25/07/2026
آج کی تحریر میرے استاذ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کے نام
استاذ صرف پڑھاتے نہیں ، نسلیں بناتے ہیں
زندگی کے سفر میں ہزاروں چہرے ملتے ہیں، مگر قسمت والوں کو ہی کوئی ایسا استاذ نصیب ہوتا ہے جس کی ایک مسکراہٹ حوصلہ بن جائے، جس کی ایک دعا قسمت بدل دے، اور جس کی ایک نصیحت زندگی کا رخ متعین کر دے۔ میرے لیے یہ عظیم نعمت شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیرزادہ حقانی صاحب کی صورت میں ملی۔
آج جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو مدرسے کا وہ پرسکون ماحول، درسگاہ کی وہ نورانی فضا، حضرت کی پُروقار آواز، ان کا شفقت بھرا انداز، اور طالبِ علموں پر ان کی بے لوث محبت سب کچھ آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے۔ دل بے اختیار گواہی دیتا ہے کہ واقعی استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ انسان بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بے حد کرم فرمایا کہ درجۂ ثانیہ سے لے کر دورۂ حدیث تک مسلسل حضرت کی شاگردی نصیب ہوئی۔ یہ صرف تعلیم حاصل کرنے کا زمانہ نہیں تھا، بلکہ اپنی شخصیت کو سنوارنے، اخلاق سیکھنے، بڑوں کا ادب جاننے اور دین کی محبت دل میں اتارنے کا دور تھا۔
حضرت مولانا وزیرزادہ حقانی صاحب کی سب سے بڑی خوبی ان کی شفقت ہے۔ وہ ہر طالبِ علم کو اپنی اولاد کی طرح چاہتے ہیں۔ اگر کوئی طالبِ علم پریشان ہوتا تو حضرت کی پیشانی پر بھی فکر کے آثار نمایاں ہو جاتے۔ اگر کوئی کامیاب ہوتا تو حضرت کی آنکھوں میں خوشی جھلک اٹھتی۔ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک استاد کو صرف معلم نہیں بلکہ روحانی باپ بنا دیتا ہے۔
میں نے حضرت سے حدیث کی کتابیں ضرور پڑھیں، مگر سچ یہ ہے کہ میں نے ان سے کتابوں سے زیادہ زندگی پڑھنا سیکھی۔ میں نے ان سے اخلاص سیکھا، عاجزی سیکھی، خدمتِ دین کا جذبہ سیکھا، اور یہ سیکھا کہ علم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ کردار کی خوشبو شامل نہ ہو۔
حضرت نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ بحیثیتِ شیخ الحدیث، مربی، اور جمعیت علمائے اسلام تحصیل میدان کے سابق امیر، انہوں نے صرف ایک ادارہ نہیں بنایا بلکہ ایسی نسل تیار کی جو آج مختلف علاقوں میں دین کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ ان کا مدرسہ علم کا مرکز ہے، مگر اس سے بڑھ کر تربیت کا گلستان ہے۔
اگر آج مجھ میں دین کی محبت، اساتذہ کا ادب، اور علم کی قدر موجود ہے تو اس میں میرے والدین کے بعد سب سے بڑا حصہ میرے استاذِ محترم حضرت مولانا وزیرزادہ حقانی صاحب کا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ان کی شاگردی ہے، اور یہی میری سب سے بڑی پہچان بھی ہے۔
میرے رب سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس عظیم محسن کو صحتِ کاملہ، عمرِ دراز، عافیت، عزت اور قبولیتِ عامہ عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم، اخلاص اور تربیت کے فیوض کو قیامت تک جاری رکھے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کچھ اساتذہ کتاب کے ایک باب کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ بند کر دیا جاتا ہے؛ لیکن کچھ اساتذہ پوری زندگی کی کتاب بن جاتے ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیرزادہ حقانی صاحب میرے لیے اسی کتاب کا نام ہیں، جسے جتنا پڑھوں، اتنا ہی اپنے آپ کو خوش نصیب محسوس کرتا ہوں۔
استاذ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا Wazir Zada Haqani صاحب
22/07/2026
جب قافلے حق کے ہوں تو آوازیں بھی اٹھتی ہیں!
