Pasban

Pasban

Share

پرندہ جب اُڑنے کی ٹھان لے تو
ہوا کو رستہ دینا ہی پڑتا ہے

04/03/2021

❤☝️

03/02/2021

کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں
نجانے کس کس کا حوصلہ ہوں میں

#عمرفاروق #خان #میانخیل☝️❤

30/12/2020

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا میرے یار سمجھتے ہیں مجھے

میں تو چُپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور کُچھ لوگ پُراِسرار سمجھتے ہیں مجھے

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے فنکار سمجھتے ہیں مجھے

وہ جو اُس پار ہیں اُن کیلیئے اِس پار ہوں میں
اور جو اِس پار ہیں اُس پار سمجھتے ہیں مجھے

نیک لوگوں میں مجھے نیک گِنا جاتا ہے
اور گناہگار، گناہگار سمجھتے ہیں مجھے

13/05/2020

🍃﷽ السّلامُ عَلَيْــــــــــــــــــــكُمْ 🍃🇵🇰

اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرما لے جنہیں تو ہدایت فرماتا ہے، اور جو صراطِ مستقیم پر چلتے ہیں، جو توبہ کرتے ہیں اور جن کی توبہ کو تو قبول کرتا ہے، جو تیرا خوب شکر ادا کرتے ہیں اور جن پر تو اپنا خاص کرم فرماتا ہے، اے ہمارے پروردگار تو ہماری دعائیں قبول فرما لے آمین یارب العالمین ـ

🌴عمر 🌴

16/04/2020

وہ زندگی ہی کیا جسے دشمن نصیب نہ ہو، وہ جہد ہی کیا جسے غدار نصیب نہ ہو، وہ مزاج ہی کیا جسے تنقید نصیب نہ ہو، وہ چال ہی کیا جسے عداوتیں نصیب نہ ہو، وہ علم ہی کیا جسے تحقیر نصیب نہ ہو، وہ شہرت ہی کیا جسے حسد نصیب نہ ہو، وہ محفلیں ہی کیا جسے مخبر نصیب نہ ہو، وہ درد ہی کیا جسے سنگ دلی نصیب نہ ہو، وہ خودی ہی کیا جسے متکبر نصیب نہ ہو۔ وہ سلطنت ہی کیا جسے دھمکیاں نصیب نہ ہو، وہ انقلاب ہی کیا جسے بزدل نصیب نہ ہو، وہ قدم ہی کیا جسے انگارے نصیب نہ ہو، وہ آنکھ ہی کیا جسے آنسو نصیب نہ ہو، وہ دل ہی کیا جسے خنجر نصیب نہ ہو، وہ پشت ہی کیا جسے تیر نصیب نہ ہو، وہ جگر ہی کیا جسے مکاری نصیب نہ ہو، احساس کے سمندر کو منافقوں کے طوفان نصیب نہ ہو۔ وہ زندگی ہی کیا جسے اپنی ہی غلطیاں نصیب نہ ہو، اپنا نفاق، اپنے گناہ نصیب نہ ہو، اپنی بد تہذیبی نصیب نہ ہو۔ درد و غم، رنج و کرب کو اپنوں کے وار نصیب نہ ہو۔ یار کی یاری پر تھا ناز، اغیار کی اغیاری پر تھا کام، چلو اگر غیر معیاری تھا انداز، یا محظ لفاظیوں کا تھا کام، تم نے کیسے جان لیا وہ راز، جس میں چھپا تھا ہمارا حال۔ بازار میں نیلامی لگی ہے میرے قتل کی، پتہ لگا خریدار بھی نکلے اپنے وفادار۔

06/04/2020

Pearls of Wisdom

درد کم نہ تھے جو خود کو سنبھال لیا
دل کے سمندر میں ناداں ایک طوفان پال لیا
سوچا تھا روح کو سکون مل جائے گا اب
جرات و شجاعت نے من سے یہ خیال نکال دیا

خاموشیوں نے عرض کیا تنہائیوں سے
لگتا ہے خودی نے خود سے پھر اشتعال لیا
موجوں نے ساحل سے تعلق جوڑا ہی تھا
سرپھرے نے کشتی کا رخ پھر گھما دیا

شور بھی تھا، امید بھی تھی زمانے میں
رکتے تھمتے سفر کو جوان نے پھر ایک خواب دیا
عادت پرانی ہے من چلوں کا انداز نرالہ ہے
ہم نے جوابوں کو ہمیشہ ایک نیا سوال دیا

آشیاں کب نہ تھے ہواوں کے گہراو میں
ہم نے طوفاں کے محور میں پھر رات کا پڑاو کیا
غلط فہمیاں کم نہ تھیں ہمارے حوالے سے ہمیں
ہم نے غلط فہمیوں کو بھی ایک نیا انداز دیا

گمان تو تھے ہی، باتیں بھی آگئیں میدان میں عمر
خدا جانتا ہے ہماری طرف سے ہمیشہ انجام نے کلام کیا۔

26/03/2020

صرف اللّٰہ ہی کو اپنا کار ساز بنا لیں⁦☝️⁩

22/03/2020
22/12/2019
Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Tehsil Daraban Kalan
Dera Ismail Khan