Hafiz Abid ullah Ashrafi

Hafiz Abid ullah Ashrafi

Share

زندگی انسانیت کی خدمت میں گزارو کامیابی ہی کامیابی ہے

20/05/2026

"علماء کرام کا لوگوں سے عزت و احترام کی بھیک مانگنا"

علماء کرام آج کل منبرومحراب پر اور پشتون معاشرہ میں

نماز جنازہ سے پہلے ہونے والے وعظ میں لوگوں سے بھکاریوں

کی طرح عزت و احترام کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔

وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ عزت اور احترام بھیک میں مانگنی والی چیز نہیں ہے ۔بلکہ عزت و احترام نافعیت کی اصول کے تحت کروائی جاتی ہے۔

لوگوں کو ایموشنلی بلیک میل کرنے کے لئے وہ چند معروف جملوں کے استعمال کا کمزور سہارا لیتے ہیں ۔

ہم نہیں ہونگے ،تو نکاح کون پڑھائے گا۔

ہم نہیں ہونگے، تو نماز جنازہ کون پڑھائے گا۔

ہم نہیں ہونگے، تو نماز کی امامت کون کروائے گا۔

ہم نہیں ہونگے، تو بچے کی کان میں اذان کون دے گا۔

ہم نہیں ہونگے، تو بچوں کو ناظرہ قرآن کون پڑھائے گا۔

حالانکہ مندرجہ بالا تمام کاموں کے لئے مولوی ہونا ضروری نہیں ہے۔

غیر شعوری طور پر لوگوں کو یہ تاثر دینا کہ ہماری ذمہ داری بس یہی چند مخصوص امور کو سر انجام دینا ہے۔
اور پھر بھی ان سے عزت و احترام کا مطالبہ کرنا ۔

اور عام لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور ان کو ہر حال میں ہر مشرف بدرس نظامى کی تعظیم اور اطاعت پر
مجبور کرنا۔

قول و فعل میں تضاد کے باوجود لوگوں پر سوال نہ کرنے کی پابندی لگانا
۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایسی ہی علماء کے بارے میں فرمایا تھا۔
"ہماری حالت یہ ہے۔کہ مسلمانوں کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں ۔اور جلسوں میں جو علم کے فضائل ہم بیان کرتے ہیں ۔اس سے مقصود اپنی فضیلت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔کہ ہم اس درجے کے ہیں ۔ہماری تعظیم کرنا چاہیے ۔مگر علماء کو اس طرز سے شرم کرنا چاہیے "
"

09/05/2026

پیٹرول مہنگا ہونے کیساتھ ساتھ۔۔۔
ہمارا نیا ویلوگ حاضر ہے آ ئیں دیکھتے ہے۔۔۔۔👇 انتظار کس چیز کا کلک on screen ۔۔۔

08/05/2026

حضرت عمرؓ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے۔ دورانِ گفتگو انہوں نے فرمایا:
“اگر میں سیدھے راستے سے ہٹ جاؤں تو تم کیا کرو گے؟”
مجمع میں سے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور اپنی تلوار کی طرف اشارہ کرکے کہا:
“اگر آپ ٹیڑھے ہوئے تو ہم اس تلوار سے آپ کو سیدھا کر دیں گے۔”
یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض نہیں ہوئے بلکہ خوش ہوئے اور فرمایا:
“اللہ کا شکر ہے کہ عمر کی امت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عمر کی غلطی پر بھی اسے سیدھا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔”
اس واقعے کا سبق یہ ہے کہ اسلام میں حکمران بھی جواب دہ ہوتا ہے، اور حق بات کہنا بڑی بہادری سمجھی جاتی ہے۔۔۔

۔اس یہ سبق ملتا ہمیں کہ اگر کوئ بندہ کسی پہ تنقید کرلے اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسکا مخالف ہوگیا۔

ہمارے بہت سے لوگ صرف تنقید اپنے بڑوں کے بارے برداشت نہیں کرسکتے ۔
بہر حال برداشت اپنے آپ میں پیدا کیا کرو۔

05/05/2026

آخ شیخ صاحب 😭🤲


Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

D. I. Khan. Tahsil Drazinda
Dera Ismail Khan