ابرار اللہ النوری
ملاکنڈ یونیورسٹی کا پروگرام… اصل مسئلہ کہاں ہے؟
ملاکنڈ یونیورسٹی کے حالیہ پروگرام میں ایک پروفیسر کا اسٹیج پر ڈانس کرنا خبر بن چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پروفیسر کو نشانہ بنا رہے ہیں کچھ اسے معمولی بات کہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک شخص کی غلطی نہیں یہ پورے نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ ‘مخلوط نظامِ تعلیم’ ہے۔
جب روزانہ کلاس روم میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھیں ایک ہی ماحول میں ہوں ایک ہی استاد دونوں کے سامنے حاضر ہو تو بےتکلفی،احساسِ پردہ میں کمی اور رسمی حدود کا ٹوٹنا ایک فطری اور لازمی نتیجہ ہے۔
اگر کلاس روم میں مخلوط ماحول برقرار ہے تو اس کا اثر کلاس سے باہر تقریباً ہر سرگرمی پر پڑے گا۔
آج اسٹیج پر ایک پروفیسر نے ڈانس کیا یہ دراصل اسی مخلوط ماحول کی ظاہری شکل ہے۔
جو کچھ بند کلاس میں ہوتا ہے وہی کبھی نہ کبھی کھلے اسٹیج پر بھی نظر آ جاتا ہے۔
اس لیے یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ "ڈانس کس نے کیا؟"
بلکہ یہ ہے کہ ایسا ماحول کس نے پیدا کیا؟
جب تعلیم کی بنیاد مخلوط ہو
جب استاد اور طلبہ کے درمیان حدیں دھندلا جائیں
جب لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی نظام میں بغیر پردہ و تفریق کے رہیں
تو یہ واقعات اچانک نہیں ہوتے یہ اسی نظام کا منطقی نتیجہ ہوتے ہیں۔
اسی لیے میں کہتا ہوں
اگر جڑ ہی مخلوط ہو تو شاخیں کیسے پاکیزہ رہ سکتی ہیں؟
ہمیں بحث اس واقعے پر نہیں، بلکہ اس کی بنیاد یعنی مخلوط نظام تعلیم پر کرنی چاہیے۔
اصلاح وہاں سے شروع ہوگی جہاں خرابی نے جنم لیا ہے۔
Mufti Ibrarullah Alnnori
کیا آپ عمل کی نیت سے سنتے ہیں؟
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ
مسلمان کے لئے خوشخبری
زبان کی وجہ سے ہلاکت
جامعہ مفتاح العلوم شیرگڑھ ضلع مردان میں منعقدہ فضلاء کانفرنس کے اختتام پر استاذُ الاساتذہ شیخ صفی اللہ حفظہ اللہ ورعاہ نے نہایت پراثر اور بامعنی نصائح ارشاد فرمائیں۔
انہوں نے اپنے جامعہ کے فضلاء کو یاد دہانی کروائی کہ علم کی تکمیل دراصل عمل سے ہوتی ہے اور ایک عالم کی اصل پہچان اس کے کردار، عبادت اور تقویٰ سے ہوتی ہے۔
شیخِ محترم نے فضلاء کو درج ذیل امور کی پابندی کی خاص تلقین فرمائی:
1_ نماز باجماعت کی ہمیشہ پابندی کریں۔
2_ تلاوتِ قرآنِ مجید کو روزانہ کا معمول بنائیں۔
3_ نمازِ اشراق اور نمازِ تہجد کا اہتمام کریں۔
4_ ذکر و اذکار کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
5_ حُسنِ اخلاق اختیار کریں اور نرم خوئی کو اپنا شعار بنائیں۔
6_ صلہ رحمی کو فروغ دیں اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں۔
7_ وقت کی قدر کریں اور اسے ضائع کرنے سے بچیں۔
شیخ صفی اللہ حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ایک عالمِ دین اگر اپنی زندگی کو عبادت، اخلاق اور خدمتِ خلق سے مزین کرے تو وہ نہ صرف اپنے علم کا حق ادا کرتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان قیمتی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ اور اسلامی حکمرانوں کی ذمہ داریاں
02/10/2025
دونوں تصاویر میں کیا فرق ہے؟
ایک میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلمان پولیس ہے اور دوسری میں اس رائیل کی یہودی پولیس فرق صرف لباس کا ہے اور درمیان میں اس دور کے صلاح الدین ایوبی مشتاق احمد خان ہیں
کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اس رائیل امن چاہتا ہے اور غ زہ والے امن نہیں چاہتے؟
اگر اسرائیل واقعی امن چاہتا ہے تو پھر گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کیوں کیا گیا؟
اگر فلوٹیلا والوں کو راستہ دیا جاتا اور وہ ان مظلوموں کی مدد کرتے تو یہ اس رائیل کی طرف سے امن کی شروعات ہوتی۔
افسوس ہے ہمارے خداداد ملک کے نام نہاد مسلمان حکمرانوں پر۔
اللہ تعالیٰ تمام قافلوں اور خصوصاً مشتاق احمد خان صاحب کی مدد فرمائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
8300