Dr Muhammad Ishaq Qureshi

Dr Muhammad Ishaq Qureshi

Share

Ex- Vice Chancellor, Mohi-ud-din Islamic University, AJK. Ex-Principal G.C. Faisalabad. Eminent Scholar, Renowned Educationist etc....

Photos from Sahibzada Ghulam Naseeruddin Charagh's post 22/02/2026
17/02/2026

سالار چشت شہنشاہ تصوّف
حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی سئیں
ہم میں نہیں رہے

11/02/2026

ثنا خوان رسولﷺ ، مولانا حسن رضا خان بریلوی رحمۃاللہ علیہ
————————————————————————
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی

برصغیر جب مسلم حکومت زوال پذیر ہوئی تو مقامی آبادی ایک بھیانک اضطراب کا شکار ہوگئی، مرہٹے سر اٹھا نے لگے، سکھ بھی اپنے علاقوں میں حکمرانی کی خواہش پالنے لگے، مسلمان اس کرب سے گزر رہے تھے کہ اُن کا اقتدار باہمی سازشوں اور در پردہ مخاصمت رکھنے والوں کی ریشہ دوانیاں کا ہدف بن گیا تھا، ایسے میں انگریز جو تجارت کے نام، شاہان مغلیہ سے بعض مراعات حاصل کر چکے تھے اپنی حکومت کے خواب دیکھنے لگے، مادی قوت اور مختلف طبقات کے درمیان مسلسل سازش نے حکومت مغلیہ کو کھوکھلا کر دیا اور بادشاہ وقت دلی بلکہ شاہی قلعہ تک محدود ہو گیا، اس پر ایک کراہ پورے مسلمان معاشرہ پر طاری ہوئی اسباب بھی مہیا ہوگئے اور زوال آشنا قوم کا رد عمل تحریک آزادی کی صورت نمودار ہوا۔
1857 ء کی جنگ آزادی اپنوں اور بیگانوں کے بعض منفی حربوں کی وجہ سے ناکام ہوگئی، اس ہر ملت اسلامیہ پر بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت طاری ہو گئی، یہ وہی حالت تھی جو عباسی حکومت کے زوال کے بعد ہلاکو خان کے حملوں سے پیدا ہوئی تھی، زوال یہاں بھی تھا اگرچہ یہاں کا ہلاکو مختلف روپ دھار کر آیا تھا مگر ہوا وہی کچھ جو وہاں ہوا تھا، بے چارگی، بدحالی، پریشاں خیالی اور اپنے آپ پر عدم اعتماد، ایسے میں بغداد کی تباہی کا نوحہ امام صرصری اور امام بوصیری نے پڑھا مگر اُن کی بصیرت نے حوصلہ پانے کا سلیقہ پالا، ھمزیہ اور بردہ اسی حوصلہ پانے کی داستان ہے، برصغیر میں یہی اعتماد، مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے بھائی مولانا حسن رضا خاں نے پیدا کیا، جب سہارے ٹوٹتے ہیں تو عالم پناہ ذات نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یاد آتی ہے اور بے تحاشا آتی ہے۔
ہ بھی حقیقت ہے کہ زوال پذیر قوم میں نظریات کا تصادم بھی ہوتا ہے اور غیر نہیں چاہتے کہ زوال کی تاریکیوں میں کوئی حوصلے اور امید کی کرن دکھا ئی دے، عقائد میں ناپختگی، اعمال میں بے احتیاط اور رویوں میں بغاوت پنپنے لگتی ہے، یہی فضا تھی کہ ان برادران گرامی نے صیانت عقیدہ اور راستی اعمال کا بیڑا اٹھایا اور اس مشن میں پوری قوت سے راہبر بن کر قوم کی راہنمائی کی، مولانا حسن رضا خان بریلوی کے ہاں شعر گوئی نے جہاں عشق و محبت کے متعدد پیرایوں میں ظہور کیا وہاں عقائد و نظریات کے حوالے سے بھرپور کردار انجام دیا،
مولانا حسن رضا خان نے شعری صلاحیت کی ساخت و پرداخت میں برصغیر کے عظیم تر شاعر حضرت داغ دہلوی سے راہنمائی لی، داغ جس کی زبان کی پورے بر صغیر میں دھوم تھی اور جس پر داغ کو خود بھی فخر تھا، مولانا حسن رضا خاں ہی اُن سے اصلاح نہ لیتے تھے اردو کے بہت سے شعراء نے حق شاگردی ادا کیا، علامہ اقبال کو بھی عظمت داغ کا اعتراف ہے اور وہ بھی ایسی نسبت رکھتے ہیں، داغ سے تلمذ نے مولانا کی زبان میں سلاست کے ساتھ ساتھ روز مرہ اور محاورہ کا جو ذوق پیدا کیا ہے وہ بار بار داغ کی یاد دلاتا ہے۔
