Mufti Ibrarullah Alnnori

Mufti Ibrarullah Alnnori کیا آپ عمل کی نیت سے سنتے ہیں؟

18/09/2026
22/07/2026

قیامت کے دن حقیقی غریب کون؟

24/06/2026

دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتی؟

21/06/2026

کسی کی #عیب چھپانا

17/06/2026

#قیامت میں #حسد کرنے کا انجام

15/06/2026

#استغفار کی فضیلت
#استغفار تمام روحانی،بدنی اور مالی مشکلات کا حل

وارثینِ انبیاء کی شہادت ایک عظیم علمی خلا اور امتِ مسلمہ کا امتحانتحریر: مفتی ابرار اللہ النوریپاکستان کی مقدس حدود میں ...
09/05/2026

وارثینِ انبیاء کی شہادت ایک عظیم علمی خلا اور امتِ مسلمہ کا امتحان
تحریر: مفتی ابرار اللہ النوری
پاکستان کی مقدس حدود میں حالیہ دنوں میں علماء حق کی ٹارگٹ کلنگ اور پے در پے شہادتوں نے ہر ذی شعور انسان کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ حال ہی میں شیخ ادریس رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت نے اس خونی سلسلے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ یہ محض انفرادی قتل کی وارداتیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد معاشرے کو اس کے روحانی اور فکری مرکز سے محروم کرنا ہے۔ جب کسی عالمِ دین کو راستے سے ہٹایا جاتا ہے تو درحقیقت ہدایت کا ایک دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔
اگر ہم عہدِ رسالت ﷺ اور دورِ صحابہؓ کی طرف لوٹ کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اور منبر کسی بھی معاشرے کی اعصابی رگ کی حیثیت رکھتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کے دور میں منبر سے صرف احکامِ الٰہی ہی بیان نہیں ہوتے تھے بلکہ یہیں سے امن، محبت اور بھائی چارے کے وہ چشمے پھوٹتے تھے جنہوں نے صحرائے عرب کو گلستان بنا دیا تھا۔
صحابہ کرام کے دور میں بھی منبر ایک ایسی پناہ گاہ تھی جہاں سے ہر مظلوم کو انصاف اور ہر پیاسے کو علم کی پیاس بجھانے کا سامان ملتا تھا۔
اس دور میں علماء اور فقہاء کے درمیان علمی اختلاف تو ہوتا تھا لیکن وہ کبھی دشمنی یا نفرت میں تبدیل نہیں ہوتا تھا۔ ان کی وحدت دشمن کے لیے ایٹم بم سے زیادہ خوفناک تھی۔
آج کا المناک منظرنامہ یہ ہے کہ وہ منبر جو امت کو جوڑنے کے لیے تھا وہاں سے بسا اوقات ایسے تند و تیز جملے سنائی دیتے ہیں جو مسلمان کو مسلمان سے دور کر دیتے ہیں۔ جب ہم فروعی اور جزوی مسائل کو بنیادی عقائد سے زیادہ اہمیت دے دیتے ہیں تو ہماری صفوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔
اسی کمزوری کو اغیار اور دشمنانِ اسلام نے بھانپ لیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان علماء کو براہِ راست میدانِ جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے اس لیے وہ اندرونی اختلافات کی آگ کو ہوا دیتے ہیں اور پھر بالترتیب ایک ایک کر کے ہمارے نمایاں چراغوں کو بجھاتے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’تم آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف (جدا) ہو جائیں گے۔‘‘ (مسند احمد)
احادیثِ مبارکہ میں علماء کی وفات کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ زمین سے نور رخصت ہو رہا ہے اور اندھیرا بڑھ رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمانِ حق ہے کہ ’’بے شک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں کے سینوں سے کھینچ لے بلکہ وہ علماء کو وفات دے کر علم کو قبض کرے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری)
آج سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارا اتفاق صرف جنازوں میں نظر آتا ہے کہ سب مکتب فکر کے علماء جنازوں اور تعزیت میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ یہی اتفاق اور یگانگت علماء کی زندگیوں میں بھی نظر آتی۔ اگر ہم تعزیت کے بجائے تحفظ کے لیے ایک ہوتے تو آج دشمن ہمیں اس طرح تقسیم کر کے نشانہ نہ بنا پاتا۔ جنازوں کا اکٹھا اس وقت تک کوئی بڑا انقلاب نہیں لا سکتا جب تک ہم حق کی بقا کے لیے زندہ رہتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہوں۔
اگرچہ ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائے اور وارثینِ انبیاء کو مکمل تحفظ فراہم کرے لیکن ہمیں بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔
ہمیں منبر و محراب سے دوبارہ وہی خیر تقسیم کرنی ہوگی جو مدینہ کی ریاست کا خاصہ تھی۔
علماء کو اغیار کی سازشوں کو سمجھنے کے لیے اپنے باہمی رویوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شهید ہونے والا عالم صرف ایک مکتبِ فکر کا نہیں بلکہ پورے اسلام کا سرمایہ ہوتا ہے۔
جب کسی عالم کا ناحق خون بہتا ہے تو عرشِ الٰہی لرز جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اتحاد و یگانگت کا راستہ اختیار نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اللہ تعالیٰ شیخ ادریس رحمہ اللہ سمیت تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور اس ملک و ملت کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العلمین

