28/10/2025
نہم کلاس پنجاب بورڈ سمارٹ سلیبس ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک ڈاؤن لوڈ کریں۔
-
Major Update: New 9th Class Smart Syllabus 2025-2026 is HERE! (Punjab Boards). Punjab Education, Curriculum, Training & Assessment Authority by smart syllabus 2025-26 9th class New course download.
24/10/2025
پیکٹا سے منظور شدہ اسمارٹ سلیبس؛ حذف شدہ مواد، مشقی سوالات، پیئرنگ اسکیمز اور ماڈل پیپرز برائے نہم جماعت (سالانہ امتحانات 2026) درجذیل لنک پر دستیاب ہیں۔
https://drive.google.com/file/d/1BoTX3FKFbxFMGMNGIsvBkVC9PFzr7Vr_/view?usp=sharing
اسی طرح میٹرک ٹیک (نہم جماعت) کے لیے منظور شدہ پیئرنگ اسکیمز اور ماڈل پیپرز بھی درجذیل لنک پر جاری کر دیے گئے ہیں۔
https://drive.google.com/file/d/1A8Dt_4xwGsA8vDLW2gpSeZ9BMUgMo9a9/view?usp=sharing
اسمارٹ سلیبس طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے امتحانی تیاری کے عمل کو مزید منظم، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔
ALP Grade-9, Pairing Schemes & Model Papers.pdf
18/08/2025
100 AI Tools You Can’t Ignore in 2025
1. ChatGPT.com – solves anything
2. Claude.ai – conversational assistant
3. Perplexity.ai – research with sources
4. MidJourney.com – generate breathtaking art
5. Leonardo.ai – hyper-realistic images
6. Runwayml.com – AI video editing
7. Replit.com – write and run code
8. Cursor.so – AI coding IDE
9. Blackbox.ai – AI for developers
10. Tabnine.com – coding autocomplete
11. Manus.im – build apps with text
12. Canva.com – design anything with AI
13. Gamma.app – AI-powered presentations
14. Tome.app – instant slide decks
15. MagicSlides.app – auto-build slides
16. SlidesAI.io – text to presentations
17. Synthesia.io – AI video presenters
18. HeyGen.com – avatars that talk
19. D-ID.com – face animations
20. Pictory.ai – text to video
21. Opus.pro – long video into shorts
22. Fliki.ai – faceless video creator
23. Descript.com – edit video like docs
24. Gling.ai – YouTube video editor
25. Wisecut.video – auto-edit with AI
26. Veed.io – online AI video suite
27. Clipchamp.com – quick video creation
28. Lumen5.com – AI-powered social video
29. Steve.ai – cartoon explainer videos
30. Synths.video – convert blogs into videos
31. Soundraw.io – instant music
32. Suno.com – AI music generation
33. Boomy.com – make songs in seconds
34. AIVA.ai – cinematic compositions
35. Beatoven.ai – royalty-free tracks
36. Mubert.com – background soundscapes
37. Riffusion.com – music from text
38. Sonantic.io – emotional voices
39. ElevenLabs.io – realistic voice cloning
40. Play.ht – text-to-speech
41. Murf.ai – professional voiceovers
42. Speechelo.com – humanlike voices
43. Speechify.com – listen to any text
44. Otter.ai – live meeting notes
45. Fireflies.ai – meeting transcription
46. Krisp.ai – remove background noise
47. Notion.so – AI productivity hub
48. ClickUp.com – task management AI
49. Taskade.com – productivity with AI
50. Airtable.com – AI databases
51. Motion.so – smart calendar + tasks
52. Personal.ai – your AI memory
53. Superhuman.com – AI email assistant
54. Typewise.app – email + reply AI
55. Compose.ai – write emails faster
56. Anyword.com – data-driven ad copy
57. Jasper.ai – full-scale content creation
58. Copy.ai – marketing copy in seconds
59. Writesonic.com – blogs, ads, chat
60. CopySmith.ai – ecommerce copy
61. Hypotenuse.ai – product descriptions
62. Peppertype.ai – instant ideas
63. Scalenut.com – long-form blogs
64. MarketMuse.com – SEO content planning
65. Frase.io – optimize content
66. SurferSEO.com – rank higher on Google
67. InkForAll.com – SEO + writing
68. Cohesive.so – AI editing hub
69. Creaitor.ai – blogs + ads
70. Quillbot.com – rewrite text
71. Wordtune.com – rephrase with clarity
72. Outwrite.com – grammar and style
73. Harpa.ai – ChatGPT inside Chrome
74. Browse.ai – web scraping bots
75. Godmode.space – autonomous AI agents
76. AutoGPT.net – AI problem solving
77. FunnelFreedom.io – automated funnels
78. Adcreative.ai – ad visuals with AI
79. CopyMonkey.ai – Amazon listings
80. Flair.ai – brand designs
81. Hotpot.ai – AI image editing
82. Cleanup.pictures – remove objects
83. Remove.bg – background remover
84. FaceSwap.ai – swap faces instantly
85. Fastphoto.io – AI headshots
86. PicWish.com – photo editing
87. VanceAI.com – image enhancement
88. Recraft.ai – vector + design assets
89. Sociable.how – viral comments
90. Threadmaster.ai – viral threads
91. Webinarkit.com – AI webinars
92. Capsho.com – podcast repurposing
93. Fastread.io – ebooks from text
94. NotebookLM.google.com – text to podcast
95. Descript.com – podcast editing
96. Podium.page – summarize sales calls
97. Zubtitle.com – captions for video
98. Cohere.ai – large language models
99. Grok.com – personal AI assistant
100. Claude.ai – advanced AI chatbot
Save this.
