16/10/2026
بوڑھی کوّی اور تین چالاک لومڑیاں - جنگل کی عدالت 😢👑
ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھی کوّی اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ دونوں بہت غریب تھے۔
اسی جنگل میں تین بہت چالاک لومڑیاں رہتی تھیں۔ دن میں شریف، رات کو چور۔ انہوں نے شیر راجہ کے خزانے سے جنگل کے سارے قیمتی بیج اور پھل چرا لیے۔
جب جنگل پولیس ان کے پیچھے بھاگی تو تینوں لومڑیوں نے چوری کا تھیلا بوڑھی کوّی کے گھونسلے میں پھینک دیا اور بھاگ گئیں۔
صبح جب تلاشی ہوئی تو چوری کا مال کوّی کے گھر سے ملا۔ سب نے کہا "کوّی چور ہے!"۔ اس کے بیٹے کو پکڑ کر جنگل کی جیل میں ڈال دیا گیا۔
بوڑھی کوّی روتی ہوئی شیر راجہ کے دربار میں گئی۔
بوڑھی کوّی بولی - "اے جنگل کے راجہ! ایک سوال کا جواب دو۔ اگر چور مال میرے گھر پھینک دے تو چور میں ہوئی یا وہ؟"
شیر راجہ بولا "ظاہر ہے وہ چور ہوا"۔
بوڑھی کوّی بولی "تو پھر ان تین لومڑیوں کو بلاؤ جو رات بھر جنگل کے چوکیدار ہاتھی کے ساتھ شراب پی رہی تھیں۔ ان کے پاؤں پر وہی کیچڑ ہے جو میرے گھونسلے کے پیچھے ہے۔ اور ان سے کہو وہ تھیلے کی گانٹھ کھول کر دکھائیں، جو چوری کرتا ہے اسی کو گانٹھ کھولنا آتا ہے۔ میرا بیٹا تو گانٹھ بھی نہیں باندھ سکتا!"
شیر راجہ نے تینوں لومڑیوں کو بلوایا۔ سخت پوچھنے پر وہ مان گئیں۔
سچ سامنے آ گیا۔ تینوں چالاک لومڑیوں کو سزا ملی اور بوڑھی کوّی کے بیٹے کو چھوڑ دیا گیا۔
سبق: سچ چاہے کتنا بھی غریب کیوں نہ ہو، ہمت سے لڑو تو جیت سچ کی ہی ہوتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی کسی بے گناہ کو پھنستے دیکھا ہے؟ رائے میں ضرور بتائیں 👇