GHSS: LAL QILLA

GHSS: LAL QILLA

Share

اسلامیات آسان حل: اسلامیات کے آسان، عام فہم، مستند اور جامع نوٹس کیلئے اس پیج سے فائدہ اٹھائیں۔

26/12/2025

The Concept of salts.

24/12/2025

اچھے استاد کے 7 بنیادی کردار — ہر کلاس روم کی ضرورت:

اچھا استاد صرف پڑھانے والا نہیں ہوتا، وہ ایک مکمل نظام، ایک رہنما اور ایک ایسا کردار ہوتا ہے جو کلاس روم کے ہر بچے کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بہترین تعلیمی ماحول اسی وقت قائم ہوتا ہے جب استاد اپنے مختلف کرداروں کو سمجھ کر ذمہ داری کے ساتھ نبھائے۔ ذیل میں ایک اچھے استاد کے سات اہم کردار بیان کیے گئے ہیں:

1. لرننگ فیسلیٹیٹر (Learning Facilitator)
اچھا استاد محض جوابات نہیں دیتا بلکہ طلبہ کو خود سیکھنے، سوچنے اور سمجھنے کی سمت دکھاتا ہے۔ وہ سوالات، سرگرمیوں اور رہنمائی کے ذریعے بچوں میں خود اعتمادی، تنقیدی سوچ اور آزادانہ سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

2. اسکول لیڈر (School Leader)
اچھا استاد کلاس روم کے ساتھ ساتھ ادارے میں بھی قیادت کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ وہ نظم و ضبط، اخلاق اور مثبت رویوں سے دوسروں کے لیے مثال بنتا ہے اور طلبہ و اساتذہ کو بہترین کارکردگی کی طرف مائل کرتا ہے۔

3. نصاب شناس (Curriculum Specialist)
نصاب کو سمجھنا اور اسے موثر طریقے سے طلبہ تک پہنچانا استاد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اچھا استاد جانتا ہے کہ کون سا موضوع کس ترتیب اور کس انداز میں پڑھانا ہے تاکہ سیکھنے کا عمل آسان، دلچسپ اور مؤثر ہو۔

4. انسٹرکشنل اسپیشلسٹ (Instructional Specialist)
یہ کردار استاد کی پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ اچھا استاد طلبہ کے مطابق تدریسی طریقے، سرگرمیاں اور وسائل کا انتخاب کرتا ہے تاکہ ہر بچہ اپنی سطح کے مطابق بہتر سیکھ سکے۔

5. کلاس روم سپورٹر (Classroom Supporter)
ایک محفوظ، خوشگوار اور مثبت ماحول سیکھنے کی سب سے بڑی کنجی ہے۔ استاد بچوں کی جذباتی اور ذہنی کیفیت کو سمجھ کر ایسا ماحول بناتا ہے جہاں ہر بچہ اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کر سکے۔

6. ریسورس پرووائیڈر (Resource Provider)
اچھا استاد بچوں کو سیکھنے کے لیے مختلف مواد، مثالیں، ورک شیٹس، سرگرمیاں اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وہ تعلیم کو کتابوں سے نکال کر حقیقی زندگی تک پہنچاتا ہے۔

7. مینٹر (Mentor)
بہترین استاد صرف پڑھاتا نہیں، تربیت بھی کرتا ہے۔ وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتا، ان کا اعتماد بڑھاتا اور انہیں تعلیمی و ذاتی زندگی میں بہتر فیصلوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ایک مینٹر کی موجودگی اکثر بچے کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
یہ وہ کردار ہیں جو ایک استاد کو حقیقی معنوں میں ہیرو بناتے ہیں۔
جو استاد ان ذمہ داریوں کو سمجھ کر نبھاتا ہے، وہ نہ صرف کلاس روم بناتا ہے بلکہ نسلیں تعمیر کرتا ہے۔

#تعلیم

16/04/2024

اسلامیات جماعت نہم کورس آوٹ لائن:
1: سورة الأنفال:
***آیات کا ترجمہ، تشریح اور مفہوم۔
*** معروضی سوالات MCQ's
*** مختصر سوالات اور ان کے جامع اور مختصر جوابات۔
**** تفصیلی سوالات اور ان کے مدلل اور بامقصد جوابات۔
2: احادیث مبارکہ:
**** ترجمہ، تشریح اور مفہوم۔
3: موضوعاتی مطالعہ:
*** منتخب موضوعات پر معروضی سوالات۔
**** منتخب موضوعات پر مختصر سوالات اور ان کے جوابات۔
*** منتخب موضوعات پر تفصیلی سوالات اور ان کے مدلل جوابات۔

