انسان مسلسل اپنے آپکو حدود وقیود یاد دلاتا رہتا ہے ۔قریب ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپکو پارسا سمجھنے لگ پڑے مگر پھر اس سے کوئی خطا سرزد ہوجاتی ہے جو صاحب ایمان کے شایان شان نہیں ، یوں وہ ساتویں آسمان پر قلابازیاں کھانے سے پہلے ہی زمین پر گر جاتا ہے ، اور اپنی اوقات جان لیتا ہے۔
اور یہ جان لیتا ہے کہ نفس تو دیتا ہی برائی کا حکم ہے ۔اورمیں ایسی ذات نہیں ہوں کہ مکمل خطاؤں سے پاک رہوں ،مجھ سے تو بس مسلسل کوشش مطلوب ہے ۔
علینہ کوثر
زادِ علم Zad-e-ilm
اسلام کو سمجھیں، صرف سنیں نہیں
قرآنِ کریم آسان انداز
علم، تربیت اور دعوت
25/07/2026
اپنی کوئی ملک نہ املاک سمجھنا :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت ربیع بن خثیم ؒ مشہور تابعی ہیں، ان کے زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی کے یادگار واقعات تاریخ کی کتابوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں، ایک مرتبہ ان پر فالج کا حملہ ہوا، صاحب فراش ہو گئے، انسان بیمار ہو تو خواہشات کا نخل ہرا ہوجاتا ہے، انہیں مرغی کے گوشت کھانے کی خواہش ہوئی، چالیس دن تک اس کا اظہار نہیں کیا، اس کے بعد بیوی سے کہہ دیا، انھوں نے مرغی منگوائی،عمدہ پکائی، آپ کے سامنے پیش کی، ابھی آپ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازے سے فقیر نے خیرات کی صدا لگائی، آپ نے ہاتھ کھینچا، اہلیہ سے فرمایا : "یہ فقیر کو دے آؤ" اہلیہ نے کہا میں فقیر کو اس سے بہتر چیز دے آتی ہو" فرمایا وہ کیا ؟ کہنے لگی "اس کی قیمت" فرمایا بہت خوب ، قیمت لے آؤ وہ قیمت لے آئیں تو آپ نے فرمایا "یہ کھانا اور قیمت دونوں فقیر سائل کو دے آؤ"۔
(صــفتـه الــصـفوۃ، ج : ۳ ؛ ص : ۳۷)
یہ تھے خواہشات کو کچلنے والے اصحاب بلند ذوق و نظر ، ہوس چھپ چھپ کر ان کے سینوں میں تصویریں کہاں بنا سکتی تھی انیس نے خوب کہا ہے :
امید نہیں جینے کی یاں صبح سے تا شام
ہستی کو یہ سمجھو کہ ہے خورشید لب بام
یاں کام کرو ایسا جو آئے وہاں کام
آجائے خدا جانے کب موت کا پیغام
اپنی کوئی ملک نہ املاک کا سمجھنا
ہونا ہے تمہیں خاک سب خاک سمجھنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں
(صفحہ نمبر 69)
مصنف : ابن الحسن عباسی
25/07/2026
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہارون رشیدؒ کے زمانے میں پورے عالم اسلام کے قاضی القضاۃ تھے، ایک بار ان کے پاس خلیفہ ہارون رشیدؒ اور ایک نصرانی کا مقدمہ آیا، امام نے فیصلہ نصرانی کے حق میں کیا، اس طرح کے درخشاں واقعات تاریخ اسلام کے ورک ورک پر بکھرے پڑے ہیں، لوگ اس کو "دور ملوکیت" کہتے ہیں وہ کس قدر مبارک "دور ملوکیت" تھا ایک طاقتور بادشاہ اور خلیفہ اپنی رعایا میں سے ایک غیر مسلم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں فریق بن کر حاضر ہیں، امام ابو یوسفؒ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو فرمانے لگے :
اے اللہ ! تجھے معلوم ہے کہ میں
نے اپنے زمانئہ قضا میں مقدمات
کے فیصلے میں کسی بھی فریق
کی جانب داری نہیں کی، حتیٰ
کہ دل میں کسی ایک فریق
کی طرف میلان بھی نہیں ہوا،
سوائے نصرانی اور ہارون رشیدؒ
کے مقدمے کے کہ اس میں
دل کا رجحان اور تمنا یہ تھی کہ حق ہارون
رشیدؒ کے ساتھ ہو اور فیصلہ
حق کے مطابق اسی کے حق
میں ہو لیکن فیصلہ دلائل
سننے کے بعد ہارون رشیدؒ کے خلاف کیا"ـ
یہ فرماکر امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ رونے لگے اور اس قدر روئے کہ دل بھر بھر آیا ـ
( الدر المختار : ج ۳۱۳،والقضاء فی الاسلام لعارف النکدی ص ۲۰)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں
(صفحہ نمبر 57)
مصنف : ابن الحسن عباسی
ابن حزم رحمہ اللہ نے فرمایا:
"ہر وہ امید جسے تم نے حاصل کر لیا، اس کا انجام غم ہے؛ یا تو وہ تم سے جدا ہو جائے گی، یا تم اس سے جدا ہو جاؤ گے، اور ان دونوں میں سے ایک کا ہونا ناگزیر ہے!
سوائے اللہ عز و جل کے لیے کیے گئے عمل کے، کہ اس کا نتیجہ ہر حال میں دنیا اور آخرت میں خوشی ہے۔"
[الاخلاق والسیر فی مداواة النفوس ص ۱۳]
فقط دین دار طبقے کے لیے »»»
اگر انسان یہ جان لے کہ اس کا رب اس سے نعمتوں کے متعلق سوال کرے گا۔ تو وہ خواہشوں سے کلی طور پر دست بردار ہو جائے ۔کس قدر دل دہلا دینے والی بات ہے ہم سے ٹھنڈے پانی کے متعلق بھی سوال ہوگا ۔صاحبِ ایمان کی یہی نشانی ہے وہ مال کی کمی پر اور گم نام ہونے پر کبھی نہیں کڑھتا ۔ اگر مسلمان بھی دنیاوی چکا چوند کے پیچھے بھاگنا شروع کردیں گے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو ہم میں اسلام میں سے رہ کیا جائے گا ؟
ایک حقیقی مسلمان کو دنیا پرست ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے لیے اتنی ہی کوشش کرتا ہے جتنی ضروری ہے اور آخرت کے لیے جان لگا دیتا ہے ۔
اگر ہم میں سے کسی کا آخرت پر واقعتاً ایمان ہو تو وہ ہردن ایسے گزارے جیسے آخری ہے ۔اور جس کو یہ یقین ہو جائے پھر بھلا اسکا مال و متاع سے کیا تعلق؟
جن کو مال ودولت سے بے نیاز ہونا چاہیے تھا انہیں ہی اس کی لت لگی ہے تو لوگ کہاں سے سیکھیں گے قناعت پسندی ؟؟قناعت ایسی نعمت ہے جو فقط صاحب ایمان کو عطا ہوتی ہے ۔
اور صاحب ایمان کہاں ہیں ؟
اللهم حاسبنا حسابا يسيرا.
لقا ء ✒️
خدشات انسان کے خون کو نچوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انسان ہمیشہ ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو میں اپنی طرف سے تو رضائے الہٰی پانے کی کوششوں میں رہوں ، اور رب کے ہاں میرے کسی عمل نے تمام گزشتہ اعمال ضائع کردیے ہوں ۔۔۔۔۔کسی کی دل آزاری کے سبب میں ضائع ہو جاؤں
علینہ کوثر
23/07/2026
آج سے یہ کام کرنے ہیں ۔۔
ری ایکٹ کریں، اگر متفق ہیں۔۔ 👍❤️
کل بھی ٹکڑوں پہ ان کے پلتے تھے ۔
اب بھی ٹکڑوں پہ ان کے پلتے ہیں۔
❤️ ❤️ 💙 🧡 💚 ❤️ ❤️
دیکھتے جائیں، مسکراتے جائیں
With كانوا فأصبحوا – I just got recognized as one of their top fans!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Faisalabad