*رمضان انسانیت کی تعمیرِ نو کا مہینہ ہے**تحریر  :مفتی ابراراللہ النوری*روزنامہ پیغامات اور روزنامہ انتباہ میںرمضان المبا...
28/02/2026

*رمضان انسانیت کی تعمیرِ نو کا مہینہ ہے*
*تحریر :مفتی ابراراللہ النوری*
روزنامہ پیغامات اور روزنامہ انتباہ میں
رمضان المبارک صرف ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ تربیت ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو پاکیزہ بناتا ہے۔ یہ وہ موسمِ بہار ہے جس میں نیکیوں کے پودے پروان چڑھتے ہیں۔ اور گناہوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ قران و حدیث کے گہرے مطالعے سے ہمیں اس مبارک مہینے کے درج ذیل اسباق ملتے ہیں۔
روزہ محض پیٹ کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور ہاتھ پاؤں کا بھی ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’روزہ (گناہوں سے بچنے کے لیے) ایک ڈھال ہے، لہٰذا (روزے دار) نہ تو فحش گوئی کرے اور نہ ہی شور و غل کرے۔‘‘ (بخاری)
یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرا ہمیں برا بھلے کہے یا لڑائی جھگڑا کرے تو ہمیں یہ کہہ کر خاموش ہو جانا چاہیے کہ ’’میں روزے سے ہوں۔‘‘یہ تحمل اور برداشت کا وہ اعلیٰ درجہ ہے جو معاشرے میں امن کا ضامن ہے۔
رمضان ہمیں وقت کی اہمیت سکھاتا ہے۔ سحری کے آخری لمحات ہوں یا افطاری کی گھڑیاں ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہو جاتا ہے۔ یہ نظم و ضبط ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ مقصد سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (ابنِ ماجہ)
یہ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم اپنی عبادت کے معیار پر نظر رکھیں اور وقت کو فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے ذکر و فکر میں گزاریں۔
رمضان میں خیرات اور زکوٰۃ کا نظام معاشی عدل کا درس دیتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’نبی کریم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں تو آپ ﷺ کی سخاوت تند و تیز ہوا سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔‘‘(مسلم)
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی خوشیوں میں ان لوگوں کو شامل کرنا جو وسائل کی کمی کا شکار ہیں دراصل ایمان کی تکمیل ہے۔ افطار کے دسترخوان پر دوسروں کو جگہ دینا اور اپنے رزق میں سے دوسروں کو کھلانا خود غرضی کے خاتمے کا سبق ہے۔
روزہ انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر افطار سے پہلے دعا مانگتا ہے تو اسے اپنی محتاجی اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس ہوتا ہے۔ قرانِ مجید میں روزوں کے احکامات کے درمیان ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
یہ آیت بتاتی ہے کہ رمضان کا ایک بڑا مقصد بندے کا اپنے رب سے براہِ راست تعلق مضبوط کرنا ہے۔