اسلامیات جماعت دہم کورس آوٹ لائن:
1: سورة الأحزاب، سورة الممتحنة:
***آیات کا ترجمہ، تشریح اور مفہوم۔
*** معروضی سوالات MCQ's
*** مختصر سوالات اور ان کے جامع اور مختصر جوابات۔
**** تفصیلی سوالات اور ان کے مدلل اور بامقصد جوابات۔
2: احادیث مبارکہ:
**** ترجمہ، تشریح اور مفہوم۔
3: موضوعاتی مطالعہ:
*** منتخب موضوعات پر معروضی سوالات۔
**** منتخب موضوعات پر مختصر سوالات اور ان کے جوابات۔
*** منتخب موضوعات پر تفصیلی سوالات اور ان کے مدلل جوابات

سبق نمبر 1 سورة الانفال:- جماعت نہم کورس
سورة الانفال کا تعارف:
اس سورت مبارکہ کا نام سورة الانفال ہے، جو کہ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔انفال نفل کی جمع ہے مراد زائدہ چیزحق سے زیادہ، جس کے معنی مال غنیمت کے ہیں۔ چونکہ سورت کا آغاز انفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام سے کیا گیا اور اس سورت کا بیشتر موضوع بھی یہی رہا ، اس لئے اس کا نام الانفال رکھا گیا۔اس سورت میں 75 آیات مبارکہ ہیں، اور اس کے دس رکوع ہیں۔ یہ مدنی سورت ہے۔

زمانہ نزول:
یہ سورة مبارکہ غزوہ بدر کے فوراً بعد سن 2 ہجری میں نازل ہوئی ۔اسی لئے اس کا بیشتر حصہ غزوہ بدر کے متعلق ہی ہے۔ اس سورت کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔حق اور باطل کی جنگ میں فتح حق کو ہوتی ہے۔باطل سے کبھی خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔جنگ کا مقصد مال و اسباب یا شان و شوکت نہیں بلکہ اللہ کے دین کا نفاذ اور ظلم و استبداد کا خاتمہ ہے۔

سبب نزول:
سبب نزول کسے کہتے ہیں؟سبب نزول سے مراد کسی سورت کے نازل ہونے کا سبب اور وجہ ہے۔قرآن مجید وقتا فوقتا ضرورت اور حالات کے مطابق تئیس سال کے عرصے میں نازل ہوا۔جیسے ہی کوئی واقعہ او ر ضرورت پیش آئی سورت نازل ہو جایا کرتی تھی۔اسی کو سبب نزول یا شان نزول کہا جاتا ہے۔
سورہ الانفال کا سبب نزول:
مسلمان اپنی نوزائیدہ ریاست مدینہ میں قدم جمانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔کفار کویہ بات کسی طور بھی گوارا نہ تھی،وہ ہر وقت تاک میں رہتے تھے۔۔انہی حالات میں کفارمکہ کا ایک قافلہ جو بھاری سازوسامان پر مشتمل تھا۔(جس کے ساتھ 50 ہزار اشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے)شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقے میں پہنچا جو مدینہ کے قریب تھا۔چونکہ مال زیاد تھا مگر محافظ کم تھے۔ابوسفیان جو اس قافلے کا سردارتھا بڑی ہوشیاری سے کام لیا۔اور ایک آدمی مدد کے لیے مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ مسلمان اس پر حملہ نا کر دیں۔
اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے تحت اپنے اونٹ کے کان کاٹ ڈالےاور اپنی قمیض آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا ۔قریش والو! اپنے قافلۂ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابو سفیان کے ساتھ ہیں، محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہو گیا ہے، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پاسکو گے، دوڑو دوڑو مدد کے لیے۔یوں ایک ہزار پر مشتمل افراد قافلے کی مدد کے لیے نکل آئے۔۔۔ادھر ابوسفیان بحفاظت سازوسامان لیے مکہ پہنچ گیا۔ادھر سے مسلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ابوجہل کے بھڑکانے پر بدر کے مقام پر دونوں قافلوں کی زبردست جنگ ہوئی۔