تحریر: محمد اسماعیل ھزاروی
حق کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر اس شخص کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ آج اگر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم کے خلاف مختلف بیانات دیے جا رہے ہیں تو ایک ادنیٰ کارکن ہونے کے ناطے میرا ایمان ہے کہ شخصیات کا مقام وقتی نعروں سے نہیں بلکہ عمر بھر کی خدمات، استقامت اور قربانیوں سے متعین ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اپنی زندگی دین، دستور، جمہوریت اور دینی مدارس کے تحفظ کی جدوجہد میں گزاری ہے۔ ان سے اختلاف ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ خدمات کو فراموش کر دیا جائے یا کردار پر حملے کیے جائیں۔
ہم نے اپنے اکابر سے یہ سبق سیکھا ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، الزامات سے نہیں؛ اخلاق کا جواب اخلاق سے دیا جاتا ہے، تلخی سے نہیں۔ جو لوگ آج مختلف اعلانات کر رہے ہیں، وہ کریں، مگر کارکنوں کے دلوں سے اپنے قائد کی محبت اور اعتماد کو نہیں نکال سکتے۔
ہم اپنے قائد کے ساتھ کل بھی تھے، آج بھی ہیں، اور ان شاء اللہ کل بھی رہیں گے۔ ہماری وفاداری کسی عہدے، منصب یا مفاد کے ساتھ نہیں بلکہ اس فکر، اس جدوجہد اور ان اصولوں کے ساتھ ہے جن کی نمائندگی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے قائد کو صحت، عافیت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ دین و ملت کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو حق بات کہنے، اتحادِ امت کو فروغ دینے اور اخلاق و انصاف کے راستے پر ثابت قدم رکھے۔
"کارواں حق کا کبھی افواہوں سے نہیں رکتا، بلکہ صبر، کردار اور استقامت سے اپنی منزل پاتا ہے۔"
والسلام
محمد اسماعیل ہزاروی
21/07/2026
مولانا سعید اللہ فاروقی — علم، اخلاص اور خدمتِ دین کا روشن استعارہ
دیر کے سرسبز و شاداب علاقے میدان کے تاریخی گاؤں سنگرشاہ سے تعلق رکھنے والے، معروف عالمِ دین مولانا سعید اللہ فاروقی صاحب علم و عمل، تقویٰ اور دعوتِ دین کا ایک روشن نام ہیں۔ آپ معروف بزرگ عالم دین مولانا عبد الحق صاحب المعروف سنگرشاہ مولوی صاحب کے نواسے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو دینی ماحول اور صالح تربیت کا قیمتی سرمایہ ورثے میں ملا۔
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم متوسطہ مردان (تبلیغی مرکز) سے حاصل کی، پھر جامعہ فاروقیہ حاجی آباد میں صرف درجہ اولی پڑھا اس کے بعد پشاور کے باڑہ گیٹ میں واقع دینی ادارے میں درجہ اولی سے دورۂ حدیث تک کی تعلیم مکمل کی اور علومِ نبوت سے بھرپور استفادہ کیا۔
علم کی پیاس نے آپ کو مزید آگے بڑھنے پر آمادہ رکھا۔ آپ نے سرگودھا میں ممتاز محقق اور مناظر مولانا الیاس گھمن صاحب اور مفتی عبد الواحد قریشی صاحب کی نگرانی میں مناظرہ کورس مکمل کیا، جہاں آپ نے دلائل، تحقیق اور علمی اسلوب میں نمایاں مہارت حاصل کی۔
اس کے بعد مردان کے علاقے بخشالی میں مفتی عبداللہ فردوس صاحب سے تخصص فی الافتاء (مفتی کورس) کیا، اور پھر چارسدہ کی تنگی اختر مسجد میں مفتی حمد اللہ صاحب سے منطق کے تکمیلی کورس کی سعادت حاصل کی۔ اس طرح آپ نے مختلف علومِ اسلامیہ میں گہری بصیرت اور مضبوط علمی بنیاد قائم کی۔
اس وقت مولانا سعید اللہ فاروقی صاحب میدان کے علاقے شداس آٹو میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں نہایت حسن و اخلاص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی کوٹکی میں مفتی مطیع اللہ صاحب کے زیرِ نگرانی بنات کے مدرسے میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، جہاں آپ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا سعید اللہ فاروقی صاحب کے علم، عمل اور خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، انہیں دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہمیشہ اسی اخلاص اور استقامت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق دے، اور ان کے علم سے امتِ مسلمہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ آمین۔
18/07/2026
قربان جاؤں تیرے سادگی پہ see more