The Founders School , Dera Ismail Khan

The Founders School , Dera Ismail Khan

Share

Your child's well-being is our utmost concern, and we ensure comprehensive care for them.

22/06/2026

This photograph captures a heartwarming incident involving the City Guard (Straż Miejska) that took place in June 2026 in the town of Bogatynia, Poland.
The Incident
• The Complaint: The municipal dispatch received a formal complaint from a local resident who reported a child "illegally" selling drinks near the local hospital.
• The Young Entrepreneur: When the officers arrived, they found 12-year-old Fabian operating a neatly arranged standalone stall. He was selling homemade lemonade (small for 3.50 PLN, large for 5.00 PLN) to raise money to buy his upcoming school textbooks.
• The Wholesome Resolution: Rather than issuing a fine, lecturing, or shutting down the stand, the responding officers contacted their commander. They pooled their own money together and purchased his entire remaining stock of lemonade on the spot.
The City Guard jokingly posted on social media that the "evidence had been secured and consumed," rating the quality of the lemonade very highly.

18/06/2026

قرآن پاک کی درست تلاوت سیکھنے کا موقع
ہم میں سے اکثر لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے تجوید، مخارج اور ادائیگی کی کچھ غلطیاں کر جاتے ہیں۔ قرآن پاک کو صحیح طریقے اور خوبصورت انداز میں پڑھنا سیکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
تمام والدین اور بالغ افراد جو اپنی قرآن پاک کی تلاوت کو درست کرنا چاہتے ہیں، وہ اس بابرکت موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
آپ دی فاؤنڈرز اسکول (اندرون لغاری گیٹ) تشریف لائیں ا قرآن پاک کی درست تلاوت، تجوید اور مخارج سیکھیں۔
قرآن سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔
آئیے اپنے کلامِ الٰہی کے ساتھ اپنا تعلق مزید مضبوط کریں۔
حافظ قاری محمد یونس
03492257431
یہ خدمت بالکل مفت ہے، اس کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔
Radio Pakistan Dera Ismail Khan





17/06/2026

Mustafa Badshah PS1
TFS kids message New Hijri Year 1448

17/06/2026

TFS kids message New Hijri Year 1448

17/06/2026

والدین اور اساتذہِ کرام کے لیے ایک اہم پیغام: بچے ہمارا عمل سیکھتے ہیں!
بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں کتابوں یا باتوں سے سکھاتے ہیں، بلکہ وہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ ہمیں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ تربیتِ اولاد کی یہ ذمہ داری جتنی والدین پر ہے، اتنی ہی اساتذہِ کرام پر بھی عائد ہوتی ہے۔
جب ہم بچوں کے سامنے بظاہر چھوٹے یا معمولی جھوٹ بولتے ہیں، تو ہم غیر ارادی طور پر ان کے معصوم ذہنوں میں جھوٹ کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔
روزمرہ زندگی کے عام جھوٹ جن سے ہمیں بچنا چاہیے:

* گھر پر بولے جانے والے جھوٹ (والدین کی طرف سے):
* فون پر یا مہمانوں سے بچنے کے لیے بچوں سے کہلوانا کہ "کہہ دو مما/پاپا گھر پر نہیں ہیں"۔
* گھر بیٹھے فون پر کہنا کہ "میں بس ۵ منٹ میں پہنچ رہا ہوں" یا "راستے میں ہوں"۔
* بچوں کو چپ کرانے کے لیے جھوٹے وعدے کرنا کہ "کام کر لو، شام کو گھمانے لے جاؤں گا" اور پھر مکر جانا۔
* بچوں کو جلدی سلانے یا ڈرانے کے لیے کہنا کہ "باہر بابا آ جائے گا" یا "پولیس پکڑ لے گی"۔