جدید سائنس بھی اس بات کی معترف ہے کہ روزہ انسانی جسم کو زہریلے مادوں سے پاک (Detox) کرتا ہے۔ اسلام نے صدیوں پہلے روزے کے ذریعے ہمیں یہ سبق دیا کہ معدے کو آرام دے کر اپنی صحت کی حفاظت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔ ’’صوموا تصحوا‘‘ ’’روزہ رکھو تاکہ صحت مند ہو جاؤ‘‘ کے قول کے مطابق یہ مہینہ ہمیں اعتدال پسند زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں روزے کا بنیادی مقصد ’’لعلکم تتقون‘‘ یعنی تقویٰ کا حصول قرار دیا گیا ہے۔ تقویٰ سے مراد صرف ظاہری پرہیزگاری نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا ہر لمحہ احساس کرے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم پر حلال کھانے اور پینے سے رک جاتے ہیں تو ہمارے اندر وہ قوت پیدا ہونی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے خوف سے حرام کاموں، جھوٹ، سود، اور ظلم سے بھی رک سکیں۔ یہ مہینہ ضمیر کو بیدار کرنے کا سبق دیتا ہے تاکہ انسان اپنی مرضی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق جینا سیکھے۔
انسان کی سب سے بڑی جنگ اس کے اپنے ’نفس کے ساتھ ہے۔ نفسِ انسانی ہمیشہ آسائش اور بے لگام آزادی کا طالب رہتا ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنے جذبات، اپنی بھوک اور اپنی خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان کا حاکم ہے۔ جب ایک شخص سخت گرمی اور پیاس کے عالم میں ٹھنڈے پانی کے پاس ہونے کے باوجود اسے ہاتھ نہیں لگاتا تو یہ اس کے ارادے کی مضبوطی کا اعلان ہے۔ یہ ضبطِ نفس معاشرے میں بے راہ روی کو روکنے اور نظم و ضبط قائم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا ہے۔
حدیثِ نبویﷺ میں رمضان کو ’’شھر المواسات‘‘ یعنی غم خواری کا مہینہ کہا گیا ہے۔ بھوک اور پیاس کی تکلیف ایک امیر انسان کو اس کرب سے روشناس کرواتی ہے جس سے غریب طبقہ روزانہ گزرتا ہے۔ یہ احساس انسان کے دل میں دوسروں کے لیے تڑپ پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں صدقہ، خیرات، زکوٰۃ، اور فطرانہ کی صورت میں ایک ایسا معاشی نظام متحرک ہو جاتا ہے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو اوپر اٹھانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ سبق ہمیں بتاتا ہے کہ پیٹ بھر کر سو جانا جبکہ پڑوسی بھوکا ہو ایمان کے منافی ہے۔
رمضان اور قرآن کا تعلق لازم و ملزوم ہے۔ قرآنِ کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا جس کا مقصد بنی نوع انسان کی ہدایت ہے۔ تراویح میں قرآن سننا اور دن میں اس کی تلاوت کرنا ہمیں اس ابدی پیغام کی طرف واپس لاتا ہے جسے ہم دنیا کی مصروفیات میں بھول جاتے ہیں۔ رمضان کا سبق یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف برکت کے لیے نہ پڑھیں بلکہ اسے سمجھ کر اپنی زندگیوں کا دستور بنائیں۔ یہ مہینہ فکری گمراہیوں سے بچنے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی یاددہانی کرواتا ہے۔
مختصر یہ کہ رمضان المبارک ہمیں ایک ایسا نیا انسان بننے کا موقع فراہم کرتا ہے جو متقی ہو، صابر ہو، سخی ہواور اپنے وقت کا قدردان ہو۔ اگر ہم رمضان کے بعد بھی ان اخلاقی اقدار کو برقرار رکھیں تو یہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں خواہشات کی غلامی سے نکال کر خالق کی بندگی میں لانے کا ایک عظیم سالانہ کورس ہے۔

19/02/2026

نماز تراویح میں جلدی جلدی سے قرآن کی تلاوت کرنا

18/02/2026

رمضان میں سحری کرنا برکت کا ذریعہ ہے

Address

Dir
8300

Telephone

+923018837343

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Ibrarullah Alnnori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share