Noor Ul ilm

Noor Ul ilm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noor Ul ilm, School, Near Welcome Book, Dinga.

📚 Where Education Meets Guidance
Noor Ul Ilm Academy ایک ایسا مرکز ہے جہاں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تربیت، اخلاقی اصلاح اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ ہر طالب علم کے دل میں قرآن کا نور، علم کا احترام اور ایمان کی مضبوطی پیداہو

صحت مند گردے، صحت مند زندگی کی بنیاد ہیں۔گردے ہمارے جسم کا بہت اہم حصہ ہیں۔ گردے ہمارے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائی...
22/08/2026

صحت مند گردے، صحت مند زندگی کی بنیاد ہیں۔

گردے ہمارے جسم کا بہت اہم حصہ ہیں۔ گردے ہمارے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائیں طرف پسلیوں کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ گردوں کی شکل لوبیے کے دانے کی طرح ہوتی ہے۔

گردوں کا اہم کام خون کی صفائی کرنا ہے۔ گردے ہمارے جسم میں فلٹر کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ خون کو فلٹر کرتے ہیں اور گندے مادّوں کو خون سے الگ کر دیتے ہیں۔

دوسرا بلڈ پریشر کا کنٹرول۔ گردے ہمارے جسم میں ایسے کیمیکلز بناتے ہیں جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تیسرا پانی اور نمکیات کا توازن۔ گردے ہمارے جسم میں پانی اور نمک کی مقدار کو متوازن رکھتے ہیں تاکہ ہمارا بلڈ پریشر نارمل رہے۔

گردوں کا یورینری سسٹم میں کردار

گردے ہمارے یورینری سسٹم کا اہم حصہ ہیں اور اس نظام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں اور زہریلے مادّوں کو اس سے الگ کر دیتے ہیں، پھر ان مادّوں کو پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ اگر گردے اپنا کام نہ کریں تو یورینری سسٹم کے باقی اعضاء بھی مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے۔

اگر گردے اپنا کام نہ کریں تو کیا ہوتا ہے؟

اگر گردے اپنا کام نہ کریں تو جسم میں زہریلے مادّے اور فالتو پانی جمع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً:

- خون کی کمی (Anemia)
- ہائی بلڈ پریشر
- یوریمیا (Uremia) یعنی خون میں زہریلے مادّوں کا جمع ہو جانا، جس سے متلی، الٹی، کمزوری اور ذہنی الجھن ہو سکتی ہے۔
- دل کی بیماریاں، جو موت کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

گردوں کو تندرست رکھنے کے لیے کیا کریں؟

زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، روزانہ کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی استعمال کریں، اور زیادہ نمک کھانے سے گریز کریں کیونکہ یہ ہمارے جسم اور گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

نماز کیا ہے؟ نماز دینِ اسلام میں بے حد ضروری ہے اور دینِ اسلام میں نماز پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی ...
18/08/2026

نماز کیا ہے؟

نماز دینِ اسلام میں بے حد ضروری ہے اور دینِ اسلام میں نماز پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

قرآنِ مجید میں کئی جگہ نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جیسے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! بے شک نماز تم پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔" اور ایک جگہ ارشاد فرمایا: "نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

نماز دینِ اسلام کا ستون ہے۔ نماز انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔
جو انسان اللہ تعالیٰ سے بات کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھے، کیونکہ خشوع و خضوع والی نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت پسندیدہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔" نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔" نبی ﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔
اور کون مسلمان نہیں چاہتا کہ وہ اس عبادت کو اختیار کرے جس سے نبی کریم ﷺ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا ہے۔

جب انسان دن بھر کی پریشانیوں سے تھک کر نماز کی طرف آتا ہے تو اس کی ساری پریشانیاں اور تھکن دور ہو جاتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی پابندی سے انسان کا دل پُرسکون ہو جاتا ہے

نماز کی پابندی سے انسان کو روحانی سکون حاصل ہوتا ہے اور نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز کی وجہ سے انسان میں نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ نماز کی بدولت انسان پُرسکون اور اطمینان بخش زندگی گزارتا ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کریں۔

________
از قلم : بلاول شہزاد

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو...
12/08/2026

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو جاننے کا قریب سے موقع ملتا ہے۔ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکل وقت میں صبر کیسے کیا، ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر یقین رکھا، سچائی کا ساتھ دیا، لوگوں سے بہترین اخلاق سے پیش آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان اچھے کردار اور نیک اعمال کے ذریعے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک تاریخی کتاب نہیں بلکہ یہ ہمیں زندگی گزارنے کا سبق دیتی ہے۔ اس میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے، چاہے وہ طالب علم ہو، استاد ہو یا والدین ہوں یا پھر کوئی اور۔ اگر ہم تھوڑا سا وقت روزانہ نکال کر سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمارے اخلاق بہتر ہو سکتے ہیں، ہمارا ایمان مضبوط ہو سکتا ہے، ہم ایک ذمہ دار اور اچھے انسان بن سکتے ہیں۔