سبق نمبر 2:--
الانفال آیت نمبر 1:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(1)۔
ترجمہ: وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔
تشریح: ➊ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ: ’’ الْاَنْفَالِ ‘‘ یہ ’’ نَفَلٌ‘‘ (نون اور فاء کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ ’’فَرَسٌ‘‘ کی جمع ’’ اَفْرَاسٌ‘‘ ہے۔ جس کا معنی زائد چیز ہے، جیسا کہ فرمایا : « وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ » [ بنی إسرائیل : ۷۹ ] ’’اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔‘‘ یعنی رات کا قیام فرض نمازوں سے زائد ہے۔ یہ لفظ کئی معنوں میں آتا ہے: (1) مال غنیمت، کیونکہ جہاد کا اصل مقصد تو ثواب اور حصولِ جنت ہے، غنیمت تو ایک زائد چیز ہے۔ شاید اسی لیے پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی، اس امت کو ثواب پر مزید غنیمت بھی حلال کر دی گئی۔ (2) امیر کسی خاص کارنامے پر غنیمت کے حصے سے زائد کسی انعام کا اعلان کر دے، یا دینا چاہے تو یہ بھی نفل ہے۔ (3) مقتول کے پاس جو بھی سامان اسلحہ یا سواری وغیرہ ہو وہ قاتل کو دیا جائے، اسے ’’سلب‘‘ کہتے ہیں، یہ بھی نفل ہے۔ (4) عام جنگ کے علاوہ کچھ دستے جنگ کے لیے جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی بستی پر حملے کے لیے بھیجے جائیں اور وہ غنیمت لے کر آئیں تو وہ پورے لشکر کے لیے ہوگی، مگر اس دستے کو مجموعی غنیمت میں سے الگ زائد حصہ بھی دیا جائے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وقت چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ عطا فرماتے تھے۔ (5) امیر غنیمت کی تقسیم سے پہلے کوئی ایک چیز اپنے لیے چن لے، مثلاً کوئی اسلحہ یا سواری، یا لونڈی وغیرہ، اسے ’’صفی‘‘ بھی کہتے تھے۔
¤ زمانۂ جاہلیت میں معمول تھا کہ جنگ میں جو شخص جو کچھ لوٹ لیتا اسی کا ہوتا۔ اسلام میں سب سے پہلا عظیم الشان معرکہ بدر واقع ہوا تو ابھی تک کفار سے حاصل ہونے والے مال کی تقسیم کا طریقہ مقرر نہیں ہوا تھا۔ بدر میں جب بہت سا مالِ غنیمت حاصل ہوا تو یہ مسئلہ پیش آیا۔ چنانچہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو میں آپ کے ساتھ بدر میں شریک ہوا۔ لوگوں کا باہمی مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی، تو ایک گروہ انھیں ہزیمت دیتے اور قتل کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑا، ایک گروہ لشکر گاہ پر متوجہ ہو کر اس کی حفاظت اور مال جمع کرنے لگ گیا اور ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ دشمن آپ کے متعلق کسی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لے۔ آخر سب لوگ واپس آ کر جمع ہوئے تو جنھوں نے غنیمتیں جمع کی تھیں، کہنے لگے، یہ ہم نے جمع کی ہیں، کسی اور کا ان میں کوئی حصہ نہیں، جو دشمن کے پیچھے گئے تھے انھوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس کے حق دار نہیں ہو، ہم نے دشمن کو ان سے ہٹایا اور انھیں مار بھگایا ہے۔ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیر ڈالے رکھا، انھوں نے کہا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں رکھا اور اس بات سے ڈرے کہ دشمن کسی طرح کی غفلت میں آپ کو نقصان نہ پہنچائے، چنانچہ ہم اس کام میں مشغول رہے، تو اس وقت یہ آیات اتریں : « يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ » تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جاتے تو چوتھا حصہ بطور نفل (زائد) دیتے تھے، پھر جب واپس آتے، لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو تیسرا حصہ بطور نفل عطا فرماتے تھے اور آپ خصوصاً زائد حصے دینا پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے : ’’مومنوں کا قوت والا ان کے کمزور پر غنیمت واپس لاتا ہے۔‘‘ [ أحمد : 323/5، ۳۲۴، ح ۲۲۷۶۲، وقال شعیب الأرنؤوط حسن لغیرہ ]ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور مستدرک حاکم میں بھی اس حدیث کے بعض اجزا مروی ہیں۔
➋ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ …: فرمایا آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کس کا حق ہیں، کس طرح تقسیم ہوں گی، آپ فرما دیں کہ غنیمتیں حقیقت میں تم میں سے کسی کی بھی ملکیت نہیں، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہیں، تمھارا ان میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ فتح تمھاری طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کی مدد سے ہوئی ہے۔ آگے دور تک یہ بات بیان کی ہے کہ فتح اللہ کی مدد ہی سے ہوئی ہے اور ہوتی ہے، اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور ان اموال کی وجہ سے تمھارے باہمی تعلقات میں جو خرابی آئی ہے اسے درست کرو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کا رسول جو بھی حکم دیں اس کی اطاعت کرو، جسے جتنا دیں یا نہ دیں، وہ اس پر راضی رہے اور اس مال کی بنا پر تمھارے آپس کے تعلقات ہر گز خراب نہیں ہونے چاہییں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم آپس کے تعلقات بگاڑنے سے بچو، اس لیے کہ یہ چیز (دین) کو مونڈ دینے والی ہے۔‘‘ [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب فی فضل صلاح ذات البین : ۲۵۰۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] تفسیر ابن کثیر میں یہاں مسند ابی یعلی کے حوالے سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل کی گئی ہے جس میں اپنے بھائی کو معاف کرنے والے کے لیے اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں جانے کا ذکر ہے، یہ روایت مستدرک میں بھی ہے، جسے امام حاکم نے صحیح کہا ہے، مگر ذہبی نے اس کے ایک راوی عباد کو ضعیف اور اس کے شیخ کو ’’لَا يُعْرَفُ‘‘ کہا ہے۔
➌ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو بھی ایمان کی شرط قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد (جیسا کہ ظاہر ہے) آپ کی سنت کی پیروی ہے، لہٰذا جو شخص آپ کی سنت سے منہ موڑ کر صرف قرآن کی اطاعت کرنا چاہتا ہے (جبکہ حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کسی صورت ممکن ہی نہیں) وہ قرآن کی واضح تصریح کے مطابق دائرۂ ایمان سے خارج ہے۔

