17/09/2024
زمانے کی ترقی، تعلیم اور سوشل میڈیا کے اثرورسوخ کے باوجود بھی ہم ہماری اکثر رسومات اور روایات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ شادی بیاہ اور مرگ و فوت کی رسومات ہوں یا علاقائی روایات، ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو اس حقیقت پر قائل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں کہ یہ سب جو آپ کرتے ہیں یا مناتے ہیں سب جھوٹ ہے اور حقیقت سے منافی ہے۔ اب ذرا سوچیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے لوگوں کا اپنی رسومات، روایات اور مذہب پر کس قدر سخت اعتقاد ہوگا۔ ایسے میں ایک شخص اٹھتا ہے اور اپنے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں سے کہتا ہے کہ تم جس خدا کی پوجا کرتے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں، تم جس مذہب کو مانتے ہو وہ گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں تم جن روایات اور رسومات کے امین ہو وہ سب جھوٹ اور حقیقت کے منافی ہیں۔ ذرا سوچیں اس شخص کو کس طرح کی مذاحمت کا سامنا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود اس انسان ِ مقدس نے لوگوں کے اعتقاد بدلے بلکہ نئی تاریخ اور نئی روایات کا آغاز کیا۔ اور جن لوگوں کو راہ راست دکھائی وہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ جاہل اور ظالم تھے ۔ ایسے شخص کی مداح بیان کرنا برکت کا کام ہے، ایسے شخص پر درود بھیجنا سعادت اور ایسے شخص کا امتی ہونا باعثِ فخر ہے۔ ولادتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبارک۔۔
تحریر: ڈاکٹر عرفان شوکت