوں کا ہاتھ ہے نہ کہ طبیب کے کہنے کا لہٰذا وہ خود ہی ملامت کا مستحق ہے طبیب پر اعتراض نہیں کرسکتا۔
20/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: بیشک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ،یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ:بیشک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے ان کے لئے برابر ہے ۔}چونکہ ٹھنڈک کی پہچان گرمی سے ، دن کی پہچان رات سے اور اچھائی کی پہچان برائی سے ہوتی ہے اسی لئے اہل ایمان کے بعدکافروں اور منافقوں کے افعال اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ان کی پہچان بھی واضح ہوجائے اور آدمی کے سامنے تمام راہیں نمایاں ہوجائیں۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ کفار،ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی مخالفت کرنے کے عذاب سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ،یہ کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ یہ لوگ ایمان سے محروم ہیں۔(جلالین مع جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۱ / ۲۰-۲۱)
کفر کی تعریف اورازلی کافروں کو تبلیغ کرنے کا حکم دینے کی وجہ:
یہاں دو باتیں ذہن نشین رکھیں :
(1)… ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار یا تحقیر و استہزاء کرنا کفر ہے اورضروریاتِ دین ، اسلام کے وہ احکام ہیں ،جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت، نماز، روزے ، حج، جنت،دوزخ ، قیامت میں اُٹھایا جانا وغیرہا۔ عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو علماء کے طبقہ میں شمار نہ کئے جاتے ہوں مگر علماء کی صحبت میں بیٹھنے والے ہوں اورعلمی مسائل کا ذوق رکھتے ہوں ،اس سے وہ لوگ مراد نہیں جو دور دراز جنگلوں پہاڑوں میں رہنے والے ہوں جنہیں صحیح کلمہ پڑھنا بھی نہ آتا ہو کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اِس دینی ضروری کو غیرضروری نہ کردے گا، البتہ ایسے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ ضروریاتِ دین کاانکار کرنے والے نہ ہوں اور یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے اور ان سب پر اجمالاً ایمان لائے ہوں۔(بہارِ شریعت، ۱ / ۱۷۲-۱۷۳، ملخصاً)
(2)… ایمان سے محروم کفار کے بارے میں معلوم ہونے کے باوجود انہیں تبلیغ کرنے کاحکم اس لئے دیاگیا تاکہ ان پر حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا‘‘(النساء: ۱۶۵)
ترجمۂ کنزالعرفان:(ہم نے )رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے)تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی )نہ رہے اور اللہ زبردست ہے،حکمت والا ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
’’وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى‘‘ (طہ: ۱۳۴)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے؟
نیز انہیں تبلیغ کرنے سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہواکہ وہ اگرچہ ایمان نہیں لائے لیکن حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو انہیں تبلیغ کرنے کا ثواب ضرور ملے گا اور یہ بات ہر مبلغ کو پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا کام تبلیغ کرنااور رضائے الہٰی پانا ہے، لوگوں کو سیدھی راہ پر لاکر ہی چھوڑنا نہیں لہٰذا مبلغ نیکی کی دعوت دیتا رہے اور نتائج اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے اور لوگوں کے نیکی کی دعوت قبول نہ کرنے سے مایوس ہونے کی بجائے ا س ثواب پر نظر رکھے جو نیکی کی دعوت دینے کی صورت میں اسے آخرت میں ملنے والاہے۔
19/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں ۔
تفسیر: صراط الجنان
{هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ: وہی فلاح پانے والے ہیں۔} یعنی جن لوگوں میں بیان کی گئی صفات پائی جاتی ہیں وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ جہنم سے نجات پاکر اور جنت میں داخل ہو کر کامل کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۱ / ۲۵)
اصل کامیابی ہر مسلمان کو حاصل ہے:
یاد رہے کہ اس آیت میں فلاح سے مراد ’’کامل فلاح‘‘ ہے یعنی کامل کامیابی متقین ہی کو حاصل ہے ہاں اصلِ فلاح ہر مسلمان کو حاصل ہے اگرچہ وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو کیونکہ ایمان بذات ِ خود بہت بڑی کامیابی ہے جس کی برکت سے بہرحال جنت کا داخلہ ضرور حاصل ہوگا اگرچہ عذابِ نار کے بعد ہو۔
18/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔
تفسیر: صراط الجنان
{وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ:اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا ۔ }اس آیت میں اہلِ کتاب کے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب پر اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں پراور انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہونے والی وحیوں پر ایمان لائے اور قرآن پاک پر بھی ایمان لائے۔ اس آیت میں ’’مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ ‘‘ سے تمام قرآن پاک اور پوری شریعت مراد ہے۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۱ / ۱۹، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۲۱، ملتقطاً)
اللہ تعالیٰ کی کتابوں وغیرہ پر ایمان لانے کا شرعی حکم:
یاد رکھیں کہ جس طرح قرآن پاک پر ایمان لانا ہر مکلف پر’’فرض‘‘ ہے اسی طرح پہلی کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جوگزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر پھر بھی ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی کئی شریعتوں میں بیت المقدس قبلہ تھالہٰذا اس پر ایمان لانا تو ہمارے لیے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، یہ حکم منسوخ ہوچکا۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل فرمایا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا ’’فرض عین‘‘ ہے یعنی یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام پر کتابیں نازل فرمائیں اور ان میں جو کچھ بیان فرمایا سب حق ہے۔ قرآن شریف پریوں ایمان رکھنا فرض ہے کہ ہمارے پاس جو موجود ہے اس کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برحق ہے بقیہ تفصیلاً جاننا ’’فرضِ کفایہ‘‘ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کا علم حاصل کرنا فرض نہیں جب کہ علماء موجود ہوں جنہوں نے یہ علم حاصل کرلیا ہو۔
{وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ:اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔} یعنی متقی لوگ قیامت پر اور جو کچھ اس میں جزاوحساب وغیرہ ہے سب پر ایسا یقین رکھتے ہیں کہ اس میں انہیں ذرا بھی شک و شبہ نہیں ہے۔اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا آخرت کے متعلق عقیدہ درست نہیں کیونکہ ان میں سے ہرایک کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگاجیسا کہ سورہ بقرہ آیت 111میں ہے اور خصوصاً یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہم اگرجہنم میں گئے تو چند دن کیلئے ہی جائیں گے، اس کے بعد سیدھے جنت میں جیسا کہ سورہ بقرہ آیت 80 میں ہے۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۱ / ۱۹، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۲۱، ملتقطاً)
اس طرح کے فاسد اور من گھڑت خیالات جب ذہن میں جم جاتے ہیں تو پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے۔
17/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
ترجمہ: وہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ۔
تفسیر: صراط الجنان
{اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ:وہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔}یہاں سے لے کر ’’اَلْمُفْلِحُوْنَ‘‘تک کی 3 آیات مخلص مومنین کے بارے میں ہیں جو ظاہری او رباطنی دونوں طرح سے ایمان والے ہیں ، اس کے بعد دو آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے کافر ہیں اور اس کے بعد 13 آیتیں منافقین کے بارے میں ہیں جو کہ باطن میں کافر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ آیت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا ایک وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔یعنی وہ ان تمام چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جو ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے جیسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا،قیامت کا قائم ہونا،اعمال کا حساب ہونا اور جنت و جہنم وغیرہ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے، اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لاتے ہیں۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ص۲۰، تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱ / ۱۱۴، ملتقطاً)
ایمان اور غیب سے متعلق چند اہم باتیں :
اس آیت میں ’’ایمان‘‘ اور’’ غیب‘‘ کا ذکر ہوا ہے اس لئے ان سے متعلق چند اہم باتیں یاد رکھیں !
(1)…’’ایمان‘‘ اسے کہتے ہیں کہ بندہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین (میں داخل) ہیں اور کسی ایک ضرورت ِدینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں۔(بہارِ شریعت، ۱ / ۱۷۲)
(2)…’’ عمل‘‘ ایمان میں داخل نہیں ہوتے اسی لیے قرآن پاک میں ایمان کے ساتھ عمل کا جداگانہ ذکر کیا جاتا ہے جیسے اس آیت میں بھی ایمان کے بعدنماز و صدقہ کا ذکرعلیحدہ طور پر کیا گیا ہے۔
(3)…’’غیب ‘‘وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اورہم اپنے حواس جیسے دیکھنے، چھونے وغیرہ سے اور بدیہی طور پر عقل سے اسے معلوم نہ کرسکیں۔
(4)…غیب کی دو قسمیں ہیں : (۱) جس کے حاصل ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔یہ علم غیب ذاتی ہے اوراللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اورجن آیات میں غیرُاللہ سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں یہی علمِ غیب مراد ہوتا ہے ۔(۲) جس کے حاصل ہونے پر دلیل موجود ہو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ،گزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور قوموں کے احوال نیز قیامت میں ہونے والے واقعات و غیرہ کا علم۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہیں اور جہاں بھی غیرُاللہ کیلئے غیب کی معلومات کا ثبوت ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے ہوتا ہے۔(تفسیر صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱ / ۲۶، ملخصاً)
(5)…اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کیلئے ایک ذرے کا علمِ غیب ماننا قطعی کفر ہے۔
(6)… اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں جیسے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عِظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم پر ’’غیب ‘‘کے دروازے کھولتا ہے جیسا کہ خود قرآن و حدیث میں ہے۔ اس موضوع پرمزید کلام سورہ ٔ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 179 کی تفسیر میں مذکور ہے ۔
{وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ:اور نماز قائم کرتے ہیں۔}آیت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ظاہری اور باطنی حقوق ادا کرتے ہوئے نمازپڑ ھی جائے۔نماز کے ظاہری حقوق یہ ہیں کہ ہمیشہ، ٹھیک وقت پر پابندی کے ساتھ نماز پڑھی جائے اورنماز کے فرائض، سنن اور مستحبات کا خیال رکھا جائے اور تمام مفسدات و مکروہات سے بچا جائے جبکہ باطنی حقوق یہ ہیں کہ آدمی دل کوغیرُاللہ کے خیال سے فارغ کرکے ظاہروباطن کے ساتھ بارگاہِ حق میں متوجہ ہواوربارگاہِ الٰہی میں عرض و نیاز اور مناجات میں محو ہو جائے۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱ / ۱۱۵-۱۱۷، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱ / ۱۸، ملتقطاً)
نماز قائم کرنے کے فضائل اور نہ کرنے کی وعیدیں :
قرآنِ مجید اور احادیث میں نماز کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے فضائل بیان کئے گئے اور نہ پڑھنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ سورہ ٔ مومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ‘‘(مؤمنون: ۱-۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک(وہ) ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔
اسی سورت میں ایمان والوں کے مزید اوصاف بیان کرنے کے بعد ان کا ایک وصف یہ بیان فرمایا کہ
’’ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ‘‘(مؤمنون: ۹)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
اور ان اوصاف کے حامل ایمان والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(مؤمنون: ۱۰-۱۱)
ترجمۂ کنز العرفان: یہی لوگ وارث ہیں۔یہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
نماز میں سستی کرنے والوں اورنمازیں ضائع کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا‘‘(النساء: ۱۴۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں۔
اور ارشاد فرمایا:
’’فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا‘‘(مریم: ۵۹-۶۰)
ترجمۂ کنزالعرفان:تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غَی سے جاملیں گے مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے میرے اِس وضو کی طرح وُضو کیا پھر اس طرح دورکعت نماز پڑھی کہ ان میں خیالات نہ آنے دے تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب الوضو ء ثلاثًا ثلاثًا، ۱ / ۷۸، الحدیث: ۱۵۹)
حضرت عقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جوبھی مسلمان اچھے طریقے سے وُضو کرتا ہے ،پھرکھڑے ہو کراس طرح دو رکعت نمازپڑھتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے سے متوجہ ہوکر یہ دو رکعتیں ادا کرتا ہے تواس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔(مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الذکر المستحبّ عقب الوضو ء، ص۱۴۴، الحدیث: ۱۷(۲۳۴))
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے نماز پر مداومت کی تو قیامت کے دن وہ نماز اس کے لیے نور ،برہان اور نجات ہو گی اور جس نے نماز کی محافظت نہ کی تو اس کے لیے نہ نور ہے، نہ برہان ،نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون ، فرعون ، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(مسند امام احمد ، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ۲ / ۵۷۴، الحدیث: ۶۵۸۷)
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑی تو جہنم کے اُس دروازے پر اِس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء، ۷ / ۲۹۹، الحدیث: ۱۰۵۹۰)
{وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ: اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں۔}آیت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا تیسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکوٰۃ مراد ہے جیسے کئی جگہوں پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ ہی کا تذکرہ ہے یااس سے مراد تمام قسم کے صدقات ہیں جیسے غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں ، طلبہ ، علماء اورمساجد و مدارس وغیرہا کو دینا نیز اولیاء کرام یا فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کیلئے جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس میں داخل ہے کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں۔
مال خرچ کرنے میں میانہ روی سے کام لیا جائے:
آیت میں فرمایا گیا کہ جو ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اتنا زیادہ مال خرچ کر دیا جائے کہ خرچ کرنے کے بعد آدمی پچھتائے اور نہ ہی خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیا جائے بلکہ اس میں اعتدال ہونا چاہئے ۔اس چیز کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا‘‘(بنی اسرآئیل: ۲۹)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں ، حسرت میں بیٹھے رہ جاؤ۔
اورکامل ایمان والوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا‘‘(فرقان: ۶۷)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تونہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔
16/08/2024
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚
Free Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English Arabic & Urdu Spoken Tutors
📞 Whats App:+923049228442
https://iquraneducation.com/
{الٓمّٓ:}قرآن پاک کی 29سورتوں کے شروع میں اس طرح کے حروف ہیں ، انہیں ’’حروفِ مُقَطَّعَات‘‘کہتے ہیں ، ان کے بارے میں سب سے قوی قول یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ کے راز ہیں اور متشابہات میں سے ہیں ، ان کی مراد اللہ تعالیٰ جانتاہے اور ہم ان کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۲۰، الاتقان فی علوم القرآن، النوع الثالث والاربعون، ۲ / ۳۰۸، ملتقطاً)
حروفِ مُقَطَّعَات کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو حاصل ہے یانہیں :
یہاں یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی حروف مقطعات کا علم عطا فرمایا ہے ،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :قاضی بیضاوی(رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) ’’اَنْوَارُالتَّنْزِیلْ‘‘ میں سورتوں کے ابتدائیہ یعنی حروف مقطعات کے بارے میں فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ ایک راز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے۔تقریبا ًایسی ہی روایات خلفاء اربعہ اور دیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بھی(منقول) ہیں اور ممکن ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے یہ مراد لیا ہو کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے درمیان راز و نیاز ہیں اور یہ ایسے اسرار و رموز ہیں جنہیں دوسرے کو سمجھانامقصود نہیں۔اگر یہ راز حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو معلوم نہ ہو ں تو پھر غیر مفید کلام سے خطاب کرنا لازم آئے گا اور یہ بعید ہے۔(تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۹۳)
