01/05/2026
برگی ڈیم کے المناک حادثے کے پندرہ گھنٹے بعد سامنے آنے والی ایک دل سوز تصویر نے پورے معاشرے کو غم زدہ کر دیا۔ حادثے میں ایک ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے ہوئی نظر آئی، جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ یہ منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ماں نے آخری لمحے تک اپنے لختِ جگر کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
ماں کی ممتا دنیا کی وہ عظیم نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ یہ ایسی پاکیزہ محبت ہے جو بغیر کسی غرض، لالچ اور صلے کے صرف اپنی اولاد کے لیے وقف ہوتی ہے۔ ماں اپنی خوشیوں کو قربان کرکے اپنے بچوں کی خوشیوں میں مسرت تلاش کرتی ہے، ان کے دکھ میں تڑپتی ہے اور ان کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتی ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو اپنی گود میں محبت دیتی ہے، اپنے ہاتھوں سے پرورش کرتی ہے اور اپنی دعاؤں سے ان کے مستقبل کو روشن بناتی ہے۔ بچہ جب دنیا میں قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے ماں کی آغوش میں سکون پاتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلنے والا پہلا لفظ اکثر "ماں" ہی ہوتا ہے، کیونکہ یہی رشتہ سب سے زیادہ قریب، مہربان اور بے لوث ہوتا ہے۔
ماں کی ممتا ہر حال میں ظاہر ہوتی ہے۔ بیماری ہو یا پریشانی، غربت ہو یا تنگی، ماں اپنی اولاد کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ وہ خود تکلیف برداشت کر لیتی ہے مگر اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتی۔ تاریخ اور روزمرہ زندگی میں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں ماؤں نے اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی قربانیاں پیش کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ رحمت، شفقت، ایثار اور دعا کا دوسرا نام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماں کی قدر کریں، ان کی خدمت کریں، ان کا ادب کریں اور ان کی دعائیں حاصل کریں۔
✍محمد عباس الازہری