صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی اجلاس
سکول لیڈرز کیلئے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی میں کوالٹی مانیٹرنگ ونگ کے قیام کا فیصلہ
سکول لیڈرز کا نام تبدیل کرکے ایجوکیشن کوالٹی منیجمنٹ ایڈمنسٹریٹر رکھا جائے گا.
اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی سہیل خان، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سہیل خان نے سکول لیڈرز کے لئے بننے والے سلیبس، ان کی جدید تربیت کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات ، ان کے لئے موبائل ایپس اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ سکول لیڈرز کے کنٹریکٹ میں تو سیع کے ساتھ ساتھ ان کو ایجوکیشن کوالٹی مانیٹرنک کی تربیت بھی دی جائے گی۔ ان کے لیے تربیت کے لئے کورس تیار کیا گیا ہے۔ اور سکول لیڈرز کے دوروں کی مکمل معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ بذریعہ ایپ روزانہ کی بنیاد پر ان کی مانیٹرنگ ہوگی۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول لیڈرز کو ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کے تمام کام کی نگرانی اتھارٹی کرے گی اور سکول لیڈرز کے نام کو بھی تبدیل کر کے ان کو ایجوکیشن کوالٹی مینجمنٹ ایڈمنسٹریٹر (EQMA) کا نام دیا جائے گا اور ان کا کام صرف سکولوں کے ایجوکیشن کوالٹی میں بہتری لانا ہوگا ان کے کام سے بہتر استفادہ حاصل کرنے اور ان کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم اہنگ جدید تربیت دی جائے گی۔ اور ان کے لئے مختلف موبائل ایپس تیار کئے جائیں گے جن کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول لیڈرز کا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی میں ایک الگ کوالٹی مانیٹرنگ ونگ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ان کی جدید تربیت کے لئے بہترین نجی تعلیمی اداروں سے ٹرینرز کو منتخب کیا جائے جو کہ ان کے ساتھ ساتھ ڈی پی ڈی کے منتخب ماسٹر ٹرینرز کو بھی تربیت دے اور ڈی پی ڈی سٹاف بھی مذکورہ تربیت میں حصہ لیں۔
صوبائی وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ان کوالٹی مینجمنٹ ایڈمنسٹریٹرز کے لئے آئی ٹی آلات، موبائل فونز اور دیگر الاونسز کی فراہمی کے لئے بھی پروپوزل بھیج دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مراحل مطلوبہ ٹائم لائن کے مطابق نئے تعلیمی سیشن تک ہر صورت مکمل کرنے چاہئے تاکہ نئے سیشن سے کوالٹی کی مانیٹرنگ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ جاری رہے۔
Education Monitoring Authority - Dera Ismail Khan
Education Monitoring Authority, Elementary and Secondary Education Department, Khyber Pakhtunkhwa.
*علم النحو کی کہانی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاٶں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا ۔اس کا نام "لفظ" تھا۔ اس کے دو بھائی تھے ۔
ایک کا نام موضوع اور دوسرے کا نام مہمل ۔
موضوع بہت ہوشیار لڑکا تھا۔ ہر چیز کا معنی بتاتا ۔ سمجھ میں آجاتا تھا۔
اور مہمل ، وہ تو پاگل تھا۔ہر چیز الٹی بتاتا، جس کا کوئی مطلب نہ نکلتا ۔
موضوع کے دو بیٹے تھے ۔
ایک کا نام مفرد تھا ، دوسرے کا نام مرکب۔ مفرد اکیلا اکیلا پھرتا تھا جب کہ مرکب سب کے ساتھ مل کر چلتا تھا ۔
مرکب کے بھی دو دوست تھے۔ ایک کا نام مرکب ناقص ، دوسرے کا نام مرکب تام تھا۔
مرکب ناقص بڑا نالائق لڑکا تھا۔ ہمیشہ ادھوری بات کرتا۔ کسی کی سمجھ میں اس کی کوئی بات نہیں آتی تھی ۔
مرکب تام بھائی بہت اچھا لڑکا تھا ایسی صاف بات کرتا کہ پاگل بھی سمجھ جاتا۔ وہ ہر چیز کی خبر دیتا۔ سچ میں جھوٹ ملا کر بات کرتا۔ اس لیے وہ خود کو وزیر نحو کہا کرتا۔
پھر یوں ہوا کہ اچانک گاؤں میں ایک یتیم لڑکا آگیا, جس کا نام "کلمہ" تھا , جس کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے .
ان کا نام اسم، فعل، اور حرف تھا۔
اسم بیچارہ , بہت امیر تھا ،اپنا سب کام خود کرتا۔ کسی سے کچھ مدد نہ لیتا۔
فعل ہمیشہ کنجوسی سے اپنا کام خود کرتا۔ دوسروں کو بھی لے کر آتا ۔اکیلا آتے ہوئے ڈرتا کہ کہیں کوئی کام غلط نہ ہو جائے۔
حرف بہت غریب تھا۔ نہ کھانے کےلیے کچھ اور نہ پہننے پہنانے کے لیے۔
کچھ اسم سے ، کچھ فعل سے مدد لےکر اپنی گزر اوقات کرلیتا ، لیکن بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتا کہ سارے گاؤں والے عش عش کر اٹھتے۔
لبھائی اسم کی دو بیویاں تھیں۔
اک کا نام معرفہ تھا۔ دوسری کا نام نکرہ۔
معرفہ آنٹی ہمیشہ خود کو خاص سمجھتی تھیں۔مشہور و معروف تھیں۔ سب انہیں جانتے تھے۔
نکرہ آنٹی بہت سادہ سی رہتیں۔عام سی خاتون تھیں۔ انکساری اتنی کہ خود کو کچھ نہیں سمجھتیں۔
آنٹی معرفہ کے سات بچے تھے۔
تین لڑکیاں اور چار لڑکے۔
بچوں کے نام تھے ، ضمیر، علَم ، اشارہ ، موصول ، معرٗف باللام، معرف بالاضافة ، معرف بالنداء.
بھائی ضمیر ، وہ تو بس سارا دن ہی ،تو تو ، میں میں ، وہ وہ کرتا رہتا۔
بھائی علَم ، اپنے آپ کو خاص سمجھتا۔ اپنے خاص نام پر فخر جتاتا۔
کہتا : میرے جیسا کوئی نہیں۔
بھائی اشارہ ، وہ تو بس دوسروں پر بلا وجہ انگلی اٹھا اٹھا کر الزام تراشی کرتا رہتا ۔ اس کے بغیر اسے سکون ہی نہیں ملتا۔
بھائی موصول، ہمیشہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر کام کرتا۔
معرف باللام بہن ، محترمہ اتنی نخریلی ہیں کہ بس ان کی ہمیشہ گھر میں لڑائی ہی رہتی ہے۔ ضد ہے کہ میرے شروع میں الف لام لگاؤ کیوں کہ وہ میری جان ہے۔
معرف بالاضافة بہن ، بہت ہوشیار لڑکی ہے ، اپنے خاص نام کو اپنے خاص پسندیدہ کھانے سے جوڑتی ہے تاکہ کوئی کھا نہ جاۓ۔
معرف بالنداء بہن ، بہت ضدی لڑکی ہے۔ اس سے سب بہت تنگ ہیں۔ کہتی ہے: میں اپنا کام سب کچھ خود کروں گی۔ کسی کو ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔
ندا بہن کے دو پکے دوست تھے۔
ایک کا نام مذکر ، دوسرے کا نام مونث تھا۔
مذکر میں لڑکی کی کوئی علامت نہ تھی۔
کہتا : میں میل ہوں۔میں لڑکا ہوں۔
مؤنث کہتی : میں لڑکی ہوں۔ مجھے کبھی کوئی غلطی سے بھی لڑکا نہ کہنا۔ میں بہت خطرناک ہوں۔
مؤنث کی 3 بیٹیاں ہیں۔
جن کے نام
گول ة ، الف مقصورہ اور الف ممدودہ ہیں۔
گول ة بہن، ایک ضدی لڑکی ہے ، جو کہتی ہے میری خوب صورت چاند سی گول شکل کبھی نہ بگاڑنا۔
الف ممدودہ بہن ، اونچی پوری دراز قد ہمدرد لڑکی ہے ، تنہا باہر نہیں نکلتی۔ باجی ھمزہ کو بھی اپنے ساتھ لیکر آتی ہے۔ خوش گلو اور بلند آہنگ ہے۔
الف مقصورہ بہن،
توبہ توبہ وہ تو باجی ھمزہ سے حسد کرتی ہے۔ ساتھ تو دور کی بات ہے ، کبھی اپنے پاس بھی نہیں بٹھاتی۔
مؤنث کے دو سہیلیاں ہیں۔
ایک کا نام آنٹی مؤنث حقیقی تو دوسری کا نام آنٹی مؤنث لفظی ہے۔
آنٹی مؤنث حقیقی ہمیشہ اپنا مقابلہ مرد کے ساتھ کرتی ہیں۔
آنٹی مؤنث لفظی ، بہت نرم و نازک ہیں۔ لو بلڈ پریشر LOW BP کی مریضہ ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ مرد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اسی لیے آنٹی مونث حقیقی ، اسے چھوڑ کر واحد کے گھر چلی گئیں۔
واحد ہمیشہ اکیلا رہتا۔اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا تھا۔
واحد کے دو بھائی ہیں۔ ایک کا نام تثنیہ بھائی ہے، دوست مثنی بھائی کہتے ہیں۔
دوسرےکا نام جمع بھائی ہے۔
بھائی مثنی کہتے ہیں: میں تو صرف دو کے ساتھ رہوں گا۔ کسی تیسرے کے ساتھ مجھےکبھی گوارا نہیں۔
بھائی جمع توبہ توبہ !
