Afaq Biland Official

Afaq Biland Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Afaq Biland Official, Education Website, Dir.

21/09/2026
13/09/2026

The trend that makes us feel the vibes of the era our elders grew up in.🌺

لوئر دیر خیبر پختونخوا کا ایک انتہائی خوبصورت اور تاریخی ضلع ہے، اس کا ہیڈ کوارٹر تیمرگرہ ہے۔ یہ ضلع اپنی سنگلاخ پہاڑوں،...
30/08/2026

لوئر دیر خیبر پختونخوا کا ایک انتہائی خوبصورت اور تاریخی ضلع ہے، اس کا ہیڈ کوارٹر تیمرگرہ ہے۔ یہ ضلع اپنی سنگلاخ پہاڑوں، دلفریب زرخیز وادیوں، صاف پانی کے چشموں، گندھارا تہذیب کے تاریخی آثار اور غیور اور خالص پشتون روایات کے لئے مشہور ہے۔
حدودِ اربعہ: اس کے ، مشرق میں ضلع سوات، مغرب میں ضلع باجوڑ شمال میں ضلع اپر دیرجنوب میں ضلع ملاکنڈ جبکہ مغرب میں اس کی سرحدیں افغانستان سے بھی ملتی ہیں۔
ضلع لوئر دیر کا کل رقبہ تقریبا 1600 مربع کلومیٹر ہے جبکہ آخری ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق اس کی آبادی ساڑھے سولہ لاکھ تھی۔
ضلع لوئر دیر کو انتظامی بنیادوں پر 7 تحصیلوں میں تقسیم کی گیا ہے۔
تحصیل تیمرگرہ (مرکزی تحصیل اور ضلعی ہیڈکوارٹر )
تحصیل ادینزئ
تحصیل خال
تحصیل بلامبٹ
تحصیل لال قلعہ
تحصیل ثمرباغ
تحصیل منڈا
تاریخی پس منظر
لوئر دیر اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ترین خطے پر واقع ہے۔ چار بڑے تہذیبی مراکز پشاور ، چترال ، مالاکنڈ اور افغانستان کے عین درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ خطہ زمانہ قدیم سے آریائیوں، بخامشی، سکندر اعظم، گندھارا تہذیب، مسلم فاتحین، یوسفزئی قبیلہ ریاست دیر ، مختصر یہ کہ تمام ادوار اور تہذیبوں کا مسکن و مرکز ، گزرگاہ اور عینی شاہد رہا ہے۔
آریائی دور
تیمر گرہ اور قریبی علاقوں کی کھدائی کے دوران آریائی دور کی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن سے ان لوگوں کی رسم تدفین کا پتہ چلتا ہے کہ وہ مردے کے زیر استعمال اشیاء بھی متی کے برتنوں میں ڈال کر مردے کے ساتھ دفن کرتے تھے۔ اس کے علاوہ آتش دان بھی دریافت ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہ لوگ آتش پرست تھے یا ان کے مذہبی رسومات میں آگ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ بلامبٹ میں دریائے پنجکوڑہ کے کنارے کھدائی کے دوران 1500 قبل مسیح دور کے مکانات کے آثار بھی پائے گئے ہیں جو کہ آریائی دور کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ آریائیوں کی مقدس کتاب رگ وید میں اس ضلع کے عین وسط سے گزنے والے دریائے پنجکوڑہ کا ذکر بھی موجود ہے۔
سکندر اعظم اور یونانی دور
سکندر اعظم کی آمد کے وقت یہ علاقہ سوات اور ملاکنڈ سمیت ایک طاقتور ریاست مساگا کا حصہ تھا مساگا کے مرکز کے بارے میں مختلف آراء ہیں لیکن زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ مساگا کا مرکز موجودہ چکدرہ کے آس پاس درہائے پنجکوڑہ یا دریائے سوات کے کنارے تھا۔ سکندر افغانستان سے باجوڑ کے راستے لوئر دیر میں داخل ہوا ۔ چکدرہ کی وادی میں ایک خونریز جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سکندر نے فتح حاصل کی اور یوں یہ علاقہ اگلے دو صدیوں کیلئے یونانی قلمرو میں شامل ہوا۔ لوئر دیر کے علاقوں بلامبٹ اور دمکوٹ سے ملنے والے سکے اور یونانیوں کے زیر استعمال برتن اس دور کے تمدن کے گواہ ہیں۔
گندھارا دور
یونانیوں کے بعد یہ علاقہ بدھ مت کے زیر اثر آیا۔ جو تقریبا آٹھویں صدی عیسوی تک گندھارا تہذیب کا ایک بڑا مرکز رہا ۔
چکدرہ، آندن ڈھیری ، دمکوٹ اور تالاش کی وادی میں بدھ مت دور کے سکے، عمارتیں، اسٹوپاز اور قدیم خانقاہوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ چکدرہ میوزیم آج بھی گندھارا دور کا امین ہے جہاں لوئر دیر کے مختلف علاقوں سے کھدائی کے دوران ملنے والے بدھا کے مجسمے ، کتبے ، سکے اور مہریں موجود ہیں۔
اسلامی فتوحات کا دور
سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے حملوں اور فتوحات کے نتیجے میں یہاں اسلام پہنچا ۔ 1398 میں امیر تیمور وسطی ایشیاء اور افغانستان کو روندتے ہوا لوئر دیر پہنچا اور دریائے پنجکوڑہ کے کنارے موجودہ تیمرگرہ کے مقام پر پڑاو ڈالا۔ امیر تیمور کے پراو کی وجہ سے اس یہ جگہ تیمور گڑھ کہلایا جو بعد میں پشتونائز ہوکر تیمرگرہ بنا۔ 16 ویں صدی کے اغاز میں یوسفزئی قبائل نے افغانستان سے آکر سوات اور دیر پر قبضہ کیا اور یہاں ایک مضبوط اسلامی اور پشتون معاشرے کی بنیاد رکھی۔ یوسفزئیوں نے اس علاقے کو مغلوں، سکھوں اور انگریزوں کی دست برد سے بچائے رکھا۔ جس میں یہاں کے باقی اقوام نے بھی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف شدید مزاحمت کی۔