سبق نمبر 3:-
الانفال آیت نمبر 2:-
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ(2)۔
ترجمہ: (اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔
تشریح: (آیت 2تا4) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ …: اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آ جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی بیشی کے لحاظ سے بھی۔ تیسری علامت یہ ہے کہ جس کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے تمام ذرائع اور اسباب تو اختیار کرتے اور اپنی کوشش پوری کرتے ہیں، مگر ان کا بھروسا ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے، اپنی تیاری یا اسباب پر نہیں۔ اپنی پوری کوششوں کے بعد وہ اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے حقوق اور آداب کے ساتھ ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، جن لوگوں میں یہ پانچ علامات پائی جائیں اللہ تعالیٰ نے صرف انھی کو ’’الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا‘‘ یعنی پکے سچے مومن قرار دیا ہے، ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بڑی بخشش بھی اور باعزت روزی بھی۔

سبق نمبر 4:-
الانفال آیت نمبر 3:
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ(3)۔
ترجمہ: وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس (مال) میں سے جو ہم نے انھیں دیا، خرچ کرتے ہیں۔
تشریح: ایمان والوں کی چوتھی صفت یہاں یہ بیان کی گئی کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں شروط وارکان کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔
پانچویں صفت ایمان والوں کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے غیب پر ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت بھی ضروری ہے، اس کی پہلی اور دائمی علامت بلاناغہ نماز ہے، پانچ وقت اذان سن کر نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر جو شخص اطاعت پر تیار ہی نہ ہو اسے ہدایت کیسے ہو؟ نماز قائم کرنے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز ادا کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘ [ بخاری، الأذان، باب من قال لیؤذن فی السفر… : ۶۲۸، عن مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ] ارکان نماز کو اعتدال اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے ارکان نماز ادا نہ کرنے والے آدمی سے فرمایا تھا : ’’دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں۔‘‘ [ بخاری، الأذان، باب وجوب القراءۃ … : ۷۵۷، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] جماعت کا اہتمام بھی نماز قائم کرنے میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی میں ہوں یا بادیہ میں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر شیطان ان پر غالب آ چکا ہوتا ہے۔‘‘ [ أبو داوٗد، کتاب الصلوۃ، باب التشدید فی ترک الصلوۃ : ۵۴۷، عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اپنی صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا بھی اقامتِ صلاۃ کا حصہ ہے۔‘‘ [ بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف… : ۷۲۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نماز میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم خوب اچھی طرح ملاتے تھے، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہر نمازی اپنا پاؤں اور کندھا ساتھ والے کے پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔‘‘ [ بخاری، الأذان، باب إلزاق المنکب … : ۷۲۵]
وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ: ’’جو کچھ ہم نے انھیں دیا‘‘ اس سے مراد ہر نعمت ہے، مثلاً مال و اولاد، علم و عقل، قوت و صحت، عزت و وقار وغیرہ۔’’ ہر نعمت میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے ہیں‘‘ ساری نعمت خرچ کرنے کا مطالبہ ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ محمد (۳۶ تا ۳۸) اس میں ذاتی ملکیت کے منکروں ( کمیونسٹوں) کا رد ہے، کیونکہ ملکیت نہ ہو گی تو خرچ کس سے کرے گا۔ خرچ میں فرض و نفل ہر قسم کا خرچ ہے اور جو شخص اللہ کے لیے اس کی عطا کردہ نعمت خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں وہ قرآن سے رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا۔

