Department of zoology NIE

Department of zoology NIE

Share

LIKE SHARE AND FOLLOW OUR PAGE

Photos from Department of zoology NIE's post 04/10/2023

. "The love for all living creatures is the most noble attribute of man." - Charles Darwin

International animal day
National institute of education

02/10/2023

Admissions open in Bs zoology
Bs English
Bs political science
Bs Nursing

The most IMPORTANT FOSSIL in the History of SCIENCE! 🦴👩‍🔬 #fossil #Missinglink #Archaeopteryx #space #galaxy#physics#nightsky#stars#fossils#reels#reelsfb#reelsvideos#viral 15/05/2023

بیالوجی کا سب سے اہم فاسل۔ آرکیوپیٹرکس

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی
مئی 12، 2023

اس فاسل کو بیالوجی کا سب سے اہم فاسل سمجھا جاتا ہے- جس جانور کا یہ فاسل ہے اسے سائنس دانوں نے آرکیوپیٹرکس کا نام دیا ہے- یہ جانور ڈائنوسار اور موجودہ پرندوں کے درمیان ٹرانزیشنل فاسل ہے یعنی یہ جانور ڈائنوسارز سے موجودہ پرندوں تک کے ارتقائی سفر کا حصہ رہا ہے-

اس جانور میں کچھ خصوصیات ریپٹائلز کی ہیں اور کچھ پرندوں کی- مثال کے طور پر اس فاسل سے صاف ظاہر ہے کہ اس جانور کے جسم پر موجودہ پرندوں کی طرح پر یعنی feathers تھے- یہ بات دو وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے- ریپٹائلز (مثلاً مگرمچھ، چھپکلیاں) سرد خون والے جانور ہیں (یعنی یہ اپنے جسم کا اندرونی درجہ حرارت کانسٹینٹ نہیں رکھ پاتے)- انہیں اپنے جسم کو گرم کرنے کے لیے دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے- اس لیے ان کی جلد پر بال یا پر نہیں ہوتے کیونکہ بال یا پر حرارت کے انسولیٹر ہوتے ہیں اور سورج کی حرارت کو جسم تک پہنچنے سے روکے رکھتے ہیں- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرکیوپیٹرکس ریپٹائلز سے مختلف تھے اور گرم خون والے جانور تھے- موجودہ پرندے بھی گرم خون والے جانور ہیں اور اپنے جسم کا اندرونی درجہ حرارت کانسٹینٹ رکھتے ہیں

اس کے علاوہ پر جانوروں کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں- آرکیوپیٹرکس کے ڈھانچے پر موجود نشانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جسم پر طاقتور مسلز تھے جو اسے اڑنے میں مدد دیتے تھے- یہ جانور صرف گلائیڈ نہیں کرتا تھا بلکہ اپنی قوت سے اڑنے کی قابلیت رکھتا تھا

اس طرح یہ فاسل پرندوں کے ڈائنوسارز سے ارتقاء کا ایک بہت بڑا ثبوت مہیا کرتا ہے-

اوریجنل ویڈیو کا لنک:
https://www.facebook.com/reel/3049027918734587

The most IMPORTANT FOSSIL in the History of SCIENCE! 🦴👩‍🔬 #fossil #Missinglink #Archaeopteryx #space #galaxy#physics#nightsky#stars#fossils#reels#reelsfb#reelsvideos#viral

15/05/2023

اس پتھر کی شکل ایسی لمبوتری کیوں ہے؟

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی
مئی 13، 2023

اس قسم کے پتھروں کو ٹیکٹائٹ کہا جاتا ہے- ان پتھروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا میں تشکیل پاتے ہیں- ہوتا کچھ یوں ہے کہ زمین پر شہابیے اکثر گرتے رہتے ہیں-شہابیے ایسے پتھر ہیں جو ہمارے نظام شمسی میں موجود ہیں اور سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں- اگر کوئی بھولا بھٹکا شہابیہ زمین کی طرف آ نکلے تو زمین کی کشش کی وجہ سے انتہائی تیز رفتار سے زمین کی طرف آنے لگتا ہے- عموماً شہابیے ریت کے ذروں جتنے چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے جب یہ کرہ ہوائی میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا کے دباؤ اور رگڑ کی وجہ سے ہوا میں ہی پگھل کر بخارات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں

کچھ شہابیے قدرے بڑے ہوتے ہیں اور زمین پر گرتے وقت شدید درجہ حرارت کے باوجود ہوا میں disintegrate نہیں- ایسے شہابیے جب زمین پر گرتے ہیں تو ان کی رفتار ہزاروں سے لاکھوں کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے- اس قدر رفتار کی وجہ سے ان کا مومینٹم اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ جب یہ زمین سے ٹکراتے ہیں تو ان میں اس قدر حرارت پیدا ہوتی ہے کہ پوری کی پوری چٹان پگھل جاتی ہے اور یہ پگھلا ہوا میگما ہوا میں چھینٹوں کی طرح اڑ جاتا ہے- کچھ چھینٹے جو چھوٹے ہوتے ہیں وہ گول گیند کی شکل میں ہی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کروی پتھر بن جاتے ہیں- لیکن قدرے بڑے چھینٹے جب ہوا میں اڑتے ہیں تو وہ گول شکل نہیں اختیار کر پاتے بلکہ قلابازیاں کھاتے ہوئے لمبوتری شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اسی حالت میں ٹھنڈے ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر لیتے ہیں-

اس ویڈیو میں پتھر جو hour glass shape کا ہی اسی طرح تشکیل پایا کہ پگھلی ہوئی چٹان مائع شکل میں اڑی اور پھر قلابازیان کھانے کی وجہ سے (یعنی اینگولر مومینٹم کی وجہ سے) اس کا زیادہ تر ماس اس کے کناروں کی طرف منتقل ہو گیا اور اسی حالت میں ہوا میں ہی یہ مائع چٹان ٹھنڈی ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر گئی

اوریجنل ویڈیو کا لنک:
https://www.facebook.com/reel/607541594427486

15/05/2023

پاکستان کی تعلیمی ترجیحات؟

تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن

پاکستان کا 2022-2021 کے بجٹ میں تعلیمی بجٹ تقریباً 580 ملین ڈالر تھا جو پاکستان کے کل جی ڈی پی 364 بلین ڈالر کا محض 1.7 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان کا کل بجٹ تقریباً 45 بلین ڈالر ہے جسکا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی بجٹ کل بجٹ کا محض 1.2 فیصد ہے۔ اسے یاد رکھیں 1.2 فیصد۔

اب آتے ہیں دوسری طرف۔ یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ ملک کیا بندرگاہ ہے۔ اسکا کل رقبہ ہے 733 مربع کلومیٹر۔ گویا ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بھی آدھا اور لاہور سے بھی کم۔ اس ملک کی آبادی ہے تقریباً 56 لاکھ۔ موازنے کے لیے زندہ دلانِ لاہور کل ملا کر اسکی آبادی سے بھی تعداد میں دگنے ہیں یعنی تقریباً 1 کروڑ 26 لاکھ۔

اس چھوٹے سے ملک کا جی ڈی پی کم و بیش پاکستان جتنا ہے یعنی 350 بلین ڈالر۔ مگر رکیں۔ پہلے یہ بتا دوں کہ اس چھوٹے سے ملک کا پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ جسکا مطلب ہے کہ اس ملک کے شہریوں کے لئے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ یہ پاسپورٹ رکھنے والے دنیا کے 160سے زائد ممالک میں بغیر ویزے کے دندنا سکتے ہیں۔ جبکہ اسکے مقابلے میں پاکستان کا ہرا پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان کے شہری اس ہرے پاسپورٹ کے ساتھ محض گنے چنے 31 ممالک میں ویزا کے بغیر جا سکتے ہیں۔ ان میں سے بھی کئی ممالک افریقہ کے ہیں یا بحِر اوقیانوس میں کچھ جزائر پر مشتمل ممالک جہاں جانا نہ جانا ایک برابر۔