وہ تو سارا دن دوست بناتا رہتا ہے۔کم از کم تین ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ جمع سے گھر والے تنگ ہیں۔ جمع بیچارے کو گھر سے نکال دیا گیا ، وہ اپنے دوست جمع سالم اور جمع مکسر کے پاس گیا۔
جمع سالم ، ہمدرد انسان ہیں شریف ۔کسی کو نہیں چھیڑتے۔اپنی پیٹھ پر اون ، این ، آت کا بوجھ لاد لیتے ہیں۔
لیکن جمع مکسر ضدی بھی ہیں اور شعلہ مزاج بھی۔ پیسے نہیں ملتے ، یا کھانا نہیں ملتا تو گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی ڈانٹے تو کہتے ہیں : میں جدت پسند ہوں۔ نئی نئی چیزیں بناتا ہوں۔
💥Breaking News💥
Apart from six districts i.e. Lahore, Faisalabad, Multan, Sargodha, Gujrat and Bannu, it has been decided to open all educational institutions across Pakistan from September 16, 2021.
Asad Umar
24/08/2021
نوٹیفکیشن: محکمہ تعلیم کا نارمل سکول ٹائمنگ دوبارہ سے بحال۔
13/06/2021
محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری-
پرائمری اور مڈل سکولوں کی تاحکم ثانی چھٹیاں ہونگی۔
19/02/2021
" خیبر پختونخوا ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے SSTs کو BPS-17 میں اپگریڈ کرنے کے لیے پروپوزل بنا کر سیکرٹری فنانس کو ارسال کر دیا۔ وہ تمام SSTs جن کے پاس ماسٹر اور B.Ed ڈگری ہوگی۔ ان کو BPS-16 سے BPS-17 میں اپگریڈ کرنے کی شفارش کی گئی ہے۔ اور جن کے پاس ماسٹر ڈگری نہیں ہے۔ محکمانہ ضوابط کے تحت ان کو ماسٹر ڈگری مکمل کرنے پر اپگریڈ کیا جائے گا.."
19/02/2021
By the grace of ALLAH ALMIGHTY, notification of enforcement of "Khyber Pakhtunkhwa Education Monitoring Authority Act, 2019" published in official GAZETTE OF KHYBER PAKHTUNKHWA.
The Government of Khyber Pakhtunkhwa is pleased to establish the Khyber Pakhtunkhwa Education Monitoring Authority with effect from 1st July, 2020.
With deep sorrow Female Field Employee Madam of District passed away due to natural death.
May her soul rest in peace. Ameen
Her Funeral prayer will be offered in Zakori Qabristan Dera Ismail Khan today Thursday 18/02/2021 at 11 am.