ChatGPT
A conversational AI system that listens, learns, and challenges
06/08/2025
وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
11/06/2025
2030 تک پاکستان اور بھارت کے تمام بڑے شہر دنیا کے گرم ترین شہر بن جائیں گے، لگ بھگ 50 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوں گے۔ 2050 تک یہ حال ہو چکا ہو گا کہ گرمیوں میں باہر نکلنا موت کو دعوت دینے جیسا ہوگا۔
کلائمیٹ چینج (CLIMATE CHANGE) حقیقت ہے، لیکن صرف درخت لگا کر یہ پلٹنے والا نہیں۔
واحد حل کاربن امشنز کو صفر کرنا ہے، جس میں فاسل فیول، پرانے وہیکلز اور کوئلے کے پلانٹس کا خاتمہ لازم ہے۔
انڈسٹری کو زیرو کاربن ماڈل پر منتقل کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
شہری کنکریٹ کے جنگل اور بے ہنگم ترقی نے زمین کو تندور بنا دیا ہے۔
سچ یہ ہے: کلائمیٹ کی جنگ ہم ابھی تک بری طرح ہار رہے ہیں۔
01/01/2025
نئے سال میں ”سوچ کی طاقت“ آزمائیں
احمد پسماندہ علاقے کا رہنے والا جوان تھا، وہ ذہین تو نہیں تھا لیکن کتابوں سے شدید محبت کرتا تھا۔ اس کا باپ ڈرائیور تھا جو دکانداروں کو سبزیاں سپلائی کرتا تھا۔ احمد نے بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی، اس کے بعد گھریلوحالات اسے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ وہ گاؤں کے چھوٹے سے میڈیکل اسٹور پر کام کرنے لگا۔ ایک دن دکان کے مالک سے کوئی شخص ملنے آیا۔مالک نے احمد کو کسی کام سے بھیجا تھا جب وہ واپس آیا تو مہمان جاچکا تھا لیکن میز پر اپنی کتابیں بھول گیا تھا۔ کتابیں دیکھ کر احمد کے مطالعہ کرنے کا شوق بیدار ہوگیا۔ وہ دکان کے کام سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ کتاب بھی پڑھتا رہا، شام تک وہ اچھا خاصا مطالعہ کرچکا تھا۔ چھٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے وہ کتاب کے بارے میں سوچ رہا تھا، ایک جملہ بار بار اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ ”انسان جیسے سوچتا ہے، ویسے اس کی زندگی بن جاتی ہے۔“ یہ جملہ آواز بن کر رات بھر اس کے دماغ میں گونجتا رہا۔ اگلے روز دکان جاکر اس نے پوری کتاب پڑھ ڈالی اور تب اسے معلوم ہوگیا کہ محنت کے باوجود اس کی زندگی کیوں نہیں بدل رہی۔ دراصل اپنی غربت اور کسمپرسی دیکھ کر اسے یقین ہوگیا تھا کہ میری زندگی میں کبھی خوش حالی نہیں آسکتی، لیکن اب وہ اس سوچ سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔ اس نے زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کامیاب کاروبار، عزت، خوش حالی اور سکون بھری زندگی کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور روز ان خیالات کی مشق کرنے لگا۔ چند روز بعد دکان میں ایک تاجر آیا۔ اسے ایک محنتی شخص کی ضرورت تھی۔ احمد نے مالک سے اجازت لی اور تاجر کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ اس نے اپنی محنت اور مثبت سوچ سے تاجر کا دل جیت لیا، تاجر کا کاروبار پھیلنے لگا تو اس نے احمد کو اپنا شریک بنا لیا، لیکن کچھ عرصے بعد کاروبار بھاری نقصان کا شکار ہوگیا۔ تاجر کمزور دل شخص تھا، وہ یہ نقصان برداشت نہ کرسکا، اس نے احمد کو قصور وار ٹھہرا دیا اور اس کے اوپر خیانت کا الزام بھی لگا دیا۔ احمد کو کاروباری نقصان کے ساتھ ساتھ جذباتی تکلیف بھی برداشت کرنا پڑی۔ تاجر کا دباؤ آئے روز بڑھ رہا تھا۔ اگلے چند ہفتے شدید پریشانی اور اذیت میں گزرے لیکن احمد نے منفی جذبات کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ ایک دن اس نے حالات کاسامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ تاجر کے پاس گیا، اسے بتایا کہ میں نے تمھارے ساتھ بددیانتی نہیں کی لیکن میں پھر بھی اخلاقی طور پر نقصان کی تلافی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ احمد نے اپنا گھر بیچا، اس میں سے آدھی رقم تاجر کو دی اور آدھی رقم سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس نے شکرگزاری کے احساسات بڑھائے، اپنے خیالات کو زیادہ سے زیادہ مثبت بنایا اور اس یقین کے ساتھ کام کرنے لگا کہ ایک دن میں اپنے علاقے کا سب سے بڑا تاجر بنوں گا۔ اس نے محنت اور دیانت پر سمجھوتا نہیں کیا۔ اس کی خوش اخلاقی اور ایمان داری سے متاثر ہوکر بڑے بڑے تاجر اس کے ساتھ بیوپار کرنے لگے، اس کی محنت کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے، کاروبار بڑھنا شروع ہوگیا تو اس نے دوتین دکانیں لیں اور ملازم بھی رکھ لیے۔ جب دکانوں سے اچھی آمدن آنا شرو ع ہوگئیں تو اس نے دوسرے قریبی شہر میں بھی دکان کھول لی۔ یہاں کچھ عرصے میں اس کے کاروبار کو چار چاند لگ گئے اور اگلے پانچ برس میں وہ شہر کا سب سے بڑا تاجر بن چکا تھا۔
معروف فرانسیسی شاعر اناٹلی فرانس (Anatole France) کہتا ہے کہ عظیم چیزیں حاصل کرنے کے لیے فقط محنت کافی نہیں، خواب بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ صرف منصوبہ بندی کافی نہیں، اپنی ذات پریقین بھی کرنا پڑتا ہے۔
نیا سال ہمیشہ ایک نیا آغاز لے کر آتا ہے۔ اس میں ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نئے سال کو اپنی زندگی کا بہترین اور انقلابی سال بنائے۔ اس مقصد کے لیے وہ لمبی چوڑی منصوبہ بندی کرتا ہے لیکن ایک چیز بھول جاتا ہے۔ سوچ اور خیال کی کو بہتر بنانا۔ زندگی بدلنے کے لیے بہت سی چیزیں ضروری ہیں لیکن سب سے اہم چیز سوچ کی تبدیلی ہے۔ کیوں کہ یہ ایسی طاقتور چیز ہے جو انسان کی زندگی کو بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ آج کی تحریر میں ہم اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ نئے سال میں آپ اپنی سوچ کیسے بہتر بناسکتے ہیں، قانون کشش کو اپنی زندگی میں کیسے شامل کرسکتے ہیں اور اس کے استعمال سے شان دار نتائج کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
قانون کشش کیا ہے؟
یہ ایساقانون ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جو کچھ سوچتے اور محسوس کرتے ہیں، وہی ہماری زندگی میں واقع ہوتا ہے۔ یہ کائناتی قانون ہماری مثبت یا منفی توانائی کو حقیقت میں تبدیل کرتا ہے۔ اگر ہم مثبت سوچتے ہیں اور کامیابی کا یقین رکھتے ہیں تو زندگی ہمیں ایسے ہی مواقع فراہم کرتی ہے، اس کے برعکس اگر ہم منفی سوچتے ہیں تو حالات بھی منفی پید اہوں گے اور آئے روزہماری پریشانیوں میں اضافہ بھی ہوتاجائے گا۔
قانون کشش ہماری خواہشات اور اہداف حاصل کرنے میں مددگار بن سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کو مثبت بنائیں اور اپنی توانائی ہدف پر مرکوز رکھیں۔ قانون کشش ہمیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو قبول کریں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور شکرگزاری کی بدولت اپنے خواب و خواہشات کو اپنی طرف کھینچیں۔
قانون کشش کے قوانین
خیال کا قانون
یہ قانون بتاتاہے کہ آپ کی ذہنی کیفیت (سوچ، خیال، گمان) ویسی ہی ہوگی جیسی آپ کی حقیقت ہوگی اور آپ کی حقیقت آپ کی سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ آپ اپنے ارد گردکے بارے میں زیادہ تر جو سوچتے ہیں، وہی آپ کی ذہنی کیفیت ہوتی ہے اور اسی کے مطابق آپ اپنے گرد ”حقیقت“ کو تشکیل دیتے ہیں۔