جس چھوٹے سے ملک کی یہاں بات ہو رہی ہے اسکا نام ہے سنگاپور!! سنگاپور کا کل بجٹ تقریباً 78 بلین ڈالر ہے لیکن اسکا تعلیمی بجٹ ہے 13.7 بلین ڈالر۔ یعنی اسکے کل بجٹ کا تقریباً 18 فیصد!! جبکہ پاکستان کا تعلیمی بجٹ یاد ہے ناں؟ محض کل بجٹ کا 1.2 فیصد۔

آج دنیا کی بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے دفاتر سنگاپور میں ہیں۔ کئی بلین ڈالر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہیڈکوارٹر بھی سنگاپور کی بلند و بالا عمارات میں قائم ہیں۔ یہاں جدید سے جدید تحقیق ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے ہونہار سائنسدان ، انجنیرز یہاں آ کر کام کرتے ہیں۔ یہاں کی تین بڑی یونیورسٹیاں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کی پہلی سو یونیورسٹیوں میں آتی ہیں۔ سنگاپور کی بڑی برآمدات جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات ہیں۔ یہاں آئے روز نئی سے نئی کمپنیاں اُن نئے سائنسی خیالات پر بنتی ہیں جو جدید سائنس

15/05/2023

انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے پتہ لگا لیا

انگلیوں کی پوریں یعنی fingerprints کیسے وجود میں آتے ہیں، سائنسدانوں نے آخر کار اس معمہ کو حل کر لیا ہے۔

فنگرپرنٹس جو آپ کی انگلیوں کے سِروں پر گھومتی اور ابھری لکیریں ہیں، پیدائش سے پہلے ہی وجود میں آجاتی ہیں۔ یہ پوریں ہر انگلی کے تین نقطوں سے پھیلنا شروع ہوتی ہیں؛ ایک ناخن کے نیچے سے، انگلی کے بیچ سے اور انگلی کی نوک کی قریب ترین جگہ سے۔

سائنس دان جانتے تھے کہ فنگرپرنٹس جِلد کے نیچے چھوٹی چھوٹی گہرائیاں بننے سے پیدا پوتے ہیں اور یہ گہرائیاں نیچے تک چلی جاتی ہیں جن کے نچلے ترین حصے میں خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور وہ بھی نیچے کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن چند ہفتوں بعد خلیات نیچے کی طرف بڑھنا رُک جاتے ہیں۔ اس کے بجائےوہ اوپر کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور جلد کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں جس سے جلد پر ابھری لکیریں بن جاتی ہیں۔

تاہم یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جوفنگرپرنٹس کے آخری ڈیزائن کا تعین کرتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ پوروں کی نمو میں کون سے مالیکیول شامل ہو سکتے ہیں، محققین نے جلد کے ایک اور جُز کا جائزہ لیا جو جلد کے اوپر ہی نہیں بلکہ اندر نیچے کی طرف بھی بڑھتا ہے اور وہ ہے بال۔

ٹیم نے بالوں کے خلیوں کی نشوونما کا موازنہ ابھرتے ہوئے فنگر پرنٹس سے کیا۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ ایک جیسے ہی مالیکیولز دونوں کے نیچے کی طرف بڑھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں کچھ خاص قسم کے مالیکیولز ہوتے ہیں جو خلیوں کے درمیان سگنلز کو منتقل کرتے ہیں۔

بالوں اور فنگر پرنٹس دونوں میں WNT،EDAR اورBMP نامی مالیکیولز ہوتے ہیں ۔WNT خلیات کی پیداوار کو بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ابھرنے میں مدد ملتی ہے۔ WNT خلیوں کو EDAR پیدا کرنے کی بھی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں WNT کی سرگرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔

دوسری طرفBMP ان تمام کارروائیوں کو روکتا ہے۔ جہاںBMP بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں جلد کے خلیوں کی تعمیر رُک جاتی ہے اور اس طرح زیادہ BMP والی جگہیں انگلی کے پوروں کے درمیان سطحی رہتی ہیں

15/05/2023

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک سفر

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) کے حوالے سے جب بھی بات ہوتی ہے، یہ ہمیں مستقبل کی سوچ میں لے جاتی ہے جہاں روبوٹس اور مشینوں کی دنیا ہوگی. ہاں، یہ مستقبل کی بات ہے لیکن ابھی سے مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ کی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے.

مصنوعی ذہانت کی تعریف کیا ہے؟ یہ ایک کمپیوٹر سائنس کی شاخ ہے جس کا مقصد مشینوں اور سافٹ ویئر کو ایسے بنانا ہے کہ وہ انسانی ذہانت کی طرح کام کر سکیں.

مصنوعی ذہانت کے کئی طریقے ہیں جن میں چند ایک مشہور ہیں جیسے کہ مشین لرننگ، نیورال نیٹ ورکس اور ڈیپ لرننگ. مشین لرننگ AI کی ایک شاخ ہے جو مشینوں کو انسانی طریقہ کار سیکھاتی ہے. نیورال نیٹ ورکس انسانی دماغ کے نیورانز کی طرح ہوتے ہیں جبکہ ڈیپ لرننگ مشین لرننگ کا ایک پیچیدہ روپ ہے.

مصنوعی ذہانت آج کل کثیر تعداد میں استعمال ہو رہی ہے. جن میں خود کار گاڑیاں، چہرے کی پہچان، آواز کی پہچان، آن لائن خریداری کی ریکمنڈیشن اور بہت کچھ. اس کے علاوہ، طبیعیات، موسمیات، خلا کی تحقیقات اور جینوم کی تجزیہ کاری میں بھی AI کا استعمال ہو رہا ہے.

خود کار گاڑیوں کی مثال دیکھیں، AI کا یہ کردار اتنا اہم ہے کہ یہ گاڑیوں کو خود بخود چلانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے. یہ گاڑیوں کو ٹریفک کے قوانین کا پابند بناتا ہے، دوسری گاڑیوں سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے یا اچانک رکنے والی صورتحالات کا کا کیسے سامنا کرتا ہے یہ سب کچھ سکھاتا ہے

مصنوعی ذہانت میں آواز کی پہچان میں بھی بہتری آئی ہے. آپ کے موبائل فون کے 'سیری' 'الیکسا' یا گوگل اسسٹنٹ جیسے ٹولز AI کی ایک شاندار مثالیں ہیں جو آپ کی زبان اور ہدایات کو سمجھتے ہیں اور آپ کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں.

چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی یافتہ ہو چکی ہے کہ یہ مختلف چہروں کو پہچان سکتی ہے اور ان کی تفصیلات محفوظ کر سکتی ہے. یہ ٹیکنالوجی اب حکومتی اداروں، سیکیورٹی سسٹمز اور موبائل فونز میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے.

مصنوعی ذہانت کے زریعے ہم نئے اور بہترین طریقے تلاش کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی کو آسان بنا سکیں. جیسے کہ طبی علوم میں، مصنوعی ذہانت سے ہم بیماریوں کی تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے میں مدد لے سکتے ہیں. کھانا بنانے، خریداری کرنے، سفر کرنے اور گھر کی دیکھ بھال کرنے کے طریقے بھی اب مصنوعی ذہانت کے

08/05/2023

!!!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہارٹ اٹیک اور ڈسپرین کی گولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