میرے خیال میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی زندگی کو جاننا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ اور جو شخص سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ کامیابی صرف دنیاوی چیزوں پر نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ سیرت کا مطالعہ کرے، اس پر غور کرے، اور اپنی زندگی میں اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔
ــــــــــــــــ
از قلم : سعد احمد

ہمارا جسم جو کچھ بھی کرتا ہے، جیسے حرکت کرنا، بڑھنا اور صحت مند رہنا، وہ غذائی اجزاء پر منحصر ہوتا ہے۔ ان اجزاء کو حاصل ...
30/07/2026

ہمارا جسم جو کچھ بھی کرتا ہے، جیسے حرکت کرنا، بڑھنا اور صحت مند رہنا، وہ غذائی اجزاء پر منحصر ہوتا ہے۔ ان اجزاء کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خوراک کو پہلے سادہ اجزاء میں توڑا جائے تاکہ جسم کے خلیے
(Cells)
انہیں جذب کر سکیں۔ یہ عمل ہمارے ڈائجسٹو سسٹم (Digestive System)
میں ہوتا ہے۔

انسان کا ڈائجسٹو سسٹم
(Digestive System)
وہ نظام ہے جو کھانے کو ہضم کرتا ہے، اس میں موجود غذائی اجزاء جسم کو مہیا کرتا ہے اور غیر ضروری فضلے کو جسم سے خارج کرتا ہے۔ انسان کا ڈائجسٹو سسٹم ایک لمبی نالی اور چند مددگار اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لمبی نالی کو الیمنٹری کینال
(Alimentary Canal)
کہا جاتا ہے۔

ڈائجسٹو سسٹم کے اہم اعضاء میں منہ
(Mouth)
شامل ہے،
جو کھانے کو چباتا ہے اور لعاب
(Saliva)
کے ساتھ ہضم کا آغاز کرتا ہے۔
غذا کی نالی
(Esophagus)
کھانے کو منہ سے معدے تک پہنچاتی ہے۔
معدہ (Stomach)
کھانے کو تیزاب اور ہاضمے کے انزائمز کی مدد سے ہضم کرتا ہے۔
چھوٹی آنت
(Small Intestine)
وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر غذائی اجزاء جذب ہوتے ہیں۔
بڑی آنت (Large Intestine)
پانی جذب کرتی ہے اور فضلے کو خارج کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔
جگر (Liver)
بائل (Bile)
بناتا ہے جو چکنائی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ پتہ (Gallbladder)
اینزائمز کو ذخیرہ کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر خارج کرتا ہے۔

انسان کا ڈائجسٹو سسٹم بھی بیمار ہو سکتا ہے اگر ہم اس کا صحیح خیال نہ رکھیں۔ مصالحہ دار اور بازاری چیزوں کا حد سے زیادہ استعمال، نیز پھل، سبزیاں اور پانی کم مقدار میں استعمال کرنا ڈائجسٹو سسٹم کی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ چند عام بیماریاں درج ذیل ہیں: ڈائریا (Diarrhea)
جس میں بار بار پتلے پاخانے آتے ہیں اور یہ جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا سبب بن سکتا ہے۔ قبض (Constipation)
جس میں فضلہ مقررہ اوقات میں جسم سے خارج نہیں ہوتا۔
السر
(Ulcer)
جس میں معدے یا آنتوں میں زخم بن جاتے ہیں اور درد و تکلیف ہوتی ہے۔
ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا کھائیں اور بازاری چیزوں سے پرہیز کریں۔ صاف پانی پئیں۔ اگر ہم صاف پانی پئیں گے تو ہمارا نظامِ ہضم بہتر ہوگا۔ ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں، خاص طور پر کھانا کھانے سے پہلے اور واش روم استعمال کرنے کے بعد۔ زیادہ تیل اور مصالحہ والی غذا کا استعمال کم کریں، کیونکہ زیادہ تیل اور مصالحہ ہمارے معدے کو متاثر کر سکتا ہے۔ روزانہ ورزش کریں اور اپنے ذہنی دباؤ کو نارمل رکھیں۔ اس کے لیے پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرنے کی عادت اپنائیں۔ اس سے ہمارا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں۔ اس سے ہمارا ڈائجسٹو سسٹم متاثر ہوتا ہے، لیکن ہمارے آج کل کے بعض نوجوان اسے فیشن سمجھ بیٹھے ہیں۔

از قلم : بلاول شہزاد
in future :)

آج کا دور سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، لیکن اس مادی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ دور شدید ذہنی ا...
14/07/2026

آج کا دور سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، لیکن اس مادی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ دور شدید ذہنی انتشار، اخلاقی گراوٹ اور روحانی خلا کا شکار بھی ہے۔ ایسے دباؤ اور بے چینی کے ماحول میں قرآن مجید کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

جدید دور کے تناظر میں قرآن مجید کی اہمیت کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:

: ذہنی سکون اور نفسیاتی الجھنوں کا حل

آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ڈپریشن، اینگزائٹی (بے چینی) اور ذہنی تناؤ ہے۔ انسان نے آسائشیں تو جمع کر لیں، لیکن وہ اندر کے سکون سے محروم ہو گیا۔ قرآن مجید اس کا حل ان الفاظ میں پیش کرتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
(سنو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے)۔

جب ایک جدید دور کا انسان قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے پیغامات کو سمجھتا ہے، تو اسے یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ کوئی اعلیٰ طاقت اس کے ساتھ ہے، جس سے اس کی تنہائی اور مایوسی دور ہوتی ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ قرآن مجید صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے لیے زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات (Code of Life) ہے۔

امام غزالیؒ فرماتے ہیں

قرآن مجید علم کا سمندر ہے، اور جو شخص اس کے معانی میں گہرائی تک جاتا ہے، وہ معرفتِ الٰہی کے ایسے موتی پاتا ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتے۔

مفتی محمد شفیعؒ (صاحبِ معارف القرآن) لکھتے ہیں کہ قرآن انسان کی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی، سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی معاملات تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

:دلوں کی شفا اور تزکیہ نفس

علماء نے قرآن مجید کو روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی قرار دیا ہے۔

04/12/2025
قرآن سے ہمارا رشتہ       قرآن اللہ کی آخری آسمانی کتاب ہے ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے ،یہ تمام بنی نوع ک...
26/11/2025

قرآن سے ہمارا رشتہ

قرآن اللہ کی آخری آسمانی کتاب ہے ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے ،یہ تمام بنی نوع کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے ،قران کا ہماری زندگی سے گہرا اور بنیادی تعلق ہے ،یہ صرف مذہبی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے ۔

قرآن سے ہمارا تعلق صرف تلاوت تک محدود نہیں رہنا چاہیئے ،اس سے ایک عملی رشتہ بھی ہونا چاہیئے
قرآن سے ہمارا تعلق ایسا ہونا چاہیئے جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جیسے صحابہ کا تھا۔

قرآن کی تلاوت
ہر روز اس کی تلاوت کرنا اور ہر حرف کو درست مخارج کے ساتھ ادا کرنا اس سے ہر حرف پر ثواب ملتا ہے

قرآن فہمی
صرف اس کی تلاوت ہی نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اس کی سمجھ بھی حاصل کرنی چاہیئے تاکہ ہم قرآن سے اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں

آیات پر غور و فکر
ہر حرف پر غور و فکر کر کے پڑھنا تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ اللہ نے ہمیں کیا حکم دیا ہے ؟ اور ہم اس حکم کی تعمیل کیسے کر سکتے ہے ؟

قرآن پر عمل
قرآن کے احکامات کو اپنی عملی زندگی میں لانے کے لیے اس پر غور و فکر کرنا چاہیئے جس سے ہم دنیا میں فلاح اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں گے ۔۔

قرآن کی اہمیت
قرآن ہماری زندگی میں کئی اہم کردار ادا کرتا ہے،جس طرح یہ ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ،ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور علم کا سر چشمہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
قیامت کے دن قرآن اس کے پڑھنے والے کے لیے بہترین ساتھی ہو گا ۔

قرآن کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ کیسے بنائیں ؟
ہم قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے کچھ اقدامات اٹھا سکتے ہیں جیسا کہ
1)روزانہ ایک وقت مقرر کرے اور اس میں قرآن کی تلاوت کرے
اور کم ازکم دو آیات کا ترجمہ اور تفسیر بھی یاد کرے
تھوڑا تھوڑا کر کے شروع کرے اور قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے ۔
2)گھر والوں کے ساتھ مل کر روزانہ تو نہیں پر ہفتہ میں ایک بار قرآن کی کسی بھی صورت کو یاد کرے

یاد رکھیں ،قیامت کے دن قرآن ہمارے لیے گواہی دے گا تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اس سے گہراہ تعلق قائم کریں جو ہم کو دنیا اور آخرت میں کامیاب کر دے گا

Address

Near Welcome Book
Dinga
50280

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor Ul ilm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share