سبق نمبر 5:-
سورہ الانفال آیت نمبر 4:
أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ(4)۔
ترجمہ: یہی لوگ سچے مومن ہیں، انھی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
تشریح: اس سے پہلی آیات میں ایمان والوں کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس آیت میں ان مذکورہ صفات کے حامل ایمان والوں کو سچے مومن ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ ان کیلئے بلند درجات، مغفرت اور عزت کی روزی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سبق نمبر 6:-
الانفال آیت نمبر 5:
كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ(5)۔
ترجمہ: جس طرح تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ یقینا مومنوں کی ایک جماعت تو ناپسند کرنے والی تھی۔
تشریح: (آیت 5) كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ …: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی بات ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اسی طرح ہے جیسے تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا۔ مفسرین نے اس ’’ كَمَا ‘‘ (جس طرح) کی کئی توجیہیں کی ہیں، بعض نے وہ بیس تک پہنچا دی ہیں، البتہ صاحب کشاف نے صرف دو توجیہیں کی ہیں، جن میں سے زیادہ واضح یہ ہے کہ یہاں مبتدا محذوف ہے اور عبارت یوں ہو گی ’’ هٰذِهِ الْحَالُ كَحَالِ إِخْرَاجِكَ يَعْنِيْ اَنَّ حَالَهُمْ فِيْ كَرَاهِيَةِ مَا رَأَيْتَ مِنْ تَنْفِيْلِ الْغَزْوَةِ مِثْلُ حَالِهِمْ فِيْ كَرَاهَةِ خُرُوْجِكِ لِلْحَرْبِ ‘‘ یعنی غزوۂ بدر سے حاصل ہونے والی غنیمت کی تقسیم کے بارے میں آپ کی رائے اور فیصلے کو ناگوار سمجھنے میں ان کا حال ایسا ہی ہے جس طرح ان کا حال آپ کے لڑائی کے لیے نکلنے کے بارے میں تھا، حالانکہ دونوں ہی میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر تھی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’غنیمت کا یہ جھگڑا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ نکلتے وقت عقل سے تدبیریں کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی ٹھہری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو ہر کام میں یہی اختیار کرو کہ حکم برداری میں اپنی عقل کو دخل نہ دو۔‘‘ (موضح)۔

سبق نمبر:
الانفال آیت نمبر 6:
يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ(6)۔
ترجمہ: وہ تجھ سے حق میں جھگڑتے تھے، اس کے بعد کہ وہ صاف ظاہر ہو چکا تھا، جیسے انھیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔
➊ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ … : حق سے مراد کفار کا قافلہ نکل جانے کے بعد کفار سے ہر صورت لڑائی ہے، جس کا انجام فتح اور غنائم ہو گا۔ مختصراً واقعہ یہ ہے کہ سن ۲ ھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ کفارِ قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ جا رہا ہے اور مدینہ کے قریب کے راستے پر پہنچ چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی، لے کر قافلے کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان کو آپ کے نکلنے کی اطلاع ہو گئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعے سے مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاطاً اصل راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کر لیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچی تو ابوجہل ایک بڑا مسلح لشکر لے کر قافلے کی حفاظت کے لیے روانہ ہو گیا اور آ کر بدر میں ڈیرے ڈال دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے مسلمانوں کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی کہ ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف قریش کا لشکر ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ تمھیں دونوں میں سے ایک ضرور ملے گا۔ اس پر بعض صحابہ کو تردد ہوا، وہ چاہتے تھے کہ لشکر کے بجائے قافلے کا تعاقب کیا جائے۔ اس وقت ابوبکر، عمر، سعد بن معاذ اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنھم نے اطاعت کی تقریریں کیں، مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ہمیں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے ساتھیوں جیسا نہیں پائیں گے، جنھوں نے کہا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں!! تب آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور اس وقت بعض صحابہ نے لشکر سے نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا، اسے ’’ يُجَادِلُوْنَكَ ‘‘ (وہ تجھ سے جھگڑتے تھے) سے تعبیر کیا ہے۔
➋ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ … : یعنی سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔

سبق نمبر 8:
الانفال آیت نمبر 7:
وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ(7)۔
ترجمہ: اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارے لیے ہو گا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھیں مل جائے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
تشریح: ➊ وَ اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ: یعنی قافلے یا کفار پر فتح اور اموال غنیمت۔
➋ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ … : ’’ الشَّوْكَةِ ‘‘ کانٹے کو کہتے ہیں، یعنی تمھاری خواہش یہ تھی کہ کسی تکلیف اور جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا قافلہ تمھیں مل جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی باتوں اور وعدوں کے مطابق حق کو سچا ثابت فرمائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

سبق نمبر 9:
الانفال آیت نمبر 8:
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ(8)۔
ترجمہ: تاکہ وہ حق کو سچا کر دے اور باطل کو جھوٹا کر دے، خواہ مجرم ناپسند ہی کریں۔
تشریح: لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْبَاطِلَ …: اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے کہ تمھارا مقابلہ تجارتی قافلے کے بجائے قریش کے لشکر سے ہوا اور تمھیں فتح نصیب ہوئی، جس سے ان کی سیاسی اور فوجی طاقت پر کاری ضرب لگی، یہی اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت تھی جسے تم نہیں سمجھ رہے تھے اور تم میں سے بہت سے لوگ یہ چاہ رہے تھے کہ لشکر سے مقابلے کے بجائے تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگے۔

سبق نمبر 10:
الانفال آیت نمبر 9:
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ(9)۔
ترجمہ: جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔
تشریح: ➊ اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ … : اپنی تعداد، تیاری، اسلحہ کی کے تین گنا سے زیادہ اور ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہونے کی وجہ سے سب مسلمان ہی اپنے پروردگار سے مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے۔ خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نہایت عجز اور الحاح کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے ساتھی تین سو انیس آدمی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی طرف رخ کرکے ہاتھ پھیلا دیے اور اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرنے لگے : ’’اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔‘‘ آپ اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرتے رہے اور ہاتھ پھیلائے ہوئے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر کندھوں سے گر گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، آپ کی چادر پکڑی، اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا، پھر پیچھے سے آپ سے چمٹ گئے اور کہا : ’’اے اللہ کے نبی! آپ کا اپنے رب کو قسم دینا آپ کے لیے کافی ہے، کیونکہ یقینا وہ آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : « اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ » پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی۔ [ مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر… : ۱۷۶۳ ] ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہنے کے بعد آپ یہ کہتے ہوئے نکلے : « سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ » [ القمر : ۴۵ ] ’’یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالٰی : « إذ تستغیثون ربکم…» : ۳۹۵۳ ]۔
➋ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ: ایک دوسرے کے پیچھے، یعنی پے در پے آنے والے ہیں۔ چنانچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : ’’یہ جبریل ہیں، اپنے گھوڑے کے سر (لگام) کو پکڑے ہوئے ہیں، لڑائی کے ہتھیار پہنے ہوئے ہیں۔‘‘[ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدراً: ۳۹۹۵ ] یہاں ایک ہزار فرشتے اترنے کے وعدے کا ذکر ہے جو واقعی اترے۔ رفاعہ بن رافع قرظی بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پوچھا : ’’تم اہل بدر کو اپنے میں کیسا شمار کرتے ہو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’مسلمانوں کے سب سے بہتر لوگ۔‘‘ یا اس کے ہم معنی کوئی بات کہی۔ (جبریل علیہ السلام نے) فرمایا : ’’اسی طرح وہ فرشتے بھی (افضل) ہیں جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔‘‘ [ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرًا : ۳۹۹۲ ] سورۂ آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کے وعدے کا ذکر ہے، تطبیق کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۲۴، ۱۲۵)۔

