Umar Muhammad
﷽
�میری زندگی کامقصدتیری دین ک?
بغیردوائیوں کے سوتے ہو_ صبح بغیر تکلیف کے جاگتے ہو_ !!!!
بغیر کسی سہارے کے آتے جاتے ہو_ بغیر پرہیز کھاتے پیتے ہو!!!!! تو کہو 🥀الحمداللہ 🥀
29/06/2024
ایک مثالی استاد محترم جناب خائستہ سید صاحب آج اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو گئے۔ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے زندگی کو کسی نہ کسی طرح گزار کر ہی جاتا ہے مگر وہ لوگ عظیم ہیں جن کی زندگی مشعل راہ کا کام کرتی ہے. محترم انتہائی شريف النفس محنتی اور اپنے پیشے سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والا شخص تھا۔موصوف سینکڑوں اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ کئ ڈاکٹر ز، انجینئرز ،فوجی جوان ،پولیس اور دوسرے محکموں کے افسران کا استاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپ کی شان بیان کروں۔
قلم تھی ہاتھ میں لکھنا سکھایا آپ نے
منزل تھی ہاتھ میں رستہ دکھایا آپ نے
ہم تو بس پتلے تھے
شعور دے کے انسان بنایا آپ نے۔ ❤ز
قوم کے مخلص، دلوں کی دھڑکن، معاشرے کے رہنما، انتہائ قابل احترام استاد محترم جناب خائستہ سید صاحب
اللہ پاک سر جی کو سلامت رکھیں۔۔😍
مولانا روم نے لکھا کہ
بھیڑیا بازار میں جا رہا تھا وہاں کسی دوکان کی چھت پر کھڑی بکری اس کو برا بھلا کہنے لگی!
کسی نے کہا بکری میں اتنی ہمت آگئی ہے جو آپ کو گالیاں دے رہی ہے
بھیڑیا کہنے لگا بکری کی کیا مجال جو مجھے گالیاں دے گالیاں تو مجھے وہ چھت دے رہی ہے جس پر وہ بکری کھڑی ہے
یعنی اس کا سہارا مضبوط ہے اس لیئے یہ کسی کو بھی باتیں سنا سکتی ہے....
02/05/2024
ساؤتھ افریقہ تبلیغی اجتماع 2024
خروج کارگزاری...
02/05/2024
یوم دیر 02 مٸ مبارک
02 May
سفید ٹوپی (سفید شاہی تاج) دیر کی پہچان...
دیر کے علاقہ خال میی ہاتھوں کی مدد سے بننے والی یہ ٹوپی...صرف ایک ٹوپی نہیی...یه دیر کی خود داری کی ایک لازوال داستان هے...کسی بھی قوم کی خود داری کا انحصار ان کی ازاد معیشت پر هوتاهے...یه کہانی شروع هوتی هے اس وقت سے جب ریاست دیر نے اپنی خود داری کو برقرار رکھتے ہوۓ اپنی معیشت اپنی مدد اپ کے تحت کھڑی کردی تھی...
یه سفید (تاج) ٹوپی دیر کی اس ماں بہن اور بیٹی کی وه خاموش محبت اور محنت هے...جس نے اپنے بھاٸ ،والد اور بیٹے کی نه صرف معاشی مدد کی بلکہ اس کے سر پر سفید تاج رکھاهواهے...اور اس کو گرنے نہیں دیتا... وه کشمیر کے محاذ پر دشمن کو ماں کا گود یاد دلادے...یا پردیس میی سالها سال اپنے ملک کو زر مبادلہ سے مالا مال رکھے...
خود داری کی لازوال داستان...
دیر کی پہچان...
یوم دیر 02 مٸ...(پوسٹ کاپی کرنے کی اجازت ہے)
29/04/2024
اکثر بدمعاش لوگ شریف لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں اور ان کو بے عزت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ سوچ ہوتا ہے کہ شریف بندہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا. تو بات ان کی 100٪ ٹیھک ہوتی ہے کیونکہ گالیاں دینے والے کے پاس نہ عزت ہوتی ہے نہ شہرت اور نہ حیا تو ایسے بندے کا کوئی کچھ بگاڑئے گا جن کے پاس کچھ ہوتا نہیں. اصل بات یہ ہے....
حضرت خالد بن ولید رضی الله تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا ۔
جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ آپؓ کا گھوڑا ’’اشجر‘‘ جس پر بیٹھ کے آپ نے تمام جنگیں لڑیں ، وہ بھی آنسو بہارہا تھا ۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار ، تلواریں ، خنجر اور نیزے تھے ۔
ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ،،اللہﷻ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے ۔
وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا، وہ اللہﷻ کی راہ میں خرچ کردیا۔
ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی ۔
صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح نہ کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔
بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضورؐ سے حضرت خالدؓ کے روحانی تعلق کی گواہی دی ۔
خالد بن ولیدؓ کا پیغام مسلم امت کے نام :
موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے ، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور
موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا ،،
دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدانِ جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولیدؓ کو موت بستر پر نہ آتی۔
رضی اللہ تعالٰی عنہُ
اس پیغام کو اس دور میں ہر مسلمان کو ضرور پڑھانا چاہیے، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قول کو وقتآ فوقتآ دہراتے رہنا چاہیے۔
بادشاہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے عبدالملک بادشاہ! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔
عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ بادشاہ نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔
عبدالملک نےکہا،
نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا،
اے بادشاہ! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟
بادشاہ نےجواب دیا،
کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔
خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔
بادشاہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ رحمہ اللّٰہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔
کیا آپ نے بھی آخرت کے بارے میں کچھ سوچا؟ نہیں سوچا تو اللہ کے واسطے ابھی اسی لمحہ سے سوچیں, کیا پتہ اگلا لمحہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو
نوٹ اس پیغام کو اپنے ساتھیوں تک پہنچائیے ہوسکتاہے اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.