"حروف تہجی کی تعداد"" 📙
اردو میں کتنے حروفِ تہجی ہیں..؟؟ اس مسئلے پر مختلف آرا رہی ہیں اور آج بھی کچھ لوگ اس سوال کو اٹھاتے رہتے ہیں۔۔ دراصل حروف تہجی کا مسئلہ لسانیات اور صوتیات سے جڑا ہوا ہے اور اسی کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لینا چاہیے۔ لسانیات اور صوتیات کے ماہرین کے مطابق حروف ِ تہجی دراصل آوازوں کی علامات ہیں اور ان کا مقصد کسی زبان میں موجود آوازوں کو ظاہر کرنا ہے۔
بیسویں صدی کے ابتدائی بیس پچیس برسوں تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اردو میں پینتیس (۳۵) یا چھتیس (۳۶) حروف ِتہجی ہیں اور اس زمانے کے ابتدائی اردو قاعدوں اور بچوں کو اردو سکھانے والی کتابوں میں یہی تعداد لکھی جاتی تھی ۔ البتہ بعض کتابوں میں پہلے ’’مفرد‘‘ حروف ِ تہجی لکھ کر بعد میں ’’مرکب ‘‘ حروف ِ تہجی لکھے جاتے تھے اور یہ طریقہ بعض کتابوں میں آج بھی ملتا ہے۔ یہ مرکب حروف ِ تہجی کیا تھے ؟یہ دراصل ہائیہ یا ہکاری آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی (یعنی بھ، پھ، تھ وغیرہ) تھے۔ ان آوازوں کو انگریزی میں aspirated sounds کہا جاتا ہے۔ مغرب میں جب جدید لسانیات کی بنیادیں سائنس پر استوار ہوئیں تو لسانیاتی اور صوتیاتی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ یہ ہائیہ آوازیں (بھ، پھ، تھ وغیرہ) دراصل باقاعدہ، الگ اور منفرد آوازیں ہیں ۔ گویا لسانیات کی زبان میں یہ الگ فونیم (phoneme) ہیں۔لسانیاتی تجربہ گاہوں میں مشینوں کے ذریعے کی گئی جانچ نے بھی اس نظریے کو آج تک درست ثابت کیا ہے کہ وہ آوازیں جوہوا کے ایک جھٹکے کے ساتھ مل کر ہمارے منھ سے نکلتی ہیں (بھ ، پھ، تھ وغیرہ )وہ الگ آوازیں یا منفرد صوتیے ( فونیم) ہیں اور ان آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی بھی الگ حروف سمجھے جانے چاہییں ۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اردو میں اوکسفرڈ کی عظیم لغت کی طرز پر ایک ایسی کثیر جلدوں پر مبنی لغت بنائی جائے جس میں اردوکا ہر لفظ ہو اور ہر لفظ کے استعمال کی سند بھی شعرو ادب سے دی گئی ہو۔
اس منصوبے پر ۱۹۳۰ء میں کام شروع ہوا تو پہلا مسئلہ حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب کا تھا کیونکہ اس کے بغیر کسی لغت میں الفاظ کی ترتیب طے نہیں کی جا سکتی۔اردو کی پرانی لغات میں عام حروف اور ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (مثلاً ب اور بھ ) میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا اور ان میں بعض الفاظ (مثلاً بہانا اور بھانا ،بہر اور بھر، پہر اور پھر) ترتیب کے لحاظ سے ایک ساتھ ہی درج ہیں جو لسانیات کی رو سے غلط ہے اور قاری کے لیے بھی الجھن کا باعث ہے۔ لہٰذا باباے اردو نے طے کیا کہ اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِتہجی کو بھی الگ حرف مانا جائے اور لغت میں ان کی الگ تقطیع قائم کرکے ان کی ترتیب غیر ہائیہ حروف کے بعد رکھی جائے ، مثال کے طور پر جب ’’ب ‘‘ سے شروع ہونے والے تمام الفاظ کا لغت میں اندراج ہو جائے تو ’’بھ‘‘ سے شروع ہونے والے الفاظ لکھے جائیں ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔اس طرح مولوی عبدالحق وہ پہلے لغت نویس تھے جنھوں نے ان ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (بھ ، پھ وغیرہ) کو باقاعدہ الگ حرف مان کر اردو کے حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب درست کی ۔اردو میں ان ہائیہ حروف کی تعداد پندرہ (۱۵) ہے اور یہ بھی اردو کے حروف تہجی میں شامل ہیں۔