سبق نمبر 11:
الانفال آیت نمبر 10:
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَى وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ(10)۔
ترجمہ: اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمھارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تشریح: ➊ وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى … : آیت کے ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی حصہ نہیں لیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مسلمانوں کی مدد کے لیے محض اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انھیں اطمینان رہے کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم! آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گر گیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ پھٹ گیا تھا، جس طرح کوڑا مارنے سے ہوتا ہے اور وہ ساری جگہ سبز ہو گئی تھی۔ وہ انصاری آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کی، تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے تھا۔‘‘ [ مسلم، الجھاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر… : ۱۷۶۳ ] بدر کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جنگوں میں فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ میں نے بہت سے قابل اعتماد لوگوں سے سنا کہ متحدہ ہندوستان میں حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ کے حکم پر مسلمانوں نے عید الاضحی کے دن گائیں ذبح کیں، تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، مسلمانوں نے تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کیا تو کفار کثیر تعداد میں قتل ہوئے اور بھاگ گئے۔ جب مقدمہ چلا تو جنگ میں شریک مسلمان اور کافر پیش ہوئے، کفار کو شناخت کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا، ہم سے تو وہ لوگ لڑے ہیں جو سفید لباس میں ملبوس گھوڑوں پر سوار تھے، حالانکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہ تھا۔ کشمیر میں کفار کے خلاف کار روائیوں کے دوران بھی فرشتوں کی مدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جو مجلہ الدعوۃ اور غزوہ کے مختلف شماروں میں شائع ہوئے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے: ¤ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو ¤ اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی ¤
➋ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ … : یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمھیں جو فتح نصیب ہوئی ہے وہ ان فرشتوں کی وجہ سے ہوئی ہے، بلکہ حقیقت میں مدد اللہ کی طرف سے ہے، وہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی تمھیں فتح عطا کر دیتا، مگر جہاد کو دین کا حصہ بنانے سے تمھارے ایمان کا امتحان، تمھارے ہاتھوں کافروں کو ذلیل اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرنا مقصود ہے۔ پہلی امتوں میں سے جو امت اپنے پیغمبر کو جھٹلاتی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نہ کسی طرح کا عذاب نازل ہو جاتا، پانی میں غرق کرنا، خوف ناک چیخ، زلزلہ، پتھروں کی بارش اور شکلیں مسخ کر دینا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم کے غرق ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک یہی سلسلہ قائم رہا۔ آخر کار جب موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی تو جہاد شروع ہوا اور اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہے، اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا چاہتا ہے، فرمایا : « قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ … » [ التوبۃ : ۱۴، ۱۵ ] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے چھ فائدے بیان فرمائے ہیں، تفصیل کے لیے سورۂ توبہ میں ان آیات کی تفسیر دیکھیے۔ اگرچہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی آسمان سے عذاب کے بعض واقعات پیش آئے، جیسے اصحاب الفیل کا واقعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی امت میں شراب، زنا، ریشم اور باجوں گاجوں کو حلال کرلینے والوں پر زمین میں دھنس جانے اور بندر اور خنزیر بنا دیے جانے کے عذاب آئیں گے۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر… : ۵۵۹۰، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ ] مگر وہ عبرت کے لیے ہوں گے اور جزوی، یعنی کہیں کہیں ہوں گے۔ کفار کو کفر سے روکنے اور ان کی سرکشی ختم کرکے انھیں اسلام کے زیر نگیں لانے کی ذمہ داری اب جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں ہی پر ہے، جس میں یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل ہو گی۔

