Quran School Online

Quran School Online

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Quran School Online, Tutor/Teacher, .

The main purpose of our Quran school online is to provide a plate form of Quran learning for kids, adults and aged persons against the demand of Global Muslim community.

16/06/2026
10/06/2026

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

05/06/2026

02/06/2026

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت 12 ذوالحج ہے یا 18 ؟؟
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ذوالحج کا بابرکت مہینہ جاری ہے اور اس ماہ میں کئ اہم واقعات رونما ہوئے ہیں انہی واقعات میں سے ایک واقعہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت کا بھی ہے آج کل رافجی اور نیم رافجی حضرات کمزور قول کا سہارا لیکر اور جمہور کے مؤقف کو چھوڑ کر یہ بیان کر رہے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذوالحج کو ہوئ ہے 18 کو نہیں ہوئ 18 ذوالحج عید غدیر ہے تو لوگوں نے اس کی جگہ جان بوجھ کے ہی آپ رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت اسی تاریخ کو مناتے ہیں حالانکہ ایسا درست نہیں جمھور مؤرخین و محدثین کا یہی مؤقف ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت 18 ذوالحج ہی ہے اس پر کچھ دلائل درج ذیل ہیں:
سبط ابن جوزی آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ذكره ابن سعد عن الواقدي فقال: حدثنا محمد بن عمر بإسناده عن عبد الله بن عمرو بن عثمان قال: بُويع عثمان بالخلافة أوَّلَ يوم من المحرّم سنة أربعٍ وعشرين، وقُتل يوم الجمعة لثماني عشرة ليلةً خلت من ذي الحجّة سنة ستّ وثلاثين بعد العصر

ترجمہ: ابن سعد امام واقدی سے سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ یکم محرم الحرام 24ھ کو آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت لی گئی اور 36ھ ذوالحج کی اٹھارہ راتیں گزرنے کے بعد آپ کو عصر کے بعد شہید کیا گیا

*مراۃ الزمان فی تواریخ الاعیان جلد 6 صفحہ 101*

امام ابن الاثیر الجزری اپنی مشہور کتاب اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ میں لکھتے ہیں:
مقتله قتل عثمان رضي الله عنه بالمدينة يَوْم الجمعة لثمان عشرة، أَوْ سبع عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين من الهجرة، قاله نافع.
ترجمہ: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ہجرت کے 35 سال جمعہ کے دن ذوالحج کی 18 یا 17 راتیں گزرنے کے بعد شہید کیا گیا
اس قول کو امام نافع نے ذکر کیا ہے
ایک اور روایت بیان کرتے ہیں:
، عَنْ أَبِي معشر، قَالَ: وقتل عثمان يَوْم الجمعة، لثمان عشرة مضت من ذي الحجة، سنة خمس وثلاثين
ترجمہ: امام ابو معشر کہتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 35ھ جمعہ کے دن 18 ذوالحج کو شہید کیا گیا

*اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 3 صفحہ 585*

مشہور مؤرخ و مفسر امام طبری فرماتے ہیں:
اختلف فِي ذَلِكَ بعد إجماع جميعهم عَلَى أنه قتل فِي ذي الحجة، فَقَالَ بعضهم: قتل لثماني عشرة ليلة خلت من ذي الحجة سنة ست وثلاثين من الهجرة، فَقَالَ الجمهور مِنْهُمْ: قتل لثماني عشرة ليلة مضت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
ترجمہ: امام طبری فرماتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت ذوالحج کے مہینے میں ہوئ اس بات پر تو اتفاق ہے لیکن ذوالحج کی تاریخ میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذوالحج 36ھ کو ہوئ اور جمہور یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذوالحج 35ھ کو ہوئ
پھر امام طبری جمہور کے مؤقف پر دلائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

عن يَعْقُوب بن زَيْد، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قتل عُثْمَان رضي الله عنه يوم الجمعة لثماني عشرة ليلة خلت من ذي الحجة سنة ست وثلاثين بعد العصر،
ترجمہ: یعقوب بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت عصر کے بعد 36ھ 18 ذوالحج کو ہوئ

وَقَالَ أَبُو بَكْر: أَخْبَرَنَا مُصْعَب بن عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قتل عُثْمَان رضي الله عنه يوم الجمعة لثماني عشرة ليلة خلت من ذي الحجة سنة ست وثلاثين بعد العصر
ترجمہ: مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو عصر کے بعد 36ھ 18 ذوالحج کو شہید کیا گیا

