The Knowledge System of Schools & Colleges Khall
The Knowledge System of Schools Khall is one of the most popular Institution of Dir Lower
19/06/2026
Welcome back after a tough and panic schedule of Annual exam.
A new terms,new goals and new memories to make.
Let's make it your best one yet.
Welcome back to college ,wishing all our students a fresh start filled with learning and success.
Doors are open and books are ready ,Here is to a smooth and successful re-opening of classes.
Note. On 30th june a welcome party will be arranged for all of you dears ( inshallah).
19/06/2026
18/06/2026
بحث کی لاحاصل دھول اور سکوتِ جاں
انسانی رشتوں اور سماجی رویوں کے اس پرآشوب دور میں، جہاں ہر شخص اپنے نظریات کا علمبردار اور اپنی سوچ کا اسیر ہے، ذہنی سکون ایک نایاب دولت بن چکا ہے۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں بے شمار ایسی بحثوں کا حصہ بنتے ہیں جن کا نہ تو کوئی منطقی انجام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حاصل۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی سچائی کا ڈھنڈورا پیٹنا دانشمندی نہیں، بلکہ کبھی کبھی خاموشی اور سامنے والے کی ہاں میں ہاں ملا دینا ہی روح کی اصل اصلاح ہے۔
جب معاشرتی نفسیات اس حد تک بگڑ جائے کہ لوگ مضحکہ خیز حد تک ناممکن باتوں پر اصرار کرنے لگیں، تو وہاں منطق کے تیر چلانا بے سود ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جذباتی اصلاح کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی توانائی کو بے جا بحث کی نذر کرنے کے بجائے، اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دیں۔
ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں مکالمہ (Dialogue) ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ مباحثے (Debate) نے لے لی ہے۔ مباحثے کا مقصد سچائی تک پہنچنا نہیں، بلکہ اپنی انا کی تسکین اور دوسرے کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص ضد، جہالت یا محض اپنی رائے کو برتر ثابت کرنے کے لیے کسی لایعنی بات پر اڑ جائے، تو وہاں خاموشی اختیار کر لینا یا اس کی بات پر مسکرا کر آگے بڑھ جانا بزدلی نہیں ہے۔ یہ وہ مقامِ فہم ہے جہاں انسان جان لیتا ہے کہ ہر دماغ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کے سامنے سچائی کی قندیل روشن کی جائے۔
کسی نادان یا ضدی شخص کے سامنے یہ کہہ دینا کہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، دراصل سامنے والے سے ہارنا نہیں ہے، بلکہ اپنی اندرونی جھیل کے سکون کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک ایسی ڈھال ہے جو آپ کو جذباتی ہیجان اور غصے کے طوفان سے محفوظ رکھتی ہے۔
جذباتی اصلاح کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ کا سکون کسی دوسرے کے رویے یا رائے کا محتاج نہ ہو۔ اگر کسی کا اصرار آپ کو اشتعال دلاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جذبات کی چابی اب بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔
بے مقصد بحثوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے آپ اس ذہنی توانائی کو بچاتے ہیں جو زندگی کے مثبت اور تعمیراتی کاموں میں استعمال ہو سکتی ہے۔
بعض اوقات سچ جیتنے سے رشتہ ہار جاتا ہے۔ جذباتی سمجھداری یہ ہے کہ جہاں بات محض انا کی ہو، وہاں بحث کو جیتنا رشتوں کے تحفظ کے سامنے ہیچ سمجھا جائے جب انسان لایعنی گفتگو کی دھول سے خود کو الگ کر لیتا ہے، تو اسے اپنے اندر ایک عجب توازن اور ٹھہراؤ محسوس ہوتا ہے
زندگی بہت مختصر ہے اور کرنے کو بہت سے خوبصورت کام باقی ہیں۔ سچائی خود اپنا راستہ بناتی ہے، اسے ہر موڑ پر ثابت کرنے کے لیے اپنی جان ہلکان کرنا دانشمندی نہیں۔ یہ ایک صوفیانہ طرزِ عمل ہے کہ جہاں دلیل پتھر سے ٹکرانے لگے، وہاں مسکرا کر راستہ بدل لینا ہی دانائی ہے۔
آئیے، اپنے اندر کے اضطراب کو ختم کریں، دنیا کو ان کے اپنے نظریات کے ساتھ جینے دیں، اور اپنی روح کے گوشوں میں سکون کے دیپ جلائیں
17/06/2026
بسلامِ عقیدت بحضور خلیفہ دوم، مرادِ رسولؐ، فاتحِ عالم، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ✨
یکم محرم الحرام: یومِ شہادتِ فاروقِ اعظمؓ 🖤
"اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا، تو اس کا حساب بھی عمر سے لیا جائے گا۔"
(عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ)
عدل و انصاف کا وہ آفتاب جس کی کرنوں سے تاریخِ انسانیت آج بھی منور ہے!
یکم محرم الحرام کا یہ عظیم دن ہمیں اسلام کے اس جلیل القدر جرنیل، حکمران اور عظیم مدبر کی یاد دلاتا ہے جن کے رعب و دبدبے سے باطل کانپتا تھا، مگر عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک عام شہری بھی برسرِ منبر آپؓ سے سوال کر سکتا تھا۔
دورِ فاروقی: تاریخ کا سنہری باب 📜
فاتحِ عالم: آپؓ کے دور میں اسلام کی سرحدیں ۲۲ لاکھ مربع میل تک پھیلیں۔
پیکرِ عدل: شاہ و گدا، امیر و غریب سب کے لیے ایک ہی قانون تھا۔
مثالی نظامِ تعلیم و تربیت: آپؓ نے علم کی ترویج، اساتذہ کے وقار اور نوجوانوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی۔
🎓
ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری اپنی نئی نسل کو "فاروقی کردار" سے روشناس کروانا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ قیادت (Leadership) عہدے کا نام نہیں، بلکہ سخت ترین ذمہ داری، امانت داری اور احتساب کا نام ہے۔ ہمیں اپنے بچوں میں وہی فاروقی سچائی، بے باکی اور انصاف پسندی پیدا کرنی ہے جو ایک مظلوم کے حق کے لیے کھڑی ہو سکے۔
آج کے دن ہمارا سب سے بڑا عزم یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی اور سماجی ماحول میں امانت، دیانت اور فاروقی عدل کی شمع کو دوبارہ روشن کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ فاروقِ اعظمؓ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی نئی نسل کو اس سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
پرنسپل
طارق ذہین
#
Activity.
Shapes Hunt
Class KG.
محترم سر مسیح اللہ کا بہترین فزکس لیکچر، جہاں علم اور فہم کے نئے در وا ہوئے۔
16/06/2026
The Knowledge School Khal and its Sub Campuses, will remain closed on 17 June 2026 due to the public holiday on the occasion of the 1st of Muharram
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Dir