* اسکول میں بولے جانے والے جھوٹ (اساتذہِ کرام کی طرف سے):
* اپنی تاخیر یا غیر حاضری کو چھپانے کے لیے اسٹوڈنٹس کے سامنے ٹریفک، موسم یا طبیعت کا جھوٹا بہانہ بنانا۔
* بچوں سے ایسے وعدے کرنا جو پورے نہ کیے جائیں، جیسے "جو ٹیسٹ میں اول آئے گا اسے بڑا انعام ملے گا" اور پھر انعام نہ دینا۔ اس سے بچے کا استاد پر سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔
* پرنسپل کے سامنے کلاس کی حقیقت چھپانے کے لیے بچوں کو جھوٹی باتیں رٹوانا یا کہنا کہ "سب بولیں کہ آپ کو یہ سب آتا ہے"۔
* کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہونے پر اپنی غلطی یا لاعلمی چھپانے کے لیے کوئی غلط یا فرضی معلومات دے دینا۔

یاد رکھیے!
بچے والدین اور اساتذہ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ آج کا ہمارا ایک چھوٹا سا بہانہ یا جھوٹ، کل ہمارے بچے کا کردار خراب کر سکتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں اور کلاس رومز کو سچائی کا گہوارہ بنائیں گے، تاکہ ہماری آنے والی نسل سچی اور باکردار بن سکے۔
دی فاونڈرز سکول

17/06/2026

محترم والدین
! Assalam-o-Alaikum!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بچوں کو بچپن ہی سے گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں شامل کرنا انہیں بوجھ تلے دبانا نہیں، بلکہ انہیں ذمہ دار، خود مختار اور پُرعتماد بنانے کی بہترین تربیت ہے؟
ماہرین کے مطابق بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے درج ذیل کاموں کی عادت ڈالنی چاہیے:
2 سے 3 سال (شروعات):
اپنے کھلونے اور کتابیں واپس جگہ پر رکھنا۔
گندے کپڑے لانڈری باسکٹ میں ڈالنا۔
4 سے 5 سال (بنیادی عادتیں):
اپنا بستر سیدھا کرنا اور جوتے ترتیب سے رکھنا۔
پودوں کو پانی دینا اور کھانے کے بعد اپنی پلیٹ سنک تک لے جانا۔
6 سے 8 سال (سکول اور گھر):
اپنا سکول بیگ خود تیار کرنا۔
میز لگانے اور کپڑے تہہ کرنے میں مدد کرنا۔
اپنے کمرے کی صفائی کرنا۔
9 سے 12 سال (ذمہ داری کا احساس):
اپنے لیے سادہ ناشتہ تیار کرنا۔
گھر میں جھاڑو یا ہلکی صفائی کرنا۔
پالتو جانوروں کی بنیادی دیکھ بھال کرنا۔
teen 13 سال سے بڑے بچے (آزاد زندگی کی تیاری):
آسان کھانا بنانا سیکھنا اور برتن دھونا۔
اپنے کپڑے دھونا یا استری میں مدد کرنا۔
گھر کے روزمرہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔

ماہرینِ تعلیم کے مطابق، بچوں کو بچپن ہی سے ان کی عمر کے حساب سے چھوٹے موٹے کاموں میں شامل کرنا ان کی نشوونما کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔
اس چارٹ کے مطابق عمل کرنے کے درج ذیل بڑے فائدے ہیں:
خودمختاری: بچے اپنے کام خود کرنا سیکھتے ہیں اور دوسروں پر انحصار کم کرتے ہیں۔
ذمہ داری کا احساس: انہیں یہ سمجھ آتی ہے کہ گھر کے کام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔
اعتماد میں اضافہ: جب بچہ کوئی کام کامیابی سے پورا کرتا ہے، تو اس کا خود پر اعتماد بڑھتا ہے۔
موٹر سکلز (Motor Skills): کھلونے سمیٹنا، پودوں کو پانی دینا، یا کپڑے تہہ کرنا بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔

کام کو سزا نہ بنائیں: بچوں کے لیے کام کو ایک اچھی عادت اور کھیل بنائیں۔
کوشش کی تعریف کریں: ہونے کی شرط نہ رکھیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
یاد رکھیں کہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی پڑھائی، آرام اور کھیل کا توازن برقرار رہے۔ ہم سب مل کر اپنے بچوں کو ایک بہتر اور خود مختار مستقبل کی طرف گامزن کریں!
اس مفید پیغام کو دوسرے والدین کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں۔
نمرہ خلیل وائس پرنسپل دی فاونڈرز سکول

11/06/2026

at The Founders School inside Laghari Gate
As well
🌹 تجویدِ قرآن کورس برائے بالغ افراد 🌹
عمر: 18 سے 60 سال
کیا آپ اپنی قرآنی تلاوت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں؟
✅ حروف کے درست مخارج
✅ تجوید کے بنیادی و عملی قواعد
✅ روانی اور خوبصورت تلاوت
✅ نماز میں قراءت کی بہتری
✅ قرآن سے مضبوط روحانی تعلق
"قرآن سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی"
آج ہی اپنی تجوید اور تلاوت کو بہتر بنانے کے سفر کا آغاز کریں۔
📖 روزانہ تھوڑی مشق، زندگی بھر کی بہتری :::

18 سے 60 سال کی عمر کے افراد کے لیے تجوید اور قرآنی تلاوت بہتر بنانے کے لیے ہدایات
والدین اور بالغ افراد کے لیے پیغام
قرآنِ مجید کی درست اور خوبصورت تلاوت سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ 18 سے 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد بھی مسلسل مشق کے ذریعے اپنی تجوید اور قرآنی قراءت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
گھر پر کرنے کی سرگرمیاں
روزانہ 10 تا 15 منٹ تلاوت کریں اور درست تلفظ پر توجہ دیں۔
کسی مستند قاری کی تلاوت سنیں اور ساتھ ساتھ قرآن دیکھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔
روزانہ ایک یا دو تجویدی قواعد (جیسے مد، غنہ، اخفاء، ادغام) سیکھیں اور ان کی مشق کریں۔
اپنی تلاوت موبائل پر ریکارڈ کریں اور سن کر غلطیوں کی نشاندہی کریں۔
مشکل الفاظ اور آیات کو بار بار دہرائیں تاکہ تلفظ بہتر ہو۔
ہفتے میں کم از کم ایک بار کسی استاد یا اچھے قاری سے اپنی تلاوت سنوائیں۔
نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کی تجوید پر خصوصی توجہ دیں۔
قرآن کے ساتھ ترجمہ پڑھیں تاکہ تلاوت میں خشوع اور دلچسپی بڑھے۔
گھر میں روزانہ چند منٹ قرآن سننے اور پڑھنے کا ماحول بنائیں۔
مستقل مزاجی اختیار کریں؛ روزانہ تھوڑی مشق، کبھی کبھار زیادہ مشق سے بہتر ہے۔
مطلوبہ نتائج
حروف کی درست ادائیگی (مخارج)
تجوید کے بنیادی قواعد کا بہتر استعمال
روانی اور اعتماد کے ساتھ تلاوت
قرآنِ مجید سے مضبوط تعلق اور روحانی ترقی
نماز اور روزمرہ زندگی میں قرآنی تلاوت کا بہتر معیار
یاد رکھیں: قرآن سیکھنے والا اور سکھانے والا بہترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ مسلسل مشق اور اخلاص کے ساتھ ہر عمر میں تلاوت کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔ 🌹📖

10/06/2026
09/06/2026

Note. Created image , not real.

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Masjid Pepelwali, Inside Laghari Gate
Dera Ismail Khan

Opening Hours

Monday 07:00 - 15:00
Tuesday 07:00 - 15:00
Wednesday 07:00 - 15:00
Thursday 07:00 - 15:00
Friday 07:00 - 12:30