۔ داغ دہلوی سے زور کلام اور اظہار مدعا کا جو سلیقہ مولانا کو حاصل ہوا اُس کے اثرات بڑے نمایاں ہیں، مگر مولانا تو تو نعت کے شاعر تھے، ثناخوانی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے شعر کا مطلوب گردانتے تھے، اس لئے انہوں نے اپنے برادر اکبر حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مضامین نعت کا بھر پور کسب کیا ہے، خیالات و نظریات کی پوری دنیا فیض رضا سے سرشار ہے جس کو آپ کو ہمیشہ اعتراف بھی رہا، خود فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کو بھی اس وابستگی کا احساس تھا، ان کا اپنا بیان ہے کہ اُن کو یعنی، مولانا حسن رضا خان کو میں نے نعت گوئی کے اصول بتا دیے ہیں، ان کی طبیعت میں ان کا ایسا رنگ رچا کہ ہمیشہ کلام اس معیار اعتدال پر صادر ہوتا، جہاں شبہ ہوتا مجھ سے دریافت کر لیتے۔
مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو مولانا حسن رضا خان کا کلام پسند بھی تھا، اس لئے سنتے اور پڑھتے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ رعائت شریعت میں مسلک رضا پر کاربند تھے، مولانا، مولانا کافی اور مولانا حسن کا کلام سنتے تھے کہ اُن کے فیصلے کے مطابق ان اللہ اول سے آخر تک شریعت کی پابندی ہے، وگرنہ اُن کے خیال میں اکثر دیگر شعراء کا کلام اس صراط مستقیم سے ڈگمگا جاتا ہے۔
مولانا حسن رضا خان کا دیوان ”ذوق نعت“ ان کی شاعری کا نمائندہ ہے، ذوق نعت سے 1326 ھ کا سن نکلتا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ بھی فاضل بریلوی کی طرح کتابوں کے ناموں میں سنِ اشاعت کے اعداد کا ابجدی اخراج پیش نظر رکھتے تھے حتکہ اس کے معروف نام ”صلۂ آخرت“ سے بھی 1326 ہی کا استخراج ہے، ذوق نعت میں الف بائی ترتیب سے نقیہ کلام ترتیب دیا گیا ہے ظاہر ہے حروف کی مناسبت کو قائم رکھنے کے لئے بعض حروف کا ثقل پر شاعر کوبعض مشکلات کا شکار کرتا ہے اس لئے بعض کے ہاں بعض حروف نظر انداز ہو جاتے ہیں مگر مولانا اس شعوری کاوش میں بہت کامیاب رہے ہیں، مشکل زمین میں خیالات کا بہاؤ اور مدح نگاری کا رچاؤ شامل رہا ہے،۔
مولانا حسن رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری میں سراپائے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تذکرہ انتہائی عقیدت اور ہمہ طور اعتراف عظمت کا آئینہ دار ہے، آپ اس اظہار رفعت میں اپنی قوت شعر گوئی کا ہر انداز اپناتے ہیں، لہجہ میں بعض اوقات ایک سرفروشی کا عنصر بہار دینے لگتا ہے تو کبھی مؤدب کلمات کی سراپا عجز قطار ممدوح کی منزلت کا احساس دلاتے ہیں، جاتے، اسی کیف میں ڈوبی ہوئی اک نعت کا تیور دیکھیے۔
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا
طلعت سے زمانہ کو پُرانوار بنایا
نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا
اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع
تو نے ہی اسے مطلع انوار بنایا
کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر
کونین کی خاطر تمہیں سرکاربنایا
عالم کے سلاطین بھکاری ہیں بھکاری
سرکار بنایا تمہیں سرکار بنایا