ریاست دیر
سترھویں صدی میں ایک نامور عالم دین اور صوفی بزرگ اخوند الیاس بابا نے یہان ایک منظم قبائلی اور اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ جسے تاریخ میں ریاست دیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ریاست کا صدر مقام اپر دیر میں تھا لیکن اس دور میں بھی لوئر دیر کی اہمیت مسلم تھی ۔ چکدرہ اور تیمرگرہ نوابی دور میں ریاست کی مرکزی گزرگاہیں ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی ، معاشی اور دفاعی اہمیت کے حامل تھے۔
عمرا خان جندول
دیر کی تاریخ میں فخر جندول غازی عمرا خان جندولی کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا ۔ 1895 میں جب برطانوی راج نے ملاکنڈ پر چڑھائی کی تو عمرا خان جندول نے یہاں کے قبائل اور عوام کو اکٹھا کیا اور انگریزوں کیخلاف تاریخی مزاحمت کی ایسی مثال قائم کی کہ دشمن انگریز نے انہیں "افغان نپولین "کے نام سے یاد کیا۔ 1881 میں اردگر کے مختلف خوانین کو زیر کرکے عمرا خان نےجندول میں اپنی ریاست قائم کی۔ 1895 میں چترال میں انگریز فوج پر چڑھائی کی اور انہیں محصور کردیا جس سے انگریز سرکار ہل کر رہ گئی اور ایک بھاری فوج ملاکنڈ کے راستے روانہ کی۔ لیکن عمرا خان چکدرہ میں اس فوج کے سامنے چٹان بن گیا۔ اور اپنی بے پناہ مہارت اور پرجوش گوریلا حملوں سے انگریزوں کے اوسان خطا کردیئے۔ انگریز فوج کو اس جنگ میں زبردست مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد انگریزوں نے ایک اور بڑی کمک بھیجی عمراخان ہار ماننے والوں میں نہیں تھا لیکن آخر میں اس کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا۔ پھر بھی اس نے پختون روایات کو زندہ رکھتے ہوئے انگریزوں کے ہاتھ آنے کے بجائے افغانستان جانا پسند کیا جہاں وہ اپنی وفات تک مقیم رہے۔
پاکستان میں شمولیت
نواب دیر کے زمانے میں یہاں قبائلی اور اسلامی قوانین نافذ تھے۔ تمام معاملات کے فیصلے جرگوں میں یا عدالتوں میں قاضی کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے ریاست دیر کے نواب شاہ جہاں نے 1948 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا اور 1969 میں نوابی نظام ختم ہوکر باقاعدہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ یہلے اپر اور لوئر دیر اکٹھے پختونخوا کا ضلع تھا لیکن بعد میں انتظامی سہولت کے پیش نظر 1995 میں دیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اسے لوئر دیر کے نام سے ایک الگ ضلع کی حیثیت دیدی گئی۔
تفریحی مقامات
ضلع لوئر دیر شاندار تاریخ رکھنے کے ساتھ ساتھ خوبصورتی میں بھی کسی سے کم نہیں یہاں کی بلندوبالا پہاڑیاں، سرسبز وادیاں اور ٹھنڈی ہوائیں سیاحوں کا استقبال کرنے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔ ان خوبصورت مقامات میں دیر کا بلند ترین اور خوبصورت پہاڑی مقام لڑم ٹاپ ، شاہی ٹاپ، دریائے پنجکوڑہ کے کنارے واقع رباط اور دیگر مقامات ، وادی جندول میں واقع مسکینی درہ اور معیار کس جبکہ چکدرہ کا تاریخی قلعہ اور عجائب گھر قابل ذکر ہیں۔
مشہور شخصیات
دیر کی تاریخ فخر جندول غازی عمرا خان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ غازی عمرا خان جندول کے علاوہ لوئر دیر کی نمایاں شخصیات میں تحریک آزادی کے عظیم مجاہد اور جید عالم دین قاضی فضل الہی ، سراج الحق ، مولانا صوفی محمد، مولانا گل نصیب خان ، پروفیسر اباسین یوسفزئی، عزیر دیروی ، پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ اور سکواش میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنیوالی نورینہ شمس کے نام قابل ذکر ہیں.

20/08/2026

Yesterday I saw this fish, alone in the tank.
Swimming quietly inside a glass box. And it
made me wonder... who will speak for
these soft souls who cannot express their
pain? Maybe all they need is someone to
notice them. Someone to listen to the quiet
whispers of these souls.copy

17/08/2026

آج کل شادی کا مطلب ہے سالوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم کو ایک ایسے دن پر خرچ کرنا جس کا مقصد چار سو ایسے لوگوں کو خوش کرنا ہو جو کبھی بھی آپ کو خوش دیکھنا نہیں چاہتے:Afaq bialnd official

02/06/2026

خکلی انسان، خکلی خبره، خکلی سوچ

Address

Dir

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afaq Biland Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share