وَقَالَ آخرون: قتل فِي ذي الحجة سنة خمس وثلاثين لثماني عشرة ليلة خلت مِنْهُ.
ترجمہ: بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذوالحج 35ھ کو ہوئ

عن عَامِر الشَّعْبِيّ، أنه قَالَ: حصر عُثْمَان بن عَفَّانَ رضي الله عنه فِي الدار اثنتین و عشرین لیلۃ وقتل صبحه ثماني عشرة ليلة مضت من ذي الحجة سنة خمس وعشرين من وفاة رَسُول اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ترجمہ: امام عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 22 دن گھر میں محصور رکھا گیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے 25 سال بعد 18 ذوالحج کی صبح کو شہید کیا گیا
عن أبي معشر، قَالَ: قتل عُثْمَان رضي الله عنه يوم الجمعة لثماني عشرة ليلة مضت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
ترجمہ: امام ابو معشر کہتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 35ھ جمعہ کے دن 18 ذوالحج کو شہید کیا گیا

عن محمد وطلحة وأبي حارثة وأبي عثمان، قالوا: قتل عُثْمَان رضي الله عنه يوم الجمعة لثماني عشرة ليلة مضت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
ترجمہ: امام محمد ، طلحہ ، ابو حارثہ اور ابو عثمان رحمھم اللہ یہ سب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 35ھ جمعہ کے دن 18 ذوالحج کو شہید کیا گیا

ذكر عن هِشَام بن الكلبي، أنه قَالَ: قتل عُثْمَان رضي الله عنه صبيحة الجمعة لثماني عشرة ليلة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
ترجمہ: ھشام بن کلبی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 35ھ 18 ذوالحج جمعہ کی صبح کو شہید کیا گیا

عن مخرمة بن سُلَيْمَانَ الوالبي، قَالَ: قتل عُثْمَان رضي الله عنه يوم الجمعة ضحوة لثماني عشرة ليلة مضت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
ترجمہ: مخرمہ بن سلیمان والبی فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 35ھ 18 ذوالحج جمعہ کے دن چاشت کے وقت شہید کیا گیا

*تاریخ طبری جلد 4 صفحہ نمبر 415 تا 417*

درج بالا تمام روایات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جمہور مؤرخین ، محدثین اور مفسرین کے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت 18 ذوالحج ہی ہے

اللہ پاک امیر المومنین جامع القرآن کامل الحیاء و الایمان حبیب الرحمن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مزار پر انوار پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور ہم سب کو آپ رضی اللہ عنہ کا فیض نصیب فرمائے آمین 🤲

✍️ قرآن سکول آن لائن
16 ذوالحج 1447ھ
بمطابق 2 جون 2026 منگل

28/05/2026

پلیز اس کو اگے شیئر کریں لائک بھی کریں
Open admission

















26/05/2026

نماز عید کا طریقہ خود بھی پڑھیں سمجھیں اگے شیئر کر دیں












20/05/2026

اگر آپ حفظ کے استاد ہیں؟
تو مندرجہ ذیل تحریر آپ ہی کے لیے ہے۔

یاد رکھیں ! کہ تدریس پارٹ ٹائم جاب نہیں ، یہ قوم کے دماغوں کی سرجری ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ کانپتے ہیں یا اوزار ( علم کے ) پرانے ہوگئے ہیں تو آپ مسیحا نہیں، قاتل ہیں۔ ایک ایسا استاد بننے کے لیے کہ جسے دنیا یاد رکھے، تو آپ کو روایتی " مولا بخش " والی سوچ سے نکل کر جدید اصول اپنانے ہوں گے۔

پہلا اصول:
دوست نہیں ، مینٹور بنیں۔ نئے اساتذہ اکثر بچوں کے " دوست " بننے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ پسند کیے جائیں۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے، حالانکہ بچوں کے بہت سے دوست ہوتے ہیں، انہیں ایک رہبر یعنی لیڈر چاہیے، ایک ایسا فاصلہ رکھیں کہ وہ آپ سے اپنی ذاتی بات بھی کر سکیں مگر بدتمیزی کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔

دوسرا اصول:
اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، کوئی بھی بچہ کمزور اور غبی نہیں ہوتا۔ ہمیں ذہین اور کمزور کے فرق کو ختم کرکے ہر بچے کو امّت کی امانت سمجھنا ہے۔ ہم چونکہ صحیح طور پر پڑھا نہیں رہے ہوتے، اسی لیے بچہ کمزور ہی محسوس ہوتا ہے۔
آپ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے پرہیز کریں۔ غبی بچے کو اپنا مرکوزِ توجہ بنائیں، اس پر نئے نئے آئیڈیاز اپنائیں، پیار دیں ، شفقت کا مظاہرہ کریں، بے وجہ انعام سے نوازیں، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ ان شاء اللہ وہ آگے بڑھے گا اور خوب چمکے گا۔

تیسرا اصول:
دوران کلاس بچے جمائیاں لے رہے ہیں یا سو رہے ہیں تو قصوروار بچے نہیں ، آپ ہیں۔ آپ ایک بورنگ ٹیچر ہیں، اپ بچوں سے شور مچا کر ، چیخ کر کام نکلوانے کے عادی ہیں، کلاس کی ابتدا آپ مار پیٹ سے کرتے ہیں۔ لہذا آپ کو خود کو بدلنا ہو گا۔ ہلکے پھلکے انداز میں کلاس کا آغاز کروائیں۔ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے خوب صورت لحن سے نواز ہے تو اپنی آواز میں، وگرنہ سماعتِ قراء سے اپنی کلاس کی ابتدا کریں۔ ابتدا ہی میں بچوں کی درود شریف بآواز بلند پڑھنے کی عادت بنائیں۔ فجر کے وقت سورہ یاسین لازمی پڑھائیں۔ دس سے پندرہ منٹ میں آپ کے بچے فریش نظر آئیں گے ان شاء اللہ۔

چوتھا اصول:
شور مچانے سے پرہیز کریں، چیخیں مت، جتنا ممکن ہو آنکھوں کا استعمال کریں۔ کھیلتے بچے کو پانچ سیکنڈز تک گھور کر دیکھ لینا اس کے لیے کافی ہوگا۔ آپ کی پر اسرار خاموشی آپ کے چیخنے اور چلانے سے زیادہ خوفناک اور موثر ہوگی۔

پانچواں اصول :
اپنی انا کو دروازے پر چھوڑ دیں۔ " یہ بچہ میرے ہی سامنے بیٹھ کر کھیل رہا ہے؟ فلاں بچہ جان بوجھ کر آس پاس دیکھتا ہے اور میرے دیکھتے ہی پڑھنے لگتا ہے؟ یہ بچہ پورا دن چپ کرکے بیٹھتا ہے؟ یہ بچہ پورا دن پڑھتا ہے، یاد کرتا ہے مگر پھر بھی کچھ نہیں سنا رہا؟ فلاں بچہ بار بار چھٹیاں کر رہا ہے؟"
یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے آگے اساتذہ ہار جاتے ہیں اور اپنی انا کے آگے مار کھا جاتے ہیں ، جس سے ننھے منّے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔
محض انا کی تسکین کے لیے گالیوں اور طعنوں سے شروع ہونے والا سلسلہ پھر تھپڑوں اور گھونسوں تک جا پہنچتا ہے۔

پیارے قراء کرام ! آپ ان سوالات کے جواب تھپڑوں، ڈنڈوں اور مکوں کے ذریعے ہرگز مت ڈھونڈیں۔ ایک دفعہ بچے کو اپنے پاس بلائیں۔ مسکرا کر بات کریں۔ پیار سے پوچھیں تو آپ حقائق جان کر حیران رہ جائیں گے۔ ننھی جان بیک وقت کئی طوفانوں کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہے۔ گھر سے بے گھر ہونے کا دکھ ، غربت کا دکھ ، ذہنی و جسمانی طور پر پریشانیاں یہ سب وہ علامات ہوتی ہیں کمزوری اور غبی ہونے کی، جس پر اساتذہ چشم پوشی اختیار کر جاتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں۔

معصومیت اور سادگی کی چادر میں لپٹے معصوم ذہن کب سے ایک جلالی طبیعت استاد کے مزاج شناس بن گئے؟ تھوڑا نہیں پورا سوچیں ! ننھی کونپلوں کو اُگنے دیں ، اپنے ہی ہاتھوں سے نہ مسلیں۔❤️

بہت شکریہ
خادم القران
جناب قاری محمد مظہر صاحب

18/05/2026

Breaking News

پاکستان میں ذُوالحج کا چاند نظر آگیا، پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ انشاءاللّٰہ 27 مئی بروز بدھ کو ہوگی

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone