Dr. Abdur Rahman Huzaifi Offical

Dr. Abdur Rahman Huzaifi Offical Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Abdur Rahman Huzaifi Offical, Tutor/Teacher, Timergara Dir Lower, Dir.

*فاضل جامعہ رحمانیہ درگئی
*پی ایچ ڈی ڈاکٹر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
*مدرس جامعة المحصنات مفتاح العلوم دیر لوئر،
*ربي اغفر لي وهب لي ملكاً لا ينبغي لأحد من بعدي إنك أنت الوهاب.
*ربي إني لما أنزلت إليّ من خير فقير
*ربي أني مغلوب فانتصر
*آمین۔

19/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1....كَيْفَ نَمْشِي؟
* سوال: ہم کیسے چلیں؟
* قرآنی جواب: (وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا)
* ترجمہ: اور زمین میں اتراتے ہوئے (غرور سے) نہ چلو۔

2....كَيْفَ نَتَكَلَّمُ؟
* سوال: ہم کیسے بات کریں؟
* قرآنی جواب: (وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ)
* ترجمہ: اور اپنی آواز دھیمی رکھو۔

3....كَيْفَ نَنْظُرُ؟
* سوال: ہم کیسے دیکھیں؟
* قرآنی جواب: (وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ)
* ترجمہ: اور اپنی آنکھیں پھیلا کر (لالچ سے) نہ دیکھو۔

4....كَيْفَ نَسْمَعُ؟
* سوال: ہم کیسے سنیں؟
* قرآنی جواب: (وَلَا تَجَسَّسُوا)
* ترجمہ: اور (کسی کی) ٹوہ نہ لگاؤ / عیب نہ تلاش کرو۔

5....كَيْفَ الْكَلَامُ؟
* سوال: بات چیت (کا انداز) کیسا ہو؟
* قرآنی جواب: (وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا)
* ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

6....كَيْفَ مُجَالَسَتُنَا؟
* سوال: ہماری مجلس/نشست و برخاست کیسی ہو؟
* قرآنی جواب: (وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا)
* ترجمہ: اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔

17/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاستغفار (استغفار) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استغفار سب سے افضل عبادات میں سے ہے، یہ اپنی کوتاہی کا اعتراف، اللہ کی بارگاہ میں عاجزی اور اس کی بخشش، پردہ پوشی اور رحمت کا طلبگار ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کے دینی و دنیاوی عظیم اثرات کو جمع فرمایا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کے قول کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾ [نوح: 10-12].
پس میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر موصلادھار بارش برسائے گا، اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔"

استغفار کے فضائل:
1... گناہوں کی بخشش اور کوتاہیوں سے درگزر:
﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النساء: 110].
اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے، تو وہ اللہ کو نہایت بخشنے والا، رحم کرنے والا پائے گا۔"
2...نزولِ رحمت کا سبب:
﴿لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ [النمل: 46].
"تم اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟"
3...بہترین زندگی اور برکت کا ذریعہ:
﴿وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ [هود: 3].
اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو، وہ تمہیں ایک مقررہ وقت تک بہترین زندگی سے لطف اندوز کرے گا۔"
4...قوت اور خیر میں اضافے کا سبب:
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:
﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ﴾ [هود: 52].
"اور اے میری قوم! اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو، وہ تم پر موصلادھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں اور طاقت بڑھا دے گا۔"
5...تقویٰ والوں اور رات کو عبادت کرنے والوں کی صفت:
﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۝ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الذاريات: 17-18].
"وہ رات کو بہت کم سوتے تھے، اور رات کے آخری حصوں میں معافی مانگا کرتے تھے۔"
6...نبی کریم ﷺ کی دائمی سنت:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«والله إني لأستغفر الله وأتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة» (رواہ البخاري).
"اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔"
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
«يا أيها الناس، توبوا إلى الله، فإني أتوب في اليوم إليه مائة مرة» (رواہ مسلم).
"اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرو، کیونکہ میں دن میں سو بار اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔"
ایک قیمتی استغفار
سید الاستغفار (استغفار کے تمام کلمات میں سب سے افضل و جامع دعا):
«اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك عليَّ، وأبوء بذنبي، فاغفر لي؛ فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» (رواہ البخاري).
"اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، پس مجھے معاف فرما دے؛ کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔"