درس نمبر 12:
سورة الأنفال کے احکام:
1: اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم۔
2: مال غنیمت کی تقسیم کے اختیار اور طریقہ کار کا بیان۔
3: ہجرت اور جہاد کی فضائل کا بیان۔
4: ایمان والوں کی صفات کا بیان۔
5: جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس کیلئے ہر قسم کی تیاری کرنے کا بیان۔
6: اللہ کی راہ میں مسلسل کوشش اور جدوجہد کرنے کی تاکید۔
7: اللہ پر کامل بھروسہ رکھنے کاحکم۔
8: صلح اور جنگ کے معاہدوں کی پابندی کا حکم۔
9: نسب کے رشتہ داروں کو وراثت کا حق دار قرار دینا۔
10: انصار اور مھاجرین کے درمیان ایک دوسرے کے وارث ہونے کے منسوخ ہونے کا تذکرہ۔
[14/04, 1:22 pm] Abdur Rehman: سبق نمبر 13:
معروضی سوالات(MCQ's): یہاں صرف درست جواب لکھا جاتا ہے!!!
الانفال آیت 1 تا 10:
1: سورہ انفال۔۔۔۔۔۔۔۔سورت ہے۔ (مدنی)۔
2: الانفال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی جمع ہے۔ ( نفل)۔
3: الانفال کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مال غنیمت)۔
4: فاتقوا کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( پس ڈر جاو)۔
5: اصلحوا کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔( درست رکھو)۔
6: ذات بینکم کے معنی ہیں۔۔۔۔( آپس کے تعلقات)۔
7: وجلت کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔( ڈرجاتے ہیں)۔
8: تلیت کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔( تلاوت کی جاتی ہیں)۔
9: زادتھم کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔( اضافہ کردیتا ہے)۔
10: یتوکلون کے معنی ہیں۔۔۔۔( وہ توکل کرتے ہیں)۔
11: یقیمون کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( وہ قائم کرتے ہیں)۔
12: رزقناھم کے معنی ہیں۔۔۔۔( جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے)۔
13: ینفقون کے معنی ہیں۔۔۔۔( وہ خرچ کرتے ہیں)۔
14: حقا کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔( سچے)۔
15: رزق کریم کے معنی ہیں۔۔۔۔( عزت والا رزق)۔
16: اخرجک کے معنی ہیں۔۔۔۔( آپ کو نکالا)۔
17: بالحق کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( حق کے ساتھ/ تدبیر کے ساتھ)۔
18: فریقا کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( جماعت/ گروہ)۔
19: لکارھون کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( ناپسند کرنے والے)۔
20: یجادلونک کے معنی ہیں۔۔۔(وہ آپ سے جھگڑا کرتے تھے)۔
21: یساقون کے معنی ہیں۔۔۔۔( وہ ہانکے جاتے ہیں)۔
22: یعدکم کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا)۔
23: احدی الطائفتین کے معنی ہیں۔۔۔( دو گروہوں میں سے ایک گروہ)۔
24: تودون کے معنی ہیں۔۔۔۔( تم چاہتے تھے)۔
25: غیر ذات الشوکة کے معنی ہیں۔۔۔( بغیر اسلحہ والا)۔
26: یحق کے معنی ہیں۔۔۔۔( وہ ثابت کردیں)۔
27: یقطع کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( وہ کاٹ دیں)۔
28: دابر کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( جڑ/ اصل)۔
29: یبطل کے معنی ہیں۔۔۔۔( جھوٹا ثابت کردیں)۔
30: تستغیثون کے معنی ہیں۔۔۔( تم فریاد کرتے تھے/ مدد طلب کرتے تھے)۔
31: فاستجاب کے معنی ہیں۔۔۔( اللہ نے قبول کرلی)۔
32: ممدکم کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔( میں مدد کرنے والا ہو)۔
33: الف کے معنی ہیں۔۔۔۔۔( 1000 ایک ہزار)۔
34: مردفین کے معنی ہیں۔۔۔۔( لگاتار آنے والے)۔
35: بشری کے معنی ہیں۔۔۔۔( خوشخبری)۔

مرتب کردہ: عبدالرحمن جی ایچ ایس ایس لعل قلعہ۔
ایم اے عربی ( گولڈ میڈلسٹ)، ایم اے اسلامیات، ایم فل اسلامیات، پی ایچ ڈی اسلامیات، ایم ایڈ۔

07/02/2024

Best iphone cover.
Case Mate iPhone 14 Case iPhone 13 Case

Photos from GHSS: LAL QILLA's post 21/11/2023

گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری سکول لعل قلعہ میدان دیر پائین کے تراشے ہوئے ہیرے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دے کر سبکدوش ہوگئے ہیں یا اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دعا ہے جو فوت ہوچکے ہیں اللہ تعالی ان کی کامل مغفرت فرمائے، اور جو حیات ہیں اللہ ان کو ایمان اور عافیت کی لمبی زندگی دے۔ آمین۔

30/04/2023

Assalamo Alaikum,
Please stay connected for up to date information.

Want your school to be the top-listed School/college in Dir?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Dir

Telephone

Website

Address

Lal Qilla
Dir
18300

Opening Hours

Monday 07:30 - 13:15
Tuesday 07:30 - 13:15
Wednesday 07:30 - 13:15
Thursday 07:30 - 13:15
Friday 07:30 - 13:15
Saturday 07:30 - 13:15