ہارٹ اٹیک کے وقت "سینے" میں جو درد اور تکلیف ہوتی ہے۔ وہ صرف "ہارٹ اٹیک" والے ہی بہتر جانتے ہیں یہ بڑا شدید قسم کا درد ہوتا ہے۔ میں کوٸی ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن میں نے اپنے والد کو دو بار ہارٹ اٹیک ہوتے دیکھا ہے۔۔ اور ان کے درد اور تکلیف کو بہت "قریب" سے محسوس بھی کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہارٹ اٹیک کا درد بندوق کی گولی سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ دنیا میں "ہارٹ اٹیک" سے ہونے والی اموات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔۔ اس لیے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس "ٹاپک" پر پوسٹ کروں۔۔۔کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ جو درد اور تکلیف میں نے اپنے والد مرحوم کی دیکھی ہے وہ میرے دوست نا دیکھیں۔


ہارٹ اٹیک کی کیا علامات ہیں؟ سینے کے درمیان میں شدید اور ناقابل برداشت قسم کا درد "محسوس" کرنا اس کی بڑی علامات میں سے ہے۔۔۔۔۔۔ہارٹ ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے اس کا سینہ جکڑا جا رہا ہے یا اس کے سینے کو کوئی زور سے دبا رہا ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد ایسا کوئی کیس ہے۔۔۔۔۔۔ تو مہربانی کرکے اسے نظر انداز مت کریں۔۔ یہ ہارٹ اٹیک ہی ہے۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض کو سانس لینے میں بھی مشکل ہوتی ہے جس کی وجہ سے سارا جسم پسینے میں بھیگ جاتا ہے۔ سینے کا یہی درد بائیں بازو اور جبڑے کی طرف بھی جاتا ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی درد دس پندرہ منٹ تک ٹھیک نہیں ہو رہا، تو ہرگز دیر مت کریں۔ کیونکہ یہ ہارٹ اٹیک ہی ہے۔

اگر آپ گاٶں یا دیہاتوں میں رہتے ہیں۔۔۔۔ اور ہسپتال آپ سے بہت دور ہے تو ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا ہے؟ ہارٹ اٹیک ہر شخص کو ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ اس لیے آپ کو کم از کم ابتدائی طبی امداد کا پتا ہونا چاہیے۔۔ کیونکہ یہ بہت ضروری ہے اور اگر آپ مریض کو بر وقت اس قسم کا "ابتدائی" طبی امداد مہیا کریں۔۔۔۔۔۔ تو مریض کے بچنے کے چانسز بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے مریض کو فورا ڈسپرین کی ایک دو گولیاں چبانے کیلٸے دیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ڈسپرین کی گولی"مریض" کی حالت کو 25 سے 45 فیصد تک بہتر بناتی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈسپرین کی گولی سے دل کی نالیوں میں "پلیٹ لیٹس" جمع ہونے سے خون کی جو سپلائی متاثر ہوئی ہوتی ہے، اسے بہتر بناتی ہے۔۔۔۔اس کے ساتھ دو کام اور بھی کریں۔۔مریض کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے کھانسنے کے لیے کہیں،، کیونکہ اسطرح بھی

08/05/2023

نظامِ شمسی کے پہلے اور سب سے چھوٹے سیارے عطارد کی سطح۔۔
یہ رنگ ناسا نے اس پر موجود چٹانوں کے معدنیات، کیمیائی ساخت اور ظاہری بناوٹ کو واضح کرنے کے لئے دیئے ہیں گویا یہاں مختلف چٹانوں کی ساخت اور کمپوزیشن مختلف ہے۔ انسانی آنکھ سے ایسا نظر نہیں آئے گا۔ یہ ایک مخصوص سائنسی آلے سپکرومیٹر کے ذریعے واضح ہوتا ہے جو مختلف عناصر اور کیمائی مرکبات کو یہاں کی چڑانوں میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ تصاویر عطارد کے گرد گھومنے والے سپیس کرافٹ Messenger نے لی اور انہیں ناسا نے 2015 میں شائع کیا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Dir?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Dir

Category

Telephone

Website

Address

Dir