17/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی کی تاثیر۔۔۔اور۔۔۔۔۔برائی (گناہ) کی تاثیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:
إِنَّ لِلْحَسَنَةِ ضِيَاءً فِي الْوَجْهِ، وَنُورًا فِي الْقَلْبِ، وَقُوَّةً فِي الْبَدَنِ، وَسَعَةً فِي الرِّزْقِ، وَمَحَبَّةً فِي قُلُوْبِ الْخَلْقِ.
وَإِنَّ لِلسَّيِّئَةِ سَوَادًا فِي الْوَجْهِ، وَظُلْمَةً فِي الْقَلْبِ، وَوَهْنًا فِي الْبَدَنِ، [وَضِيقًا فِي] الرِّزْقِ، وَبُغْضَةً فِي قُلُوْبِ الْخَلْقِ.

نیکی کی تاثیر:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

* چہرے کی روشنائی: نیکی کرنے سے چہرے پر چمک اور رونق آتی ہے۔
* دل کا نور: دل میں نور اور دلجمعی پیدا ہوتی ہے۔
* جسم کی قوت: بدن میں طاقت اور توانائی آتی ہے۔
* رزق کی وسعت: روزی میں فراخی اور برکت ہوتی ہے۔
* مخلوق کی محبت: لوگ (مخلوق) آپس میں محبت کرنے لگتے ہیں۔

برائی (گناہ) کی تاثیر:
* چہرے کی سیاہی: گناہ کرنے سے چہرے پر بے رونقی اور سیاہی آتی ہے۔
* دل کی تاریکی: دل میں اندھیرا اور سختی چھا جاتی ہے۔
* جسم کی کمزوری: بدن میں کمزوری اور سستی پیدا ہوتی ہے۔
* رزق کی تنگی: رزق اور روزی میں تنگی ہوتی ہے۔
* مخلوق کی نفرت: مخلوق کے دلوں میں بغض اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
(حوالہ: کتاب "الداء والدواء"، صفحہ 135)

17/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دنیا ایک دار الامتحان ہے۔ واقعہ سنئیے۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دنیا واقعی ایک عجیب اور بے رحم دار الامتحان ہے، جہاں کسی کے لیے سانس لینا بھی ایک بھاری امتحان بن چکا ہے۔ ایک دن جب میں کلاس میں بچوں کا جائزہ لے رہا تھا، تو میری نظر ایک ایسے بچے پر پڑی جو کئی دنوں سے اپنی کاپی پر کچھ نہیں لکھ رہا تھا۔ میں نے پاس جا کر نرمی سے پوچھا: "بیٹا! آپ کاپی کیوں نہیں لاتے؟"
اس نے نظریں جھکا لیں اور مدہم سی آواز میں بولا: "سر! میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔"
یہ سن کر میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پوچھا: "کیوں بیٹا؟ گھر میں کیا مسئلہ ہے؟"
اس معصوم نے جو کچھ بتایا، وہ کسی بھی صاحبِ دل کو خون کے آنسو رلانے کے لیے کافی تھا:
"سر! میرے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ہم کل دو بھائی اور ایک بیوہ ماں ہیں۔ بڑا بھائی ایک دکان پر صبح سے رات تک جفا کشی کرتا ہے تو مہینے کے صرف ۲۲ ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس میں سے وہ دو ہزار روپے اپنے جیب خرچ کے لیے رکھ کر باقی ۲۰ ہزار امی کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ اور میری ماں... وہ صابر ماں ۷ ہزار روپے مکان کا کرایہ ادا کرتی ہے اور باقی کے صرف ۱۳ ہزار میں پورے مہینے کا راشن، بیماریاں، اور ہمارا وجود سنبھالتی ہے۔"
شہباز شریف صاحب!
خدارا بتائیے، کیا اس مہنگائی کے دور میں ۱۳ ہزار روپے میں ایک پورے کنبے کا مہینہ بھر زندہ رہنا ممکن ہے؟
کیا اس بیوہ ماں کی انکھوں میں کبھی کوئی خواہش نہیں جاگتی؟ کیا ان معصوم بچوں کا دل نہیں چاہتا کہ وہ بھی کبھی پیٹ بھر کر اچھا کھانا کھائیں؟ کیا عید کے دن ان کے جسم پر بھی کوئی نیا کپڑا ہو؟ کیا ان کے بچپن کا کوئی خواب، کوئی کھلونا نہیں ہوتا؟
یہ بچے جب بازار کی دکانوں پر سجائے پھل اور پکوان دیکھتے ہوں گے، تو اپنی حسرتوں کا گلا کیسے گھونٹتے ہوں گے؟ ان کی ماں جب رات کو چولہا ٹھنڈا دیکھ کر بچوں کو تسلی دیتی ہوگی، تو اس کے دل پر کیا بیتتی ہوگی؟ ہم کن حکمرانوں اور کس نظام کے تحت جی رہے ہیں، جہاں غریب کے بچوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں؟
یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں، اس ملک کے گلی کوچوں میں نہ جانے کتنے معصوم اپنے خون کے آنسو پی کر چپ چاپ جی رہے ہیں، اور ہمارا نظامِ حکومت گہری نیند سو رہا ہے۔
#ڈاکـــــͬـــــͦـــــͭـــــͨـــــͦـــــͩـــــٹر
#مـــــͣـــــᷠـــــͣـــــˡـــــͧـــــͣـــــͫـــــولانا
#عـــــــــــͬــــͧـــͩـــᷨــــͣـــبدالرحــᷠـــͣـــــͫــــــͪــــͣــــͬـــــمن #حـــͥــᷫــــͥـــͣــــᷦــــͧـــــͪـــذیفی

17/09/2026
15/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔سات گھر ایسے جہاں فرشتے داخل۔نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔

* پہلا گھر: وہ گھر جس میں حفاظت یا شکار کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کتا رکھا گیا ہو۔
* دوسرا گھر: وہ گھر جس میں مجسمے ہوں۔
* تیسرا گھر: وہ گھر جس میں تصویریں (جانداروں کی) ہوں۔
* چوتھا گھر: وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت نہ کی جاتی ہو۔
* پانچواں گھر: وہ گھر جس میں گندگی یا نجاست ہو۔
* چھٹا گھر (شخص): وہ شخص جو جنابت (ناپاکی) کی حالت میں غسل نہ کرتا ہو۔
* ساتواں گھر: وہ گھر جس میں گھنٹی (ناقوس یا جرس) ہو۔
یہ فہرست ان روایات اور احادیث کے مفہوم پر مبنی ہے جن میں یہ ذکر ہیں کہ ان گھروں میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

14/09/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رزق کی تنگی دور کرنے کا نبویؐ نسخہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ»
کو کثرت سے پڑھئیے

14/09/2026

نمازِ باجماعت پر سلفِ صالحین کی حریصانہ اور شاندار مثالیں۔

ابنِ مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "چالیس سال سے میری کوئی بھی نماز باجماعت قضا نہیں ہوئی۔"

عثمان بن حکیم کہتے ہیں، میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: "تیس سال سے جب بھی موذن نے اذان دی، میں مسجد ہی میں موجود تھا۔"

میمون بن مہران کہتے ہیں، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ: چالیس سال تک مسجد نہیں آئے (یعنی دیر سے) کہ گھر والے انہیں اس حال میں ملیں کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہوں۔

ابنِ شہاب کہتے ہیں، میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: "اگر آپ دیہات چلے جاتے اور وہاں کی شادابی اور زندگی کا ذکر کیا..." تو انہوں نے فرمایا: "پھر میں عشاء اور فجر کی نمازِ باجماعت میں کیسے حاضری دیتا؟"

ابنِ حرملہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی: لوگوں نے ان سے کہا: "اگر آپ وادیِ عقیق کی طرف نکل جائیں اور ہریالی کو دیکھیں تو آپ کو سکون ملے گا۔" تو انہوں نے فرمایا: "پھر میں عشاء اور فجر کی باجماعت نماز کا کیا کروں گا؟"

ابی حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کو فالج کا عارضہ تھا اور انہیں پکڑ کر نماز کے لیے لایا جاتا تھا، تو ان سے کہا گیا: "آپ کو رخصت ہے (گھر پر پڑھ لیں)۔" انہوں نے فرمایا: "میں 'حی على الصلاة' (نماز کی طرف آؤ) سنتا ہوں، لہٰذا اگر تم گھسیٹ کر (گھٹنوں کے بل) بھی آ سکتے ہو تو آؤ۔"

منصور روایت کرتے ہیں ابراہیم بن یزید رحمہ اللہ سے، انہوں نے فرمایا: "جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ تکبیرِ اولیٰ میں سستی کرتا ہے، تو اس سے ہاتھ دھو لو (اس سے خیر کی امید نہ رکھو)۔"

مصعب کہتے ہیں: عامر بن عبد اللہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مؤذن کی آواز سنی جب کہ وہ سکراتِ موت (آخری وقت) میں تھے: انہوں نے فرمایا: "میرا ہاتھ پکڑو۔" ان سے کہا گیا: "آپ تو شدید بیمار ہیں۔" انہوں نے فرمایا: "میں اللہ کے داعی (مؤذن) کو سنوں اور اس کا جواب نہ دوں؟" چنانچہ لوگوں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور وہ امام کے ساتھ مغرب کی ایک رکعت میں شامل ہو گئے، پھر ان کا انتقال ہو گیا۔

وکیع بن الجراح، اعمش سلیمان بن مہران رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں: اعمش تقریباً ستر (70) سال تک ایسے رہے کہ ان کی تکبیرِ اولیٰ کبھی فوت نہیں ہوئی۔

یحییٰ القطان رحمہ اللہ سے روایت ہے: جب بھی اعمش کا ذکر کیا جاتا تو کہا جاتا کہ وہ زاہدوں میں سے تھے، نمازِ باجماعت اور پہلی صف کے پابند تھے اور وہ اسلام کی ایک علامت تھے۔

محمد بن المبارک الصوری کہتے ہیں کہ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ: جب ان کی نمازِ باجماعت چھوٹ جاتی تو وہ روتے تھے۔

غسان کہتے ہیں، مجھ سے میرے چچا زاد بھائی بشر رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: "میں نے اپنے چچا کو کبھی نہیں دیکھا کہ ان کی تکبیرِ اولیٰ فوت ہوئی ہو۔"

عبدالرحمن رستہ کہتے ہیں، میں نے عبدالرحمن بن مہدی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر والوں کے ساتھ رہے اور چند دن جماعت چھوڑ دے؟ انہوں نے فرمایا: "نہ ایک نماز اور نہ ایک صبح! علی بن ابی علی نے اپنی بیٹی کی شادی کی، صبح کے وقت وہ نکلے اور ان دونوں (دولہا اور دلہن) کے دروازے کے پاس سے گزرے اور خادمہ سے فرمایا: 'ان دونوں سے کہو کہ نماز کے لیے نکلیں'۔ خادمہ نے کہا: 'سبحان اللہ! عورتیں اور خادمائیں نماز کے لیے نکل گئی ہیں (یہ دونوں بھی نکلیں گے)۔' انہوں نے فرمایا: 'میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ دونوں نماز کے لیے نہ نکل جائیں'۔ چنانچہ وہ دونوں نکلے، پھر انہوں نے ایک بیرونی مسجد میں جا کر نماز پڑھی۔"

اسماعیل المزنی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: جب بھی ان کی نمازِ باجماعت چھوٹ جاتی، تو وہ اس نماز کو پچیس (25) بار پڑھتے تھے۔

محمد بن خفیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں کمر میں درد کا عارضہ تھا: جب انہیں شدید تکلیف ہوتی تو وہ چل نہیں پاتے تھے، لیکن جب نماز کی اذان دی جاتی تو انہیں ایک شخص اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لاتا۔ ان سے کہا گیا: "اگر آپ اپنے آپ پر تھوڑا رحم کریں؟" انہوں نے فرمایا: "جب تم 'حی علی الصلاة' سنو اور مجھے صف میں نہ پاؤ، تو مجھے قبرستان میں تلاش کرنا۔"