قیام ِپاکستان سے قبل اردو لغت کا یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا ۔اس عظیم لغت کے منصوبے کو حکومت پاکستان نے اردو لغت بورڈ کے تحت ازسرِ نو شروع کیا ۔ شان الحق حقی نے بطور معتمد (سیکریٹری) بورڈ کی لغت کے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کیا تو علم ِ لسانیات سے واقفیت کی بنا پر باباے اردو کی طے کردہ اردو حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب سے اتفاق کرتے ہوئے اردو کے ہائیہ حروف کو بھی اس میں شامل کیا۔۔ اس طرح عربی کے اٹھائیس (۲۸)حروف ، فارسی کے مزید چار (۴)حروف (یعنی پ۔چ۔ژ۔گ) ، اردو کی معکوسی آوازوں (یعنی ٹ۔ ڈ ۔ ڑ) کو ظاہر کرنے والے تین (۳)حروف، اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے پندرہ (۱۵) حروف ، الف ممدودہ (یعنی الف مد آ) اور ہمزہ (ء) کے علاوہ بڑی ’’ے‘‘ کو بھی الگ سے حرف ِتہجی شمار کیا کیونکہ اردو میں یاے مجہول (یعنی بڑی ’’ے ‘‘) کا الگ استعمال ہے۔ اس طرح اردو کے حروف تہجی کی کل تعداد’’الف ‘‘سے لے کر ’’ے ‘‘ تک تریپن (۵۳) ہوگئی جن کو ترتیب سے یہاں لکھا جاتا ہے :::::
ا۔آ۔ ب۔ بھ۔پ۔ پھ۔ت۔ تھ۔ٹ۔ ٹھ۔ث۔ ج۔ جھ۔چ۔ چھ۔ ح۔ خ۔ د۔
دھ۔ڈ۔ ڈھ۔ذ۔ ر۔ رھ۔ڑ۔ ڑھ۔ز ۔ ژ۔ س ۔ ش۔ ص۔ ض۔ ط۔ ظ۔ ع۔ غ۔ ف۔ ق۔ک۔ کھ۔ گ۔ گھ۔ ل۔لھ۔ م۔ مھ۔ن۔ نھ۔ و ۔ ہ ۔ ء۔ ی ۔ ے
ان میں شامل حروف لھ، مھ، نھ وغیرہ باقاعدہ حروف ِ تہجی ہیں کیونکہ وہ اردو کی بعض آوازوںکو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی لیے ننھا، تمھارا ، جنھیں اور چولھاجیسے الفاظ میں دو چشمی ھ لکھنی چاہیے ورنہ ان کا املا غلط ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد اردو لغت بورڈ میں شان الحق حقی نے تریپن (۵۳) طے کی اور اسی ترتیب اور تعداد کی بنیاد پر اردو کی بائیس(۲۲) جلدوں پر مبنی لغت باون (۵۲) سال کی محنت شاقہ کے بعد مرتب اور شائع کی گئی۔ البتہ دور جدید میں کمپیوٹر آنے کے بعد جب مشینی کتابت میں نون غنے (ں) کی وجہ سے مسئلہ ہونے لگا تو مقتدرہ قومی زبان (جس کا نام اب ادارہ ٔ فروغ ِ قومی زبان ہوگیا ہے ) نے اپنے صدر نشین افتخار عارف صاحب کی نگرانی میں ایک مجلس (کمیٹی) بنائی جس نے یہ طے کیا کہ نون غنے (ں) کو بھی ایک حرف تسلیم کیا جائے تاکہ ایک معیاری (اسٹینڈرڈ) کلیدی تختے (یعنی key بورڈ ) کی مدد سے جب عالمی سطح پر اردو کو فون اور کمپیوٹر میں استعمال کیا جائے تو کوئی الجھن نہ ہو۔ اس طرح اردو کے حروف ِتہجی میں ترتیب کے لحاظ سے نون (ن) کے بعد نون غنے (ں) کا اضافہ کرنا پڑا۔ اس اضافے سے ان حروف کی کُل تعداد چو ّن (۵۴) ہو گئی ہے اور اب اسی کو سرکاری طور پر درست تسلیم کیاجاتا ہے۔
گویا اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد چون (۵۴) ہے۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔
28/10/2020
Breaking News!
ADVERTISEMENT FOR The Post Of PST, CT, AT, TT etc also Published..
28/10/2020
محکمہ ایلیمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں مردانہ و زنانہ SSTs آسامیوں کے لیے NTS ذریعے درخواستیں مطلوب
آخری تاریخ 23-11-2020
02/09/2020
Fourth Round of Distribution Schedule of Textbooks to all the Districts of Khyber Pakhtunkhwa for the Academic Year 2020-21.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Dera Ismail Khan
29050
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |