Celebrating my 12th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
Dil-e-Nadaan
Its all about
study,Information,love,freindship,poetry,,,,,,,,,,aaallll about relationships and everything........
میں خود سے دور بہت دور جا بسوں گا کہیں
یہ طے تو کر ہی چکا ہوں بہانہ چاہتا ہوں
برونِ ذات کسی سے نہیں ہے خوف مجھے
میں اپنے آپ کو خود سے بچانا چاہتا ہوں
میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے
وصال میں بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رتجگے کی عادت ہے
ہمارے پاؤں پہلے ہی تھکن سے شل پڑے تھے
ابھی ٹھہرے نہیں ٹھیک سے اور چل پڑے تھے
ہمارا نام ہی شامل نہیں تھا مشورے میں
ہمارے پاس ورنہ مسئلوں کے حل پڑے تھے
ہر ایک شخص ترازو اُٹھائے پھرتا ہے
کسی نے ماننا تھوڑی ہے فیصلہ میرا
تُو حل کرے نہ کرے بس یہی بہت ہے مجھے
تیری سمجھ میں تو آیا ہے مسئلہ میرا
نظامِ دل میں کہیں بے دلی رُکی ہوئی ہے
ہنسی سجائی گئی ہے خوشی رُکی ہوئی ہے
بھرا ہے وقت نے ہر زخم فائدے سے مگر
مرے وجود میں تیری کمی رُکی ہوئی ہے
میں جو اداسی کو جھٹک واپس پلٹ آتی ہوں
میری ہنسی کا کچھ سبب تو تیری باتیں ہیں !
آؤ یہ سوچ کر اک تصویر ساتھ بنوا لیتے ہیں
وقت گزر جائے تو باقی فقط یادیں ہیں
ہم اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے ہیں
سو اپنا غم بھی ترے غم کے بعد دیکھیں گے
جا چکا کوئی ؟ یا جانے لگا ہے ؟ یا کچھ اور ؟
جو بھی ہے ! چھوڑ ! مُحرَم کے بعد دیکھیں گے
سب رفتگاں کو بھولنے آئے ہمارے پاس
ہم سے کسی کو پہلی محبت نہیں ہوئی۔۔
یوں ہی ایک تہمت ہے، دشمنوں سے ملتے ہیں
دِل کو زخم زیادہ تر، دوستوں سے ملتے ہیں!
پہلے شوق رکھتے تھے قربتیں بڑھانے کے
اب تو جس سے ملتے ہیں فاصلوں سے ملتے ہیں
کس طرح تجھ سے کہیں کتنا بھلا لگتا ہے
تجھ کو دیکھیں ترے دیدار میں گم ہو جائیں
ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں
ضروری ہے یہی اب تو شکستِ فاش سے پہلے
سسکتی ناتواں خود، راجدھانی ختم کر دوں میں
گلے سے طوقِ ہستی اب اتاروں سامنے تیرے
تیرا احسان، تیری مہربانی ختم کر دوں میں
Click here to claim your Sponsored Listing.