امام خفاجی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’(اَنْوَارُالتَّنْزِیلْ کے)بعض نسخوں میں ’’اِسْتَأْثَرَہُ اللہُ بِعِلْمِہٖ‘‘ ہے اور(اِسْتَأْثَرَہُ کی) ضمیر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے لئے ہے اور ’’با‘‘ مقصور پر داخل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو اپنے علم سے (خاص کرکے)معزز و مکرم فرمایایعنی مقطعات کاعلم صرف اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حاصل ہے۔اس معنی کو اکثر سلف اور محققین نے پسند فرمایا ہے۔(عنایۃ القاضی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۷۸، مختصراً، انباء الحی، مطلب المتشابہات معلومۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ص۵۲-۵۳)
علامہ محمود آلوسی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ فرماتے ہیں ’’ غالب گمان یہ ہے کہ حروف مقطعات مخفی علم اور سربستہ راز ہیں جن کے ادراک سے علماء عاجز ہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا، اور خیالات اس تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور اسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:ہر کتاب کے راز ہوتے ہیں اور قرآن مجید کے راز سورتوں کی ابتداء میں آنے والے حروف ہیں۔اورامام شعبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یہ حروف اللہ تعالیٰ کے اسرار ہیں تو ان کاکھوج نہ لگاؤ کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد ان کی معرفت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علوم کے وارث اولیاء کرام کو ہے،انہیں اسی بارگاہ سے (ان اسرار کی) معرفت حاصل ہوتی ہے اور کبھی یہ حروف خود انہیں اپنا معنی بتا دیتے ہیں جیسے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ہاتھوں میں کنکریوں نے تسبیح کے ذریعے کلام کیا اور گوہ اور ہرن حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہم کلام ہوئے جیسا کہ ہمارے آباؤ اجداد یعنی اہلِ بیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے یہ بات (حروف ِ مقطعات کا علم ہونا) صحت سے ثابت ہے بلکہ جب کوئی بندہ قرب ِ نوافل کے درخت کا پھل چنتا ہے تو وہ ان حروف کو اور اس کے علاوہ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے ذریعے جان لیتا ہے۔اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر ان کا کوئی مفہوم نہ ہو تو ان کے ساتھ خطاب مہمل خطاب کی طرح ہو گا۔‘‘یہ بات ہی مہمل ہے اگرچہ اسے کہنے والاکوئی بھی ہو کیونکہ اگر تمام لوگوں کو سمجھانا مقصود ہو تو یہ ہم تسلیم نہیں کرتے اور اگر صرف ان حروف کے مخاطب کو سمجھانا مقصود ہو اور وہ یہاں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں تو اس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا (کہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کا معنیٰ جانتے ہیں )اور اگر اس سے بعض لوگوں کو سمجھانا مقصود ہے تو اربابِ ذوق کو ان کی معرفت حاصل ہے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ امتِ محمدیہ میں کثیر ہیں اور ہم جیسوں کا ان کی مراد نہ جاننا نقصان دہ نہیں کیونکہ ہم تو ان بہت سے افعال کی حکمت بھی نہیں جانتے جن کے ہم مکلف ہیں جیسے جمرات کی رمی کرنا صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا،رمل اور اضطباع وغیرہ اور ان جیسے احکام میں اطاعت کرنا سرِ تسلیم خم کرنے کی انتہا پر دلالت کرتا ہے۔(روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۳۶-۱۳۷)
{لَا رَیْبَ: کوئی شک نہیں۔}آیت کے اس حصے میں قرآن مجید کا ایک وصف بیان کیاگیا کہ یہ ایسی بلند شان اور عظمت و شرف والی کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ شک اس چیز میں ہوتا ہے جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نہ ہو جبکہ قرآن پاک اپنی حقانیت کی ایسی واضح اور مضبوط دلیلیں رکھتا ہے جو ہر صاحب ِ انصاف اورعقلمند انسان کو اس بات کا یقین کرنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ،تو جیسے کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل مخالف کے شک اور انکار کرنے سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔
{هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ :ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔} آیت کے اس حصے میں قرآن مجید کا ایک اور وصف بیان کیا گیا کہ یہ کتاب ان تمام لوگوں کو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور جو لوگ نہیں ڈرتے ، انہیں قرآن پاک سے ہدایت حاصل نہیں ہوتی۔یاد رہے کہ قرآن پاک کی ہدایت و رہنمائی اگرچہ مومن اور کافر ہر شخص کے لیے عام ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 185 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’هُدًى لِّلنَّاسِ‘‘ یعنی قرآن مجید تمام لوگوں کیلئے ہدایت ہے۔لیکن چونکہ قرآن مجید سے حقیقی نفع صرف متقی لوگ حاصل کرتے ہیں اس لیے یہاں ’’هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘ یعنی ’’ متقین کیلئے ہدایت‘‘ فرمایا گیا۔( ابو سعود، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۳۲)
تقویٰ کا معنی:
تقویٰ کا معنی ہے:’’ نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔‘‘ اور شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو جیسے کفر وشرک،کبیرہ گناہوں ، بے حیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانا،حرام چیزوں کو چھوڑ دینا اورفرائض کو ادا کرنا وغیرہ اوربزرگانِ دین نے یوں بھی فرمایا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ تیراخدا تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۹، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۲۲، ملتقطاً)
تقویٰ کے فضائل:
قرآن مجید اور احادیث میں تقویٰ حاصل کرنے اور متقی بننے کی ترغیب اور فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘‘ (اٰل عمران: ۱۰۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔
اور ارشاد فرمایا:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ(۷۰) یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘(احزاب: ۷۰-۷۱)
ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔ اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
حضرت عطیہ سعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’کوئی بندہ اُس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہو گا جب تک کہ وہ نقصان نہ دینے والی چیز کو کسی دوسری نقصان والی چیز کے ڈر سے نہ چھوڑ دے۔(یعنی کسی جائز چیز کے ارتکاب سے ممنوع چیز تک نہ پہنچ جائے۔ )(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۱۹-باب ، ۴ / ۲۰۴-۲۰۵، الحدیث: ۲۴۵۹)
حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے اور کسی عربی کوعجمی پر فضیلت نہیں ہے نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے ، نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے ، نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے مگر صرف تقویٰ سے۔(معجم الاوسط، ۳ / ۳۲۹، الحدیث: ۴۷۴۹)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رَب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:اس بات کا مستحق میں ہی ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور جو مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (دارمی، کتاب الرقاق، باب فی تقوی اللہ، ۲ / ۳۹۲، الحدیث: ۲۷۲۴)
تقویٰ کے مراتب:
علماء نے ’’تقویٰ ‘‘کے مختلف مراتب بیان فرمائے ہیں جیسے عام لوگوں کا تقویٰ ’’ایمان لا کر کفر سے بچنا‘‘ہے، متوسط لوگوں کا تقویٰ ’’احکامات کی پیروی کرنا‘‘ اور’’ ممنوعات سے رکنا ‘‘ہے اور خاص لوگوں کا تقویٰ ’’ہر ایسی چیز کو چھوڑ دینا ہے جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے۔‘‘( جمل ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۱۷)
اوراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ کے فرمان کے مطابق تقویٰ کی سات قسمیں ہیں : (۱) کفر سے بچنا۔ (۲) بدمذہبی سے بچنا۔ (۳) کبیرہ گناہ سے بچنا۔ (۴) صغیرہ گناہ سے بچنا۔(۵) شبہات سے پرہیز کرنا۔ (۶) نفسانی خواہشات سے بچنا۔ (۷) اللہ تعالیٰ سے دورلے جانے والی ہر چیز کی طرف توجہ کرنے سے بچنا، اور قرآن عظیم ان ساتوں مرتبوں کی طرف ہدایت دینے والا ہے ۔(خزائن العرفان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۴، ملخصاً) اللہ تعالیٰ ہمیں متقی اور پرہیز گار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین