Institution Developers FSD

Institution Developers FSD

Share

Institution Developers is a service provider company. It provides services to all kinds of educational institutions.

07/06/2020

سعید غنی اور مراد راس اس معزز رکن اسمبلی کو ضرور سنیں۔۔
کیونکہ غلطی سے تعلیم کی وزارت آپ کو ملی لیکن ہمارا ایجوکیشن سسٹم کیا ہے؟آپ لوگوں سے زیادہ یہ بہن جانتی ہیں؟
کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش پر رکن صوبائی اسمبلی کی ایک بہترین تقریر جس میں انہوں نے گورمنٹ اور پرائیویٹ اسکولز کے تمام ایشوز پر بات کی۔



03/06/2020

موجودہ صورتحال تیزی سے کسی سانحہ کی طرف بڑھ رہی ہے جس سے تقریباً 90 فی صد اسکولز متاثر ہوں گے۔اگر وزیر تعلیم کا رویہ یہی رہا تو ستمبر 2020 تک50 فی صد ایسے تمام اسکولزجوماہانہ پانچ ہزار سے کم فیس وصول کر رہے ہیں، بند ہو جائیں گے ۔ حالیہ بحران کو سمجھنے کیلئے صرف یہ عرض ہے کہ ہر کام کا ایک Business model اور سالانہ Cycle ہوتا ہے۔ ان 90 فیصد سکولوں کا تعلیمی سال مارچ/ اپریل سے شروع ہوتا ہے۔ امسال داخلے شروع ہوئے اور لاک ڈاون ہو گیا، نئے داخلے نہیں ہوئے، سیشن شروع نہ ہو سکنے سے مارچ کی فیس بھی وصول نہ ہو سکی۔ معیشت کے اجتماعی حالات کی وجہ سے مفاد عامہ میں سالانہ اضافہ بھی نہ ہو سکا لیکن اس سب پر مستزاد یہ ہوا کہ حکومتی غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے والدین نے فیسیں روک لیں اور اس وقت حقیقی تصویر یہ ہے کہ چوتھا مہینہ سر پہ آن پہنچا ہے لیکن ایک ماہ کی فیس بھی پوری وصول نہیں ہوئی۔
ہم نے حکومت کی طرف کبھی کسی رعایت کیلئے نہیں دیکھا بلکہ عملا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہی احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں لیکن اس بحران میں کہ جہاں تعمیراتی، ٹیکسٹائل اور دوسرے شعبوں کو غیر معمولی سہولت دی جا رہی ہےاور اس میں اصول و ضوابط تک کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کالے دھن کیلئے ایمنسٹی اسکیمیں دی جا رہی ہیں، بین الاقوامی امداد آ رہی ہے لیکن بدقسمتی سے پورے ملک میں صرف ایک ہی شعبے سے قربانی لی جارہی ہے جو کہ پانچ ہزار سے کم فیس لینےوالے 90 فیصد سرونگ سکولز ہیں۔ اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ صرف سیاسی چال کے طور پر پنجاب حکومت کی طرف سے 20 فیصد رعایت کا شوشہ چھوڑ دیا گیا یعنی واہ واہ بھی کروانی ہے تو پرائے مال سے۔ ہم نے اس کو بھی پوری طرح قبول کیا بلکہ انفرادی سطح پر مزید رعایات دیں اور ہم جو پہلے سے کئی طرح کی رعایت اور وظائف دے رہے ہیں، حتی کہ کئی طلباء مفت پڑھ رہے ہوتے ہیں، والدین کے انفرادی مسائل میں ہر ممکن تعاون کرتے ہیں، ملک میں ہر طرح کی قدرتی آفت اور آزمائش میں بھی ہراول دستہ ہوتے ہیں توپھر ہم ہی سےمزید قربانی کیوں؟کردار شکنی الگ جاری ہے، نوٹیفکیشن کی بجائے Tweet اور میڈیا ٹاک سے کام چلایا جاتا ہے تا کہ عدالتی کاروائی کا حق بھی نہ مل سکے، پنجاب حکومت کی طرف سے ظالمانہ آرڈیننس لاگو کیا گیا ہے جس سے اضلاع تک کی یکسانیت ختم ہو گئی ہے۔ہر فیصلہ سازی آمرانہ انداز میں متعلقین کے بغیر کی جاتی ہے، حتی کہ غیر آئینی اور غیر اخلاقی قانون سازی کی کوشش بھی جاری ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ تعلیم دینا بہت غلط ہو گیا ہے یا ہمارے فیصلہ ساز حواس کھو بیٹھے ہیں۔ اساتذہ کی تنخواہوں کی بات ہوتی ہے تو اس بھدے انداز میں کہ جیسے سکول نیشنلائز کر لیے گئے ہیں۔ دوسری طرف فیسوں کی وصولی یا سکول چھوڑنے پر کوئی قانون سازی نہیں۔ فیس کے دینے نہ دینے، سکولوں کے کھولنے نہ کھولنے پرشخصی فیصلوں کی وجہ سے وفاقی و صوبائی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے۔ آمرانہ مزاج اور متعلقین سے عدم مشاورت کی وجہ سے بیان کا غلط وقت بھی شدید نقصان کا باعث بن رہا ہے اورشاہانہ زبان ایسی ہے کہ الامان الحفیظ۔
خدارا! اس شعبےکو، 50 لاکھ لوگوں کے روزگار کواور5 کروڑ بچوں کے مستقبل کو بچا لیجیے۔ آپ کی آواز موثر ہے، اس کو خیر اور بھلائی کیلئے اٹھائیے اور کہیں ہماری اصلاح مقصود ہے تو ہم حاضر ہیں۔ اس مقدس شعبے کو فوری مدد کی ضرورت ہے، جس کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کرتے ہیں:
1۔ نجی تعلیمی ادارہ سکول ہو یا مدرسہ، کالج ہو یا یونیورسٹی، جس کے متعلق کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی مقصود ہو، متعلقین کو تناسب سے شامل کیا جائے۔ زیادہ بہتر ہے کہ حکومت موجودہ حالات میں مختلف سطح پر ہفتہ وار (کم از کم) مشاورت کے فورم تشکیل دے۔
2۔ فیصلہ سازی، خصوصا ًسکول کھولنے نہ کھولنے میں ماہرین صحت کی رائے، اس عمر کے عالمی اور ملکی اعداد و شمار اور دیگر ملکوں کے طریقوں کو مد نظر رکھا جائے۔ الحمد للہ، 17 سال سے کم عمر افراد/ بچوں میں یہ بیماری اور اموات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مشاورت کے فورم میں ایسے ماہرین کو باقاعدہ شامل کر لیا جائے۔
3۔ ماضی گواہ ہے کہ جب بھی SOP کی بات ہوئی، پرائیویٹ سکولوں نے من و عن عمل کیا بلکہ اپنی استعداد سے اسے زیادہ بہتر کیا۔ موجودہ صورتحال میں کہ بازار کھلے ہیں، مالز کھلے ہیں، ٹرانسپورٹ کھل رہی ہے اور اب تو ریستوران تک کھل رہے ہیں جبکہ SOP پر عملدرآمد سب کے سامنے ہے۔ ماضی کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ:اگر کہیں SOPs پر یقینی عملدرآمد ہو گا تو وہ ان شاء اللہ سکول ہوں گے۔اس لیے SOP بنا کر سکول بھی کھول دئیے جائیں۔
4۔ فیصلہ سازی میں، متناسب نمائندگی میں، فیس کے فرق اور دیگر معاشی و معاشرتی تفریق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔پنجاب حکومت متنازعہ آرڈیننس کو واپس کرے۔
5۔ سکول سب سے زیادہ متاثر بھی ہیں اور سب سے زیادہ رعایت بھی دے رہے ہیں۔ ان کو واضح ریلیف پیکج دیا جائے۔
6۔ فیسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اب تک 4 ماہ کے بقایا جات ہو چکے ہیں جو مزید بڑھیں گے، ایسی صورتحال میں سکول کھلنے پر والدین بچوں کو باقی بچ جانے والے سکولوں میں سے کسی اور میں داخل کروا دیں گے۔ اس پر حکومتی سطح سے واضح مشاورت، حکمت عملی، فیصلہ سازی بلکہ ضرورت پڑنے پر قانون سازی اور اس کے مطابق رائے عامہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔
7۔ واضح رہے کہ پانچ ہزارسے کم فیس والے سکولوں کے پاس اب عمارات کے کرایوں، اساتذہ اور سٹاف کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے رقم نہیں ہے۔ ریلیف پیکج اور ہر طرح کے ٹیکسوں کے خاتمے کے علاوہ بلا سود قرض بھی فوری فراہم کیا جائے۔
9۔ امتحانی بورڈز نے امتحانی فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کئے ہوئے ہیں جن کا کوئی استعمال نہیں ہوا۔ اس رقم اور مزید سرمائے کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے کثیر تعداد میں اور مسلسل ٹیسٹ کئے جائیں اور ان کی قوت مدافعت بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
10۔ کبھی دہشت گردی کے باعث سکول بند، کبھی سموگ کا مسئلہ، کبھی انتہائی موسم، جولائی ،اگست میں ڈینگی اور ملیریا۔۔ کیا حکومت اس کیلئے ابھی سے تیار ہے؟ خدارا! نئی نسل کو ان غیر یقینی کیفیات کیلئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار کریں ورنہ خدانخواستہ مستقبل میں کمزور شخصیات کیلئے تیار رہیں۔ ہم اس ضمن میں بھی ہر طرح سے حاضر ہیں۔
11۔ پرائیویٹ سکولز نے ہمیشہ حکومتی اقدامات پر سر تسلیم خم کیا ہے۔ کبھی کسی ایسوسی ایشن کی بہت ضرورت محسوس نہیں کی گئی یا شاید حکومت کا اس طرح کا منتقم مزاج رویہ کبھی نہیں رہا۔ کچھ دوستوں کے مشاورت اور تھنک ٹینک نما فورم یقینا موجود ہیں جوکہ باعث احترام ہیں۔

03/06/2020

ان سفید پوش لوگوں کے بارے میں سن دل خون کے آنسو رو رہا ہے😥
لاک ڈاون کی وجہ سے سکولز بند ہونے اور والدین کی طرف سے فیسوں کی عدم اداٸیگی پہ معاشی مساٸل کا شکار سکول ٹیچر۔۔۔
سنیے ایک پراٸیویٹ سکول ٹیچر کی کہانی۔۔۔اسکی زبانی۔
Support_Schools


01/06/2020

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاسکولز اگست تک بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے قانونی وعدالتی چارہ جوئی کا فیصلہ!

1۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےچیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف،وزیر اعظم،وزرااعلی،گورنرز سےاپیل کی کہ SOPs کے تحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولز بھی کھولے جائیں :کاشف مرزا

2۔پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے پرائیویٹ سکولزکھولنے کے لیے عالمی معیار کے SOPs تیار اورجاری کر دیے ہیں:کاشف مرزا

3۔ لاک ڈاؤن باعث5کروڑطلباکےتعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن ہے۔2.5کروڑ پاکستانی بچےپہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔ مزید 5کروڑبچوں کے اضافہ سےکل7.5 کروڑ پاکستانی بچوں کوآئینی تعلیمی حق سے محروم کردیاگیا۔جن میں50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے! کاشف مرزا

4۔کرونا سے شدیدمتاثرممالک میں تعلیمی ادارے کھلےہیں، چین کےصوبےووہان،سپین،انگلینڈ،انڈیا،ایران، بنگلہ دیش،سری لنکا سمیت امریکہ، روس،ڈنمارک،فرانس،سوئٹزرلینڈ، آسٹریا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،جرمنی،جاپان،کوریا،سعودی عرب،اسرائیل ،ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں،تو پاکستانی بچےتعلیم سے محروم کیوں؟ کاشف مرزا

5۔ سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا10اور2شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں:کاشف مرزا

6۔نجی سکولز،پیف وپیماکا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔اگست تک تعلیمی اداروں کی بندش سے 50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بےروزگارہوجائینگے۔کاشف مرزا

7۔ وزیر تعلیم پنجاب مراد راس تعلیم دشمن اور حکومت کی بدنامی کا باعث ہے،فوری بر طرف کیا جائے۔خودکشی کرنے والےٹیچر کی موت کا ذمےداروزیرتعلیم مراد راس ہے:کاشف مرزا

8۔ٹیچرز تنخواہیں اور90فیصد اسکولزعمارتیں کےکرائے فکسُ ہیں۔وزیراعظم ٹیچرز کیلیے’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘کااعلان کریں: کاشف مرزا

9۔ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے،قومُ تعلیم سے بنتی ہے,ڈروخوف سے نہیں!سب کچھ کھل گیاتو پھرسکولز بند کیوں؟ کاشف مرزا

10۔ امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟آن لائن تعلیم اورتعلیم گھر ٹی وی اک فلاپ ڈرامہ!

10۔ ہر بچہ کو زندگی میں مساوی مواقع میسر آنے چاہیں۔تعلیم ہر بچے کاآئینی حق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے:کاشف مرزا

11۔ بچوں کواستاداور سکول دو! تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے 2025 تک مزید 20 لاکھ اساتذہ بھرتی کرنا ہوں گے : کاشف مرزا

12۔تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات نہیں ہے!کاشف مرزا

13۔ بورڈ امتحانات منسوخ کرنے اورطلبا کا مستقبل برباد کرنےکی بجائےامتحانات سماجی فاصلےبرقرار رکھ کرکیے جائیں:کاشف مرزا

14- بورڈز فیس کی مد میں 45لاکھ طلباسےوصول شدہ25ارب روپےواپس کریں:کاشف مرزا

15۔ حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے۔فیسوں کے حوالےسے حکومت سندھ اورپنجاب کا فیس میں 20فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن وآرڈیننس آئین کےآرٹیکل 18,8،5,4,3, 25(1)،37اور38 سےمتصادم، امتیازی وغیر قانونی ہے:کاشف مرزا

16۔ انسانیت کے جذبہ اور ملک بھرکے مستحق طلبا کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کیا،وزیر اعظم پاکستان و وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ سنٹرزاور 15لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کی گئی۔ :کاشف مرزا

17۔ چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف اور وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل:کاشف مرزا
Forward as received...

31/05/2020

فیصل آباد میں نجی سکولز کی جواٸنٹ ایکشن کمیٹی کی سی۔ای۔او ایجوکیشن سے میٹنگ۔۔۔ ایس او پیز کے مطابق جلد از جلد سکولز کھولنے کا مطالبہ۔۔۔
پراٸیویٹ سکولز اس کو درپش مساٸل اور انکے حل بارے سفارشات پہ تفصیلی گفتگو کی گٸی۔۔۔

29/05/2020

آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان وزیر تعلیم مصطفی بشیر کی پراٸیویٹ تعلیمی اداروں بارے گفتگو سنیں۔۔۔
بہترین موقف پیش کیا ہے سر۔۔۔ویل ڈن۔
بات صرف شعور اور دور اندیشی کی ہوتی ہے۔ ورنہ کٸی لوگ تو عہدے حاصل کرنے کے باوجود بے مراد ہی رہتے ہیں۔
👍👍👍



28/05/2020

*مرادراس کو تعلیم دشمنی میں اعلی کارکردگی دکھانے پر امید ہے کہ دنیا نوبل پرائز کے لیے نامزد کرے گی۔*

*عجیب بندہ ہے یہ مراد راس۔۔۔۔* کہبھی کہتا پراٸیویٹ سکولز والے ارب پتی ہیں۔ کہبھی کہتا کروڑ پتی ہیں۔حالانکہ اکثر پراٸیویٹ سکولز والے لکھ پتی بھی نہیں ہیں اور مقروض ہیں۔اور سفید پوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

*ان جیسے نا اہل لوگوں کے ہوتے ہوٸے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جنکو زمینی حقاٸق کا ہی پتہ نہیں ہے۔* صرف 5% ایلیٹ کلاس سکولز کو دیکھ کے باقی 95% سکولز کو بھی ویسا ہی سمجھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ گورنمنٹ سکولز میں ہونے والے خرچے سے کم بھی اچھی تعلیم دے رہے ہیں۔
*ہم سبکو یکجان ہو کے موثر طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔*
یہ نہ سوچیں میرا گزارا ہو رہا ہے مجھے کیا یا میری تو اپنی بلڈنگ ہے۔ یاد رکھیں ان تعلیم دشمن پالیسیوں کا نقصان سبھی کو ہو گا۔ تبھی اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔
*کیونکہ جب تک بچہ نہ روٸے ماں بھی دودھ نہیں دیتی۔


28/05/2020

پراٸیویٹ سکولز مخالفین کو جھنجوڑ کر احساس دلانے کی کوسش ۔۔۔۔شاید انکو سمجھ آجاٸے۔۔۔مگر۔۔۔
معروف ماہر تعلیم و تربیت کار مسعود احمد صاحب پراٸیویٹ سکولز فیسوں کے حوالہ سے زبردست شوگر کوٹڈ گفتگو کرکے۔۔۔
😎😁😊
نوٹ :مکمل ویڈیو لازمی دیکھیں..پھر اپنی راٸے کا اظہار کریں۔


22/05/2020

Ameen Suma Ameen

Photos from Institution Developers FSD's post 21/05/2020

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کامشترکہ اعلامیہ

کاشف مرزاکی زیر قیادت آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے مرکزی نمائندوں شاہد نور،ملک خالدمحمود،حنیف انجم ،صادق صدیقی ،مزمل صدیقی،عمران یوسف،،میاں شبیر ہاشمی،وسیم عابد،عمران احمد، ڈاکٹر شکیل،امتیاز شوکت,فیاض ملک نےاپنے مشترکہ اعلامیہ میں:

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف،وزیر اعظم،وزرااعلی، گورنرز، سےاپیل کی گئی ہے کہ یکم جون سے SOPsکےتحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولز کھولے جائیں :کاشف مرزا

* 15 جولائی تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوےتعلیم دشمن قراردیا گیاہے۔

*پنجاب حکومت کے جاری کردہSOPs کا خیرمقدم کیا گیا ہےاور مطالبہ کیا گیا ہے کہ یکم جون سےملک بھر میں تمام سکولز جاری کردہSOPs کے تحتھرصورت کھولے جائیں:کاشف مرزا

کورونا وائرس سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث 2کروڑطلباکےتعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن ہے : کاشف مرزا

نجی تعلیمی اداروں کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے:کاشف مرزا

بھوک اور فاقہ کشی سےخودکشی کرنے والےٹیچر کی موت کے ذمے داروزراتعلیم ہیں:کاشف مرزا

15جولائ تک تعلیمی اداروں کی بندش سے 50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بےروزگارہوجائینگے۔کاشف مرزا

ٹیچرز کی تنخواہیں فکسُ اورملک بھر میں 90 فیصد اسکول عمارتیں کرائے پر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان پرائیویٹ سکولزکیلیے’’تعلیمی ریلیف پیکیج ‘‘ کااعلان کریں:کاشف مرزا

سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا10اور2شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں۔چین کےصوبےووہان، فرانس،سوئٹزرلینڈ ،آسٹریلیا،آسٹریا،جرمنی،انڈیا،ایران،بنگلہ دیش، سپین سمیت کئی ممالک میں تعلیمی ادارے کھل چکے:کاشف مرزا

بورڈ امتحانات منسوخ کرنے اور طلبا کا مستقبل برباد کرنےکی بجائے بورڈ امتحانات سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کر تمام اضافی سرکاری و پرائیویٹ اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگا کرسرکاری و پرائیویٹ سکولز وکالجزکو امتحانی سنٹرز بناکر منعقد کیے جائیں:کاشف مرزا

بورڈ امتحانات منسوخ کرنےکی صورت میں،بورڈز فیس کی مد میں 45لاکھ طلباسےوصول شدہ25ارب روپےواپس کریں:کاشف مرزا

انسانیت کے جذبہ اور کورنٹائیں سے نبٹنے کے لیے ملک بھرکے مستحق طلبا کی فیس ادائیگی کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کر دیاہے،وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ سنٹرز بنانیں اور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کر دی گئی۔ :کاشف مرزا

حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے۔سندھ ہائی کورٹ کی طرف سےفیسوں بارے حکومت سندھ کےآرڈنینس اور نوٹیفکیشن کو آئین سے متصادم اور غیر قانونی قراردیناپرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے اصولی موقف کی فتح قرارہے: کاشف مرزا

فیسوں کے حوالے سےحکومت پنجاب کا فیس میں 20فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن اورآرڈیننس لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کردیاگیا نوٹیفکیشنزآئین کے آرٹیکل 18،3،4،5، 25(1)،37اور38 سے متصادم،امتیازی اورغیر قانونی ہے:کاشف مرزا

سپریم کورٹ فیصلے کےپابند ہیں،چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف اور وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل:کاشف مرزا

سیکرٹری اطلاعات آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن۔

20/05/2020

شب قدر کی بابرکت رات میں اللہ پاک تمام مسلم امہ پہ اپنا خاص فضل و کرم فرماٸے۔۔۔آمین





19/05/2020

سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا مرحلہ وار سکول کھولنے کا پلان

ایسے ڈسٹرکٹ اور تحصیلوں میں سکول کھولے جائیں گے جو کورونا کے کیسز کم ہونگے۔

ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے پہلے ہائر اور پھر ہائی سیکنڈری سکولوں کو کھولا جائے گا۔

نہم جماعت سے بارہویں جماعت کے طلباء کو تین روز کے لیے سکول میں بلایا جائےگا۔

بچوں کی کلاسز صبح کے وقت ، آفٹر نون اور شام کے اوقات میں کروائی جائیں گی۔

سکول کھولنے سے پہلے اساتذہ اور پیرینٹس کمیٹی کو ٹریننگ دی جائے گی۔

اساتذہ ، طلباء کی روزانہ کی بنیاد پر سکریننگ اور بخار کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔

بخار میں مبتلا بچوں اور اساتذہ کو چھٹی دی جائے گی۔

پہلی سے پانچویں تک کے بچوں کا ہفتہ میں دو دن سکول لگے گا۔

چھٹی تا آٹھویں جماعت کے لیے تین دن سکول لگے گا۔

باقی دن بچے تعلیم گھر چینل سے گھر پر تعلیم حاصل کریں گے۔

جن علاقوں میں کیبل کی سہولت نہیں ہے وہاں بچوں کو موبائل کے ذریعے پڑھایا جائے گا۔

بچوں کو پڑھاتے وقت اساتذہ معاشرتی فاصلے کا خاص خیال رکھیں گے۔

ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اساتذہ کو کورونا سے بچاوّ کے لیے تربیت دی جائے گی۔

سکولوں میں ماسک، سینیٹائزر ،سوپ اور تھرمامیٹر لازمی دستیاب ہونا چاہیے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Faisalabad