مولانا کی سطوت شعر اس قدر اثر آفریں ہے کہ ان کا ادا کیا ہوا ہر کلمہ سامع یا قاری کے دل پردستک دیتا ہے، وہ خودوارفتگی میں سرمست ہوجاتے ہیں تو قاری بھی خود مستی میں نہال ہوجاتا ہے، لفظ لفظ گھائل کرتا ہے اور حرف حرف دامن کھینچتا ہے، ایک تیکھے نقوش کی نعت کا سماں دیکھئے۔
سیرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر
سرگزشتِ غم کہوں کس سے تیرے ہوتے ہوئے
کس کے در پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر
مَر ہی جاؤں میں اگر اس در سے جاؤں دوقدم
کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر
ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر
مَر کے جیتے ہیں جو اُن کے در پہ جاتے ہیں حسن
جی کے مَرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر
اور اسی سرشاری میں خیال کی اک نئی جہت اور اظہار کا اک منفرد پیرایہ اختیار کرگئے:
بے لقائے یار اُن کو چین آجاتا اگر
بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر
مولانا کو مشکل زمین میں شعر کی قدرت حاصل ہے، حیرت ہوئی ہے کہ سنگلاخ زمین میں سے کس قدر عمدہ موتی رول لیتے ہیں، ایسی شاعری عموما تکلف و آورد کی مثال بنتی ہے مگر مولانا کو شعر گوئی اور اختیار کلمات پر اس قدر قدرت حاصل ہے کہ پتھر بھی چمکنے لگتے ہیں، ذرا اس نعت کا آہنگ دیکھیے۔
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی
منہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف
پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے دَر کے سامنے
گردن جھکی ہوئی تری دیوار کی طرف
روکے گی حشر میں جو مجھے پا شکستگی
دوڑیں گے ہاتھ دامنِ دلدار کی طرف
یا اس نعت کا کیف دیکھئے
جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز
کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا
اب تو یہ گھر پسند یہ در یہ گلی عزیز
شان کرم کو اچھے برے سے غرض نہیں
اس کو سبھی پسند ہیں اس کو سبھی عزیز
استغاثہ، نعتیہ شاعری کا جزو اعظم رہا ہے مولانا حسن رضا کے ہاں فریاد کا ہر رنگ موجود ہے، حیرت ہوتی ہے کہ وہ مشکل طرز ادا میں بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں اور جہاں شعور کی ادائیگی کا گمان غالب ہوتا ہے وہاں بھی بڑی سہولت سے گزر جاتے ہیں، استغاثہ کی اک صورت دیکھیے۔
اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
جیسے ہو بادشاہ کے دَر پہ گدا کی عرض
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے مہر سن لے ذرّ ہ بے دست و پا کی عرض
دُکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں اُنہیں
مقبول کیوں نہ ہو دلِ درد آشنا کی عرض
عظموں میں تقابل کی روش ہر نعت گو کے ہاں موجود ہے، کہ عظیم تر کے تذکرے میں عظمتوں کے تمام نشانوں سے برتر ہونا ہی مقصود ہوتا ہے، یہ تقابل کسی کی تنقیص کا سبب نہ بنے، یہ مدح کا جزو ہے مگر یہ پر خطر راہ ہے کہ اگر جائزے کی روش میں پختگی اور متانت نہیں تو قدم لڑکھڑا جاتے ہیں، مولانا حسن رضا کے ہاں مقابلے کی یہ کی روایت موجود ہے مگر اُن کی علمی وجاہت اور شریعت کے آداب کی آشنائی، اس تقابل میں توازن قائم رکھنے کا سبب بنتی ہے۔ مثلاً:
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوے نبی اچھی نہیں
ذرّہ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
گھٹتی بڑھتی چار دن کی چاندنی اچھی نہیں
اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جائوں حسنؔ
اُن کے دَر سے دُور رہ کر زندگی اچھی نہیں
مدح کے مضامین میں خصائص و شمائل کا ذکر سب نعت گو شعراء کے ہاں محبوب ہے، شاعر کو یہاں خیال آفرینی یا مبالغہ آرائی سے کام نہیں لینا پڑتا اس لئے خصائص کی تعداد حد و شمار میں نہیں، صفات، زمین شاعر کو یوں محیط ہو جاتی ہیں کہ وہ بڑی سہولت سے ان کا انتخاب کر لیتا ہے، یہ ایک سہولت بھی ہے اور امتحان بھی، سہولت اس لئے کہ فضائل کی کثرت ہے، انتخاب میں آسانی ہے مگر امتحان یہ ہے کہ کس خیال کے لئے کس فضیلت کو چن لینا ہے، کثرت، بیاحتیاطی کا باعث بنتی ہے اس لئے عظیم شاعر وہ ہے جو حسن انتخاب کا سلیقہ رکھتا ہو۔
مولانا حسن رضا بریلوی کے ہوں وسعت مطالعہ بھی ہے اس لئے خصائص و شمائل کے انتخاب میں انہیں معلومات کی کمی آڑے نہیں آتی اور ان میں شان نبوت کی رفعتوں کا شعور بھی موجود ہے، اس لئے اُن کے ہاں نہ تنگ دامنی کا احساس ہوتا ہے اور نہ پریشاں خیالی کا، اُن کا ہر شعر کسی مقصود کا پتا دیتا ہے اور ان کا ہر حرف با ادب حاضری کا ذوق عطا کر تا ہے، استغاثہ ہو، توسل ہو، بنان رفعت و عظمت ہو یا مدح نگاری ہو، یہ قرینہ ہر مقام پر موجود ہے۔ مثلاً:
؎ ہمارے دست تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں
؎ اَنَا لَھَا سے وہ بازار کسمپرساں میں
تسلّیِ دلِ بے اختیار کرتے ہیں
؎ یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو
؎ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو
؎ فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانیوالی ہے
؎حسنؔ کا دَرد دُکھ موقوف فرما کر بحالی دو
تمہارے ہاتھ میں دنیا کی موقوفی بحالی ہے
؎ دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری
مدینہ منورہ کی محبت، اُس کی فضاؤں کی عطر آفرینی کی آسودگی، در ردیوار سے عقیدت مندانہ لگاؤ اور حاضری دربار کا ارمان، ہر نعت گو کا موضوع رہا ہے، اس میں بڑے عمدہ انداز اپنائیگئے ہیں اور قیمتی خیالات کا اظہار ہوا، مولانا حسن رضا خان کے ہاں خواہش مدینہ اورحاضری مدینہ کی خواہش کا ذوق بھی دلدوز ہے اور وصال کے لمحے بھی روح پرور ہیں، چند شعر دیکھئے خواہش اور تمنا کا آہنگ دیکھیے:
کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
اپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں
دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیں
اثرِ جلوہ رفتار کو کیوں کر دیکھیں
ہم گنہگار کہاں اور کہاں رویتِ عرش
سر اُٹھا کر تری دیوار کو کیوں کر دیکھیں
عطاؤں کے فیض کا منظر دیکھئے
مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے
فقیرو بے نوائو اپنی اپنی جھولیاں بھر لو
کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکارِ عالی ہے
اور پھر شان مدینہ کا والہانہ اظہار،
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہے نثارِ مدینہ
مری خاک یا رب نہ برباد جائے
پسِ مرگ کر دے غبارِ مدینہ
جدھر دیکھیے باغِ جنت کھلا ہے
نظر میں ہیں نقش و نگارِ مدینہ
انتہائے مقصود سلام ہے کہ اسی سے قرب کے دروازے کھلتے ہیں:
اے مدینہ کے تاجدار سلام
اے غریبوں کے غمگسار سلام
رَبِّ سَلِّمْ کے کہنے والے پر
جان کے ساتھ ہو نثار سلام
میرے پیارے پہ میرے آقا پر
میری جانب سے لاکھ بار سلام
میری بگڑی بنانے والے پر
بھیج اے میرے کِردگار سلام

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Abu Bakar Block Muslim Town
Faisalabad
38000