البغوی کہتے ہیں، میں نے عبید اللہ القواریری رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: "میری کبھی عشاء کی نمازِ باجماعت فوت نہیں ہوئی تھی۔ ایک رات میرے ہاں مہمان آ گئے اور میں ان میں مشغول ہو گیا، جب میں نماز کی تلاش میں نکلا تو دیکھا کہ بصرہ کی تمام مساجد کے لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: 'باجماعت نماز تنہا نماز سے 25 درجے (اور ایک روایت میں 27 درجے) زیادہ فضیلت رکھتی ہے'۔ میں گھر لوٹا اور عشاء کی نماز 27 بار پڑھی۔ پھر میں سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ میں گھڑ سواروں کے ساتھ گھوڑا دوڑا رہا ہوں اور میرا گھوڑا پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک سوار نے میری طرف مڑ کر کہا: 'اپنے گھوڑے کو مت تھکاؤ، تم ہمیں نہیں پکڑ سکتے'۔ میں نے پوچھا: 'کیوں؟' اس نے کہا: 'کیونکہ ہم نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھی تھی'۔"

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "کبھی بھی نماز کا وقت ایسا نہیں آیا کہ میں اس کا مشتاق نہ رہا ہوں۔"

اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: "جب سے میں اسلام لایا ہوں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نماز کی اقامت کہی گئی ہو اور میں باوضو نہ ہوں!"

نافع سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما: جب ان کی عشاء کی نماز باجماعت چھوٹ جاتی، تو وہ پوری رات بیدار رہ کر عبادت کرتے تھے۔

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "پچاس سال سے میری تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہوئی (یعنی وہ ہمیشہ پہلی صف میں رہے)۔"

یونس بن محمد المؤدب کہتے ہیں: حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کا انتقال مسجد میں نماز ہی کی حالت میں ہوا۔

محمد بن عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے محمد سماعہ کو کہتے ہوئے سنا: "میں چالیس سال تک اس حال میں رہا کہ میری تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہوئی، سوائے اس دن کے جس دن میری والدہ کا انتقال ہوا تھا، تو میری ایک نماز (باجماعت) چھوٹ گئی جسے میں نے پچیس بار لوٹایا۔"

بشر بن الحسن البصری رحمہ اللہ: انہیں "الصفی" کہا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے پچاس (50) سال تک بصرہ کی مسجد کی پہلی صف کو لازم پکڑے رکھا۔

وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے فرمایا: "جس نے تکبیرِ اولیٰ کو نہ پایا، اس کی خیر و بھلائی کی امید نہ رکھو۔"

اور وکیع رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: "جو شخص وقت سے پہلے نماز کی تیاری نہیں کرتا، اس نے نماز کی تعظیم نہیں کی۔"

اور وکیع رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: "جو تکبیرِ اولیٰ میں سستی کرے، اس سے اپنے ہاتھ دھو لو۔"

عبدالرحمن بن عامر کہتے ہیں، میں نے ربیعہ بن یزید رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: "چالیس سال سے جب بھی موذن نے ظہر کی اذان دی، میں مسجد ہی میں موجود تھا، سوائے اس کے کہ میں بیمار ہوں یا مسافر۔"

برد (سعید کے مولیٰ) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "چالیس سال سے جب بھی نماز کی اذان دی گئی، سعید (بن مسیب) مسجد ہی میں موجود ہوتے تھے۔"

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "کبھی نماز کا وقت نہیں آیا مگر میں اس کا پہلے سے مشتاق اور تیار ہوتا تھا۔"

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ لوگوں کو باجماعت نماز کی طرف جلدی جانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے: "برے غلام کی طرح نہ بنو کہ جب تک بلایا نہ جائے نہ آئے، بلکہ اذان سے پہلے ہی نماز کے لیے آ جایا کرو۔"

میمون بن مہران رحمہ اللہ مسجد آئے تو ان سے کہا گیا کہ لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے ہیں: انہوں نے کہا: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اس نماز کی فضیلت مجھے عراق کی گورنری سے بھی زیادہ محبوب تھی۔"

03/09/2026

یہ چالیس احادیث خود بھی یاد کرے اور بچوں کو بھی یاد کرائے۔
1. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
2. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الطَّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
3. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
4. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَقِّنُوْا مَوْتَاكُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے قریب المرگ لوگوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی تلقین کرو۔ (صحیح بخاری)
5. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلصَّلٰوةُ نُوْرٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز روشنی ہے۔ (صحیح مسلم)
6. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: خَيْرُكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن پڑھتا اور پڑھاتا ہے۔ (صحیح بخاری)
7. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورۃ "قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ" ایک تہائی قرآن کے برابر اجر رکھتی ہے۔ (صحیح بخاری)
8. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔ (صحیح مسلم)
9. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: كُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَةٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نیک بات صدقہ ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
10. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چغل خور جنت میں نہیں جا سکتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
11. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میرا ایک فرمان بھی یاد ہو تو اسے آگے پہنچاؤ۔ (صحیح بخاری)
12. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ (جہنم سے بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے۔
13. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤذن قیامت کو لمبی گردن والے ہوں گے۔ (عزت کی وجہ سے) (صحیح مسلم)
14. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ (صحیح بخاری)
15. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم سے بچنے کی کوشش کرو چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقہ) کر کے۔ (صحیح بخاری)
16. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمانے کو گالی نہ دو۔ (صحیح مسلم)
17. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیں ملاوٹ والی چیز دی وہ میری امت سے نہیں۔ (صحیح مسلم)
18. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا آكُلُ وَأَنَا مُتَّكِئٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر کھانا پسند نہیں کرتا۔ (صحیح مسلم)
19. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِيْنِهٖ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے۔ (صحیح مسلم)
20. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ جَمِيْلٌ يُّحِبُّ الْجَمَالَ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
21. نَهٰى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنْ يُّجَصَّصَ الْقُبُوْرُ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پکا کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری)
22. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللهِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قسم اٹھائے تو اللہ کی قسم کے سوا کسی کی قسم نہ اٹھائے۔ (صحیح مسلم)
23. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيْمِ فِي الْجَنَّةِ هٰكَذَا.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اکٹھے ہوں گے۔ (صحیح بخاری)
24. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَعَنَ اللهُ مَنْ لَّعَنَ وَالِدَيْهِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ لعنت کرے اس پر جو والدین پر لعنت کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
25. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
26. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَّوْمَ الْقِيَامَةِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی پر ظلم قیامت کو بہت سے اندھیروں کا سبب ہے۔ (صحیح مسلم)
27. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلٰى.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (صحیح مسلم)
28. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ قَائِمًا.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کوئی بھی کھڑے ہو کر پانی نہ پیئے۔ (صحیح مسلم)
29. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں اچھا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
30. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وََّقِتَالُهٗ كُفْرٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہِ کبیرہ اور قتل کرنا کفر ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
31. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ داری کاٹنے والا جنت میں نہیں جا سکتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
32. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْحَرْبُ خُدْعَةٌ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
33. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔ (صحیح مسلم)
34. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ لَّا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔ (صحیح بخاری)
35. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹخنوں سے نیچے جتنا کپڑا ہوا اتنی جگہ جہنم میں جائے گی۔ (صحیح بخاری)
36. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلٰوةِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان اور کافر کے درمیان فرق نماز ہے۔ (صحیح مسلم)
37. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو۔ (صحیح بخاری)
38. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (مسلم)
39. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَّهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مومن بھائی سے ناراض رہے۔ (صحیح مسلم)
40. قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ دَلَّ عَلٰى خَيْرٍ فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهٖ.
* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کو نیکی کی راہ پر چلایا تو اس کو نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم)

03/09/2026

انتہائی جلیل القدر اور مسنون دعا۔
یہ دعا سورۃ آل عمران (آیات 26-27) کے قرآنی الفاظ اور احادیثِ مبارکہ میں وارد مسنون الفاظ پر مشتمل ہے،
جو رزق کی کشادگی، قرض کی ادائیگی اور پریشانیوں سے نجات کے لیے مانگی جاتی ہے۔
اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ».
اُردو ترجمہ:
"اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا فرماتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے، اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
اے دنیا اور آخرت کے رحمن! اور ان دونوں کے رحیم! تو یہ دونوں جس کو چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔
مجھ پر ایسی خاص رحمت فرما جو مجھے تیرے سوا کسی اور کی رحمت سے بے نیاز کر دے۔"
آمین یا رب العالمین! 🤲💚

Address

Timergara Dir Lower
Dir
18300

Opening Hours

Monday 06:00 - 23:00
Tuesday 06:00 - 23:00
Wednesday 06:00 - 23:00
Thursday 06:00 - 23:00
Friday 06:00 - 23:00
Saturday 06:00 - 23:00
Sunday 06:00 - 23:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Abdur Rahman Huzaifi Offical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category