فراہمی کا قانون
اس قانون کے مطابق ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے، اس دنیا میں وہ سب کچھ پہلے سے موجود ہے۔ قدرت کے پاس ہر چیز کے لامحدود خزانے ہیں اور ہم جو چاہتے ہیں انسے حاصل کرسکتے ہیں۔لہٰذا ہمیں دوسروں سے حسد رکھنے یاان سے نعمتیں چھیننے کی ضرورت نہیں۔
وصولی کا قانون
یہ قانون بتاتاہے کہ ”آپ جو کچھ حاصل کرناچاہتے ہیں، آپ کو سب سے پہلے وہی چیز دینے کی نیت کرنی ہوگی۔“اگر آپ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے اچھے تعلقات والا انسان بننا پڑے گا۔ اگر آپ زیادہ پیسہ چاہتے ہیں تو آپ کو سخاوت کامظاہرہ کرنا ہوگا۔
بڑھوتری کا قانون
اس قانون کے مطابق،جب آپ کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو وہ بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے آپ اپنی زندگی میں جو کچھ بڑھانا چاہتے ہیں، اس کی تعریف کرنا شروع کردیں یعنی آپ کے ذہن میں اس چیز کے مثبت اوصاف ہوں نہ کہ منفی اوصاف اور خامیاں۔
بدلے کا قانون
یہ قانون کہتا ہے کہ ”ہمیں جو کچھ ملتا ہے، وہ براہِ راست اس چیز کانتیجہ ہے جو ہم دیتے ہیں۔“ یہاں دینے سے مراد محض کوئی چیز دینا نہیں بلکہ ہماری نیت اور عمل بھی اس میں شامل ہے۔ ہم کسی کام یا فرد کے بارے میں جو نیت رکھتے ہیں تو وہ بھی ہماری طرف سے ایک ”دینا“ ہے۔
مزاحمت کا قانون
اس قانون کے مطابق، آپ جس چیز کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، وہی چیز آپ کی زندگی میں جاری رہتی ہے۔ اس لیے کہ جب آپ کسی چیز سے نفرت کرتے ہیں تو آپ اس کے بارے میں اکثر سوچتے رہتے ہیں اورخیال کے قانون کے مطابق وہ چیزہماری زندگی میں شامل ہوجاتی ہے۔
معافی کا قانون
جب ہم ناراض ہوتے ہیں تو ہم آگے بڑھنے اور مفید کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ”معافی کا قانون“ہمیں بتاتاہے کہ ہمیں نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی معاف کردینا چاہیے۔
قربانی کا قانون
آپ زندگی میں جوکچھ چاہتے ہیں، اس کے حصول کے لیے آپ کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا۔ یعنی جو خواہش پانا چاہتے ہیں اس کے لیے محنت کرناپڑے گی،وقت کی قربانی دینی پڑے گی۔ قربانی کے بغیر نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔
ہم آہنگی کا قانون
یہ قانون کہتا ہے کہ ہم جو کچھ زندگی میں چاہتے ہیں، اس کے حصول کے لیے ہماری اس چاہت، ہماری نیت، توانائی اور عمل کے درمیان ہم آہنگی اور یگانگت ہونا ضروری ہے، وگرنہ نتائج نہیں ملیں گے۔
اطاعت کا قانون
یہ قانون کہتاہے کہ اگر آپ من چاہی زندگی چاہتے ہیں تو آپ کو درج بالا فطری قوانین کو مکمل طورپر تسلیم کرنا اور ان پر عمل کرنا پڑے گا۔ یہ تمام فطری قوانین اس کائنات میں ہر وقت موجودہیں۔آپ اگر انھیں تسلیم کرلیں توان سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، نہ کریں تونتائج سے محروم رہیں گے۔
نئے سال کے اہداف اور قانون کشش
آپ یقیناً نئے سال کے اہداف متعین کررہے ہوں گے، اس مرحلے پر قانون کشش کو استعمال میں لائیں اورسب سے پہلے اپنے اہداف کا تصورکریں اور یوں محسوس کریں جیسے وہ آپ کو حاصل ہو چکے ہیں۔ یہ طریقہ آپ کی خواہشات کو حقیقت کاروپ دے گا۔
یہ بات یاد رکھیں کہ حقیقی اہداف اور خیالی خواہشات میں فرق کرنا ضروری ہے۔ آپ کے اہداف واضح، قابل پیمائش اور آپ کی قابلیت کے مطابق ہونے چاہییں۔ قانون کشش ان اہداف کو حاصل کرنے میں آپ کا معاون بن سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ آپ اپنے عمل اور عزم کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں۔
