QaRi SyEd Imran

Call Website Contact the school

QaRi SyEd Imran Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from QaRi SyEd Imran, Tutor/Teacher, Faisal town Islamabad Block A, Faisal Town.
(3)

Assalamualaikum I am Online Quran Teacher and Imam Masjid In Faisal Town Head Office Everyone Follow My New Page I am Uploading Daily Islamic Content for you Maybe You are Love with Islamic Vedios Thanks

استغفر اللہ اسلام آباد کے تھانہ نون کی حدود سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی 3 سالہ بچی کی لاش جنگل سے برآمد کر لی گئی۔پو...
25/09/2026

استغفر اللہ اسلام آباد کے تھانہ نون کی حدود سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی 3 سالہ بچی کی لاش جنگل سے برآمد کر لی گئی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ہے۔واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے بچی کے بہنوئی کاشف کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد اسے جنگل میں لے جا کر قتل کیا اور لاش وہاں چھوڑ دی۔واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس کی جانب سے شواہد اور دیگر پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے

25/09/2026

عقیدہ توحید کا انسانی زندگی پر اثرات مفتی اشرف صاحب کی زبانی سنیں

نئی دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک بیمار بچی کے علاج کے لیے جاری امدادی مہم نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر ل...
25/09/2026

نئی دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک بیمار بچی کے علاج کے لیے جاری امدادی مہم نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ شیئر کی گئی معلومات کے مطابق بچی Spinal Muscular Atrophy (SMA) Type 1 نامی نایاب جینیاتی بیماری میں مبتلا ہے، جو پٹھوں کی شدید کمزوری اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امدادی مہم کا آغاز نئی دہلی کے AIIMS کے باہر ہوا، جہاں سوشل میڈیا کریئیٹرز اور رضاکاروں نے بچی اور اس کی والدہ کی صورتحال جاننے کے بعد لوگوں سے مالی تعاون کی اپیل کی۔ بعد ازاں جمعہ کی نماز کے بعد جامع مسجد کے باہر بھی عطیات جمع کیے گئے، جہاں متعدد افراد نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی۔

خاندان سے منسوب معلومات کے مطابق بچی کے علاج کے لیے مہنگی جین تھراپی درکار ہے، جس کی لاگت کروڑوں بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ مہم کے ذریعے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے تک جمع کیے گئے، تاہم اس مخصوص رقم کی آزاد اور حتمی تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے اسے غیر مصدقہ دعوے کے طور پر ہی بیان کرنا مناسب ہے۔

اس واقعے کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ بچی کا تعلق ایک ہندو خاندان سے بتایا جا رہا ہے، جبکہ امدادی مہم میں جامع مسجد کے نمازیوں اور مسلمان نوجوانوں کو بھی بھرپور تعاون کرتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس منظر کو مذہبی تفریق سے بالاتر انسانی ہمدردی، یکجہتی اور ضرورت مند کی مدد کی مثال کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

25/09/2026

نن دا جمعہ مبارکہ رز دا او دا خکلے آواز منتے دا قرآن کریم تلاوت واورے او مرگرو سرہ شیئر ہم کیی قاری سید عمران اللہ شاہ صاحب

بیرون ملک سے تابوب میں وطن لوٹنے والے  سمبڑیال کے نوجوان ارسلان صادق کی کہانی : سائیاں والا  کے ارسلان کو لیبیا اور اٹلی...
25/09/2026

بیرون ملک سے تابوب میں وطن لوٹنے والے سمبڑیال کے نوجوان ارسلان صادق کی کہانی : سائیاں والا کے ارسلان کو لیبیا اور اٹلی کے درمیان نامعلوم افراد نے اغ۔وا کر لیا تھا اور سمبڑیال میں اسکے گھر والوں سے تاوان طلب کیا گیا تھا ، واٹس ایپ پر اہلخانہ کو ارسلان کے ساتھ مارپیٹ کی ویڈیوز بھیجی جاتی تھی ۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ گھر والے قسطوں میں تاوان بھی بھرتے رہے کہ کسی طرح انکا گھبرو جوان صحیح سلامت اغ۔وا کاروں کے قبضے سے رہا ہو جائے مگر نوجوان کو تش۔دد کرکے مار دیا گیا ۔ پتہ چلا ہے کہ اٹلی جانا اور گھر کی قسمت بدلنا ارسلان کا خواب تھا ۔ اہلخانہ کے مطابق رندھیر موڑ کے رہائشی ایجنٹ نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے کے عوض ارسلان کو اٹلی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا جس نے بعد ازاں ارسلان کو لیبیا میں اغ۔وا کاروں کے چنگل میں دے دیا۔اغ۔وا کاروں کو مختلف اوقات میں 16 لاکھ روپے تاوان بھی ادا کیا لیکن وہ بازیاب نہ ہو سکا۔

آج اس کی میت آبائی علاقہ پہنچ گئی ہے۔ دعا ہے اللہ کریم ارسلان کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اسکے اغ۔وا و موت کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنا دے

میں ایک سفید پوش لڑکی ہوں میں روزانہ 3 نمبر گیٹ  روالپنڈی کے راستے نوکری پر جاتی ہوں  جہاں اس کے خالو نے اسے روکا اور پی...
25/09/2026

میں ایک سفید پوش لڑکی ہوں میں روزانہ 3 نمبر گیٹ روالپنڈی کے راستے نوکری پر جاتی ہوں

جہاں اس کے خالو نے اسے روکا اور پیسے کا لالچ دے کر غلط و ناجائز تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی میں نے انکار کردیا کہ آپ میرے خالو ہیں رشتے میں باپ لگتے ہیں

میں بری لڑکی نہیں ہوں آئندہ اگر دوبارہ آپ نے ایسا کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔

خالو تو تضحیک محسوس ہوئی اس نے موبائک وٹس ایپ پہ میسجز کرنا شروع کردیئے

آخر کار تنگ آکر میں نے اس بات کا ذکر اپنی خالہ سے کیا اور وائس ریکارڈنگ کا ثبوت بھی دکھایا

تو خالہ نے بھی اپنے شوہر کی حمایت کی اور بات ماننے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ شاہ فیصل چوک پولیس چوکی گئی اور وہاں درخواست دی

مگر پولیس نے ملزم کے نہ آنے پر کارروائی کرنے کے بجائے انہیں سائبر کرائم بھیج دیا۔

پولیس بک گئی اب میں اپنی عزت بچاتی ہوئی دھکے کھارہی ہوں

سائبر کرائم کے چکر لگانے اور درخواست جمع کروانے کے باوجود وہاں سے بھی کوئی مدد نہ ملی اور معاملے کو ٹالا جاتا رہا ہے

میں حالات سے تنگ آچکی ہوں یہاں افسوس مرد عورت کو بس لوٹا ہوا مال سمجھتے ہیں

میں ایک یتیم بچی ہوں میں مریم نواز سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں اور مطالبہ کرتی ہوں کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے تاکہ دیگر لڑکیوں کی عزت محفوظ رہ سکے۔
کیا کوئی اس بچی کی مدد کرسکتا ہے

😥😥😥😥😪

25/09/2026

میجر ریٹائرڈ محمد عمر فاروق صاحب کا فیصل ٹاؤن گروپ کے حوالے سے سعودیہ عرب کے عوام سے خصوصی گفتگو ملاحظہ فرمائیں

ہمارے بابا کا چالان نہ کریں! بچیوں کی گزارش پر وارڈن نے شہری کے 20 ہزار روپے کے چالان معاف کر دیے
25/09/2026

ہمارے بابا کا چالان نہ کریں! بچیوں کی گزارش پر وارڈن
نے شہری کے 20 ہزار روپے کے چالان معاف کر دیے

ہوائی فائرنگ میں گولی سیدھی جاکر 12 سالہ بچے کے دل میں لگ گئی  … ڈاکٹر نے سینہ کھولا تو سامنے صرف ایک سوال تھا: کیا اس ن...
25/09/2026

ہوائی فائرنگ میں گولی سیدھی جاکر 12 سالہ بچے کے دل میں لگ گئی … ڈاکٹر نے سینہ کھولا تو سامنے صرف ایک سوال تھا: کیا اس ننھے دل کو دوبارہ دھڑکایا جا سکتا ہے؟

اگلے چند گھنٹے اس بچے کی زندگی کے سب سے فیصلہ کن گھنٹے تھے۔

خضدار کا یہ معصوم بچہ ایک حادثاتی فائرنگ کی زد میں آیا۔ گولی جسم سے گزر کر ایسی جگہ جا پہنچی جہاں پہنچنے کے بعد ہر گزرتی سانس خطرے کی گھنٹی بن چکی تھی۔

گولی دل میں تھی۔

والدین کے لیے شاید اس سے زیادہ خوفناک جملہ کوئی نہیں ہو سکتا۔

مقامی سطح پر ابتدائی طبی امداد کے بعد بچے کو بہتر علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔ امید ایک طرف تھی، خوف دوسری طرف… اور درمیان میں ایک خاندان اپنے بچے کی زندگی کے لیے دعا کر رہا تھا۔

بالآخر بچہ کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (NICVD) پہنچا۔

ڈاکٹروں نے فوری معائنہ کیا۔ ایکو کارڈیوگرافی نے وہ حقیقت سامنے رکھ دی جس نے معاملے کی سنگینی واضح کر دی:

گولی واقعی دل میں موجود تھی۔

اب انتظار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

بچے کو فوراً آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔

دروازہ بند ہوا…

باہر ایک خاندان دعاؤں میں بیٹھ گیا، جبکہ اندر پاکستانی ڈاکٹروں کی ایک ماہر ٹیم زندگی اور موت کے درمیان کھڑی تھی۔

ہر لمحہ قیمتی تھا۔

ہر فیصلہ انتہائی احتیاط مانگ رہا تھا۔

کیونکہ یہ کوئی معمولی آپریشن نہیں تھا۔ سامنے ایک 12 سالہ بچے کا ننھا سا دل تھا اور اسی دل میں پیوست ایک گولی۔

تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی انتہائی پیچیدہ سرجری میں ماہر ڈاکٹروں نے اپنی مہارت، تجربے اور حوصلے کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ کر دکھایا جس کی امید شاید اس خاندان نے بھی ڈرتے ڈرتے کی تھی۔

گولی نکال لی گئی۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا سب کو انتظار تھا…

وہ ننھا دل دوبارہ اپنی زندگی کی گواہی دینے لگا۔

آپریشن کامیاب ہو چکا تھا۔

جو بچہ چند گھنٹے پہلے زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا تھا، اب صحت یابی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

کچھ ہی دنوں میں اس کی حالت میں نمایاں بہتری آئی اور بالآخر وہ اپنے خاندان کے ساتھ زندہ، صحت یاب اور مسکراتا ہوا گھر واپس لوٹ گیا۔

ذرا تصور کیجیے…

جس بچے کے دل میں گولی تھی، آج اسی بچے کے سینے میں زندگی دھڑک رہی ہے۔

اور اس زندگی کے پیچھے صرف جدید طبی سہولت نہیں، بلکہ ان پاکستانی ڈاکٹرز، سرجنز، نرسز اور طبی عملے کی محنت بھی ہے جنہوں نے انتہائی نازک لمحوں میں اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے ملک کے ہیرو ہمیشہ وردی میں نہیں ہوتے۔

کچھ سفید کوٹ پہن کر آپریشن تھیٹر میں کھڑے ہوتے ہیں… اور خاموشی سے کسی ماں کا بیٹا، کسی باپ کا سہارا اور کسی گھر کی پوری دنیا بچا لیتے ہیں۔

خضدار کے اس ننھے بچے کو زندگی کی طرف واپس لانے والی پوری طبی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے سلام۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام ڈاکٹرز اور طبی عملے کو سلامت رکھے، ان کے علم و ہنر میں برکت دے اور انہیں اسی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

آپ بھی کمنٹ کرکے تمام پاکستانی ڈاکٹرز اور مسیحاؤں کو سلام پیش کریں

متحدہ عرب امارات کے شہر خورفکان سے تعلق رکھنے والی 6 سالہ میثم یحییٰ محمد کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ا...
24/09/2026

متحدہ عرب امارات کے شہر خورفکان سے تعلق رکھنے والی 6 سالہ میثم یحییٰ محمد کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے تجوید کے ساتھ مکمل قرآنِ پاک حفظ کرکے کم عمری میں نمایاں اعزاز حاصل کیا۔

میثم کی والدہ کے مطابق، ان کی بیٹی نے صرف 3 سال کی عمر میں شارجہ فاؤنڈیشن فار القرآن اینڈ السنہ کے تحت مساجد میں ہونے والے حفظِ قرآن کے حلقوں میں شرکت شروع کی۔ گھر پر بھی مسلسل دہرائی اور رہنمائی کا سلسلہ جاری رہا۔

والدہ کے مطابق میثم نے تین سال کی عمر میں قرآنِ کریم کی دو سورتیں حفظ کرلی تھیں اور اسی عمر میں شیخ زاید قرآنِ کریم مقابلے میں ساتویں پوزیشن حاصل کی، جہاں وہ سب سے کم عمر شرکاء میں شامل تھیں۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ میثم کی قرآن سے غیر معمولی دلچسپی اس وقت نمایاں ہوئی جب وہ بولنا سیکھ رہی تھیں اور ریڈیو و ٹی وی سے سنی ہوئی قرآنی آیات دہراتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں خورفکان کی ایک مسجد میں داخل کرایا گیا، جہاں تجوید کے قواعد سیکھتے ہوئے انہوں نے حفظِ قرآن مکمل کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کامیابی پر میثم کو شارجہ قرآن ریڈیو کی جانب سے بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں قرآنِ کریم کے مختلف مقابلے بھی منعقد ہوتے ہیں جن کا مقصد حفظ، تلاوت اور قرآنی تعلیمات کے فروغ کے ساتھ نئی نسل کو قرآن سے جوڑنا ہے۔

⚠️ Disclaimer: This content is based on publicly available reports and media sources and is shared for informational purposes. Specific records and titles mentioned in the reports have not been independently verified by Social Asian.

Address

Faisal Town Islamabad Block A
Faisal Town
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QaRi SyEd Imran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to QaRi SyEd Imran:

Shortcuts

Share

Category