شکرگزاری: مثبت توانائی کا ذریعہ
شکرگزاری ایسی طاقت ہے جو مثبت توانائی کو بڑھاتی ہے اور منفی جذبات کو کم کرتی ہے۔ جب ہم اپنے پاس موجود چیزوں کے لیے شکرگزار ہوتے ہیں تو ہماری نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے۔ شکرگزاری ہمارے ذہن کو سکون فراہم کرتی ہے اور ہمیں یہ موقع دیتی ہے کہ ہم زندگی کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دیں۔ شکرگزاری کا طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے دن بھر کی اچھی چیزوں کو یاد کریں، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں۔ روزمرہ زندگی میں اپنے آس پاس کے لوگوں کی تعریف کریں، کوئی آپ کی معمولی مدد بھی کرے تو اس کا شکریہ ادا کریں۔ نئے سال 2025 میں شکرگزاری کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ اس کی بدولت آپ کا یہ سال منفرد، خوش حال اور کامیاب ثابت ہو۔
نئے سال کی کامیابی کے لیے مراقبہ
مراقبہ اور تصورکاری (Visualization) قانون کشش کو مضبوط کرنے کے مؤثر طریقے ہیں۔ مراقبہ آپ کے خیالات کو مرکزیت دیتا ہے اور آپ کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ تصور کاری کی بدولت آپ اپنے مقاصد کو ایسے دیکھ سکتے ہیں گویا وہ وجود میں آچکے ہیں، اسی بنیاد پر وہ بہت جلد آپ کی زندگی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
منفی خیالات سے چھٹکارا
منفی خیالات ہماری توانائی کو ختم کر دیتے ہیں اور ہمیں کامیابی سے دور لے جاتے ہیں۔ نئے سال میں اس بات کا عزم کریں کہ میں منفی خیالات سے چھٹکار اپانے کی کوشش کروں گا۔ مثبت سوچ اپنانے کے لیے مراقبہ بہترین عمل ہے، اس کے ساتھ ساتھ مثبت لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور خود کو ایسے ماحول میں رکھیں جو آپ کے اندر مثبت توانائی پیدا کرے۔ منفی خیالات چھوڑ کرہی آپ قانون کشش کو بہتر ین انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔
وژن بورڈ
وژن بورڈ کا استعمال ایسا موثر طریقہ ہے جس کی بدولت آپ قانون کشش سے شان دار نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک بصری ذریعہ ہے جس میں آپ اپنے خوابوں اور مقاصد کی تصاویر اور الفاظ شامل کرتے ہیں۔ اس کی بدولت آپ کا دماغ ان اہداف کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور آپ کو مسلسل تحریک دیتا ہے۔ اپنے لیے ایک وژن بورڈ بنائیں اور اسے ایسی جگہ رکھیں جہاں آپ اسے روز دیکھ سکیں۔
عمل اور استقامت
قانون کشش صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں بلکہ ان خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے یہ قانون عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ عمل کے بغیر کوئی بھی خواب مکمل نہیں ہوتا۔ نئے سال میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات کریں اور ان پر عمل بھی کریں۔ یہ یاد رکھیں کہ مستقل مزاجی کامیابی کی کنجی ہے۔ جب آپ مسلسل کوشش کرتے ہیں تو آپ قانون کشش کو متحرک کردیتے ہیں، اس کی طاقت آپ کے ساتھ شامل ہوجاتی ہے اور آپ بہت جلد اپنے مقاصد حاصل کرلیتے ہیں۔
نئے سال میں عادات اور تنظیم وقت پر کام کرنے سے پہلے اپنی سوچ پر محنت کیجیے، اسے مثبت بنائیے اور اپنے اندر شکرگزاری کی پختہ عادت پیدا کیجیے۔ اس سال قانون کشش کے اصولوں کو عملی طور پر زندگی میں شامل کیجیے، اس کی بدولت آپ کی زندگی سکون، محبت، مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی سے بھر جائے گی اور آپ کو ایسے شان دار نتائج ملیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔
02/11/2024
نوجوانوں کے لیے میرا مشورہ:
1. اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھیں، یہ آپ کی کامیابی یا ناکامی کا بڑا سبب بنے گا۔
2. فحاشی اور خود لذتی کامیابی کی سب سے بڑی قاتل ہیں۔ یہ آپ کے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
3. شراب سے پرہیز کریں، ورنہ آپ کی عقل ختم ہو جائے گی اور آپ احمقانہ حرکات کریں گے۔
4. اپنے معیار بلند رکھیں اور صرف دستیاب چیزوں پر سمجھوتہ نہ کریں۔
5. اگر آپ کو اپنے سے زیادہ ذہین شخص ملتا ہے، تو اس کے ساتھ مل کر کام کریں، مقابلہ نہ کریں۔
6. آپ کی زندگی کی پوری ذمہ داری آپ پر ہے۔ کوئی اور آپ کے مسائل حل کرنے نہیں آئے گا۔
7. صرف ان لوگوں سے مشورہ لیں جو وہاں ہیں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔
8. پیسے کمانے کے نئے طریقے ڈھونڈیں۔ پیسہ کمائیں اور ان لوگوں کو نظر انداز کریں جو مذاق اڑاتے ہیں۔
9. آپ کو 100 خود اعتمادی کی کتابوں کی ضرورت نہیں، صرف عمل اور خود نظم کی ضرورت ہے۔ خود کو منظم کریں!
10. منشیات اور نشہ سے پرہیز کریں۔
11. یوٹیوب پر ہنر سیکھیں، بجائے اس کے کہ نیٹ فلکس پر فضول مواد دیکھ کر وقت ضائع کریں۔
12. کسی کو آپ کی پرواہ نہیں، اس لیے شرم چھوڑیں، باہر نکلیں اور مواقع پیدا کریں۔
13. آرام سب سے بڑی لت ہے اور ڈپریشن کا سستا راستہ ہے۔
14. اپنے خاندان کو ترجیح دیں۔ ان کی عزت اور پردہ رکھیں۔
15. نئے مواقع تلاش کریں اور اپنے سے آگے لوگوں سے سیکھیں۔
16. کسی پر بھی بھروسہ نہ کریں۔ خود پر یقین کریں۔
17. معجزے کا انتظار نہ کریں، انہیں حقیقت بنائیں۔ آپ ہمیشہ اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے لیکن لوگوں کی رائے نہ سنیں۔
18. محنت اور عزم سے آپ کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ عاجزی آپ کو بلند مقام تک پہنچاتی ہے۔
19. اپنے آپ کو دریافت کرنے کا انتظار نہ کریں، خود کو تخلیق کریں۔
20. دنیا آپ کے لیے رکنے والی نہیں۔
21. کوئی بھی آپ پر کچھ واجب نہیں رکھتا۔
22. زندگی ایک واحد کھلاڑی کا کھیل ہے۔ آپ تنہا پیدا ہوئے اور تنہا دنیا سے جائیں گے۔
23. آپ کا زندگی کا راستہ ایسے بنایا گیا ہے کہ آپ کو ضرورت مند، مایوس اور کمزور محسوس ہو، اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ خود اس سے نکلنے کا فیصلہ کریں۔
24. ہر کوئی آپ کی طرح مخلص اور سچا نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں جو آپ کو استعمال کریں گے اور پھر چھوڑ دیں گے۔
مکمل پڑھیں 👍
23/10/2024
*غصہ اور اس کی کیمسٹری*
جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“
”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ ” لیکن ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں میں قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں ‘ خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جائیں ‘ غسل کرلیں ‘ فون کرلیں ‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیں اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جائیں ‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ عقل ٹھکانے پر آ جائے اور فیصلے کے قابل ہو جائیں ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ منہ نہیں کھولیں
خاموش رہیں اور سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔
____منقول